سیاسی بیانات - امجد طفیل بھٹی

“ملک اس وقت مشکل ترین حالات سے گزر رہا ہے ملکی سلامتی کو شدید اندرونی اور بیرونی خطرات کا سامنا ہے اور اگر ایسے حالات رہے تو خدانخوستہ ملک ٹوٹنے کے خطرات موجود ہیں“، یہ ایسے بیانات ہیں جو کہ ہم پاکستانی عوام کے کانوں میں ہر وقت گونجتے رہتے ہیں، ہاں ان کو کہنے والی زبان بارہا تبدیل ہو چکی ہوگی، کبھی ایک سیاسی جماعت کے سربراہ تو کبھی دوسری جماعت کے سربراہ کے منہ سے، کبھی کسی اعلیٰ عدلیہ کے جج سے تو کبھی کسی بیوروکریٹ سے، کبھی کسی ڈکٹیٹر کی زبان سے تو کبھی کسی بڑے ماہر قانون کی زبان سے، غرض یہ کہ یہ ہمارے “قومی بیانات“ بن چکے ہیں۔

پاکستان میں اس سال ہونے والے نئے الیکشن کا بگل بجنے کے قریب ہے، یوں سمجھیے کہ اس حکومت کے آئینی خاتمے کے لیے اُلٹی گنتی بھی شروع ہو چکی ہے اور تو اور کچھ سیاستدان ابھی سے جلسوں کی نیٹ پریکٹس میں بھی مصروف ہو گئے ہیں۔ آپ ایسے بھی کہہ سکتے ہیں کہ سیاستدانوں کے مُنہ سے دوسرے سیاستدانوں یعنی مخالفین کے حق میں سچی باتیں بھی خوب سُننے کو ملیں گی۔ اب تو ہر روز ہی نئے سے نئے سکینڈل اور کارنامے سامنے آئیں گے۔ مخالف سیاستدان اپنے متوقع ووٹرز کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کریں گے کہ اُن کا لیڈر یعنی میں ہی بہترین لیڈر اور عوام کا حقیقی خیر خواہ ہوں جبکہ مخالف امیدوار میں دنیا کی ہر بُرائی کُوٹ کُوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ یہ بیان تو برسہا برس سے ہم عوام تقریباً ہر سیاسی پارٹی کے لیڈر اور مختلف بڑے سیاسی رہنماؤں کے مُنہ سے سُنتے چلے آ رہے ہیں کہ ہمارے مخالفین ملک کے لیے سکیورٹی رسک ہیں اُنہیں ملکی سلامتی کی خاطر الیکشن لڑنے کی اجازت ہی نہیں ہونی چاہئیے، جبکہ ہماری پارٹی ملک کی واحد سیاسی جماعت ہے جو کہ عوامی خدمت پہ پُختہ یقین رکھتی ہے اور ملک کو مزید آگے لے کر جا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   نواز شریف سزا۔۔ کیا واقعی احتساب ہونے جا رہا ہے؟ سید معظم معین

جبکہ جب بھی ایک جماعت کی حکومتی مدت ختم ہوتی ہے یا کر دی جاتی ہے تو پھر اس جماعت کی تو خیر نہیں ہوتی کیونکہ اُنہیں تو انکے مخالف ہر جلسے، تقریب اور کارنر میٹنگ میں یہ کہہ کر آڑے ہاتھوں لیتے ہیں کہ گزشتہ حکومت نے ملک کو قرضوں کی دلدل میں دھکیل دیا، قومی ادارے تباہ کر دیے، قومی سلامتی کو داؤ پر لگا دیا، کرپشن کے پرانے ریکارڈ توڑ دیے، غریب غریب تر اور امیر امیر تر ہو گیا، غریب لوگ خود کشیاں کر رہے ہیں، مجبور اپنے بچے فروخت کر رہے ہیں اور ان سے جُڑے سینکڑوں ایسے بیانات ہیں جو کہ سُنتے سُنتے ستر سال ہو گئے مگر ہر آنے والی حکومتی جماعت ان بیانات کی زد میں آتی رہی اور آتی رہے گی۔ اسکے علاوہ ہمارے کئی ایسے “ انٹرنیشنل بیانات “ ہیں کہ جن کو عالمی برادری بھی ایک کان سے سُن کر دوسرے کان سے نکال دیتی ہے، مثلاً مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی امنگوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہئیے اور افغان مہاجرین پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہیں، عالمی برادری انہیں جلد سے جلد واپس بھجوانے کے لیے اقدامات کرے،

خیر، اس وقت بات ہمارے قومی سطح کے بیانات کی ہو رہی ہے جن کے ذریعے اپنے ملک کے غریب عوام کو چکمے دیے جاتے ہیں تاکہ ووٹ بٹورے جا سکیں، جونہی الیکشن کا دن گزرتا ہے پھر ہارنے والا تو دور جیتنے والا امیدوار بھی اپنے حلقے کے عوام کو پہچاننے سے انکار کر دیتا ہے۔ کچھ چیدہ چیدہ جملے جو کہ تقریباً ہر جلسے میں ہر پارٹی رہنما کے مُنہ سے سُننے کو ملتے ہیں وہ یہ ہیں۔ ہمارا مقصد سیاست نہیں بلکہ عوام کی خدمت ہے، ہمارا ماضی بے داغ ہے (بے شک پہلے نیب میں کرپشن کیسز چلتے رہے ہوں) ، ہم اور ہماری پارٹی ملک کو ناقابل تسخیر بنا دیں گے، ہماری جماعت ہی ملک کے چاروں صوبوں کی واحد نمائندہ جماعت ہے (ہو سکتا ہے کئی صوبوں میں سے ایک سیٹ بھی کبھی نہ جیتی ہو) ، ہم کشکول توڑ دیں گے (ماضی میں ان کی حکومت نے چاہے اربوں ڈالر کے قرضے لیے ہوں) ، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے چھٹکارا حاصل کریں گے، غریبوں کو صحت اور تعلیم کی سہولتوں سے آراستہ کریں گے، روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں گے، ملک میں سڑکوں کا جال بچھا دیں گے، کسانوں کو زیادہ سے زیادہ مراعات اور بلا سود قرضے دیے جائیں گے، سستے انصاف کی فوری فراہمی یقینی بنائی جائے گی، اسکے علاوہ ہر وہ چیز جو زندگی گزارنے کے لیے ضروری ہے جیسے بجلی کی فراہمی، گیس کی فراہمی تو ایسے وعدے ہیں جو کہ ہر بار ہر جلسے اور ہر حلقے میں بے دریغ دہرائے جاتے ہیں، کئی دفعہ تو اُس حلقے کے نمائندوں کو بھی لالی پاپ دے دیا جاتا ہے کہ اتنے کروڑ روپے آپ کو اپنے حلقے کے عوام کے لیے دیے جارہے ہیں جو کہ بعد میں اُس امیدوار کو بھی نہیں ملتے اور اسے اپنے حلقے کی عوام سے چھپ کر رہنا پڑتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   نواز شریف سزا۔۔ کیا واقعی احتساب ہونے جا رہا ہے؟ سید معظم معین

ہر الیکشن سے پہلے تمام تر سیاسی جماعتیں اپنے منشور کی رٹ لگا کے رکھتی ہیں کہ ہمارے منشور میں یہ چیز شامل ہے اور وہ چیز بھی شامل ہے۔ عوام اب کی بار ہمیں الیکشن میں کامیاب کرائیں تو پھر ہم ملک کے ہر بڑے مسئلے کو حل کر دیں گے لیکن الیکشن ہو جانے کے بعد وہ لوگ یعنی سیاستدان اپنے منشور اور وعدوں کو پس پشت ڈال کر اپنے مفادات کا تحفظ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ بعض اوقات جب کسی سیاسی رہنما کو اسکے وعدے یاد کرائے جائیں تو وہ یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ وعدے خدانخواستہ کوئی قرآن و حدیث تو نہیں ہوتے، دوسرے لفظوں میں ہمارے سیاسی لیڈرز کے آگے بیانات، وعدے، نظریہ اور منشور کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

Comments

امجد طفیل بھٹی

امجد طفیل بھٹی پیشے کے لحاظ سے انجینئر ہیں اور نیشنل انجینیئرنگ سروسز (نیس پاک) میں سینئر انجینیئر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ آپ مختلف اردو روزناموں اور ویب سائٹس کے لیے سماجی و سیاسی موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.