آخری خط - محمد عامر خاکوانی

کتابیں دنیا کا سب سے حسین تحفہ ہیں۔ زندگی کو بدلنے، اس میں دل کش رنگ شامل کرنے اور سوچنے کا انداز بدل ڈالنے کی صلاحیت کہیں اور نہیں ملتی۔ کتابوں کی مختلف اقسام ہیں، بعض شرمیلی دلہنوں کی طرح کئی دنوں تک گھونگھٹ اوڑھے نظر آتی ہیں، ان کے حسن بلاخیز کی شدت سے آدمی بتدریج آشنا ہوتا ہے۔ کئی دیدے پھاڑے چٹاخ پٹاخ باتیں کرتیں تیزقدموں سے چلتی آتی ہیں،مگر ان کے قریب بیٹھ کر چند لمحے گزارنے مشکل ہوجاتے ہیں۔بہت سی ایسی کہ نظر ڈالنا یعنی سٹال سے ورق گردانی کے لئے اٹھانا بھی محال ہوجاتا ہے ۔ کوئی ایک آدھ کتاب ایسی نکلتی ہے جسے پڑھتے ہوئے آدمی مبہوت رہ جائے ۔ اس کا مطالعہ بذات خود ایک اچھوتا ، یاد گار تجربہ بن جاتا ہے۔برسوں بعد بھی اس کے حسین نقوش ذہن کے نہاں خانوں میں محفوظ ملتے ہیں۔ پہلے دن جیسا کرارا، تروتازہ، مہکتا ذائقہ۔

نوبیل انعام یافتہ لاطینی امریکی ادیب گارشیا مارکیز کی کتاب تنہائی کے سو سال(One Hundred Years of Solitude)بھی ایسی ہی کتا ب ہے۔برسوں پہلے یہ کتاب پڑھتے ہوئے حیرت زدہ رہ گیا،میجک رئیل ازم یا طلسمی حقیقت نگاری کا اس سے بہتر نمونہ پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ قاری مارکیز کی بیان کی کہانی کے ساتھ یوں بہتا چلا جاتا ہے کہ ہر واقعہ اسے حقیقت ، سچ کے سوا کچھ اور نہیں لگتا۔ بوئندا خاندان کی کئی نسلوں پر محیط یہ کہانی بھلانا ممکن نہیں ۔ کتاب پڑھ کر اپنے سینے پر رکھی اور خاصی دیر تک یہ سوچتا رہا کہ اگر اردو ترجمہ اس قدر موثر ہے تو اوریجنل ناول کیسا ہوگا؟ یہ پہلے ہسپانوی میں لکھا گیا، پھر انگریزی میں ترجمہ اور اس کے بعد اردو میں تبدیل ہوا۔ اس کے باوجود اس کا اثر ، قوت اور سحر ماند نہیں پڑا۔ جو اردو ترجمہ میں نے پڑھا ، وہ معروف صحافی ، کالم نگار اور ٹی وی اینکر رﺅف کلاسرا کے بڑے بھائی ڈاکٹر نعیم کلاسرا(مرحوم)نے ترجمہ کیا تھا۔ اللہ ان کی روح کو سکون میں رکھے، ڈاکٹر نعیم آئی سرجن تھے ، مگر ادب سے اپنی گہری دلچسپی کے باعث انہوں نے اس اہم اور شاہکار ناول کو اردو کے قالب میں ڈھالا۔اس کتاب کی اضافی خوبی سرائیکی کے ایک منفرد اورممتاز شاعر ڈاکٹر آشو لال( فقیر) کا دیباچہ تھا۔ آشو لال خود بھی انہی داستانوں، کہانیوں کا کوئی بھولا بسرا کردار لگتے ہیں،برسوں بہاولپور میں رہے، آج کل لیہ کے علاقہ کروڑ لعل عیسن میں انہوں نے اپنی ہی نگری بسا رکھی ہے۔مارکیز کے اس ناول کا انگریزی متن بھی ضرور پڑھنا چاہیے کہ اس کا اپنا ہی سواد ہے۔مارکیز ہی کا ایک اور ناول” وبا کے دنوں میں محبت“(Love in the Time of Cholera)بھی چھوتا ناول ہے۔ اسے پڑھتے ہوئے قاری دنگ رہ جاتا ہے کہ کہانی یوں بھی لکھی جا سکتی ہے اور کیا وقت گزرنے کے ساتھ محبت میں ایسی شدت ، ایسا طوفانی انداز باقی رہتا ہے؟ مارکیز ہمیں اس کا جواب اثبات میں دیتا ہے او ر ہم اسے درست ماننے پر مجبورہوجاتے ہیں۔ویسے اس انداز کا ایک ناول اردو میں بھی پڑھا۔ مستنصر حسین تارڑ کا ناول” قربت مرگ میں محبت“اردو کے چند اہم ناولوں میں سے ایک ہے، اگرچہ اردو کے نقادوں نے اپنے روایتی تساہل یاعلمی بددیانتی کی وجہ سے اسے بری طرح نظرانداز کیا۔ قربت مرگ میں محبت پڑھ کر بھی آدمی حیرت زدہ رہ جاتا ہے۔ ایک خاص ذائقہ ہے اس ناول کا،جس نے اسے توجہ سے پڑھا، وہ کبھی بھلا نہ سکا۔

وارد ہوتے بڑھاپے کے ساتھ جہاں بہت کچھ مٹھی سے پھسل رہا ہے، وہاں کسی کو نئی ، انوکھی مسرت، امنڈتی ہوئی ان دیکھی محبت سے واسطہ پڑے تو پھر ان محسوسات کو کس طرح بیان کرنا ہے۔ ایک سٹائل سے گارشیا مارکیز نے اسے بیان کیا اور ہمارے اپنے تارڑ صاحب نے جو تخلیقی ہنر اورفسوں خیزی کے اعتبارسے کسی طور بھی بڑے عالمی ادیبوں سے کم نہیں، انہوں نے اسے اپنے ٹچ کے ساتھ بیان کیا۔ مجھے حیرت ہوتی ہے، جب اردو کا کوئی نقاد تارڑ صاحب کے ناولوں ”بہاﺅ“ اور” راکھ“ کا حوالہ دے اور باقی ناولوں کا ذکر بھی نہ کرے۔ یہ درست کہ بہاﺅ اپنی نوعیت کا منفرد اور بہت اہم ناول ہے، راکھ بھی کسی سے کم نہیں، مگر تارڑ کے توشہ خانے میں بہت کچھ موجود ہے۔” قربت مرگ میں محبت“ کو نہایت آسانی سے اردو کے دس بڑے ناولوں میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ ”ڈاکیہ اور جولاہا “میں جس طوفانی انداز کی محبت دکھائی گئی ،ویسی کردارنگاری اور نثر کم ہی پڑھنے کو ملتی ہے۔ ”خس وخاشاک زمانے “تو اردو کے تین چار بڑے ناولوں میں آتا ہے۔ عبداللہ حسین کی اداس نسلیں اور قرتہ العین حیدر کا آگ کا دریا جس قدر زیر بحث لائے گئے، تارڑ صاحب کے اس شاہکار ناول پر سو گنا کم بات ہوئی ، حالانکہ ان کے ٹکر کا ناو ل ہے۔ شائد اس کی ضخامت کے باعث فکشن کے نقادوں نے اسے پڑھنے کی زحمت ہی نہیں فرمائی۔ پڑھ لیتے تو اسکے برسوں تذکرے کرتے۔بہت سوں کو تو شائد علم بھی نہ ہو کہ یہ تمام ناول مستنصر حسین تارڑنے لکھے ہیں۔

بات مارکیز کی ہو رہی تھی، ناولوں کی طرح ان کی نثر، انٹرویوز سب شاندار اور پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں۔دو تین دن پہلے گارشیا مارکیز کے آخری خط کو پڑھنے کا موقعہ ملا۔ یہ خط اپنی بیماری کے دنوں میں انہوں نے تحریر کیا۔ شبیر سومرو ہمارے میگزین سیکشن کے نہایت محنتی، زیرک اور تحقیقی ذہن رکھنے والے فیچر رائٹر ہیں۔ انہوں نے مختلف مشاہیر کے آخری خطوط کے حوالے سے سنڈے میگزین کے لئے ایک فیچر لکھا، جس میں گارشیا مارکیز کا آخری خط بھی شامل ہے۔ انٹرنیٹ پر سرچ کی تو اس سے ملتے جلتے متن کے دو تین خط ملے، بعض میں اضافے بھی کئے گئے۔ ایک آدھ جگہ یہ بھی ملا کہ اس کا مصنف مارکیز کے بجائے کوئی اور میکسیکن ادیب ہے۔ بہرحال زیادہ تر ویب لنکس میں اسے گارشیا مارکیز کا خط ہی بتایا گیا۔ اس کا ترجمہ شبیر سومرو نے کیا ہے۔ دنیا سے رخصت ہوتا آدمی اپنی زندگی پر نظر ڈالے اور وہ بہت کچھ جو کر سکتا تھا، کیا جا سکتا تھا، نہ کرنے پر تاسف کی لہر دل میں دوڑتی ہے، اپنے دوستوں ، پیچھے رہ جانے والوں کو آدمی اس حوالے سے جو نصیحت کرنا چاہتا ہے، اس کی نہایت عمدہ عکاسی خط میں کی گئی۔

گارشیا مارکیز کا آخری خط
”اے میرے خدا!
مجھے ایک لمحے کے لیے بے حس و حرکت پتلے سے انسان بنادے،ایک جیتا جاگتا انسان۔مجھے قسم ہے تمہاری، میں پھر کبھی وہ نہیں کہوں گا جو میں سوچتا ہوں۔میں صر ف اور صرف سوچوں گا،اس کے بارے میں سوچوں گا جو میں کہتا رہتا ہوں یا پھر میں کہنا چاہتا ہوں۔

اے میرے خدا!
میں پھر چیزوں کی قیمت نہیں ان کی اہمیت دیکھوں گا،ان کی قدر کروں گا۔میں سوﺅں گا کم اور زیادہ خواب دیکھوں گا کہ میں جان چکا ہوں، ایک منٹ کے لیے آنکھیں بند ہوں تو ہم روشنی کے ساٹھ سکینڈ کھو دیتے ہیں۔

اے میرے خدا!
تو اگر مجھے ایک لمحے کی زندگی بخش دے تو میں اس وقت چلوں گا، جب لوگ رک جائیں گے۔میں اس وقت جاگوں گا، جب لوگ سو جائیں گے۔میں اس وقت خاموش رہوں گا، جب لوگ بولیں گے۔

اے میرے خدا!
میں چاکلیٹ کھاؤں گا، آئس کریم لوں گا تو پورے لطف، پورے مزے کے ساتھ کھاؤں گا۔

اے میرے خدا!
تو اگر مجھے تھوڑی سی زندگی دے دے تو میں ہمیشہ سادہ کپڑے پہنوں گا۔اپنا جسم،اپنی روح سورج کے سامنے کھول دوں گا۔

اے میرے خدا!
اگر مجھے تھوڑی دیر کے لیے اپنا دل واپس مل جائے تو میں اپنی نفرت برف پر لکھ دوں گااور پھر اسے سورج کی تمازت میں پگھلتے،پگھل کر بھاپ بنتے اور بھاپ بن کر اڑتے دیکھوں گا۔

اے میرے خدا!
اگر تو مجھے تھوڑی سی زندگی دے دے تو میں کوئی دن ایسا نہیں گزرنے دوں گا، جب میں لوگوں کو اپنی محبت کا یقین نہ دلا دوں۔میں دنیا کے ہر مرد،ہر عورت کو سمجھاؤں گا کہ مجھے ان سے محبت ہے۔میں محبت میں محبت کے ساتھ رہوں گا اور میں لوگوں کو بتاؤں گا جو لوگ سمجھتے ہیں کہ بوڑھے ہوکر وہ محبت کے قابل نہیں رہتے ، وہ بڑے بیوقوف ہیں۔ انسان تو بوڑھا ہی اس وقت ہوتا ہے، جب وہ محبت کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ میں بچوں کو پر دوں گا لیکن انہیں اکیلا چھوڑ دوں گا کہ وہ خود اڑنا سیکھیں۔ میں بوڑھوں کو بتاؤں گاکہ موت بڑھاپے سے نہیں آتی، فراموشی سے آتی ہے، بےحسی سے آتی ہے۔

اور اے انسان!
اے میرے پڑھنے والے لوگو!
یہ سب کچھ میں نے آپ سے سیکھا۔میں نے سیکھاکہ دنیا کا ہر شخص چوٹی پر پہنچنا چاہتا ہے ،یہ جانے بغیر کہ چوٹی کچھ نہیں،اصل چیز تو مسافت ہے،وہ مشقت ہے جو پہاڑ سر کرنے کے لیے کی جاتی ہے۔میں نے سیکھا کہ جو بچہ باپ کی انگلی تھامے لے ،وہ سہاروں کا عادی ہوجاتا ہے۔

میں نے سیکھا کہ نفرت کا حق صرف اس کو حاصل ہے، جس نے زندگی بھر لوگوں کو سہارا دیا ہو۔جس نے لوگوں کو کھڑا ہونے میں مدد دی ہو۔میں نے آپ لوگوں سے اور بھی بہت کچھ سیکھا لیکن اس وقت جب موت میری پائنتی پر کھڑی ہے، میرا دل اداس ہے۔میں اداس ہوں کہ میں وہ سب کچھ آپ کو نہیں سونپ پایا جو مجھے سونپنا چاہیئے تھا۔افسوس میں زندگی کی اصل حقیقتیں اپنے سینے میں لے کر جارہا ہوں۔افسوس میں وہ سب کچھ نہیں کہہ پایا جو مجھے کہنا چاہیئے تھا۔افسوس میں مررہا ہوں“۔
آپ کا گارشیا مارکیز۔“

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.