انسان خسارے میں ہے! - مقصود حسین

نوعِ انساں خسارے میں ہے۔ لفظِ انسان پر الف اور لام جنسی ہے۔ جس کا معنی یہ ہے کہ جنسِ انسان خسارے میں ہے۔ یعنی نوعِ انسان کے ہر فرد کو خسارے کا سامنا ہے، ہر جماعت خسارے سے دوچار اور ہر قوم خسران کا شکار ہے۔ گویا خسران نوعِ آدم کے حق میں قاعدہ کلیہ کے طور پر بیان ہوا ہے۔ اس قاعدہ کلیہ کی رو سے فرد کے ذاتی خصائص (Personal qualities) مثلاً اس کا رنگ یعنی اگرچہ اس کا رنگ گورا ہو یا کالا، اس کی نسل چاہے عربی ہو عجمی، ترکی ہو یا افریقی، اس کا حسب و نسب اعلی ہو یا ادنی، اس کی جائے پیدائش دنیا کا سرد خطہ ہو یا گرم، وہ چاہے کوئی بھی زبان بولتا ہو، خسران کے عمومی قاعدے کے مطابق فرد کے ان تمام ذاتی خصائص کا کوئی لحاظ نہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ فرد کو ان تمام انفرادی خصائص کے باوجود بھی خسران کا سامنا رہے گا۔

اسی طرح کسی جماعت کے ذاتی خصائص مثلاً اسکا حلقہ ہائے اثر، اس کی انتظامی مہارت، اس کی طاقت و اختیار، اور اس کی افرادی قوت وغیرہ اسے خسران کے عمومی کلیے سے مستثنی نہیں کرتیں نہ ہی اسے گھاٹے کے کلی اطلاق سے خارج کرتی ہیں۔ یہی حال قوم کا بھی ہے۔ کسی قوم کے ذاتی امتیازات مثلاً اس کا شاندار ماضی، علم و فن میں اس کی حیرت انگیز ترقی، اس پر مبنی بے نظیر حال اور اس کے افراد کی بہترین ذہنی و تخلیقی صلاحتیں اور اس کے علاوہ مادی ذرائع کی فراوانی اور قدرتی وسائل کی دستیابی، ان تمام امتیازات کی حامل قوم کو، ان سب وسائل اور ذرائع کے باوجود بھی خسران سے چھٹکارا میسر نہیں آ سکتا ہے!!!

یہاں تک تو یہ بات واضح ہو گئی کہ افراد، اقوام اور مختلف انسانی گروہ بلا رعایت و بلا استثناء خسارے سے دوچار ہیں۔ اور اس سلسلہ میں انہیں بلحاظ زمانہ ایک دوسرے پر کوئی فوقیت یا امتیاز حاصل نہیں ہے، کیونکہ ما قبل زمانہ میں از خود اسی حقیقت پر بطور ثبوت پیش کیا جا چکا ہے، لہذا زمانے کا بطور گواہ پیش کرنا اس کلیت میں کسی قسم کے احتمال یا استثناء کی گنجائش نہیں رکھتا۔ اسی سلسلہ میں دوسرا اہم ترین مسئلہ خسران کی ماہیت اور نوعیت کا ہے۔ یعنی آخر وہ کس قسم کا خسران ہے، جو انسان کو ہر حال میں درپیش ہے۔ اور یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ انسان خسران سے نجات کی سبیل تب ہی معلوم کرسکتا ہے جب اسے حقیقی خسارے کا صحیح طور پر ادراک ہو۔ ورنہ عین ممکن ہے کہ ایک چیز کو وہ خسارہ قرار دیتا ہو یا جس سے بچاؤ کی تدبیر اختیار کرتا ہو، اس کا سرے سے خسارے سے کوئی تعلق ہی نہ ہو، اور اس طرح بالآخر خسارے سے بچاؤ کی ایسی تمام کوشش سعیِ لاحاصل ثابت ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:   کچھ قابل توجہ باتیں - علی عبداللہ

مفسرِ جلیل علامہ فخر الدین رازی کے نزدیک انسان کا حقیقی خسارہ اس کے رأس المال کا مسلسل ضیاع ہے۔ جبکہ انسان کا راس المال یعنی اس کا اصل سرمایہ اس کا وقت ہے، جو اسے اپنی خاص عمر کے اختتام تک حاصل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ زمانہ مسلسل حرکت پذیر ہے۔ جس کے باعث انسان کی عمر ہر گزرتے لمحے کے ساتھ مسلسل گھٹتی جارہی ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس کی موت اس سے قریب سے قریب تر ہوتی چلی جا رہی ہے۔ ایک بزرگ بیان کرتے ہیں کہ میں نے انسان کے خسارے میں ہونے کا معنیٰ ایک برف فروش سے سمجھا، جو مسلسل آواز لگا رہا تھا۔ "رحم کرو اُس شخص پر جس کا سرمایہ پگھل رہا ہے"۔ یہی صورتحال انسان کو بھی درپیش ہے۔ کہ اس کا سرمایہِ حیات لمحہ بہ لمحہ پگھل رہا ہے۔ پگھل بھی بڑی تیزی سے رہا ہے۔ عصر کا کلمہ زمانے کی تیز روی پر دلالت کرتا ہے، جس طرح دہر کا لفظ اس کی مجموعی حیثیت کو ظاہر کرتا ہے، لفظ عصر ہی سے اعصار بمعنی تیز آندھی بھی آتا ہے، یہ بھی زمانہ کی برق رفتاری پر دلال ہے۔ اب انسان کا سارا نفع اس کے سرمایہ پر منحصر ہے، سرمایہ بھی ایسا جو کہ بجائے بڑھنے کے مسلسل گھٹتا جا رہا ہے، تو ایسی صورتحال میں بھی اگر وہ اس سرمائے کو ضائع کر دے تو اس کے لیے سوائے خسران کے اور کیا حاصل ہو سکتا ہے۔

اور یہی خسارا انسان کے حق میں عظیم خسارا ہے، کیونکہ انسان کے پاس اگر سرمایہ ہی نہیں ہوگا تو وہ تجارت کس چیز کی کرے گا؟ اور اگر تجارت نہیں کرے گا تو نفع بھی حاصل نہیں ہو گا، جبکہ اس دوران سرمایہ بھی پگھل کر ختم ہو چکا ہوگا۔ خسر کے آخر میں تنوین اسی معنی یعنی خسران کی عظمت پر دلالت کرتی ہے۔ لفظ خسرٍ کی تنکیر خسران کی وحدت کا معنی بھی دیتی ہے۔ یعنی انسان کے خسارے میں ہونے لیے ایک وجہ ہی کافی ہے۔ وہ یہ کہ اس کا رآس المال ہی ہمہ وقت زیاں کا شکار ہے، یہی سب سے بڑا اور اصل خسارا ہے، باقی سب خسارے اسی ہی خسرانِ کے ذیل میں آتے ہیں۔ لفی خسر کی پوری ترکیب میں اور بھی زیادہ تاکید پائی جاتی ہے۔ جس کا مفہوم یہ کہ انسان یا تو خسران کے طریق پر گامزن ہے یا پھر خسران نے اسے ہر جانب سے گھیرا ہوا ہے۔ اسی لیے علامہ رازی نے خسارے کو انسان کی اصل قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر یہ نام سنتے ہی دل غم سے پھٹ پڑتا ہے۔-علی رضا

لکھا ہے کہ ان الاصل فی الانسان ان یکون فی الخسران و الخیبة، کہ اصل یہ ہے کہ انسان خسارے اور نقصان میں ہے۔ یعنی خسارہ انسان کے لیے جزوِ لا ینفک کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی مختصر وضاحت کے لیے ہم مفسر موصوف ہی کی توجہیہ پیش کرتے ہیں۔ انسان کی تین ممکنہ حالتیں ہوسکتی ہیں۔

اول: اگر انسان معصیت میں مبتلا ہے تو خسران یقینا متحقق ہے۔

دوم: اگر مباحات میں مصروف ہے تو بھی اسے کچھ حاصل نہیں، اور خسران سے چھٹکارا بھی نہیں۔

سوم: اگر طاعات میں مشغول ہے، تو بھی خسران ثابت ہے کیونکہ طاعات کے مدارج لا متناہی ہیں۔ انسان طاعت کے جس درجہ پر بھی ہو، وہ کسی ادنیٰ درجے ہی پر ہوگا۔ جبکہ اس سے اعلیٰ درجات بھی ممکن ہوں گے۔ مثلاً احسان کا درجہ۔ لہذا اعلیٰ کے بجائے ادنی درجے پر ہونا بھی ایک نوع کا خسران ہے۔ اس خسران سے خلاصی کیسے ممکن ہے؟ آئندہ تحریر میں ملاحظہ کریں۔