اعتماد - حبیب الرحمٰن

کسی زمانے میں بادشاہ بھی بہت اچھے ہوا کرتے تھے۔ علم ادب کے دلدادہ، عالموں، عاقلوں اور دانش مندوں کے قدردان۔ تاریخ بھری پڑی ہے کہ جب جب بھی کوئی مشکل در پیش ہوتی، اس وقت کے باد شاہ خود چل کر ایسے لوگوں کے پاس جاتے یا بہت عزت و احترام کےساتھ ان کو اپنے دربار میں بلاتے، عزت کے ساتھ بٹھا تے، اپنا مدعا بیان کرتے، ان سے مشورہ اور رائے طلب کرتے اور جہاں تک ممکن ہوتا ان کے مشورے اور آرا پر عمل کرتے آج سے ہزاروں برس قبل اسی طرح ایک شہزادہ ایک بزرگ کے پاس گیا اور اس کی خدمت میں اپنا مدعا رکھا

"آپ مجھے یہ مشورہ دیں کہ عوام کو خوش اور مطمئن رکھنے کے لیے حکمرانوں کو کیا کرنا چاہیے؟"

"اپنی ”معیشت“ بہتر کرو عوام خوشحال ہوجائیں گے اور خوش رہیں گے۔" بزرگ کی جانب سے جواب آیا

"بہت خوب،" شہزادے نے ان کی بات پر غور کرنے کے بعد خوش ہو کر کہا۔"اس کے علاوہ،" اس نے مزید سوال کیا۔

"طاقتور فوج بناؤ، اس سے عوام اپنے آپ کو محفوظ سمجھیں گے اور اطمنان، سکون اور بے فکری کے ساتھ اپنے اپنے فرائض انجام دیں گے"

شہزادہ بہت خوش ہوا، "بہت خوب بہت اچھا مشورہ ہے، ایسا ہی کیا جائے گا،" اس نے جواب دیا۔۔۔ "اور کیا کرنا چاہیے؟"

"عوام پراپنا اعتماد ہمیشہ قائم رکھنا، کیونکہ اگر عوام کا اعتماد حکمرانوں پر سے اٹھ جائے تو پھر ایسے حکمرانوں کا بہت برا حشر ہوتا ہے۔"

شہزادہ ان کی یہ بات سن کر ”سن“ ہو گیا اور بہت سنجید گی کے ساتھ کہا کہ "واقعی آپ نے جو جو مشورے دیے ہیں بہت ہی اعلیٰ ہیں اور ایسا ہی کیا جائے گا۔" یہ کہہ کر وہ اجازت لے کر جانے کے لیے اٹھا لیکن دروازے کے قریب سے مڑ کر کہا کہ "اگر ان تینوں میں سے کسی بھی سبب کسی ایک کو چھوڑنا پڑجائے تو؟ "

بزرگ مسکرائے اور فرمایا کہ " فوج بنانے کا فیصلہ مؤخر کردینا، معیشت اچھی ہو تو فوج بعد میں بھی بن سکتی ہے۔"

شہزادہ پھر جانے لگا لیکن کچھ سوچ کر دروازے میں ہی رک گیا لیکن کچھ کہنے کی جرات نہ ہوئی۔ یہ دیکھ کر وہ بزرگ خود اٹھ کر آئے اور کاندھے پر ہولے سے ہاتھ رکھ کر کہا کہ کہ "اگر وسائل ساتھ نہیں دے رہے ہوں تو پھر ”معیشت“ کو بھی مؤخر کر دینا لیکن ”اعتماد“ کو ٹھیس کسی صورت نہیں پہنچانا۔"

یہ اعتماد کیا ہوتا ہے؟

ایک گھر کا سربراہ جو خود کھاتا ہے وہی اپنے بیوی بچوں کو کھلاتا ہے، ان سے جھوٹ نہیں بولتا، اس کے کردار میں ایسی کوئی بات نہیں ہوتی جس سے اس کی بیوی، ماں باپ، بھائی بہن اور بچے اس پر شک کر سکیں، رات دن محنت مزدوری کرتا ہے اور جو کچھ کماتا ہے لاکر بیوی کی جھولی میں ڈال دیتا ہے، اس کے لب و لہجے سے کسی کی دل آزاری نہیں ہوتی اور اس کی نگاہوں کے سامنے ایک ہی منزل ہوتی ہے اور وہ ہوتی ہے گھر کی خوش حالی۔

رات دن ہم بسوں، ریل گاڑیوں، ہوائی جہازوں میں سفر کرتے ہیں لیکن ان سے کبھی خوف زدہ نہیں ہوتے اس لیے کہ کہ وہ آپ کے ساتھ دھوکا نہیں کرتیں۔ ان کے رویہ میں یکسانیت اور پختگی ہوتی ہے۔ ان دائیں موڑو تو دائیں ہی مڑتے ہیں اور بائیں موڑو تو بائیں۔ رفتار بڑھاؤ تو رفتار بڑھ جاتی ہے گھٹاؤ تو گھٹ جاتی ہے۔ اگر وہ اپنے رویوں کے خلاف کام کرنے لگیں تو کون ان سفر کرے گا۔ اگر کبھی حادثات ہوتے بھی ہیں تو وہ خود انسانی غفلتوں کے نتیجے میں ہوتے ہیں۔

اگروہ خلاف رویہ از خود کام کرنے لگیں تو اعتماد اٹھ جائے گا اور اگر ذرا بھی اعتماد اٹھ جائے تو زندگی جہنم کا نمونہ بن کر رہ جایا کرتی ہے۔

بیوی شوہر کی اور شوہر بیوی کا جانی دشمن بن جاتاہے، والدین اپنا پیار واپس لے لیتے ہیں…اور… اولاد یا تو والدین کا گلا کاٹ دیتی ہے یا اکثر والدین بہت ہی انتہائی قدم اٹھا بیٹھتے ہیں اور اس طرح ہنستا بستا گھر دیکھتے ہی دیکھتے جہنم نظیر بن جاتا ہے۔

معیشت ہماری برباد ہو چکی ہے، فوج بھی بیمار ہو چکی ہے، حکمران اپنا اعتماد کھوتے چلے جارہے ہیں، گلے کٹ رہے ہیں، گھر جل رہے ہیں، جس آنکھ میں جھانک کے دیکھو وہ ہر دوسری آنکھ سے شاکی ہے۔

سائے گہرے سے گہرے ہوتے جارہے ہیں اور مناظر آہستہ آہستہ معدوم سے معدوم تر… اس لیے کہ ہر ادارے اور ہر محکمے سے لوگوں کا اعتماد اٹھتا چلا جارہا ہے

جب توقع ہی اٹھ گئی غالب

کیوں کسی کا گلا کرے کوئی

ٹیگز
WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */