"تمہاری تو نماز ہی نہیں ہوتی" - اسماعیل احمد

اختیارات کی جنگ دنیا کی مملکتوں کے کاروبار کا لازمی حصہ ہے۔ یہ ایک ایسی جنگ ہے جس کے لیے جدید یا قدیم، ترقی یا فتہ یا پسماندہ، غریب یا امیر، اسلامی یا سیکولر کسی ملک میں کوئی تفریق نہیں۔

زمانۂ قدیم میں ہر خطے کے طاقتور ترین طبقات اس خطے کے اختیارات کا واحد مالک بننے کے لیے نسل ِ انسانی کا خون بہایا کرتے تھے اور جدید دنیا میں بھی ریاست کے تمام ستون انتظامیہ، عدلیہ، مقننہ وغیرہ آپس میں اختیارات کی اِ س جنگ میں گتھم گتھا نظر آتے ہیں۔ انسانوں کا آپس میں زیادہ سے زیادہ اختیارت کے لیے لڑنا جھگڑنا ایک فطری بات ہےکہ اس نے اختیارات کی اس لڑائی کے لیے اپنے ہی جیسی سپیشیز کا انتخاب کیا ہے۔ انسان پہ حیرت اس وقت ہوتی ہے جب وہ خدائی اختیارات میں بھی دیدہ دلیر ہو کر شریک ہونے لگتا ہے۔

یورپ کے دور ِ روشن خیالی سے پہلے کےاہلِ کلیسا کے باوصف ہمارے ملک میں بھی ایک طبقے کو خدا بننے کا شوق پاگل کیے ہوئے ہے۔ ہم جنید جمشید ہوں یا مشعال خان، عاصمہ جہانگیر ہوں یا شرمین عبید چنائے، نواز شریف ہوں یا پرویز مشرف، ماہرہ خان ہوں یا وینا ملک، ہر کسی کے ایمان کا فیصلہ کرنے کا اختیار اپنے پاس رکھتے ہیں۔ مشعال خان کے والد برطانیہ کی کسی کانفرنس میں اپنے خیالات کا اظہار کر دیں تو ان کا ایمان خطرے میں، ملالہ یوسفزئی کے والد ان کے ساتھ کھڑے دو چار منٹ گفتگو کر دیں تو وہ بھی غیر مسلموں کے آلۂ کار۔ سوشل میڈیا نے جلتی پر تیل والا کام کیا ہے۔ خدا بننے، دنیا پر ہی محشر بپا کرنے، اسی جہانِ رنگ و بو میں اپنے پسندیدہ لوگوں کو جنت اور ناپسندیدہ لوگوں کو جہنم بھیجنے کی روایت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ جسے دیکھو وہ خدا بن کر اِتراتا پھر رہا ہے۔ آپ مجھے کافر کہہ سکتے ہیں، میں آپ کو کافر لکھ سکتا ہوں، آپ میرے ایمان کے فیصلے کرسکتے ہیں، میں آپ کے عقائد کا تجزیہ کر کے آپ کے انجام کے بارے میں آپ کو بتا سکتا ہوں۔ کیا عصائے موسیٰ اور اورنگِ سلیماں ہمارے ہاتھ لگ گیا ہے؟ یا پھر سوشل میڈیا میں ہم پر خدائی احکامات کا براہِ راست یا فرشتوں کے توسط سے نزول ہونے لگا ہے؟ یہ تو سنتے آئے تھے کہ قیامت کی نشانیاں ظاہر ہونا شروع ہوگئی ہیں لیکن یہ نہیں پتہ تھا کہ ہم جِس کرہ ارض پر اِس وقت موجود ہیں وہاں قیامت بپا بھی ہو چکی اور میدانِ محشر کے مراحل کا آغاز بھی کر دیا گیا اور چاروں سمت کراماً کاتبین نامہ اعمال ہاتھوں میں پکڑانے کے لیے ہر لحظہ سر گرم ِ عمل ہیں۔

ہم لوگوں کے ایمان اور عقائد کا تجزیہ کرکے ان کی آخرت کا فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں ہروقت رہتے ہیں۔ کل تک جنہیں ان کے محلے سے باہر بھی کوئی جانتا پہچانتا نہ تھا آج چوکوں، چوراہوں، مرکزی شاہراہوں پہ کھڑے کسی مشہور یا غیر مشہور شخصیت کاحساب و احتساب از روئے شریعتِ مطہرہ کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں۔ ایک دوسرے کا مذاق اڑانا، ایک دوسرے پر طعن و تشنیع کرنا، ایک دوسرے کے برے برے نام رکھنا، بد گمانیاں کرنا، دوسرے کے حالات کی کھوج کرید کرنا، لوگوں کو پیٹھ پیچھے ان کی برائیاں کرنا، یہ وہ افعال ہیں جو گناہ بھی ہیں اور معاشرے میں بگاڑکا باعث بھی۔ مگر ان اصولوں کا استعمال اکثر توہین مذہب اور توہین رسالت کے کیسز میں تواتر سے جاری ہے۔ کسی کے عیب نہ دیکھو، کسی کی پگڑی نہ اچھالو، کسی کو بے عزت نہ کرو، کسی کی کمیا ں نہ پکڑو، کسی پہ تبصرے نہ کرو یہ تمام باتیں اب پرانی ہو گئیں۔ رائج الوقت سچائی صرف اتنی ہے کہ ہماری گفتگو چاہے زبانی ہو یا تحریری، محفل میں ہو یا سوشل میڈیا پر دوسرے لوگوں کے اوپر کیے جانے والے تبروں سے لبریز ہوتی ہے۔ کسی کے خلاف بات نہ کرنی ہو تو بسا اوقات ہمارے پاس کہنے کے لیے کچھ ہوتا ہی نہیں۔

مسئلہ سنگین صورتحال تب اختیار کرتا ہے جب ہمارے رویے ہمیں دوسروں کے عقائد میں دخل اندازیوں پر مجبور کر دیتے ہیں۔ ہمیں جِس حساب سے ایک دوسرے کے ایمان پر شکوک و شبہات ہیں، اس حساب سے تو پاکستان میں یا تو کا فر رہتے ہیں یا مشرک یا مرتد۔ ہماری سوچوں کے اعتبار سے تو ہم سارے کے سارے ہی نجس، ناپاک، ناجائز ہیں۔ ہمیں ایک دوسروں کی نمازوں پر شک ہے، جنازوں پر مسئلہ ہے، مذہبی عقیدوں پر غصہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب ارشادِ باری تعالی ٰ ہے: " (تمہارے پیدا کرنے کا) مقصد یہ ہے کہ تمہیں آزمایا جائے کہ تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے۔" تو اِ س واضح ہدایت کے باوجودربِ کائنات کی جگہ ہم سب ایک دوسرے کے ایمان کی آزمائش کیوں کرتے رہتے ہیں؟ روایت ہے کہ امام حسین ؑنے کربلا میں اپنی قربانی اہل و عیا ل سمیت پیش کرتے وقت جب فوجِ یزید سے فرض نماز کی ادائیگی کی اجازت چاہی تھی تو نماز کی اجازت نہ ملنے کے ساتھ یزید کے لشکر میں سے ایک آواز امام ؑ کو یہ بھی آئی تھی کہ "تمہاری تو نماز ہی نہیں ہوتی۔" قیاس ہے کہ لشکر ِ یزید کا وہ سپاہی لا ولد نہیں مرا تھا کیونکہ اس کی نسل چودہ سو سال بعد بھی اہل ِ ایمان کو یہ آوازیں لگانے کے لیے ہر طرف موجود ہے کہ " تمہاری تو نماز ہی نہیں ہوتی"۔

Comments

اسماعیل احمد

اسماعیل احمد

کمپیوٹر سائنس میں بیچلرز کرنے والے اسماعیل احمد گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی ٹیکسلا میں بطور انسٹرکٹر کمپیوٹر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ ساتھ ہی یونیورسٹی آف سرگودھا سے انگلش لٹریچر میں ماسٹرز کر رہے ہیں۔ سیاست، ادب، مذہب اور سماجیات ان کی دلچسپی کے موضوعات ہیں مطالعے کا شوق بچپن سے ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.