شہزادہ سلیم اور انار کلی - عزیزہ انجم

دعوت جہاں سے آئی تھی، امید واثق تھی کہ خواتین اور حضرات کے لیے علیحدہ نشستوں کا اہتمام ہوگا لیکن داخل ہوتے ہی اندازہ ہو گیا کہ غلط امید باندھ لی تھی۔

ہمیشہ کی طرح اپنے جیسی خواتین کو مجمع میں ڈھونڈا اور ان کے قریب ہی نشست ڈھونڈ لی۔ سلام دعا اور ابتدائی گفتگو کا سلسلہ جاری تھا کہ اچانک اڑن طشتریاں سی سروں پر گھومتی نظر آئیں۔پہلے تو حیرت سے نقاب کے اندر ہی منہ کھلے کا کھلا رہ گیا پھر سمجھ آیا یہ کون سی مخلوق ہو سکتی ہے؟ انکساری اور لاعلمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاس کھڑے بیرے سے پوچھا بھائی! یہ کیا ہے؟ یہ کیمرا ہے، مووی بن رہی ہے۔ تھوڑی دیر میں ایک لمبے ڈنڈے پر بڑا سا موبائل لٹکا دکھائی دیا، پھر ایک چھتری لگائی گئی اور مووی کیمرا کندھے پہ ٹکائے انتہائی مصروف ہدایت کار۔ روشنیاں گل ہو گئیں۔ میوزک تیز ہوا اور دھمادھم کےساتھ چمکیلی شیروانی سرخ پگڑی چھوٹی سی داڑھی والے شہزادہ سلیم اسٹیج پر نمودار ہوئے۔ مختلف گانے بجتے رہے اور آدھا گھنٹے کے شور کے بعد سولہ سنگھار کی ہوئی انار کلی ہال کے دوسرے سرے سے آتی نظر آئیں۔

مزید آدھا گھنٹہ تیز میوزک کےساتھ شہزادہ سلیم اور انارکلی ایک ہزار کے مجمع میں ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑتے چھڑاتے رہے۔فوٹوگرافر کے کہنے کے مطابق آگے پیچھے گھومتے رہے۔ خدا خدا کر کے روشنیاں دوبارہ بحال ہوئیں۔ کھانے کی قابوں سے پلیٹ بھر بھر کے میزوں پر لائی گئیں اور پلیٹوں کو یونہی ادھ بھرا چھوڑ کر غریب ملک کے امیر شہری اپنی گاڑیوں کی طرف روانہ ہوئے۔

یہ تصویر ہے اس تقریب کی جسے شادی خانہ آبادی کا نام دیا جاتا ہے۔ اپنی محفلوں میں ڈرائنگ روم میں ملک کی ترقی کے نہ ہونے کی وجوہات پر روشنی ڈالنے والے فیس بک اور واٹس ایپ پر ذکر واذکار لگانے والے سب شادی کے موقع پر نہ اخلاقی قدروں کو یاد رکھتے ہیں، نہ حیا کی کسی حد کا پاس رکھتے ہیں۔ شادی جو ایک دینی اور معاشرتی فریضہ ہے۔جسے سادگی اور وقار سے منعقد کرنے کا حکم ہے اسے ہم نے ایک گھنٹے کی اداکاری بنا دیا ہے۔ ہر لڑکا شہزادہ سلیم ہےاور ہر لڑکی انارکلی!

شادی کیا ہے؟ شادی کا مقصد کیا ہے؟ ہمیں اس سے کوئی مطلب نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس مقدس بندھن کو نبھانے کے کیا احکام دیے ہیں؟ نکاح کی تقریب کتنی سادہ پروقار اور پاکیزہ ہونی چاہیے؟ عورت کو نگاہِ غیر سے چھپانے کے لیے قرآن حدیث میں کیا لکھا ہے؟ یہ تو پھر نئی نویلی سجی بنی دلہن ہے۔

ہمیں اس مصنوعی اداکاری کا، اس کے انجام کا، ہمیں کوئی ڈر نہیں، کوئی خوف، کوئی ملامت کا احساس، کچھ بھی نہیں ۔

Comments

Avatar

عزیزہ انجم

ڈاکٹر عزیزہ انجم 30 سال سے بطور فیملی فزیشن پریکٹس کر رہی ہیں۔ شاعری کا مجموعہ زیرِ طباعت ہے۔ سماجی اور معاشرتی موضوعات پر طویل عرصے سے لکھ رہی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • حل بھی بتائیے ڈاکٹر صاحبہ ۔۔۔۔ ان “ارمانوں “ کیا کیا علاج ہے ؟ جو ہر شادی پر نکالے جانے ہوتے ہیں ؟
    اس بھڑ چال کا کیا کریں کہ “آج کل تو ایسے ہی ہوتا ہے “ کاجیسا جواب ملتا ہے ۔
    کیا ایسی شادیوں کا بائیکاٹ کیا جائے یا ایک جانب چپ چاپ بیٹھ جائیں کہ “رشتے بھی تو نبھانے ہوتے ہیں “ ؟؟؟؟؟ کیا کیا جائے ؟؟؟؟؟؟