ملکہ ہانس اور وارث شاہؒ - محمد شہزاد

گزشتہ دنوں اپنے کزن جاوید کے ہمراہ پاکپتن کے نزدیک ایک گاؤں چاونٹ میں ایک دوست چوہدری شفیق کے بھائی کی شادی میں شرکت کے سلسلے میں جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں جاکر پتہ چلا کہ یہاں سے ملکہ ہانس کا تاریخی قصبہ چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ عرصہ دراز سے ملکہ ہانس دیکھنے کی تمنا تھی۔ اگلے دن ہم ملکہ ہانس گئے۔ ملکہ ہانس کی اہمیت پنجابی کے معروف شاعر وارث شاہ کی وجہ سے ہے۔

ہم ساہیوال پاکپتن روڈ پر واقع اڈا ملکہ ہانس سے رکشے پر ملکہ ہانس شہر کی طرف روانہ ہوئے۔ رکشہ والے نے ہمیں مسجد وارث شاہ کے نزدیک اتارا۔ شہر کے بیچ تنگ سی گلی میں مسجد وارث شاہ واقع ہے۔

مسجد کی حالت زار دیکھ کر دکھ ہوا۔ آس پاس کی گلیاں اور مکانات اونچے ہو گئے ہیں اور مسجد نیچی رہ گئی ہے۔ مسجد اور حجرہ وارث شاہ میں جانے کے لیے سیڑھیاں نیچے اترنی پڑتی ہیں۔ مسجد کے صحن میں تین طلبہ آرام کر رہے تھے۔ میں نے طلبہ سے پوچھا کہ آپ کو ہیر وارث شاہ یاد ہے؟ انہوں نے نفی میں سر ہلایا۔ میں نے کہا کہ کوئی ایک آدھ شعر، تو ایک طالب علم نے ترنم کے ساتھ یہ شعر سنایا۔

اول حمد خدا دا ورد کیجیے، عشق کیتا سو جگ دا مُول میاں

پہلوں آپ اس رب نے عشق کیتا، معشوق ہے نبی رسول میاں

ساہیوال سے 33 کلومیٹر دور پاکپتن روڈ پر تاریخی شہر ملکہ ہانس آباد ہے۔ ملکہ ہانس کا یہ شہر آباد کرنے کا سہرا ہانس قبیلے کے بانی شیخ قطب الدین ہانس کے سر جاتا ہے جو اپنے وقت کے مشہور عالم دین تھے۔ انہیں شیخ قطب الدین کی اولاد میں سے ملک محمد ہانس عرف ملکا (ملکہ) نے اپنی قوم و گوت کی نسبت سے اس شہر کا نام ملکہ ہانس رکھا۔ پنجابی کے معروف شاعر وارث شاہ نے اسی شہر میں موجود ایک مسجد کے حجرے میں ہیر وارث شاہ تخلیق کی۔ ملکہ ہانس میں آپ کی آمد سے قبل اس مسجد کا نام شاہی مسجد تھا لیکن بعد ازاں وارث شاہ کی مناسبت سے اس مسجد کا نام مسجد وارث شاہ رکھ دیا گیا

وہ جب پاکپتن میں تشریف لائے تو کچھ عرصہ بعد ہی قصبہ ملکہ ہانس کے محلہ ٹبہ کی مسجد کو اپنا مسکن بنایا۔ ہیر رانجھا کی لوک داستان یہیں منظوم صورت میں تخلیق کرتے رہے، جو ’’ہیر وارث شاہ‘‘کے نام سے پنجابی زبان کا عظیم شاہکار اور انسائیکلو پیڈیا ہے۔

قصبہ ملکہ ہانس میں آج بھی وہ قدیمی مسجد آپ کے مسکن کی بناء پر مسجد وارث شاہ کے نام سے موجود ہے۔ روحانیت سے معمور آپ کا حجرہ آج تک سیاحوں کے لیے پُرکشش ہے۔ یہاں آنے سے پہلے وارث شاہ قریبی بستی ٹھٹھہ جاہد میں ٹھہرے تھے۔ یہاں وہ کچھ عرصہ مقیم رہے اور اس دوران وارث شاہ بھاگ بھری کے عشق میں گرفتار ہوئے۔ لوگوں کو جلد ہی اس کی خبر ہوگئی اور انہیں مجبوراً ملکہ ہانس منتقل ہونا پڑا، جہاں انہوں نے اپنے پیار کو اس قِصّے کے رنگ میں امر کر دیا۔

مسجد وارث شاہ کے متعلق ایک روایت یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ اسے 1339ء میں فیروز شاہ تغلق نے تعمیر کرایا تھا اور اسی وجہ سے ابتداً شاہی مسجد کہلاتی تھی جبکہ بعض فاضل مصنّفین نے اسے اورنگ زیب دور کی یادگار قرار دیا ہے۔ اس مسجد کے حجرے کے قریب مسجد کے ایک کونے میں دو قبریں ہیں، جن میں سے ایک حافظ غلام مرتضیٰ عرف میاں وڈا کی ہے۔ میاں وڈا قصور میں وارث شاہ اور بُلھے شاہ کے ہم سبق تھے اور تکمیل تعلیم کے بعد ملکہ ہانس آکر یہاں کی شاہی مسجد میں خطیب ہوگئے تھے۔ اس دوران میاں وڈا کا وارث شاہ کے ساتھ قریبی تعلق بھی رہا۔ مسجد وارث شاہ کے علاوہ ملکہ ہانس میں چند اور تاریخی اہمیت کی حامل عمارات بھی ہیں، جن میں حضرت مالن شاہ، سیّد مہر علی شاہ اور پیر حاجی دیوان صاحب کے مزارات کے علاوہ مسجد بابا بُلھے شاہ قابلِ دید ہیں۔ اندرون شہر سمادھی سکھاں اور پرنامی مندر اس علاقے کی ہندو مذہبی تاریخ میں بہت مشہور رہا۔

مسجد کے پہلو میں ایک حجرہ قائم ہے جسے حجرہ وارث شاہ کے نام سے جانا جاتا ہے یہ وہی حجرہ ہے جہاں وارث شاہ نے 1766 میں عشق و محبت کی گہرائی میں ڈوب کر ہیر رانجھے جیسے لازوال کردار لفظوں کے رنگوں میں نکھارے اور ''ہیر'' لکھی۔ سید وارث شاہ درحقیقت ایک درویش صوفی شاعر ہیں۔ وارث شاہ کا دور محمد شاہ رنگیلا سے لے کر احمد شاہ ابدالی تک کا دور ہے۔ وارث شاہ کی ’’ہیر‘‘کے علاوہ دوسری تصانیف میں معراج نامہ، نصیحت نامہ، چوہریڑی نامہ اور دوہڑے شامل ہیں۔

شہرہ آفاق عشقیہ داستان ہیر وارث شاہ میں ہیر رانجھا کی محبت کے ساتھ ساتھ پنجاب کے رہن سہن، تہذیب و ثقافت اور ریت رواج کی عکاسی بھی ہوتی ہے۔ قصہ ہیر رانجھا پنجابی زبان کا وہ قصہ ہے جس نے پنجاب کے باسیوں کو صدیوں سے اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔ یوں تو ہیر کا قصہ ماضی میں بہت سے شاعروں مثلا دمو در کھتری، باقی کو لابی، شاہجہان مقبل، احمد گجر اور دیگر شعرا نے بھی لکھا تھا مگر جو شہرت ہیر وارث شاہ کو حاصل ہوئی اس کے سامنے باقی شعرا ماند پڑ گئے۔ اس قصے میں اٹھارویں صدی کا پنجاب اپنی پوری تہذیب و ثقافت کے ساتھ نظر آتا ہے۔

وارث شاہ پنجاب کی دھرتی کے ایک تاریخی قصبہ جنڈیالہ شیر خان شیخوپورہ میں پیدا ہوئے۔ ان کی ولادت 5 ربیع الثانی 1130ھ 1718ء بتایا جاتا ہے۔ آپ کے والد کا نام سید گل شیر شاہ تھا۔ ابھی کمسن ہی تھے کہ علم حاصل کرنے کی غرض سے قصور کی جانب روانہ ہوئے اور حضرت مولانا غلام مرتضٰی جوکہ اس وقت قصور میں ہی تشریف فرما تھے کہ خدمت اقدس میں حاضر ہوئے۔ آپ نے بابا بُلھے شاہ کے ہمراہ اُن سے تعلیم حاصل کی۔ دنیاوی علم حاصل کر چکے تو مولوی صاحب نے اجازت دی کہ جاؤ اب باطنی علم حاصل کرو اور جہاں چاہو بیعت کرو۔ تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ بابا بلھے شاہ نے تو شاہ عنایت قادری کی بیعت کی جبکہ سید وارث شاہ نے خواجہ فرید الدین گنج شکر کے خاندان میں بیعت کی، جب ’’ہیر رانجھا‘‘ کے قصہ کے متعلق آپ کے استاد محترم غلام مرتضٰی کو علم ہوا تو انہوں نے اس واقعہ پر ناراضی کا اظہار کیا اور کہا وارث شاہ، بابا بلھے شاہ نے علم حاصل کرنے کے بعد سارنگی بجائی اور تم نے ہیر لکھ ڈالی۔ آپ نے کوئی جواب نہ دیا تو مولانا نے اپنے مریدوں کو کہہ کر آپ کو ایک حجرے میں بند کروا دیا۔ دوسرے دن آپ کو باہر نکلوایا اور کتاب پڑھنے کا حکم دیا جب آپ نے پڑھنا شروع کیا تو مولانا صاحب کی حالت دیکھنے کے قابل تھی۔ سننے کے بعد فرمایا، وارثا! تم نے تو تمام جواہرات مونج کی رسی میں پرو دیے ہیں۔ یہ پہلا فقرہ ہے جو اس کتاب کی قدر و منزلت کو ظاہر کرتا ہے۔

آپ1798 میں جنڈیالہ شیر خان میں فوت ہوئے اور یہیں دفن کیے گئے۔ ان کے انتقال کو دو صدیاں گذرنے کے باوجود ہیر وارث شاہ آج بھی سننے اور پڑھنے والوں کے دلوں میں گھر کر جاتی ہے۔

معروف ادیب مستنصر حسین تارڑ لکھتے ہیں کہ اگر وارث شاہ کا قصہ ہیر رانجھا نہ ہوتا تو پنجاب بھی نہ ہوتا اور اگر ہوتا تو اُس میں نہ عشق آتش ہوتی، نہ اس کے جنگل بیلوں میں بانسری کی میٹھی تانیں گونجتیں، نہ کوئی رادھا ناچتی، نہ ہی کوئی ہیر ایک مست ہاتھی کی مانند جنگل بیلے میں اِٹھلاتی پھرتی اور نہ ہی پنجاب کے قدیم رواج، میلے ٹھیلے، زیورات، ڈھور ڈنگر، ملبوسات، جاٹوں کی تہذیب اور اُن کی اَنکھ یا عزتِ نفس کی ہٹ دھرمی، اس کی جڑی بوٹیاں اور خوراکیں اور نہ ہی اس کے دریا اور نہ ہی اس پنجاب کے اندر عاشقی اور تصوف کا جو دل دھڑکتا ہے، اُس کی دھڑکن ہمیشہ کے لیے زمانوں کی تختی پر محفوظ ہو جاتی۔ ۔ اور نہ ہی پنجاب کے خمیر میں جو مذہبی رواداری گندھی ہوئی تھی، کہ رانجھا، ہیر کے عشق میں ناکام ہو کر ٹلہ جوگیاں کے گورو گورکھ ناتھ کا چیلا ہو کر ایک کن پھٹا جوگی ہو جاتا ہے، ہاتھوں میں کشکول تھام کر ہیر کے دوازے جا کھڑا ہوتا ہے۔

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • ھیر کی کہانی لوک کہانی ھے
    باقی سب لوک کہانیوں کی طرح یہ بھی فرضی کہانی ھے MYTH ھے ——-جسے وارث شاہ نے اپنے ناکام عشق کی ھواڑ نکالنے کے لئے —- ایسے اچھوتے انداز اور خوبصورت اشعار میں قلمبند کیا کہانی امر ھوگئئ اور وارث شاہ بھی