ویلنٹائن ڈے اور مسلمان؛ درست رویہ کیا ہے؟ ابو یحیی

محبت انسان کاایک بنیادی اور فطری جذبہ ہے۔ انسانی وجود ، رشتوں اور تعلقات میں یہ جذبہ بڑے جمال اور حسن کے ساتھ اپنا ظہور کرتا ہے۔خدا اور بندے ، اولاد اور والدین، دوست اور اقربا کے رشتوں کی ساری خوبصورتی نہ صرف اس جذبہ کی عطا کردہ ہے بلکہ ان رشتوں کو زندگی کے ہر امتحان میں اگر کوئی سرخرو کرتا ہے تو بلا شبہ یہی محبت کا جذبہ ہے۔

محبت کے رشتہ کی ایک اور لطیف شکل وہ ہے جو آغاز شباب میں دل کے صحرا پر پہلی پھوار کی طرح برستی ہے۔بحر زندگی ایک نئے تلاطم سے آشنا ہوتاہے۔قدم بے اختیار کسی سمت اٹھتے ہیں۔نظر بے سبب کسی کو ڈھونڈتی ہے۔دل کی دھڑکن بلاوجہ تیز ہوجاتی ہے۔نگاہ پر بجلی سی کوندتی ہے۔ قلب جتنا بے چین ہوتا ہے دماغ اتنا ہی آسودہ رہتا ہے۔دل کو بارہا بے وجہ قرار ملتا ہے اور بے وجہ قرار ملنے سے دل بہت بے قرارسا رہتا ہے۔

محبت کے اس جذبہ کا ودیعت کرنے والا وہ خالق دو جہاں ہے جو خدائے قدوس ہے۔ ہر تعریف کا مستحق، ہرخوبی کا سرچشمہ،ہر جمال کا خالق اور ہر جذبہ کا مالک۔وہ جس طرح اپنی عطا میں لازوال ہے اسی طرح اپنی حکمت میں بھی باکمال ہے۔وہ قدسیوں کا ممدوح ہی نہیں عارفوں کا محبوب بھی ہے۔ اس کی یہ حمد اور اس کی یہ محبت بے سبب نہیں۔ زندگی کی کہانی کا ہر ورق اسی نے لکھا ہے اور ہر سطر اسی کے زور قلم کا نتیجہ ہے۔اس کہانی کا آغاز وہ محبت کی اسی نرم و نازک کونپل سے کرتا ہے، جسے نکاح کے تحفظ کے بعد وہ ایک شجر سایہ دار کی طرح دیکھنا چاہتا ہے۔ اسی لیے وہ نوجوان محبت کے بیج کودلوں کی زمین پر اگاتا ہے اور مضبوطی کے لیے جنس و شہوت کی کھاد ڈال دیتا ہے۔
مگر اس حیات بخش کھاد کوگناہ کی دلدل بنادینے والا ابلیس لعین ہے۔وہ شیطان مردود جواپنی سرکشی کی وجہ سے بارگاہ ربوبیت سے دھتکاردیا گیا تھا۔ اور جس ہستی کے حسد میں دھتکارا گیا تھا وہ یہی انسان تھا، جس کا دل محبت کے دریا میں بہرحال ڈوبتا ہی ہے۔ شیطان ملعون نے خدائے ذوالجلال کی عزت کی قسم کھاکر انسان کی بربادی کا عزم کیا تھا۔وہ اس دریا کا رخ نکاح کے بحر زیست کے بجائے بدکاری کے گندے نالے کی طرف موڑنے کا خواہش مند رہتا ہے۔وہ عفت کی پاکیزگی کے بجائے شہوت کی گندگی کو مقصود زیست ٹھہراتا ہے۔ وہ نکاح کے تقدس کے بجائے زنا کی غلاظت کو لذیذ تر بناکر پیش کرتا ہے۔ وہ حیا کی بلندی کے بجائے آوارگی کی پستیوں کو مقصود حیات بنادیتا ہے ۔

اور آخری زمانے کی یہ مغربی تہذیب کہ جس نے ہزار برس سے قید شیطان کو رہا کرایا ہے، بحر و بر کو مسخر کرنے کے بعد دو عالم میں غالب ہے۔ یہ تہذیب میڈیا کی راہ سے شیطان کا ہتھکنڈہ بن کردنیا اور اس کی اقدار پر حملہ آور ہوئی ہے۔ اس کا سب سے بڑا حملہ یہ ہے کہ اس نے محبت کے پاکیزہ تعلق کو شہوت کی غلاظت سے لتھڑ دیا ہے۔ اس نے (Love Affair) کو (Lust Affair) بنا دیا ہے۔ جونا مطلوب تھا اسے مقصود بنادیا ہے اور جو مطلوب تھا اسے آزادی کی راہ میں کہیں کھودیا ہے۔

ہمیں نہ محبت سے نفرت ہے نہ جوانی میں دل کی بے ترتیب دھڑکنوں کے ہم دشمن ہیں۔نہ انسانی جذبوں سے ہم ناواقف ہیں نہ شباب کے رنگوں کو پہچاننے سے اندھے۔ ہم مغربی تہذیب کے دشمن ہیں نہ مغربی اقدار و تہوار کے۔ نہ جوانی کے سیلاب پر بندھ باندھنے کے خواہاں ہیں نہ جدیدیت کی موج کو قدامت کے کوزے میں بند کرنے کے خواہش مند۔ صرف قوم کے فرزندوں کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ان کے پروردگار نے ان کے لیے اس دنیا میں ایک ہی ویلنٹائن ڈے مقرر کیا ہے۔ وہ ان کی شادی کا دن ہے۔ رہی ان کی محبت تو اس کا اظہار ہر روز چا ہتا ہے۔ بت پرستوں اور مسیحیوں کا مقرر کردہ صرف 14فروری ہی کیوں؟
............................................

مرد و عورت کا تعلق اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں میں سے ہے(روم 21:30)۔اس تعلق کی بنیاد اُس کشش پر ہے جو انسانی جبلت (Instinct) میں رکھ دی گئی ہے تاکہ نسلِ انسانی آگے بڑھ سکے ۔ یہ کشش نہ ہو تو صرف ایک نسل بعد پوری انسانیت دم توڑدے گی۔مردو زن کی باہمی کشش انہیں مجبور کرتی ہے کہ وہ اکٹھے ہوں اور خاندان کا ادارہ تشکیل دیں۔ خاندان نہ ہو تو معصوم بچے اور ناتواں بزرگ زمانے کی سختیوں کو جھیلنے کے لیے تنہا رہ جائیں گے۔ مردوزن کے اس تعلق کی ایک اور بڑی اہمیت بھی ہے۔ دوسری تمام نعمتوں کی طرح یہ بھی انسانوں کو خالقِ کائنات کی ان بے کراں عنایات کا ایک ادنیٰ سا تعارف کراتا ہے جو اس نے جنت کی ابدی زندگی میں ان کے لیے تیار کر رکھی ہیں۔
مگر مرد و زن کی یہ کشش بارہا اپنے ان مقاصد تک محدود نہیں رہتی۔شیطان انسان کی راہ میں بیٹھتا ہے اور خود اس کو ایک مقصود بنادیتا ہے۔اس کا سب سے بڑا نمونہ مغربی معاشروں کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے۔ وہاں حیا کا فطری جذبہ بہت محدود اور عفت و عصمت (Chastity)ایک قدر کے طور پر باقی نہیں رہے۔میاں بیوی کا محدود اور پاکیزہ تعلق مرد و زن کے بے قید شہوانی تعلق میں بدل چکا ہے۔اس تعلق میں دو انسان’’ رفع حاجت‘‘کے لیے باہم ملاقات کرتے ہیں اور دل بھر جانے کے بعد اگلے سفر پر روانہ ہوجاتے ہیں۔

ویلنٹائن ڈے اس آزاد تعلق کو منانے کا دن ہے۔اس کی ابتدا کے متعلق یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ یہ بت پرست رومی تہذیب سے شروع ہوا یا تثلیث کے فرزندوں کی پیداوار ہے مگر اس کا فروغ ایک ایسے معاشرے میں ہوا جہاں حیا کی موت نے ہر (Love Affair) کو (Lust Affair) میں بدل دیا ہے۔ مغرب کا یہ تحفہ اب کرسمس کے بعددنیا کا سب سے زیادہ مقبول تہوار بن چکا ہے۔ہر گزرتے سال ، میڈیا کے زیر اثر، ہمارے ملک میں بھی اس کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

ہم مغرب سے آنے والی ہر چیز کے مخالف نہیں۔مگر کسی دوسری قوم کے وہ تہوار ،جن کا تعلق کسی تہذیبی روایت سے ہو، انہیں قبول کرتے وقت بڑا محتاط رہنا چاہیے۔یہ تہوار اس لیے منائے جاتے ہیں تاکہ کچھ عقائد وتصورات انسانی معاشروں کے اندر پیوست ہوجائیں۔ مسلمان عیدالاضحیٰ کے تہوار پر حضرت ابراہیم ؑ کی خدا سے آخری درجہ کی وفاداری کی یاد مناتے ہیں۔آج ہم ویلنٹائن ڈے مناتے ہیں تو گویا ہم اس نقطۂ نظر کو تسلیم کررہے ہیں کہ مردو عورت کے درمیان آزادانہ تعلق پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔اہل مغرب کی طرح ہمیں اپنی بیٹیوں سے عصمت مطلوب نہیں۔اپنے نوجوانوں سے ہم پاکدامنی کا مطالبہ نہیں کریں گے۔

کوئی ہندو عید الاضحیٰ کے موقع پر گائے کو ذبح کرکے مسلمانوں کے ساتھ شامل ہونے کا تصور نہیں کرسکتا۔ لیکن ہندوؤں کی موجودہ نسل گائے کے تقدس سے بے نیاز ہوکر عید کی خوشیو ں میں مسلمانوں کے ساتھ شریک ہوجائے تو عین ممکن ہے کہ ان کی اگلی نسلیں صبح سویرے مسلمانوں کے ساتھ گائیں ذبح کرنے لگیں۔ٹھیک اسی طرح آج ہم ویلنٹائن ڈے پر خوشیاں منارہے ہیں اور ہماری اگلی نسلیں حیا و عصمت کے ہر تصور کو ذبح کرکے ویلنٹائن ڈے منائیں گی۔

اسے دور کی کوڑی مت خیال کیجیے۔ ہماری موجودہ نسلیں صبح و شام اپنے گھروں میں مغربی فلمیں دیکھتی ہیں۔ عریاں اور فحش مناظر ان فلموں کی جان ہوتے ہیں۔ ان میں ہیرو اور ہیروئن شادی کے بندھن میں جڑے بغیر ان تمام مراحل سے گزر جاتے ہیں جن کا بیان میاں بیوی کے حوالے سے بھی ہمارے ہاں معیوب سمجھا جاتا ہے۔ ایسی فلمیں دیکھ دیکھ کر جو نسلیں جوان ہوں گی وہ ویلنٹائن ڈے کو ایسے نہیں منائیں گی جیسا کہ آج اسے منایا جارہا ہے۔جب وہ نسلیں اس دن کو منائیں گی تو خاندان کا ادارہ درہم برہم ہوجائے گا۔اپنے باپ کا نام نہ جاننے والے بچوں سے معاشرہ بھر جائے گا۔مائیں حیا کا درس دینے کے بجائے اپنی بچیوں کو مانع حمل کے طریقوں کی تربیت دیا کریں گی۔سنگل پیرنٹ (Single Parent) کی نامانوس اصطلاح کی مصداق خواتین ہر دوسرے گھر میں نظر آئیں گی۔ آج سے چودہ سو برس قبل مدینہ کے تاجدار نے جو معاشرہ قائم کیا تھا اس کی بنیاد حیا پر رکھی گئی تھی۔ جس میں زنا کرنا ہی نہیں اس کے اسباب پھیلانا بھی ایک جرم تھا۔ جس میں زنا ایک ایسی گالی تھا جو اگر کسی پاکدامن پر لگادی جائے تو اسے کوڑے مارے جاتے تھے۔جس میں عفت کے بغیر مرد و عورت کا معاشرہ میں جینا ممکن نہ تھا۔ اس معاشرے کے بانی نے فیصلہ کردیا تھا۔
’’جب تم حیا نہ کرو تو جو تمہارا جی چاہے کرو‘‘

تاجدار مدینہ کے امتیوں نے کبھی حیا کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا۔مگر اب لگتا ہے کہ امتی حیا کے اس بھاری بوجھ کو زیادہ دیر تک اٹھانے کے لیے تیار نہیں۔اب وہ حیا نہیں کریں گے بلکہ جو ان کا دل چاہے گاوہی کریں گے۔ ویلنٹائن ڈے کسی دوسرے تہوار کا نام نہیں۔ مسلمانوں کے لیے یہ وہ تہوار ہے جب امتی اپنے آقا کو بتاتے ہیں کہ ہم وہ کریں گے جو ہمارا دل چاہے گا۔

Comments

ابو یحییٰ

ابو یحییٰ

ابو یحییٰ معرول ناول ”جب زندگی شروع ہوگی“ کے مصنف ہیں۔ علوم اسلامیہ اور کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز جبکہ سوشل سائنسز میں ایم فل کیا۔ ٹیلی وژن پروگرام، اخباری مضامین، پبلک اجتماعات کے ذریعے دعوت و اصلاح کا کام کرتے ہیں۔ ماہنامہ "انذار" کے مدیر ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • ما شا اللہ سر آپ کی یہ تحریر بہت اچھی ہے اور اصلاح معاشرہ اور بے حیائی کے بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنے کےلیے ان شااللہ بہت مؤثر ثابت ہوگی۔ اس میں آپ نے بہت اچھے اور مدلل انداز سے ویلنٹائن ڈے منانے کی قباحتوں کو بیان کیا ہے۔ اللہ آپ کی اس کاوش کو قبول کر لے اور معاشرے کی اصلاح کے لیے اس کو کارگر بنا دے۔ آمین