طرز زندگی - عظمیٰ ظفر

پتہ نہیں کہاں کہاں سے سوال ڈھونڈ ڈھونڈ کر بناتی ہیں تفسیر کی استاذہ؟ سوال نامے کو دیکھ کر یہ خیال میرے ذہن میں آیا ہی تھا کہ ایک دو دوستوں کے میسجز بھی آگئے کہ اس کا کیا جواب ہوگا؟ سوال یہ تھا کہ کیا ہم کافروں کی زندگی سے متاثر تو نہیں؟

جواباً میری گردن نفی میں فوراً ہل گئی جیسے اسکول میں استاذہ کے ہر سوال کے جواب میں صدا بلند ہوتی تھی یس مس!

مگر سوال نے مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا تھا۔ کیا لکھو گی؟ دوسرا میسیج ربیعہ کا آگیا، جسے پوچھے بغیر سکون نہیں ملتا تھا۔ آئن لائن کورس میں بھی چیٹنگ چلتی رہتی تھی مگر صرف بات واضح ہونے کی حد تک۔ لہٰذا کچھ نکات اس نے بھیجے، کچھ میں نے بھی بھیج دیے۔ اب ہم دونوں پرسکون تھے۔

دل گردان کر رہا تھا کہ نہیں ہم تو کافر نہیں اور میں تو بالکل بھی متاثر نہیں کافرانہ زندگی سے۔ مگر ذہن نے صفحے پر کچھ اور لکھوانا شروع کروادیا کہ محترمہ! آج جب بچہ آنکھیں کھولتا ہے کافرانہ بودو باش کی فضاء پورے ماحول میں پھیلی ہوتی ہے۔ اذان کی آواز اس کے کانوں میں سنائی تو جاتی ہے مگر پھر یہ تعلق واجبی سا رہ جاتا ہے اور بڑا ہوتے ہوتے تک تہواروں تک اہم رہتا ہے۔

"کتنا کیوٹ بے بی ہے؟ " "ہاؤ پریٹی!" "باربی ڈول لگتی ہے۔ " بھانت بھانت کی فرنگی بولیاں… نہ الحمدللہ، نہ ماشاءاللہ۔ "ارے اسے کالا ٹیکا لگا دو، کہیں نظر نہ لگ جائے۔" کھٹا کھٹ تصویریں اتار لی گئیں، بچے کے ساتھ سیلفیاں بنالی گئیں۔ ڈبے کا دودھ فٹافٹ حاضر ہوگیا، فیڈر منہ سے لگی، یوں ایک جھنجھٹ تو ختم ہوئی۔ ماں کی ممتا اپنے دلکش سراپے کی فکر میں غلطاں ہے۔ شریعت کا ایک حکم تو آرام سے پامال کردیا گیا۔

سب سے یونیک نام رکھنا ہے۔ اب گوگل پر سرچنگ جاری ہے۔ بڑے بزرگوں نے اگر مداخلت کی بھی تو وہ نام آؤٹ ڈیٹڈ کہلائے گئے۔ ایک سے ایک برانڈڈ کپڑے۔ بچپن ہی سے لڑکیوں کو مختصر لباس سے سنوارا جانے لگتا ہےاور لڑکوں کو پورے کپڑوں میں کبھی سپر مین، کبھی سپائڈر مین والے کپڑوں میں دیکھ دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔ ادھر بچہ روئے، ادھر ٹی وی کے آگے بٹھا دیا جاتا ہے۔ طرح طرح کے موسیقی والے کھلونے۔ بچہ بہل ہی جاتا ہے۔ کافرانہ روش کا راج پورے گھر میں ہے۔

بچی جوان ہے تو اسے ہر طرح کا فیشن کرنے دو۔ اب کیا بوڑھیوں کی طرح دوپٹہ لے کر نکلے گی؟ لوگ کیا کہیں گے؟ سو سو باتیں بنیں گی۔ یوں سوچ بدلنے لگتی ہے۔ کو-ایجوکیشن بھی بہت ضروری ہے اس سے بچے بولڈ ہوتے ہیں، کونفیڈنس آتا ہے، پھر کچھ نہیں ہوتا کہہ کر بات ختم ہوجاتی ہے۔ جدید تراش خرش کے لباس، لب و لہجے کی لوچ، نشست و برخاست ایسی کے ہر ادا دکھے کافرانہ۔ اس لیے یہ زہر تو رگ و پے میں سرایت کر چکا ہے۔ کلچر ،میڈیا ، فلمیں ، ڈرامے ، آزادی کا فتنہ۔ سب کے سب کھل کر جینے دو کا نعرہ لگاتے ہیں۔ ماں باپ کے سامنے حیاء کے جنازے نکلتے ہیں اور وہ ہنس کے لبرل اور براڈ مائنڈڈ کا لیبل لگوانا پسند کرتے ہیں۔ جب یہ نشہ سر چڑھ کر بولتا ہے تو اولاد بہت دور نکل چکی ہوتی ہے۔ کہیں تو مادر پدر آزاد گھومتے ہیں، شتر بے مہار رہنا پسند کرتے ہیں۔

ننھی پری بچپن سے جس رنگ میں رنگی گئی ہوتی ہے وہ رنگ بہت پکا ہوچکا ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ داغ دار بھی۔ اب اس پر حیاء کا رنگ کیونکر چڑھے جبکہ اسے ویلنٹائن ڈے پر سرخ پھول چاہیے، stuffed toy چاہیے، سالگرہ پر کینڈل لائٹ ڈنر چاہیے، گفٹ چاہیے، آؤٹنگ کے نام پر فیانسی کے ساتھ لانگ ڈرائیو چاہیے؟ پکنک ہو یا پارٹی ہو، ہلا گلہ تو نام ہے جینے کا۔ جب ہماری پسند چٹپٹے، چٹخارے دار پکوان ہوں، رنگ رنگ کی مشروبات ہوں اور پزا ،برگر، اٹالین، تھائی ،چائینیز کے دلدادہ زبانیں ہوں تو سادگی کیسے آئی گی؟ اسلامی شعار کہاں سے آئے گا؟

عمر رفتہ کو آواز دے کر پوچھا کہ "کیا ہم کافر ہیں؟ " جواب تو نہیں میں آیا مگر پھر یہ طرز زندگی کیا ہے؟ کس روش پر ہم چل رہے ہیں؟ ہم تو ہر رنگ میں متاثر ہیں ان سے۔ ہم تو شناخت مسلمہ کھو بیٹھے۔ ہماری پہچان تو مسخ شدہ ہے۔ وہ مشہور مقولہ تو سنا ہی ہوگا کہ کوا چلا ہنس کی چال، اپنی چال بھول گیا

میں شرمندگی سی قلم کی روانی کو دیکھ رہی تھی کہ اتنی متاثر طرز زندگی ہے۔ اب نفی کیسے کروں؟ اس لیے یہی جواب اپنی استاذہ کو لکھ بھیجا۔

Comments

Avatar

عظمیٰ ظفر

عظمیٰ ظفر روشنیوں کے شہر کراچی سے تعلق رکھتی ہیں۔ اپلائیڈ زولوجی میں ماسٹرز ہیں ، گھر داری سے وابستہ ہیں اور ادب سے گہری وابستگی رکھتی ہیں۔ لفظوں کی گہرائی پر تاثیر ہوتی ہے، جو زندگی بدل دیتی ہے، اسی لیے صفحۂ قرطاس پر اپنی مرضی کے رنگ بھرتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com