کیا عمران خان نے عمران خان کو مار ڈالا؟ - اسماعیل احمد

یہ سچ ہے عمران خان کے سپورٹرز نے 2013 کے انتخابات سے پہلے جو انتخابی مہم سوشل میڈیا میں برپا کر رکھی تھی وہاں اقتدار ہاتھ میں آنے کے بعدپاکستان کے شہروں کو دبئی کی طرح ترقی کرانےکے خواب دکھائے جاتے تھے۔ انتخابات کے نتیجے میں عوام کوتحریک ِ انصاف کی خیبر پختونخوا حکومت سے روزِ اول سے یہی امید تھی۔ اب یہ بھی حقیقت ہے کہ کچھ کام ہوئے مثلاً صوبے کی پولیس کے نظام کو غیر سیاسی اور کرپشن سے پاک غیر جانبدارانہ بنایاگیا کہ اس کی خرابیوں پہ پنجاب اور سندھ کی پولیس کی طرح انگلی نہیں اٹھائی جا سکتی۔ہر قسم کی انفارمیشن تک عوامی رسائی کا قانون بنایاگیا اور اس پر عملدرآمد بھی جاری ہے۔صحت و تعلیم کے نظام میں خاطرخواہ بہتری دیکھنے میں آئی۔بلدیاتی نظام کے تحت ہر کونسل کو منصفانہ بلا تفریق ایک جیسا اور خطیر فنڈ مہیا کیا گیا۔بلین ٹری کا منصوبہ بھی عالمی اداروں کی طرف سے سراہا گیا۔خیبر پختونخوا کے دیہاتوں میں چھوٹے چھوٹے کئی ڈیم بنا کر بجلی کی فراہمی کی کوشش کی گئی۔ اس کے علاوہ کوئی اور ایسا کام نہیں جسے کسی شک وشبے سے بالاتر مانا جا سکے۔

خیبر پختوانخوا میں کچھ نہ کچھ ضرور ہوا لیکن وہ سب نہیں ہوا جو کرنا ضروری تھا، اس بات کا اعتراف خود عمران خان بھی ایک انٹرویومیں کر چکے ہیں۔ ہاں! یہ ضرور ہوا کہ جس وقت خیبر پختونخوا میں 2014 میں شدید بارشوں اور سیلابی کیفیت نے تباہی مچا رکھی تھی تو وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا اسلام آباد دھرنے میں رقص فرما رہے تھے۔ عمران خان کی ذاتی زندگی میں ایک تبدیلی آئی کہ آپ ریحام خان سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے مگر اس شادی کا انجام نہایت تکلیف دینے والا تھا کہ عمران خان کی قریباً ایک سال تک جیون ساتھی رہنے والی ریحام خان، عمران خان کی کردار کشی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتیں۔ پھر یہ بھی ہوا کہ پانامہ کیس میں عمران خان کو فتح حاصل ہوئی ، نواز شریف نااہل ہوئے۔ جبکہ عمران خان اپنی جائیدادوں کی منی ٹریل دینے میں کامیاب ہوئے اور عدالت کی طرف سے سرٹیفائیڈ صادق اور امین کہلائے۔ کچھ عرصہ پہلے عمران خان کی شادی کی خبریں ایک بار پھر گردش میں آئیں لیکن پھر بات آئی گئی ہو گئی۔ چند روز پہلے نیب نے عمران خان کے سرکاری ہیلی کاپٹر استعمال کرنے کا نوٹس لے لیا۔ خیبر پختونخوا کے دوسرکاری ہیلی کاپٹرز کو عمران خان نے مارکیٹ سے سات گنا کم ریٹ پر 73 گھنٹے اور 55 منٹ استعمال کیا۔ اس معاملے کی تحقیقات نیب میں جاری ہیں۔ مگر تحریک انصاف کا ردعمل پاکستان کی باقی گلی سڑی فرسودہ سیاسی جماعتوں سے مختلف نہ تھا کہ ہم نے ہیلی کاپٹر استعمال کیے ہیں تو دوسروں نے بھی کیے ہیں ، ان سے بھی پوچھا جائے۔ جیسے ن لیگ والے کہتے ہیں ہم نے توہین عدالت کی تو مشرف نے بھی کی، اسے بھی پکڑا جائے۔

سچا یا جھوٹا الزام لگا دینا اور اس کا فالو اپ نہ کرنا عمران خان کی ایسی عادت ہے جنہیں ان کی شخصیت کا جزو ِ لاینفک کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ آپ مبشر لقمان اور شاہد مسعود کے پروگرام دیکھ کر صبح پریس کانفرنس کر سکتے ہیں اور ان عظٰیم صحافیوں اور دانشوروں کے انکشافات کی بنیاد پر سپریم کورٹ سے بیسیوں دفعہ یہ مطالبہ کر چکے ہیں کہ عدالتی کمیشن بنایا جائے۔

یہ وہ تمام پسِ منظر ہے جس میں عمران خان 2018 کے انتخابات کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ نسل در نسل موروثیت تو نہیں لیکن عمران خان کو جب بھی موقع ملتا ہے کسی پرانے سیاستدان کے جواں سال فرزند کو اپنے والدِ محترم کے سیاسی جانشین کے طور پر عوام میں کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ کبھی کبھار تیر نشانے پر بیٹھتا ہے مگر ناکامی کی صورت میں عمران خان اپنے سپورٹرز کو یوں تسلیاں دیتے نظر آتے ہیں کہ "میں ساری زندگی ہارتا رہا ، ہار سے مت ڈرو۔ "

اب عوام کا مسئلہ انتہائی سادہ ہے اور عمران خان کا مسئلہ تھوڑا مختلف۔ ستّر سالوں سے اسٹیبلیشمنٹ ، پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ کے ٹرائیکا سے تنگ آکر چیخیں نکالنے والی عوام کے لیے یہ سب کچھ ایک جنگ ہے جس میں ہر صورت فتح درکار ہے جبکہ عمران خان کے لیے یہ سب ایک کھیل ہے۔ یہ جانتے بوجھتے اور مانتے کہ عمران خان کا مقابلہ ایسےمافیا سے ہے جس نے میڈیا ، بیورو کریسی کو اپنے زیرِ نگیں کر رکھا ہے اور عدلیہ بھی حال ہی میں اس کے چنگل سے نکلنے میں کامیاب ہو سکی ہے، خان نے کبھی بھی اس احتیاط کا مظاہر ہ نہیں کیا جو ایسے نازک حالات میں درکار تھی۔ انتخابات سے صرف پانچ یا چھے ماہ پہلے یہ شک یقین میں کیوں بدلتا جارہا ہے کہ عمران خان بھی اقتدار کی راہداریوں کا مسافر بن کر بدل گیا ہے اب وہ نہیں رہا جس نے کبھی شوکت خانم بنایا تھا، نمل یونیورسٹی بنائی تھی، جس سے پاکستان کے بہت سے لوگوں کو امید تھی کہ خان کچھ کر دے گا۔ لوگ آپ کے بارے میں کیا سوچتے ہیں آپ اس کے ذمہ دار نہیں ہوتے۔ لیکن لوگ آپ کے جِس رویے کے باعث آپ کے بارے میں کچھ سوچتے ہیں آپ اس رویے کے ذمہ دار ضرور ہوتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان کشمیر کی آڑ میں کب تک بچیں گے - سردار عمران اعظم

کیا اپنے رویے پہ نظرِ ثانی کرنے کا وقت نہیں آیا یا پھر کیا عمران خان نے عمران خان کو مار ڈالا ہے؟

Comments

اسماعیل احمد

اسماعیل احمد

کمپیوٹر سائنس میں بیچلرز کرنے والے اسماعیل احمد گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی ٹیکسلا میں بطور انسٹرکٹر کمپیوٹر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ ساتھ ہی یونیورسٹی آف سرگودھا سے انگلش لٹریچر میں ماسٹرز کر رہے ہیں۔ سیاست، ادب، مذہب اور سماجیات ان کی دلچسپی کے موضوعات ہیں مطالعے کا شوق بچپن سے ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.