بسم اللہ کی برکت – محمد فیصل

مری انتہائے نگارش یہی ہے

ترے نام سے ابتدا کر رہا ہوں

مذکورہ بالا شعر تحریر کرنے کا مقصد محض ایک شاعرانہ تخیل کا اظہار نہیں ہے بلکہ اس حقیقت کی ترجمانی مقصود ہے کہ ایک مسلمان اور ایک کافر کی زندگی میں ابتدائی بنیادی فرق یہی ہوتا ہے کہ مسلمان اپنے ہر کام کی ابتدا اپنے پروردگار کے اسمِ مبارک سے کرتا ہے۔ بظاہر یہ عمل معمولی دکھائی دیتا ہے لیکن اگر بصیرت کی نظر سے دیکھا جائے تو اس کے پیچھے ایک عظیم الشان فلسفہ حیات کارفرما ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے نامِ نامی سے اپنے امورِ زندگی کا آغاز اس حقیقت کا غماز ہے کہ اس کائنات کا کوئی ذرہ، کوئی پتہ بھی مشیتِ خداوندی کے بغیر حرکت کرنے سے قاصر ہے۔ انسان ظاہری اعتبار سے اسباب اختیار کرنے کا مکلّف ہے مگر یہ اسباب بذاتِ خود معرضِ وجود میں نہیں آتے بلکہ قادرِ مطلق کی قدرتِ صناعی سے اسباب کا وجود اور ان میں تاثیر پیدا ہوتی ہے۔ لہٰذا اگر ہم اسباب کا سہارا لے کر کسی کام کی انجام دہی کے خواہش مند ہیں تو پہلے ہمیں اپنے مربی حقیقی یعنی اللہ رب العزت کی رضامندی کے حصول کی ضرورت ہے۔

اس کے برعکس ایک کافر چونکہ ایمان و یقین کی دولت سے تہی دامن ہوتا ہے اس لیے وہ اپنے معمولاتِ زندگی کی ادائیگی کو اپنے دست و بازو کی محنت کا نتیجہ گردانتا ہے۔ اس کی نظرِ کوتاہ ظاہری اسباب کے پردوں کے آگے دیکھنے سے قاصر ہوتی ہے۔ نتیجتاً اس کی زندگی کولہو کے بیل کی مانند ہوجاتی ہے، اس کا مطمعِ نظر فقط عارضی دنیاوی زندگی کی تزئین و آرائش رہ جاتا ہے اور بالآخر موت اس کی تمام آرزوؤں کو سرد کر دیتی ہے۔ حصولِ رضائے الہٰی کی جستجو و طلب ہی وہ جذبہ ہے جو ایک مسلمان کو کارزارِ حیات کے ہر مرحلہ پر احکاماتِ شریعت کی تعمیل کے لیے مستعد رکھتا ہے۔ یہ بات ایک مردِ مومن کی شان کے خلاف ہے کہ زبان سے اللہ تعالیٰ کا پاک نام لے اور اس کے بعد کسی ایسی حرکت کا ارتکاب کرے جو شرعاً و اخلاقاً مذموم ہو۔ اسی لیے نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کو یہ تاکید فرمائی ہے کہ ہر وہ کام جو ذرا سی بھی اہمیت رکھتا ہو، اگر بسم اللہ سے نہ شروع کیا جائے تو وہ ادھورا ہے۔ جس بات کی خبر نبی صادق سرور عالم ﷺ عطا فرمائیں اس کی صداقت ہر قسم کے شک و شبہ سے بالاتر ہوتی ہے۔ لہٰذا ہر وہ کام جس کی ابتدا بسم اللہ کے بغیر ہو، برکتِ خداوندی سے محروم رہتا ہے۔ اسی بناء پر شریعتِ مطہرہ کی پاکیزہ تعلیم تمام مسلمانوں کے لیے عام ہے کہ وہ صبح بیدار ہونے سے لے کر رات میں بسترِ استراحت پر جانے تک ہر کام کی ابتدا بسم اللہ سے کریں۔

یہاں ایک عام غلط فہمی کا ازالہ کرنا بھی ضروری ہے کہ ہمارے عام محاورے میں مال و اسباب، اولاد، زمین جائیداد الغرض مادی چیزوں کی کثرت کو برکت کے عنوان سے موسوم کیا جاتا ہے جبکہ برکت کا مفہوم اس سے قطعی مختلف ہے۔ برکت کی مختصر تعریف یہ ہے کہ قلیل کثیر النفع۔ مثلاً ایک شخص کی آمدنی ایک لاکھ روپے ماہانہ ہے مگر وہ پھر بھی اپنے اخراجات کی وجہ سے پریشان رہتا ہے اور اکثر مقروض بھی رہتا ہے۔ اس کے برعکس ایک دوسرے شخص کی ماہانہ آمدنی پچیس ہزار روپے ہے لیکن اس کے اخراجات نہ صرف اس کی گرفت میں ہیں بلکہ وہ اپنی آمدنی کے تناسب سے ایک معقول رقم کی بچت پر بھی قادر ہے۔ یہاں پر ظاہری اعتبار سے ایک لاکھ روپے ماہانہ کی رقم کثیر ہونے کی وجہ سے بظاہر بابرکت دکھائی دیتی ہے مگر درحقیقت نفع رسانی کے اعتبار سے پچیس ہزار روپے کی رقم کا پلڑا بھاری ہے۔ اب اگر فیصلہ کیا جائے تو پچیس ہزار کی رقم کو بابرکت ٹھہرایا جائے گا۔ برکت کے مفہوم کی وضاحت کے بعد یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ ہر کام کو بسم اللہ سے شروع کرنا حکمت سے خالی نہیں۔

اس تعلیم کے ذریعے اسلام نے انسان کی پوری زندگی کا رخ اللہ تعالیٰ کی طرف پھیر دیا ہے کہ وہ ہر قدم پر اس حلفِ وفاداری کی تجدید کرتا رہے کہ میرا کوئی بھی کام مشیتِ الٰہی اور امدادِ خداوندی کے بغیر پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچ سکتا۔ بسم اللہ پڑھنے کے بابرکت عمل کی اہمیت کے پیشِ نظر قرآن و حدیث میں جا بجا اس کی تاکید کی گئی ہے۔ ایک حدیث مبارک میں نبی کریم ﷺ کا یہ ارشاد منقول ہے کہ گھر کا دروازہ بند کرو تو بسم اللہ کہو، برتن ڈھکو تو بسم اللہ کہو۔ اسی طرح کھانا کھانے، پانی پینے، وضو کرنے، سواری پر سوار ہونے اور اترنے کے وقت بسم اللہ پڑھنے کی ہدایات قرآن و حدیث میں کثرت سے مذکور ہیں۔ مفتی محمد شفیع صاحب ؒ اپنی تفسیر معارف القرآن میں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کی حکمت کے ذیل میں رقم طراز ہیں کہ بسم اللہ میں اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنٰی اور صفاتِ کمال میں سے صرف دو صفتیں ذکر کی گئی ہیں اور دونوں لفظ رحمت سے مشتق ہیں اور وسعتِ رحمت اور کمالِ رحمت پر دلالت کرنے والی ہیں۔ اس میں اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ تخلیقِ عالم اور آسمان و زمین اور تمام کائنات کو پیدا کرنے اور ان کو پالنے کا منشا اللہ تبارک و تعالیٰ کی صفتِ رحمت ہے، نہ اس کو ان چیزوں کی خود کوئی ضرورت ہے، نہ اس کو ان چیزوں کے پیدا کرنے پر کوئی مجبور کرنے والا تھا۔ صرف اس کی رحمت کے تقاضے سے یہ ساری چیزیں اور ان کی پرورش کے سارے انتظامات معرضِ وجود میں آئے ہیں۔

مشکوٰۃ شریف کی شرح مظاہرِ حق میں بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کے خواص کے ذیل میں تحریر ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جب کوئی شخص بیت الخلاء جائے تو چاہیے کہ وہ بسم اللہ کہہ کر جائے تاکہ (اس کی وجہ سے) اس کی شرم گاہ اور جنات کے درمیان پردہ واقع ہوجائے۔ جب کوئی شخص بسم اللہ کہہ کر بیت الخلاء جاتا ہے تو اس کا خاصہ یہ ہے کہ یہ آیت انسان اور اس کے دنیاوی دشمن (جنات) کے درمیان پردہ بن جاتی ہے تو امید ہے کہ یہ ایک مسلمان اور عذابِ عقبٰی کے درمیان بھی یقیناً پردہ بن کر حائل ہوگی۔ الغرض صبح بیدار ہونے سے لے کر رات سونے تک ہر امر میں مسلمانوں کو بسم اللہ کا اہتمام کرنا چاہیے تاکہ ایک جانب شریعت کی پیروی بھی ہوجائے اور دوسری جانب اس کے ثمرات کے طور پر برکتِ خداوندی کا حصول بھی ممکن ہوسکے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ مسلمان خواہ کسی کام میں بھی مشغول ہو لیکن اس کا دل اللہ تعالیٰ کے ساتھ جڑاہو اور وہ بزبانِ حال اس شعر کا مصداق ہو ؂ گو میں رہا رہینِ ستم ہائے روزگار لیکن ترے خیال سے غافل نہیں رہا۔