لودھراں کا نتیجہ کیا ظاہر کرتا ہے؟ - پروفیسر جمیل چودھری

لودھراں کے نتیجے سے پورا ملک حیران ہےلیکن یہ حیرانگی تو پہلے لاہور شہر اور پھر چکوال میں بھی ظاہر ہوچکی ہے۔ کیا پشاور کا جلسہ عوام اور اداروں کو سبق دینے کے لیے کم تھا؟اور پھر مظفر آباد کا جم غفیر؟ اگر کوئی لیڈر عوام کے دلوں میں گھر کر چکاہو تو اسے عدالتوں کے فیصلوں سے نہیں نکالا جاسکتا۔

جنرل ضیاء الحق نے اپنے آپ کو بچانے کے لیے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی پرچڑھایا تھا۔ 40سال گزرنے کے بعد بھی بھٹو کے نعرے جلسوں میں گونجتے ہم سب دیکھتے رہتے ہیں۔ صرف اور صرف بھٹو کے نام پر پی پی تین دفعہ حکومت بنانے میں کامیاب ہوچکی ہے حالانکہ پی پی کی کارکردگی کبھی بھی اچھی نہیں رہی۔ کوئی زمانہ تھا کہ بھٹو کے بالمقابل عوام نے تمام لیڈروں کو مسترد کردیاتھا۔ اب ایسی ہی صورت حال نواز شریف کی بن چکی ہے۔ لوگ اس کا نام اپنے دلوں سے نکالنے کے لیے تیار نہیں ہیں بلکہ28 جولائی کے نااہلی کے فیصلے کے بعد ہمدردیاں بڑھ رہی ہیں۔

لودھراں شہر میں2015ء کے الیکشن میں جہانگیر ترین کی لیڈ16ہزار کی تھی۔ اب لوگوں نے نہ صرف16 ہزار کی کمی پوری کی بلکہ ایک ہزار کا مزید اضافہ بھی کیا۔ مجموعی فرق26ہزار کوئی معمولی فرق نہیں ہے۔ ایسے ہی چکوال میں30ہزار کا فرق تھا۔ جنرل الیکشن 2018ء میں صرف 4 ماہ باقی ہیں اور لودھراں کے انتخاب کو2018ء کے انتخاب کا ٹریلر بھی کہا جاسکتا ہے۔ اب آپ سوچیں کہ اگر لودھراں کے معرکے میں نواز شریف اور شہباز شریف خودایک دو جلسے کرلیتے تو صورت حال کیاہوتی؟ صرف مقامی قیادت نے محنت کرکے اتنا بڑا اپ سیٹ کردیا اور پھر شہباز شریف کی جنوبی پنجاب کی کارکردگی جولوگوں کو اپنے سامنے نظر آرہی تھی۔ کھلی کھلی سٹرکیں اور چمکتی دمکتی Speedo بسیں۔ کاکردگی بتانے کی بجائے عوام کو خودہی نظر آرہی تھی۔

تجزیہ نگاروں کی یہ رائے سچ ثابت ہورہی ہے کہ اگر کسی لیڈر کو عوام کی بے پناہ سپورٹ حاصل ہوجائے اور ساتھ ہی اس کے دور کے کام نظر بھی آئیں تو عدالتی فیصلوں سے عوام لیڈر سے دور نہیں ہوتے۔ ہمارے ملک کا ماضی بھی یہی بتاتا ہے کہ عوامی لیڈر کو شکست دینے کے لیے صحیح جگہ صرف "سیاسی میدان "ہے۔ مسلم لیگی قیادت کے بالمقابل عمران خان آئے تو ضرور لیکن صرف منفی باتیں کرنے کے لیے۔ 2014ء سے لیکر اب تک ان کا بیانیہ صرف اور صرف ایک ہی ہے۔ "صبح سے شام تک صرف نواز شریف کی مخالفت"ابھی تک عمران خان کی طرف کبھی کوئی خارجہ پالیسی، تعلیمی پالیسی، معاشی پالیسی کا سوچا سمجھا اعلان نہیں ہوا۔ حالانکہ وہ واحد لیڈر ہیں جو 24 گھنٹوں میں سب سے زیادہ میڈیا پر موجود رہتے ہیں اور کرسی تک پہنچنے کے لیے راستہ کاصرف ایک پتھر ہٹانا ہی کافی سمجھتے ہیں لیکن یہ پتھر ہٹنے کے بعد پورا پہاڑ بنتانظر آتا ہے۔

نواز شریف کا ــ"مجھے کیوں نکالا" والا بیانیہ کامیاب ہوتا نظر آتا ہے۔ ابھی تک کوئی بھی ادارہ ایسا جواب نہیں دے سکا، جس سے عوام کی تسلی ہوجاتی۔ نواز شریف پر ایک یا دو ارب کی کرپشن کرسٹل کلیئر ہوجاتی۔ ابھی اصل ریفرنسز کے ساتھ ضمنی ریفرنسز دائر کیے جارہے ہیں۔ ان کا فیصلہ جلد ہوتا نظر نہیں ہوتا۔

ہمارے ایک تجزیہ کاردوست نے چند دن پہلے ایک خوبصورت تحریر لکھی۔ وہ ماضی میں بہت دور تک چلے گئے۔ 399قبل مسیح میں سقراط پر مقدمہ چلا اور جیوری نے زہر کا پیالہ پینے کا حکم سنایا۔ سزا پر عمل درآمد ہوگیا لیکن آج دنیا میں سقراط کی دانائی کے توچرچے ہیں اور موت کی سزا سنانے والوں کے نام کا کسی کو بھی پتہ نہیں۔ ایسے ہی حضرت عیسیٰ علیہ اسلام اور معروف فلسفی ابن رشد کے ساتھ ہوا۔ ان تمام کو آج بھی ایک دنیا یاد رکھے ہوئے ہے۔ اور بھٹو کو تو ہم سب پاکستانی جانتے ہی ہیں۔ اگر نواز شریف کو پاکستان کی لیڈر شپ سے ہٹانا ہے۔ تو صحیح اور ماثر طریقہ یہ ہے کہ اسے2018ء کے الیکشن میں واضح شکست دی جائے۔ ابھی تک عدالت کے فیصلے کا عوام پر الٹا اثر ہوا ہے۔ لوگوں کی ہمدردیوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ تمام اداروں کو آنے والے انتخابات کو صاف شفاف اور منصفانہ بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ جس علاقے میں جس لیڈر کی جتنی مقبولیت ہو، نتیجہ اس کا صحیح اظہار کرے اور یہ کام ہم دور جدید کی جدید ترین ٹیکنالوجی کے ذریعے آسانی سے کرسکتے ہیں۔

سیاسی پارٹیاں اور حکومتی ادارے تمام کے تمام ایک دوسرے سے تعاون کریں۔ دنیا کو بتائیں کہ پاکستان میں جمہوریت کا پودا اب مستحکم ہوچکا ہے۔ تمام سیاسی پارٹیوں کو انتخاب میں حصہ لینے کی آزادی ہو، کسی کو بھی نہ روکا جائے۔ پابندی نہ انفرادی طورپر اور نہ ہی سیاسی پارٹی پر اچھے نتائج نہیں دکھاتی۔ لودھراں یا اس سے پہلے کے ضمنی انتخابات کے نتائج سے اداروں کو بہت کچھ سیکھنے کو ملا ہوگا۔ عوام کی رائے کے احترام سے ہی قوموں کو آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔ پاکستانی طاقت ور اداروں نے1970ء میں بھی عوامی رائے کا احترام نہ کرکے نقصان اٹھایا تھا۔ قابل احترام عدالتوں کو بھی ماضی کے فیصلوں کو سامنے رکھنا چاہیے۔ لوگ اپنے سیاسی فیصلے خود کریں۔ کوئی بھی ادارہ عوام کی رائے کے راستے میں رکاوٹ نہ کرے۔ لودھراں کا نتیجہ یہی ظاہر کرتا ہے۔