شریعت کا نفاذ ممکن ہے- یاسر میر

پاکستان میں شریعت کے معاملے میں ہر کسی کے اپنے خیالات اور تجزیات ہیں۔ کوئی پاکستان کے آئین کو شریعت کے مطابق قرار دے رہا ہے، کوئی اس کی مخالفت کر رہا ہے۔ لیکن اگر دیکھا جائے تو شریعت ایک مکمل ضابطہ اخلاق اور اسلام کے نظام کو اپنانے کا نام ہے۔ میں صحافت کے ایک ادنیٰ طالب علم کی حیثیت سے شریعت کے اس موضوع پر چند حروف لکھنے کی کوشش کر رہا ہوں اور یہ واضح کردینا چاہتا ہوں کہ میں کوئی عالم دین یا مولوی نہیں اگر شریعت کے اس موضوع پر مجھ سے کوئی غلطی ہو جاتی ہے تو میں اس کے لیے معافی کا طلبگار ہوں۔

میں بات کا آغاز کروں گا قیام پاکستان اور قائداعظم کے حوالے سے، پاکستان اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا تھا اور بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح بھی پاکستان میں اسلامی نظام حکومت دیکھنا چاہتے تھے۔ اس سلسلے میں قائداعظم نے 13 جنوری 1948ءکو اسلامیہ کالج پشاور میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا "ہم نے پاکستان کا مطالبہ محض ایک زمین کا ٹکڑا حاصل کرنے کے لیے نہیں کیا تھا بلکہ ہم ایک ایسی تجربہ گاہ حاصل کرنا چاہتے تھے جہاں ہم اسلام کے اصولوں کو آزما سکیں "۔ 14 فروری 1948 کو سبی دربار میں خطاب کرتے ہوئے قائداعظم نے پاکستان کو اسلامی جمہوریہ بنانے کے لیے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا "میرا ایمان ہے کہ ہماری نجات کا واحد ذریعہ اس سنہری اصولوں والے ضابطہ حیات پر عمل کرنا ہے جو ہمارے عظیم قانون دان پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے وضع کیا تھا۔ ہمیں اپنی جمہوریت کی بنیادیں سچے اسلامی اصولوں اور تصورات پر رکھنی چاہیے، لیکن قیام پاکستان کے بعد مختلف مسائل و مشکلات کی وجہ سے مملکت پاکستان کا دستور ان خطوط پر استوار نہ کیا جا سکا جس کے لیے پاکستان کا قیام عمل میں آیا تھا۔

جب ملک میں وزیراعظم لیاقت علی خان کے دور میں اسلامی نظام کے نفاذ کا مطالبہ زور پکڑ گیا تو ان کے دور میں مولانا شبیر احمد عثمانی نے پاکستان کی آئین ساز اسمبلی میں 12 مارچ 1949ءکو ایک قرارداد مقاصد پیش کی جس کی وزیراعظم نے مکمل حمایت کی۔ اس قرارداد کی رو سے عوام کے نمائندہ ادارے کی حیثیت سے دستور ساز اسمبلی نے اس بات کا اقرار کیا کہ پاکستان کا آئندہ دستور قرآن وسنت کی بنیادی تعلیمات کے مطابق ہوگا اور پاکستان کے عوام اور ان کے نمائندے اپنے اختیارات کا استعمال اللہ تعالی کی وضع کردہ حدود کے مطابق ہی کرسکیں گے۔ اس قرارداد نے پاکستان کی نظریاتی اساس متعین کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ ان تمام معاملات کے بعد پاکستان میں جو بھی نیا آئین یا ایکٹ بنایا گیا اس آئین یا ایکٹ میں اسلامی قوانین نافذ کرنے کی بات کی گئی۔

اگر ہم 1973کا آئین دیکھیں تو اس آئین میں ملک کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان اور سرکاری مذہب اسلام قرار پایا۔ اس کے علاوہ پاکستان میں اسلامی قوانین کا نفاذ، اسلامی تعلیمات کے فروغ اور سودی نظام کے خاتمے جیسی دفعات شامل ہیں، لیکن کیا یہ آئین اور ایکٹ پاکستان میں نافذ بھی ہوئے اور کبھی ان پر عملدرآمد کی کوشش بھی کی گئی؟ یہ ایک سوالیہ نشان ہے۔ اگر حکومت پاکستان 1973 کے آئین کو نافذ کردے اور اس پر عملدرآمد کروایا جائے تو ملک پاکستان میں شریعت کا نفاذ ممکن ہو سکتا ہے لیکن شریعت نافذ کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ پاکستان میں رائج سودی نظام ہے۔اس نظام کا خاتمہ پاکستانی حکومت اور پارلیمنٹ کے لیے ناگزیر ہے اور سودی نظام کے خاتمے تک پاکستان میں شریعت کا نفاذ ممکن نہیں۔ سودی نظام کے خاتمے کے لیے پاکستان کے علماء کرام کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے کیونکہ سودی نظام سے پاکستان کی معیشیت اور عوام کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

دوسری طرف یہ بھی کہا جاتا ہے کے شریعت کس کی نافذ ہو؟ سنیوں کی، بریلویوں کی، دیوبندیوں کی یا کسی اور مسلک کی،لیکن میں یہاں وضاحت کرتا جاؤں کہ شریعت کسی کی ملکیت یا جاگیر نہیں۔ شریعت ایک مکمل اسلامی نظام اور اس نظام کو اپنانے کا نام ہے۔ ایسا اسلامی نظام جس میں عدل وانصاف ہو، بلاسود بینکاری ہو اور غریب اور امیر کے لیے یکساں نظام رائج ہو۔ میں سمجھتا ہوں اگر پاکستان کے علمائے کرام شریعت نافذ کرنے میں مخلص ہیں تو انہیں میدان عمل میں آنا پڑے گا صرف نعرے لگانے یا لمبی چوڑی تقریر کرنے سے اسلامی نظام کا قیام عمل میں نہیں آسکتا۔

تمام مذہبی جماعتوں اور مسالک کے جید علمائے کرام پاکستان میں شریعت کے حوالے سے نکات مرتب کریں اور ایک شرعی ایجنڈا بنائیں۔ اس ایجنڈے کو پاکستان کی پارلیمنٹ اور وزیراعظم کے سامنے پیش کیا جائے پارلیمنٹ اور وزیراعظم کو اس بات پر قائل کیا جائے کہ پاکستان میں مکمل طور پر شریعت کا نفاذ ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ پاکستان کے تمام علماء و مشائخ کو چاہیے کہ وہ تمام ملکی اور بین الاقوامی فورمز پر یہ بتائیں کہ شریعت کا نفاذ طالبان یا ظلم و جبر کے نظام کا نام نہیں، بلکہ یہ صاف ستھرا اور عدل و انصاف کو مکمل عملی طور پر اپنانے کا نظام ہے۔ کیونکہ پاکستان میں آئے روز فرقہ وارانہ تشدد اور فسادات جنم لیتے رہتے ہیں اور ان سے چھٹکارا تب ہی ملے گا جب اس پاک وطن میں عدل و انصاف جیسا شرعی نظام کا نفاذ ہوگا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com