ویلنٹائن ڈے اور مسلم معاشرہ - ربیعہ فاطمہ بخاری

گزشتہ ہفتہ کی خبر تھی کہ سپریم کورٹ نے ویلنٹائن ڈے منانے پر پابندی عائد کر دی ہے اور پیمرا کو سختی سے احکامات جاری کیے ہیں کہ اس حوالے سے کسی بھی طرح کی نشریات نشر نہ کی جائیں۔ اس اعلان سے جہاں عوام الناس کی ایک بہت بڑی تعداد تعداد نے سکھ کا سانس لیا وہیں بہت سے لوگوں کی چیخیں بھی سنائی دے رہی ہیں۔ اور اپنے مخصوص طریقہ واردات یعنی ''طعن و تضحیک'' کے ذریعہ ایک مرتبہ پھر مذہبی رجحان اور نقطۂ نظر رکھنے والوں پر وار جاری ہیں۔ انہیں'' مہذب دنیا ''کے مقابلہ میں دقیانوسی اور فرسودہ ہونے کے طعنے دیے جا رہے ہیں۔آئیے ذرا مل کے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ویلنٹائن ڈے درحقیقت ہے کیا اور وہ کون سی سعادت ہے جس سے محرومی کا ہمارے کچھ احباب کو بہت شدت سے قلق ہے؟

آپ ویلنٹائن ڈے کے حوالے سے کسی بھی سرچ انجن پر جب سرچ کریں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ اس کا ماخذ ایک رومن تہوار ہے۔ قدیم روم میں یہ تہوار منایا جاتا تھا، جسے ہم''تہوارِ بالیدگی'' کہہ سکتے ہیں۔ اس تہوار میں ہوتا یہ تھا کہ نوجوان لڑکے ایک جگہ اکٹھے ہو جاتے تھے اور ایک بکری اور کتا ''ذبح'' کیا جاتا تھا۔ اس کی کھال کو لمبے لمبے ٹکڑوں میں کاٹ کر انہی جانوروں کے خون میں ڈبو کر نوجوان لڑکیوں کو ان ٹکڑوں سے مس کیا جاتا تھا، کچھ لوگوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ وہ لڑکے جو نوجوان لڑکیوں کے ساتھ مل کر یہ تہوار مناتے تھے وہ نشے میں ہوتے اور برہنہ ہوتے تھے۔ ان کا عقیدہ یہ تھا کہ اس عمل سے نوجوان لڑکیوں کی fertility بڑھ جاتی ہے۔نوجوان لڑکیاں اس تہوار کے لیے پہلے سے اپنا نام درج کروایاکرتی تھیں۔ اس تہوار کا ایک حصہ یہ بھی تھا کہ نوجوان لڑکے ایک جار میں رکھی گئی پرچیوں میں سے ایک نوجوان لڑکی کے نام کی پرچی نکالتے اور وہ لڑکا اور لڑکی تہوار کے تین دنوں میں آپس میں جنسی تعلق قائم کرتےاور اگر مطمئن ہوتے تو بعد ازاں شادی کرلیتے۔ اس تہوار کا نام Lupercalia تھا۔

207ء میں عیسائی مذہبی پیشواؤں نے اس تہوار کو عیسائیت کا رنگ دینے کی کوشش کی اور اس کا نام اپنے تین'' صوفیاء'' کے نام پر ویلنٹائنز ڈے رکھاجو مبینہ طور پر عیسائیت کی مختلف سماجی خدمات سر انجام دیتے ہوئے قتل کر دیے گئے۔ یہ تو تھا اس کا تاریخی پسِ منظر… اب اگر ہم اس تہوار کی وطنِ عزیز میں آمد کو دیکھیں تو چند سال پہلے یہاں کوئی اس کے نام تک سے واقف نہیں تھا۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہےجنرل پرویز مشرف کی ''روشن خیال، اعتدال پسندی'' اور میڈیا کی بے مہار آزادی اس بے ہودگی کے تیزی سے پھیلنے کی وجہ بنی۔ ہم نے اپنے ٹی وی چینلز پر اس تہوار کو ''اسلامائز'' کرنے کی کوشش کی اور ٹاک شوز اور مارننگ شوز میں شوبز کے شادی شدہ جوڑوں کو ایک دوسرے کے ''ویلنٹائن'' بنا کر پیش کیا گیا ۔ چاہے پروگرام کے اگلے ہفتے ان کی طلاق ہو جائے۔ ابتداء یہاں سے ہوئی اور اور چلتے چلتے یہاں تک پہنچی کہ نوجوان لڑکے اور لڑکیوں نے اس 'محبت، رومانس اور بوسوں'' کے تہوار کو اپنی ''محبت''کی تکمیل کا ذریعہ سمجھنا شروع کر دیا اور یہ وباء اس شدت سے ہمارے معاشرے میں پھیلی کہ کالج، یونیورسٹیز یہاں تک کہ سکول تک بھی اس وباء کی زد سے محفوظ سے نہیں رہے۔ نوجوان لڑکے اور لڑکیوں میں عیدین سے زیادہ اس موقع پر جوش و خروش دیکھنے کو ملتا تھا۔

اس تہوار کے ماخذ کی طرف اگر نظر دوڑائیں تو دل پر ہاتھ رکھ کے بتائیے کہ کیا ایک مسلمان معاشرے کے نسلِ نو کے نوجوانوں کو اس طرح کی بیہودگی کی یاد میں منایا جانے والا تہوار زیب دیتا ہے؟ کوئی کتنا بھی کہے کہ ہم جو ''خوشی ''مناتے ہیں اس کا اس کے origin سے کوئی تعلق نہیں لیکن یہ کوئی بھی ذی شعور جانتا ہے کہ کوئی بھی تہوار اس کے ماخذ سے ہی پہچانا جاتا ہے۔ عیدالفطر کا رمضان کے بغیر کوئی تصور نہیں اور عیدالاضحٰی میں سے سنتِ ابراہیمی نکال دیں تو پیچھےکیا بچتا ہے؟ جب آپ کوئی بھی دن مناتے ہیں تو آپ دراصل اس کو اس کی تمام تفصیلات کے ساتھ endorse کر رہے ہوتے ہیں۔

تہوار کسی بھی قوم کی پہچان اور ان کا اثاثہ ہوتے ہیں۔ اقوام کی پہچان کا ایک حوالہ ان کے تہوار بھی ہوتے ہیں۔ کبھی آپ نے کسی بھی غیر مسلم ریاست کو اس طرح عیدین مناتے ہوئے دیکھا ہے، جیسے پاکستان میں ویلنٹائن کے چرچے ہیں؟ کبھی نہیں دیکھا ہو گا کیونکہ وہ ہماری طرح احساسِ کمتری کا شکار نہیں۔انہیں اپنی ثقافت، اپنی تہذیب پر فخر ہے اور ہم نے ہیلووین بھی منانا ہے اور ویلنٹائن ڈے پر بھی سرخا سرخ ہونا ہے، چاہے عید کا دن سو کے گزاریں۔

خدارا! اپنی آئندہ نسل کو اس slow poison سے بچائیں۔ کل ہم نے ویلنٹائن کو اپنایا، اب تقریباً دو سال ہو گئے ہیں ہیلووین کی خرافات بھی ہمارے اردگرد نظر آنا شروع ہو گئی ہے۔ آج ''ہم سب'' نے ہم جنس پرستی کے حق میں دلائل دینا شروع کیے ہیں کل کے اس وقت سے ڈریے جب یہ ہم جنس پرست اپنے ''حقوق'' کے لیے پاکستان کے چوک چوراہوں میں ریلیاں نکال رہے ہوں گے۔آج ہماری اداکاراؤں نے مغرب کی تقلید میں اپنے Baby bumps کی نمائش شروع کر دی ہے کل کو ہمارے لیے کنواری مائیں بھی ایک معمول کی سرگرمی ہوگی۔ خدارا! اپنے اور اپنی آنے والی نسلوں پر رحم کیجیے اور اپنی تہذیب، اپنی ثقافت اور اپنے تہواروں پر فخر کیجیے اور اس احساسِ کمتری سے نکل آئیے جو آپ کی آئندہ نسلوں کے لیے سمِ قاتل ثابت ہو گا۔

Comments

ربیعہ فاطمہ بخاری

ربیعہ فاطمہ بخاری

لاہور کی رہائشی ربیعہ فاطمہ بخاری پنجاب یونیورسٹی سے کمیونی کیشن سٹڈیز میں ماسٹرز ہیں۔ تدریس کے شعبے سے وابستہ رہی ہیں لیکن اب ایک خاتونِ خانہ کے طور پر زندگی گزار رہی ہوں۔ لکھنے کی صلاحیت پرانی ہے لیکن قلم آزمانے کا وقت اب آیا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com