[نظم کہانی] کھیل - محمد عثمان جامعی

کھیلنے کُودنے کا دن آیا تھا، یعنی اتوار

گلی میں بیٹھے تھے دو بچے، تھوڑے سے بیزار

ان میں سے اک بولا، جو کچھ زیادہ تھا ہُشیار

”آؤ! چُھپن چُھپائی کھیلیں، گر تم ہو تیار

بس اک شرط ہے، یوں کھیلیں گے تم فوراً مل جاؤ

لیکن مجھ کو جتنا ڈھونڈو پر تم ڈھونڈ نہ پاؤ

کھیل میں ہوں گے ہم دونوں کے الگ الگ کردار

تم بن جاؤ سیاسی ورکر، میں راؤ انوار“