قدرت کے کرشمے - اسامہ الطاف

لفظ " قدرت"ایک بالائی اور مافوق البشر طاقت کی جانب اشارہ کرتا ہے جو متصرف کائنات کے ساتھ مخصوص ہے، موجودات اس طاقت کے زیر قبضہ ہیں اور مستقبل کی تصویر کشی کرکے اس کو حال کا رنگ دینا بھی اس کا ہی کمال ہے۔ نعمتوں کو'قدرت 'کی عطا یا خوش قسمتی کو' قدرت' کی مہربانی سے موسوم کیا جاتا ہے۔ المختصر، قدرت خالق کائنات کی وسعت علمی، کمال حکمت اور تمام استطاعت کی دلیل وعلامت ہے۔

وطن عزیز پاکستان اور' قدرت 'کا تعلق بہت پرانا ہے، مبصرین و مؤرخین 70سال قبل ہندوستان کی سیاسی و سماجی آشوب زدہ فضا میں جہاں انگریز کی حکومت اور ہندو کی اکثریت تھی، مسلمانوں کے لیے مستقل قطعہ ارض کے مخصوص ہونے کو' قدرت 'کا کرشمہ گردانتے ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد خارجی و داخلی نزاکتوں، نظام حکم میں بارہا غیر سیاسی عناصر کی مداخلت، حکمرانوں کی نااہلی اور عوامی لاشعوری کے باوجود پاکستان کی بقا بھی' قدرت' کے معجزے سے کم نہیں۔

وطن عزیز 'قدرتی 'وسائل سے بھی مالا مال ہے۔ محب وطن محققین کے مطابق پاکستان میں سونے، تانبے، چاندی، گیس اور پیٹرول کے ذخائر موجود ہیں۔ ان ذخائر سے استفادہ حاصل کیا جائے تو نہ صرف شہریوں کی ضروریات کا بندوبست ہوجائے بلکہ عالمی تجارت میں حصہ دار بن کر معاشی استحکام بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ تاہم اصحاب اختیار کی بے اعتنائی اور غفلت کے باعث ان وسائل سے فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔ 'قدرتی' خوبصورتی میں بھی وطن عزیز صف اول کے ممالک میں شامل ہے۔ قدرت نے ارض پاک کو حسن وجمال کی تصویر بنایا ہے، اور اس حسن کا طرہ امتیاز تنوع و اختلاف ہیں۔ تھر کاچمکتا صحرا، گوادر کا عمیق سمندر، گلگت کی فلک بوس پہاڑیاں، کاغان و سوات کی حسین وادیاں اور چکوال و جہلم میں قدیم ثقافتوں کے آثار سے وطن عزیز کا قدرتی حسن مزین ہے۔

مذکورہ بالا تمام قدرتی مظاہر سے صرف نظر کرکے اگر صرف پاکستانی سیاست کو دیکھیں تو قدرت اپنی تمام تر حکمتوں اور باریکیوں کے ساتھ سیاسی افق پر جلوہ افروز نظر آئی گی۔ ایک دہائی قبل پاکستان کے مختار کل کو اپنے عہدے پر بہت زعم تھا۔ اقتدار کے نشے میں دھت حکمران کا عوام سے سلوک متکبرانہ تھا، قبائلی علاقے کے شہری اور بلوچستان کے باسی ان کے غرور کا خاص طور پر نشانہ بنے۔ ان کا معروف مقولہ تھا "میں کسی سے ڈرتا ورتا نہیں"۔ وقت کے قلندروں کی حمایت سے موصوف نے 8 سال بلا شرکت غیر اقتدار کے مزے لوٹے۔ وقت تبدیل ہوا اور 'قدرت 'نے اپنا کرشمہ دکھایا۔ وہ مختار کل جو کسی سے ڈرتا نہیں تھا، ملک میں ہونے کے باوجود عدالت کے طلب کرنے پر مقدمات کا سامنا کرنے سے گریز کرتا رہا، اور کچھ عرصے بعد اعلی عسکری شخصیت کی مدد سے ملک سے فرار ہوگیا!

'قدرت' کے کرشمہ کا ایک اور مظہر گزشتہ تین دہائیوں سے پاکستان کی طاقتور ترین سیاسی شخصیت کی ہے۔ وزارت عظمی کے منصب پر فائز ہونے کے بعد وہ مخالفین کی تنقید زد میں رہے۔ ان کے استعفی پر مخالفین کا اصرار تھا تاہم ان کو اپنے دوام اقتدار پر پورا یقین تھا۔ مخالفین کے استعفی کے مطالبے پر ایک جلسے میں انہوں نے پر اعتماد لہجے میں طنز کیا، "ان کے کہنے پر میں استعفی دوں گا؟یہ مجھ سے استعفی لیں گے؟ یہ منہ اور مسور کی دال! " وہ اور ان کی جماعت ان کو سدا بہار وزارت عظمی کے منصب پر دیکھ رہی تھی۔ لیکن حسب سابق' قدرت' کا کرشمہ ظاہر ہوا، عدالت نے موصوف کوہمیشہ کے لیے پارلیمانی سیاست فارغ قراردیا، اور اب ان کی حالت یہ ہے کہ قریہ قریہ شہر شہر اپنی دہائیاں سنا رہے ہیں۔

'قدرت' کے کرشمہ کا مظہر کراچی کے سیاسی افق پر بھی نمودار ہوا۔ صنعتی شہر کی نام نہاد محافظ جماعت نے زور بازو اور دہشت کے ذریعے شہر کی سیاست پر قبضہ جمایا۔ جماعت کی مفتور العقل قیادت نے کئی سالوں تک شہر میں خوب دھما چوکڑی مچائی، سینکڑوں معصوموں کو لسانی بنیاد پر قتل کیا، شہر کو خاک و خون میں نہلادیا، اغوا، ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری اور ہڑتالوں کا کلچر عام کیا، ان کی طاقت کا یہ عالم تھا کہ جماعت کی مخالفت کی سوچ کسی کے حاشیہ خیال میں بھی آتی تو اس کا وجود ختم کردیا جاتا۔ لیکن غیبی نظام پھر حرکت میں آیا، 'قدرت' نے اپنا رنگ دکھایا، جماعت کی دہشت کم ہوئی، جماعت میں دراڑیں پڑی، اور پھر دہشت پھیلانے والے ایسے باہم دست وگریباں ہوئے کہ الامان الحفیظ۔ 'قدرت 'کا کمال کہ کل تک پورے شہر کو خون کے آنسو رلانے والے آج خود مگر مچھ کے آنسو بہارہے ہیں!

قدرت تو ہمیشہ ہی وطن عزیز پر مہربان رہی ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بھی ظالم کو ظلم سے روک کر قدرتی عمل کے موافق ہوجائیں۔ ایسانہ ہو کہ ظالم کا ساتھ دینے پر ہم قدرتی آفات و مصائب کا شکار ہوجائیں۔