کون لوگ ہیں یہ؟ زبیر منصوری

کون لوگ ہیں یہ؟
کون سی شمعیں تھامے نکلے ہیں؟
کس نے انہیں وقت کے دھاروں کے مقابل کھڑا ہونے کا سبق دیا ہے؟

ہر جانب بے حیائی کی آندھیاں ہیں،گرد و غبار ہے، جھکڑ اور طوفان ہیں، بلکہ سونامی ہیں جن میں یہ عجیب سے لوگ حیا کا دامن تھامے رکھنا چاہتے ہیں، خود ہی نہیں چاہتے بلکہ چاہتے ہیں کہ آقا ﷺ کی کنیزیں اور غلام بھی ان شمعوں کو تھامنے میں ان کے ساتھ آن کھڑے ہوں۔ یہ کالجوں یونیورسٹیوں میں نکلے ہیں، یہ گلیوں بازاروں میں نکلے ہیں، مائیں اور بہنیں بھی نکلی ہیں اور اچھی اچھی بیٹیاں بھی۔

آقا ﷺ کی سنت تازہ کرنے نکلے ہیں، وہ بھی تو عکاظ کے میلے چلے جایا کر تے تھے!
تن تنہا!
وہ میلہ جہاں مکہ کا کوئی مشرک شریف آدمی بھی نہ جاتا تھا، آقا ﷺ ایمان اور حیا کی، پاکبازی اور طہارت کی دعوت لیے وہاں جا پہنچتے تھے، اور گاہے چشم فلک نے یہ منظر بھی دیکھا کہ آقاﷺ میلوں، بازاروں اور قافلوں کو ہانکے پکارے فرما رہے ہیں کہ
لوگو ایمان لے آؤ، فلاح پا جاؤ گے!
اور پیچھے پیچھے سگا چچا ابولہب آپ کے پیروں پر پتھر مارتا اور پکارتا چلا آرہا ہے کہ لوگو اس کی بات نہ سننا، میں اس کا چچا ہوں ،یہ دیوانہ ہے۔ (نعوذ باللہ)

اور آج یہ اس زمانے کےامتی آقا ﷺ کی سنت لے کر آج کے ابلاغ کے ذرائع استعمال کرتے ہوئے نکل کھڑے ہوئے ہیں، بےحیائی کے سونامی کے سامنے اپنی ٹوٹی پھوٹی کاوشوں کے ساتھ، تا کہ آج کا کوئی انسان کل یہ نہ کہہ سکے کہ مولی تعالی! کسی نے مجھے حیا کا راستہ دکھایا ہی نہ تھا؟ کسی نےمجھے سمجھایا ہی نہ تھا؟

میرے پیارے بچو!
عزیز بہنو!
اچھے نوجوانو!
تم فرض کفایہ ادا کر رہے ہو۔
تم بےحیائی کی غلیظ یلغار کے سامنے کردار اور عفت کا آخری حصار ہو۔
رکنا نہیں !
ٹھہرنا نہیں !
لوٹنا نہیں!
ان شاءاللہ تمہیں آقا ﷺ کل اس دور کے ''شہداء علی الناس'' میں کھڑا کریں گے۔
اپنا قرب عطا فرمائیں گے،
اپنی توجہ کے انعام سے نوازیں گے۔ ان شاءاللہ

Comments

زبیر منصوری

زبیر منصوری

زبیر منصوری نے جامعہ منصورہ سندھ سے علم دین اور جامعہ کراچی سے جرنلزم، اور پبلک ایڈمنسٹریشن کی تعلیم حاصل کی، دو دہائیاں پہلے "قلم قبیلہ" کے ساتھ وابستہ ہوئے۔ ٹرینر اور استاد بھی ہیں. امید محبت بانٹنا، خواب بننا اوربیچنا ان کا مشغلہ ہے۔ اب تک ڈیڑھ لاکھ نوجوانوں کو ورکشاپس کروا چکے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.