منافقت - خرم علی راؤ

منافقت کا مطلب ہوتا ہے کہ اندر کچھ اور باہر کچھ، ظاہر کچھ باطن کچھ، جو نہ ہو اسے ظاہر کرنا، اس صفت رذیلہ کی ہمارے دین میں بڑی مذمت کی گئی ہے اور اسے کبیرہ گناہوں میں شمار کیا گیا ہے اور بعض روایات ایسی بھی ملتی ہیں کہ منافقین کفار سے بھی پہلے جہنم میں جائیں گے۔ مشہور منافق بلکہ رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کا واقعہ مشہور ہے، سرکار دوعالمﷺ نے اس کے بیٹے کی فرمائش پر جو سچے اور پکے مسلمان تھے، عبداللہ بن ابی کے کفن کے لیے اپنا پیرہن مبارک عنایت فرمایا تھا اور اس کی نماز جنازہ بھی پڑھائی تھی مگر پھر بھی اللہ تعالی کی جانب سے تنبیہ نازل ہوئی اور اس کی مغفرت سے بیزاری کا اعلان فرمایا گیا۔ تو منافقت ایسی بری اور خبیث چیز ہے۔

اب ہم آتے ہیں اپنے موجودہ حالات اور قومی مزاج کی جانب، ذرا غور تو کیجیے، کیا منافقت ہمارے قومی مزاج میں رچی بسی نہیں؟ الّا ماشااللہ، مجھ سمیت تقریباً ہر پاکستانی بھائی، بہن، باپ، بیٹا،اور شہری یہ مرض پالے بیٹھا ہے۔ ہم زندگی تو فساق و فجار والی پسند کرتے ہیں اور موت کلمے والی چاہتے ہیں۔ ہم زندگی تو لندن پیرس اور ہالی وڈ کی پسند کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ دفن جنت البقیع میں ہوں۔ ہم خود جھوٹ، فریب اور اپنی اپنی سطح پر دھوکہ دہی کا ارتکاب کرنے کے بعد دوسروں سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ ہم سے ہر اعتبار سے ایمان داری برتے گا۔ ہمارے ہر شعبہ زندگی میں معدودے چند کے سوا منافقین کا راج ہے اور اب تو اسے بجائے گناہ اور خامی کے خوبی سمجھا جاتا ہے، جو جتنا بڑا جھوٹا اور منافق وہ اس معاشرے میں اتنا ہی کامیاب، یہ سوچ اب پنپ چکی ہے۔

اگر صرف دین کا ہی نقصان ہوتا اور دنیاوی فائدے حاصل ہورہے ہوتے اور یہ دنیا جسے ہم عملاً دین پر مقدم سمجھتے ہیں اس صفت رزیلہ کو اپنانے سے بن رہی ہوتی تو چلو پھر بھی کچھ بات تھی مگر بھیا! یہاں تو دونوں طرف سے نقصان ہی نقصان نظر آرہا ہے۔ عالمی برادری میں ہم ناقابل اعتبار ٹھہرے ہیں۔ ہماری باتوں، ہمارے دعووں کو جھٹلادیا جاتا ہے۔عالمی ادارے ہمارے اعداد و شمار تسلیم نہیں کرتے، ہماری تعلیمی ڈگریاں دنیا میں بے وقعت ہیں۔ہم آپس میں بھی ایک دوسرے پر بھروسہ نہیں کرتے۔ ہم منافقت اور جھوٹ کو ڈپلومیسی کا خوبصورت نام دے کر خوش رہتے ہیں۔ ہمارا عام آرگیومنٹ یہ ہوتا ہے کہ کیا کریں یار، کرنا پڑتا ہے، یہاں ایسا ہی چلتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   عطار کے لونڈے - حبیب الرحمن

مگر ایسا کب تک چلے گا؟ آخرت کے حساب کتاب کو تو فی الحال جانے دیں مگرجب ہماری آئندہ نسل ہمیں کٹہرے میں کھڑا کرے گی اور حساب لے گی تو کیا جواب ہوگا؟ اب سوائے اس کے کوئی حل کوئی چارہ نہیں کہ ہم میں سے ہر ایک اپنی اصلاح کا بیڑا خود اٹھائے، ریاست اور معاشرے، کسی تعلیمی یا تبلیغی تحریک، یا کسی سیاسی جماعت سے یہ توقع رکھنا عبث ہے کہ وہ معاشرے میں رائج اور ہماری قومی زندگی اور قومی مزاج میں پیوست ہوجانے والی اس برائی کے خاتمے کے لیے کچھ کر سکتی ہیں۔ وہ صرف تھوڑا بہت کام کر سکتی ہیں اصل فکر ہمیں خود پہلے اپنی اور پھر اپنے گھر والوں کی ان صفات رزیلہ سے نجات کی کرنی ہوگی جو ہماری دنیا بھی تباہ کررہی ہیں اور آخرت بھی۔ اور اگر ایسا نہ کیا گیا اور اس کو اسی طرح جاری و ساری رہنے دیا گیا تو پھر رہی سہی امید بھی دم توڑ دے گی اور ہم سب انسانون کے بھیس میں جانوروں والی زندگی گزارتے نظر آ رہے ہوں گے اور ہمارا پیارا پاکستان " جانورستان" بن جائے گا۔ ہماری آئندہ نسلیں ہمیں مطعون کریں گی اور ہم ان کی یادوں اور مثالوں میں ایک بری یاد ایک بری مثال کے طور پر رہیں گے۔کیا آپ ایسا چاہتے ہیں؟