راؤ انوار کی ضمانت اور قانون غنوں کی برہمی - آصف محمود

سپریم کورٹ نے راؤ انوار کی ضما نت قبول کر لی ہے ۔ اس فیصلے پر تنقید کی دو ہی صورتیں ہو سکتی ہیں
اول : آدمی کا فہم قانون ناقص ہواور اسے معلوم ہی نہ ہو وہ کیا کہہ رہا ہے۔
دوم : وہ خبث باطن کا شکار ہو اور حکمرانوں کی محبت میں وہ یہ طے کر چکا ہو کہ اسے ہر حال میں عدلیہ کو سینگوں پر لینا ہے ۔ اس بیمار رویے کے ظہور کی تیسری کوئی صورت ممکن نہیں۔ آئین اور قانون کی روشنی میں یہ ایک درست فیصلہ ہے جس میں کسی قسم کا کوئی سقم موجود نہیں۔

یہ بات درست ہے کہ ضابطہ فوجداری کے تحت ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست اس وقت تک قبول نہیں کی جاتی جب تک ملزم خود کو عدالت کے سامنے پیش نہ کر دے ۔ ملزم اگر قانون سے بھاگ رہا ہو تو اس کی ایسی درخواست قبول نہیں کی جاتی۔ لیکن یہ جزوی سچ ہے۔ مکمل سچ یہ ہے کہ یہ پابندی ماتحت عدالتوں کے لیے ہے اور ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ اس ضابطے پر من و عن عمل کرنے کی پابند نہیں ہیں ۔

جس ضابطہ فوجداری کے تحت ضمانت کے لیے ملزم کا عدالت میں پیش ہونا ضروری ہے اسی ضابطہ فوجداری کی دفعہ 561(A) میں یہ بھی طے کر دیا گیا ہے کہ ہائی کورٹ کے پاس یہ اختیارات موجود ہیں کہ وہ انصاف کی فراہمی کے لیے ضروری سمجھے تو ضابطوں کی ان پیچیدگیوں کو ایک طرف رکھ کر مناسب فیصلہ جاری کر دے ۔ قانون کی اصطلاح میں اس اختیار کو (Inherent Power)کہتے ہیں ۔ یہ ناقابل تنسیخ اختیار ہے ۔ اور راؤ انوار کے معاملے میں تو یہ اختیار ہائی کورٹ سے بھی اوپر کی عدالت نے استعمال کیا ہے۔ پھر شور کیسا؟

اعلی عدالتوں کے پاس (Inherent Power) بھی ہیں اور آرٹیکل 199کے تحت غیر معمولی اختیارات بھی ہیں ۔ ان اختیارات کو آپ آسانی سے یوں سمجھ سکتے ہیں کہ جب مشرف دور میں نیب کا ادارہ بنایا گیا تو نیب آرڈیننس کے دفعہ 9 (B) میں کہا گیا کہ نیب کے ملزم کو کوئی عدالت ضمانت پر رہا نہیں کر سکے گی۔ لیکن اعلی عدالتوں نے آرٹیکل 199 کے تحت لوگوں کو ضمانت پر رہا کیا۔ اسفندیار ولی کیس میں دیا گیا اس معاملے میں رہنما حیثیت رکھتا ہے ۔ حکومت کو تو آج تک توفیق نہیں ہوئی کہ اس دفعہ کو سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں تبدیل کر دے لیکن باوجود اس کے کہ یہ قانون اب بھی ویسا ہی ہے کہ نیب کے ملزم کو ضمانت پر رہا نہیں کیا جا سکتا ، اعلی عدالتیں انہیں رہا کرتی ہیں ۔ جس قانون میں ضمانت کی واضح طور پر ممانعت ہے اعلی عدلیہ کو وہاں بھی ضمانت دینے کا حق ہے تو راؤ انوار کے معاملے میں اس حق کو کیسے محدود کیا جا سکتا ہے جہاں ضمانت کا حق تو موجود ہے معاملہ صرف راؤ انوارکے پیش نہ ہونے کا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   جج ارشد ملک مبینہ ویڈیو کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری

آرٹیکل 184میں بھی سپریم کورٹ کو غیر معمولی اختیارات ہیں ۔ اس میں کہا گیا ہے کہ معاملہ اگر مفاد عامہ یعنی ( Public Interest) کا ہو یا بنیادی حقوق کے نفاذ کا ہواور انصاف کی فراہمی کے لیے اگر وہ کوئی حکم جاری کرنا ضروری سمجھتی ہے تو کوئی ضابطہ اس کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتا۔ ہمیں بھولنا نہیں چاہیے کہ راؤ انور جس کیس میں مطلوب ہے وہ بنیادی حقوق کا کیس بھی ہے اور مفاد عامہ کا بھی ۔ ہزاروں لوگ اسلام آباد میں دھرنا دے کر بیٹھے رہے۔ نقیب اللہ کا قتل بنیادی حقوق کا ابطال ہے۔ چنانچہ سپریم کورٹ نے سوموٹو بھی لیا۔ اسی سوموٹو سماعت کے دوران راؤ انوار نے ایک درخواست کی مگر خود حاضر نہ ہوا۔ عدالت نے اس درخواست کو قبول کر کے اسے حاضر ہونے کا حکم دیا۔ اس میں کیا قباحت ہے؟

یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ سوموٹو کے باوجود انتظامیہ راؤ انوار کو پکڑ نہ سکی کہ اس کا ٹرائل شروع ہو۔ اس کی گرفتاری کیوں مقصود تھی ؟ اس لیے کہ اس کا ٹرائل ہو۔ اب ایک مفرور جو پکڑا بھی نہیں جا رہا، معاملہ بھی مفاد عامہ اور بنیادی حقوق کا، سوموٹو بھی لیا جا چکا۔ ایسے میں ملزم ٹرائل کے لیے سرنڈر کرنا چاہتا ہے گویا اصل مقصد پورا ہونے جا رہا ہے اور عدالت نے مناسب سمجھا کہ انصاف کی فراہمی کے لیے ٹرائل شروع کرنا ہے اور ضابطے کی پیچیدگی کو ( Inherent Powers) کے تحت نظر انداز کرتے ہوئے اسے ضمانت بھی دے دی اور انتہائی مختصر مدت میں اسے پیش ہونے کا بھی حکم دے دیا۔ اس میں غلط کیا ہوا کہ تنقید کی جائے؟ آئین کا آرٹیکل 191 بھی ذہن میں رکھیے اور مت بھولیے کہ یہ آرٹیکل تو سپریم کورٹ کو یہ اختیار بھی دے رہا ہے کہ عدالت کی ’’پریکٹس اینڈ پروسیجر‘‘ کے لیے جو ضابطے مناسب سمجھے بنا سکتی ہے۔ پھر یہ بھی اعلی عدالتوں میں ایک طے شدہ اصول ہے کہ انصاف کی فراہمی بنیادی چیز ہے اور کسی ضابطے کی پیچیدگی اس کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتی۔

یہ بھی پڑھیں:   جج ارشد ملک مبینہ ویڈیو کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری

فیئر ٹرائل البتہ ایک الگ چیز ہے اور وہ محض کسی ذیلی قانون میں دیا گیا کوئی ضابطہ نہیں بلکہ آئین کے آرٹیکل 10(A) کا تقاضا ہے۔ راؤ انوار کے معاملے میں فیئر ٹرائل ہی کو شروع کرنے کے لیے ایک پیچیدگی کو نظر انداز کیا گیا ہے کہ چلو پولیس نہیں پکڑ سکی تم خود عدالت میں آنا چاہتے ہو تو عدالت تمہیں ضمانت بھی دیتی ہے ، تمہاری جان کا تحفظ بھی کرے گی تاکہ مقدمہ شروع ہو اور معلوم ہو سکے کہ نقیب اللہ کا قاتل کون تھا ۔ ضمانت اصل چیز نہیں ، اصل چیز اس کا ٹرائل ہے۔ سپریم کورٹ نے اس ٹرائل کو یقینی بنایا ہے ۔ اور اپنے آئینی اور قانونی اختیارات کے اندر رہ کر بنایا ہے۔

اہلِ دربار کی برہمی کچھ اور ہے۔ ان کا غم بھی کچھ اور ہے۔ آغا حشر کی اصطلاح مستعار لوں تو یہ جو قصابوں کی بارات جیسا شور مچا ہے اس میں باراتی بالعموم دربار عالی کے مغنی اور محل کے پائیں باغ کی بلبلیں ہیں۔ راؤ انوار کی گرفتاری کے لیے ہزاروں لوگ اسلام آباد میں کھلے آسمان تلے بیٹھے رہے ان مغنیوں میں سے کسی ایک کو توفیق نہ ہوئی کہ حکمرانوں پر ایک حرف ملامت ہی اچھال دیتا کہ مظلوموں سے اتنے بے نیاز کیوں ہو گئے ہو۔ راؤ انوار کو گرفتار کیوں نہیں کرتے۔ سپریم کورٹ نے ایک حکم دیا تو سب کائیں کائیں کرتے آ گئے۔ زہے نصیب۔

کسی کا معاملہ قانون کے باب میں نقص فہم کا تھا تو وہ اس طالب علم نے بیان کر دیا ۔ بات اگر نفسیاتی گرہ کی ہے تونفسیاتی معالج ہی کچھ کر سکتا ہے۔

Comments

آصف محمود

آصف محمود

آصف محمود اسلام آباد میں قانون کی پریکٹس کرتے ہیں، روزنامہ 92 نیوز میں کالم لکھتے ہیں، روز نیوز پر اینکر پرسن ہیں اور ٹاک شو کی میزبانی کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اپنی صاف گوئی کی وجہ سے جانے جاتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.