"من الظلمات إلى النور" کے نئے مسافر، سیزر میتھیوز - ابو حسن

سعادتوں کے عظیم سفر "من الظلمات إلى النور" میں شامل ہونے والے محترم بزرگ "سیزر میتھیو" (Caesar Matthews) جوکہ برازیل کے ایسے علاقہ سے تعلق رکھتے جہاں پر اکثریت نچلے درجہ کے لوگ بستے ہیں یعنی غریب غُربا لوگ اس علاقہ کے باسی ہیں اور اُن لوگوں کے درمیان رہتے تھے جن کا کام منشیات بیچنا اور حرام کاموں کی دعوت یعنی ہر قسم کی مُحرمات وہاں پر ہوتیں۔ پھر اللہ نے اِن کے دل کو اندھیروں سے نُور کی راہ دکھلائی اور یہ نور ایسا چمکا کہ علاقہ کے لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور لوگ اس نوزائیدہ کُونپل سے مستفید ہونے لگے اور اس کی خوشبو چار سو پھیل گئی اور پھر لوگوں کو اسلام کی معرفت ملنے لگی اور یہ وہ لوگ ہیں جِنہوں نے کبھی اسلام کا نام بھی نہيں سنا اور نہ ہی اِن کے قرب و جوار میں کوئی مُسلم بستا تھا۔

میرا نام "سیزر میتھیو" ہے اور میری عُمر 41 سال ہے، میں برازیل کے علاقہ "ساؤ پالو" میں پیدا ہوا اور مَیں "ایمبو ڈاس" شہر مِیں رہتا ہوں۔

اسلام میں داخل ہونے سے پہلے مَیں بہت سے مَرحلوں سے گُزرا ہوں اور مَیں نے پہلی مرتبہ اسلام کا نام 11 ستمبر کے حادثے کے بعد سنا اور اُس سے پہلے مَیں "ہِپ ہُوپ" میوزک کے گروپ مِیں بہت زیادہ دلچسپی رکھتا تھا اور مَیں نے کبھی اسلام کے بارے مِیں غور بھی نہیں کیا۔

یہ میرا گھر ہے جس کا نام مَیں نے "زُوما لُوما" رکھا میری کہانی میوزک اور ہپ ہوپ کے گرد گھومتی ہے اور اس کاروبار کو بنانے میں مجھے 20 برس کی طویل مدت لگانی پڑی اور اس جگہ کا نام میں نے اس وقت "زوما لوما" رکھا اور ابھی بھی اسی نام سے مشہور ہے۔

"ساؤ پالو" شہر کے کچھ لڑکے اس وقت میرے ساتھ ہپ ہوپ گروپ میں تھے اور پھر اس کے علاوہ بھی گروپ تھے۔

اسلام سے کیسے میری شناسائی ہوئی؟ تو ہوا کچھ یوں میری زندگی بہت مصروف اور محنت طلب گزر رہی تھی وہ اس لیے کہ میں میوزک بھی بناتا تھا گانے بھی لکھتا تھا اور نئی دھنیں بھی مجھے بنانی ہوتیں تو ایک دن اِسی کام مِیں مَگن تھا اور انٹرنیٹ پر ڈھونڈ رہا تھا کہ کچھ نیا ملے تو مَیں کوئی نیا گانا لکھوں، اِسی دوران مجھے اذان ملی، سُنی تو بہت اچھی لگی اور یہ پہلا موقع تھا کہ کوئی نیا کلام سننے کو ملا اور بہت اچھا لگا لیکن مطلب معلوم نہیں تھا تو سوچا اس کا مطلب بھی جان لوں کہ مطلب کیا ہے؟ اور اس دوران میں بار بار اذان کو سنتا حالانکہ میں مطلب نہیں جانتا تھا لیکن مجھے بار بار سننا بہت اچھا لگ رہا تھا اور اس بار بار سننے سے میری روح کو تسکین مل رہی تھی اور یہی وہ بات تھی جس نے مجھے بہت متاثر کیا اور اسلام جاننے کے بارے میں ذریعہ و شروعات بنی، میں نے مزید اسلامی ویڈیو دیکھنی شروع کردیں اور پھر کتابیں پڑھنا شروع کیں اور پھر میں اسلام کے بارے مزید جانتا گیا اور سمجھ آنا شروع ہوگیا۔

جس بات نے میرے دل کو اسلام جاننے کی طرف مائل کیا وہ اذان اور "سورۃ الأعلیٰ" تھی حتی کہ میں کسی ایک لفظ کا بھی مطلب نہیں جانتا تھا لیکن اس کا اثر اتنا قوی تھا مجھ پر کہ یہ اخلاقی اثر میری زندگی پر بہت گہرا پڑا اور مختلف مواقع جو کہ میری زندگی میں بہت سخت آئے اور پیچیدگیاں لیے واقعہ ہوئے تو ان میں جو مجھے تقویت ملی وہ میں الفاظ میں سمجھانے سے قاصر ہوں اور " سورۃ الأعلی " کی ان آیات (14 سے 17) نے سب سے زیادہ مجھ پر اثر کیا اور ابھی تک میں ان کے جوامع الکلمات کے زیر اثر ہوں:

قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَكَّى * وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّى * بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا * وَالآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَى

بے شک وہ مراد کو پہنچ گیا جو پاک ہوا * اور اپنے پروردگار کے نام کا ذکر کرتا رہا اور نماز پڑھتا رہا * مگر تم لوگ تو دنیا کی زندگی کو اختیار کرتے ہو * حالانکہ آخرت بہتر اور زیادہ پائیدار ہے۔

قارئین اس سورت کی شروع کی آیات اپنے جمال اور معنی کے اعتبار سے بہت ہی فصاحت لیے ہوئے ہیں، اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ:

سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأعْلَى * الَّذِي خَلَقَ فَسَوَّى * وَالَّذِي قَدَّرَ فَهَدَى

اپنے رب کے نام کی تسبیح کیا کر جو سب سے اعلیٰ ہے * وہ جس نے پیدا کیا پھر ٹھیک بنایا * اور جس نے اندازہ ٹھہرایا پھر راہ دکھائی۔

اور مجاہد رحمہ اللہ نے اس کے متعلق فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو یہ اختیار کی راہ دی ہے کہ "چاہے سعادت والی زندگی کو اختیار کرے یا پھر بدبختی کو گلے لگائے" اب یہ انسان پر منحصر ہے۔

ایک مسلم بھائی جو مجھے انٹر نیٹ کے ذریعہ ملے وہ اسلامی کتب بھیجتے تھے اور پھر میں نے ان کے سامنے اپنی " شھادہ " یعنی کلمہ پڑھا اورقبول اسلام کیا۔ میں نے دو مرتبہ کلمہ پڑھا ایک مرتبہ 8 برس قبل جو کہ قبول اسلام تھا لیکن حقیقی اسلام 4 برس قبل اپنایا اور آپ کو تعجب بھی ہوگا اور سوچیں گے کہ یہ کیا ہے؟ تو اصل میں غربت زدہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں میں اسلام بہت آہستہ آہستہ داخل ہوتا ہے اور سب سے بڑی بات کہ کوئی سیکھانے والا میسر نہيں آتا۔

میں اپنی " شھادہ " کے 4 برس بعد اس قابل ہوا کہ دوسروں کے ساتھ مسجد میں نماز ادا کرسکوں اور اسی وجہ سے میں کہتا ہوں کے4 برس سے میں نے حقیقی اسلام کواپنایا۔ اسلام سے پہلے میں اتنا خوبصورت نہ تھا لیکن اسلام لانے کے بعد مجھ میں خوبصورتی آگئی۔ اصل میں قبول اسلام سے پہلے مجھ میں صبر نہیں تھا اور قبول اسلام کے بعد رفتہ رفتہ مجھ میں صبر کرنے کی تھوڑی صلاحیت پیدا ہوگئی۔

اسلام انسان کی پوری زندگی ہی تبدیل کرکے رکھ دیتا ہے، ایک بندہ غیر جانب دارانہ اسلام میں داخل نہ ہوسکا اور یہ میرے ساتھ ہوا کہ شراب پینا اور نشہ آور چیزوں کا استعمال کرنا ہوتا رہتا تھا لیکن اسلام لانے کے بعد میں نے ان کو روک دیا اور کسی ایک دن یا رات میں یہ نہيں ہوا رفتہ رفتہ ایسا ہوا۔

میرے مسلمان ہونے کے بعد میرے چھوٹے بیٹے نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا تو وہ میرے ساتھ نماز میں شامل ہونا شروع ہوگیا بغیر میرے بلائے اور اسی طرح میری چھوٹی بیٹی بھی شامل ہونا شروع ہوگئی اور پھر بڑے بیٹے نے عرصہ بعد اسلام قبول کرلیا جو کہ18 برس کا ہے لیکن میری بیوی ابھی بھی عیسائیت پر ہے اس کے باوجود وہ ہمارے ساتھ شامل ہوتی ہے عملی طور پر کیونکہ وہ ہمارے ساتھ مسلمان کی حیثیت رہتی ہے۔

وہ ہمارے ساتھ ہرمعاملہ میں جو بھی ہم کرتے ہیں شامل رہتی اور ہمارے ساتھ شراکت کرتی ہے، اور جو گھر میں "مصلّہ" بنایا گیا ہے اسی کی وجہ ہے کہ اسلامی طرز زندگی پر آتی جارہی ہے اور ہم سب اللہ تعالیٰ سے دعاگو ہیں کہ وہ اس کو سعادت والے سچے راستہ کی طرف رہنمائی عطا فرمادے، اللہ نے چاہا تو ایک دن وہ بھی اسلام پر ہوگی ان شاءاللہ آپ سب بھی دعا کیجیے گا۔

اب محترم کا بیٹا "بریان لوثر" اپنے متعلق بتا رہا ہے:

میں نے اسلام کے بارے میں اپنے والد کے دخول اسلام کے بعد جاننا شروع کیا اور اب میں سینٹ برناڈر کے اسلامی سکول میں پڑھتا ہوں اور اسی شہر میں مقیم ہوں اور ہر ہفتہ چھٹی پر گھر آتا ہوں اور سکول میں فقۂ اور سیرت نبوی ﷺ، تجوید اور قرآت قرآن سیکھتا ہوں اور پھر بریان نے اپنی خوبصورت آواز سے "سورۃ بقرۃ" کی آخری آیات سنا کر دلوں کو منور کیا۔

دلچسپ اور نہایت ہی فکر والی بات جو محترم بزرگ "سیزر" کے دل میں پیدا ہوئی قبول اسلام کے بعد؟ وہ تھی اپنے گھر میں مسجد بنانا یعنی ایک جگہ مختص کرکے اس کو مصلہ بنالیا جائے جہاں پر باقاعدگی کے ساتھ نماز ادا کی جاسکے، اور انہوں نے نہ تو اس بات کی فکر کی کہ بیوی بچے اور مہمان وغیرہ کہاں رہیں گے؟ حالانکہ ان کا گھر بہت چھوٹا سا ہے اور پھر انہوں نے گھر کے ایک حصہ کو مصلہ میں بدل دیا جہانپر یہ خود اور محلہ کے دوسرے نومسلم ان کے ساتھ ملکر نماز ادا کرتے ہیں اور اس مصلہ کا نام "مصلہ الرحمٰن" ہے، آئیے اس مصلہ کا واقع انہی کی زبانی سنتے ہیں۔

اس مصلہ کے بارے میں میں یوں کہوں گا کہ ہمیں نماز پڑھنے کے لیے مسجد کی اشد ضرورت تھی اور جو سب سے نزدیکی مسجد تھیوہاں پہنچنے کے لیے گاڑی پر 2 سے 3 گھنٹے لگتے اور یہ مہنگا کام تھا اور ساتھ میں اسلامی تعلیمات حاصل کرنا مشکل کام تھا تو ہمیں لگا کہ ہمیں مصلہ کی ضرورت ہے اور اکثر لوگ مجھے پوچھتے رہتے کہ مصلہ کا کیا مطلب ہے؟ اور یہی ذریعہ تھا لوگوں کو اسلام سے متعارف کروانے کا اور اسلام کے متعلق بتانے کا۔

پھر ان کے نو مسلم محلہ دار "صدیق سیزر" سے بات ہوئی تو وہ کہنے لگے

میں اس کی ذات سے متحیر ہوتا تھا اور یہی وجہ ہے کہ میں نے اس کے "ہپ ہوپ گروپ" میں شمولیت اختیار کی اور اس کے اسلام لانے کے بعد میں نے دیکھا کہ یہ ایک پرسکون آدمی دکھائی دیتا اور ہم اکثر اوقات مصلہ پر ملتے اور کافی پیتے اور باتیں کرتے۔

محترم بزرگ "سیزر" اپنی برازیل میں شہرت کے متعلق بتاتے ہیں حالانکہ وہ ایک غریب بستی کے باسی ہیں۔

اصل میں جب گلی کوچوں میں "ہپ ہوپ" کلچر فروغ پانے لگا اور اس نے اپنا کردار غربت زدہ علاقوں میں زیادہ دکھایا اور مجھے چونکہ 30 برس ہوگئے تھے اس شعبہ میں کام کرتے ہوئے اور ہپ ہوپ گانوں کی وجہ سے قریبی علاقوں کے لوگ مجھ سے اسلام کے متعلق سوال پوچھتے کہ کیوں اسلام؟ اور چونکہ اس سے پہلے انہوں نے اسلام جیسی صفات دیکھی نہیں تھیں تو ان لوگوں کومزید تعجب ہوتا اور جب میں نے مصلّہ بنایا اور گانا بجانا بالکل ترک کردیا اور مکمل دھیان اسلام کی طرف لگانا شروع کردیا اور ان سب معاملات نے لوگوں اور صحافیوں کو متوجہ کیا اور پھر صحافی بھی آنے لگے اور سوال جواب کا سلسلہ شروع ہوگیا اور وہ یہ سوچتے تھے کہ اسلام صرف عربوں اور لبنانی لوگوں کا مذہب ہے اور یہ برازیلیوں کے لیے نہیں ہے تو میں جواب دیتا کہ "میں برازیلی بھی ہوں اور میں مسلمان بھی ہوں۔"

اور یہ بات ان کے لیے نہایت دلچسپ اور متوجہ کرنے والی تھی اور اسی کے متعلق میڈیا والے بھی پوچھتے اور پھر اسی وجہ سے لوگ مجھ سے میوزک کے بارے سوال کرتے اور وجہ پوچھتے کہ میں نے گانا بجانا کیوں چھوڑ دیا؟ اور پھر مصلہ کیوں کھول لیا؟

قارئین کرام! محترم بزرگ "سیزر" اپنے حج کے سفر کے بارے میں بتا رہے ہیں جس میں ایک واقعہ ایسا پیش آیا کہ سن کر میرا دل بھی بہت دکھی ہوا، آئیے اس سفرحج انہی کی زبانی سنتے ہیں:

ایک دن میں گھر پر تھا اور یہ عام معمولات کا دن تھا اور ایک اسلامی مرکرز سے ایک بھائی نے مجھے فون کیا اور کہا "کیا آپ حج کے لیے جانا چاہتے ہیں؟" اور میں نے اسی وقت ہاں میں جواب دیا، نہ تو مجھے حج کی حیثیت کا علم تھا اور نہ ہی مجھے اس کی فرضیت کے بارے میں علم تھا۔

حج کی ادائیگی میرے لیے بہت اہم تجربہ تھا اور اس نے میری زندگی کا رہن سہن بدل کر رکھ دیا اور اس حج کے دوران ایک ایسا واقعہ رونما ہوا جس کا تصور میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔

میرے جسم پر "Tattoo" تھے جو کہ مسلمان ہونے سے پہلے میں نے کروائے تھے، حج کے مناسک ادا کرتے ہوئے احرام پہنا ہوا تھا اور بازو کھلا ہونے کی وجہ سے ایک مسلمانوں کے گروہ نے مجھے دیکھا تو زور زور سے بولنے لگے "حرام حرام حرام" اور ان میں سے ایک میرے پاس آیا اورحقارت بھرے لہجہ سے کہا ہم سے دور رہو "حرام حرام!"

اور میں بہت زیادہ دکھی ہوگیا اور مجھے ٹیٹو کے بارے میں بالکل بھی علم نہ تھا کہ ان کی وجہ سے مجھے یوں پریشانی اٹھانی پڑے گی، الحمدللہ کہ ہمارے ساتھ ایک عالم تھے جو بہت اچھے اور محبت کرنے والے تھے انہوں نے احرام سے میرے کندھوں اور بازوں کو مکمل ڈھانپ دیا جن سے ٹیٹو چھپ گئے۔

پھر مجھ سے کہا کہ یہ سب اسلام قبول کرنے سے پہلے کے ہیں اور قبول اسلام کی وجہ سے تمہارے سب گناہ معاف ہوچکے ہیں اور اب چونکہ یہ تمہارے جسم پر موجود ہیں اور انہی کے ساتھ رہتے ہوئے تمہاری زندگی کا نیا باب شروع ہوچکا ہے اور مزید حج کی وجہ سے تم ایسے ہوچکے ہو جیسا کہ تمہاری ابھی پیدائش ہوئی ہو، جو کچھ تم ماضی میں کرچکے ہو وہ مستقبل میں بھی تم سے جڑا رہے گا اور اب تم اس کے لیے کچھ نہيں کرسکتے، ان کی ان باتوں نے میرے مجروح دل کو سکون دیا اور میں پھر سے خوشگوار حالت میں پلٹ آیا۔ الحمدللہ!

قارئین کرام! آپ کو اس میں اپنے مسلمان بہن بھائیوں کے عجیب رویے محسوس ہوئے ہوں گے اور آپ اندازہ لگائیں کہ ایک نومسلم جس کی زندگی گانے بجانے اور معصیت میں گزری اور پھر اس کو اللہ تعالی نے اذان کے ذریعہ سے اندھیروں کی زندگی سے سعادتوں والی روشنی دکھائی اور انہوں نے اپنے رب کی اس عنایت پر لبیک کہتے ہوئے اس کو اپنایا اور ان کے ذریعہ سے معلوم نہیں کتنے لوگ سعادت والی زندگی کے مسافر بن گئے، اللہ اکبر!

اور ان پیدائشی مسلمانوں کا ان کے ساتھ ہتک آمیز رویہ؟ روح تک کو تڑپا کر رکھ دیا جو ان کے ماضی کے حالات سے بے خبر اپنے فتووں سے چڑھائی کر رہے ہیں، ایسا رویہ؟ ان کے اسلام سے بدظن ہونے کا ذریعہ بن سکتا تھا، اللہ اپنے ہاں سے بہتر بدلہ عطا فرمائے ان عالم کو جنہوں نے ان کی ڈھارس بندھائی اور ان کو اسلام کا اخلاقی طرز دکھایا اور بتایا کہ آپ تو ایسے ہو جیسے ابھی ماں کے پیٹ سے جنم لیا ہو، اللہ اکبر!

اللہ تعالی نے اپنے حبیب ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے تعلیم دی کہ

ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ

(اے پیغمبر) لوگوں کو دانش اور نیک نصیحت سے اپنے پروردگار کے رستے کی طرف بلاؤ۔

کیوں ہم نے رحمت اللعالمین ﷺ کی سیرت کو پس پشت ڈال دیا؟ کیوں ہم نے آپ ﷺ کے اخلاق کو بھلا دیا؟ کیوں ہم آپ ﷺ کی تعلیمات کو اپنانے کی کوشش نہيں کرتے (الّا ماشاءاللہ)

کل ہم نے اپنے رب کے سامنے اس کا جواب دہ ہونا ہے، اللہ کے لیے اخلاق کا دامن اپنانے کی کوشش کی جائے۔

اللہ تعالىٰ سے دعا ہے كہ وہ مسلمانوں كى حالت درست كرے اور ہم سب كو صحيح راہ كى توفيق نصيب فرمائے، يقينا اللہ تعالىٰ سننے والا اور قبول كرنے والا اور قريب ہے۔ اللہ تعالی ہمیں اس دین پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے کہ جس دین کو لیکر سیدالاولین و الاخرین ﷺ آئے اور جس پر صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین نے عمل کرتے ہوئے اپنی زندگیوں کو گزارا اور جنت کی بشارتیں پاتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوئے اللہ تعالی ہمیں بھی ان کے نقشے قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور اللہ تعالىٰ ہمارے نبى محمد صلى اللہ عليہ وسلم اور ان كى آل اور ان كے صحابہ كرام پر اپنى رحمتيں نازل فرمائے۔ آمین!

Comments

ابو حسن

ابو حسن

میاں سعید، کنیت ابو حسن، 11 سال سعودی عرب میں قیام کے بعد اب 2012ء سے کینیڈا میں مقیم ہیں الیکٹرک کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ دین کے طالب علم اور اسلامی کتب و تاریخ سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں۔ دعوت الی اللہ اور ختم نبوت کو اپنا مقصد سمجھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.