آؤ تمہارے ایمان کا فیصلہ کریں - ضیغم قدیر

جن کو عاصمہ جہانگیر سے نظریاتی اختلافات تھے انہوں نے اس کے جیتے جی اس سے اختلاف کیا اور جب وہ فوت ہوگئی تو انہوں نے چار قل پڑھ کر ان اختلافات کو عاصمہ کے ساتھ ہی مار دیا اور کرنا بھی یہی چاہیے تھا کیونکہ اختلافات شخصیات سے نہیں نظریات سے ہوتے ہیں اور اگر کوئی فوت ہوجائے تو مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے نظریات بھی ساتھ لیکر چلا گیا ہے لہذا اناللہ پڑھ کے اس کے نظریات کو بھی ساتھ ہی دفن کردیا جائے مگر چونکہ ہم مملکت خداداد پاکستان سے ہیں لہٰذا یہ سوال ہی نہیں بنتا کہ یہاں کسی مردے کو بخش دیا جائے۔

سو اس وقت دو طرح کے لوگ گڑے مردے کو اکھاڑ رہے ہیں ایک وہ ہیں جن کو کو عاصمہ کے نظریات سے اختلاف تو تھا ہی مگر وہ زیادہ چوں چرا اس لیے کررہے ہیں کیونکہ وہ پرو-نواز اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ تھیں، مطلب کہ ہر یوتھیا بچونگڑا عاصمہ کو جہنمی قرار دے رہا ہے اور یہی بغض نواز ان کو ایک مردے کو بھی نوچنے پہ مجبور کررہا ہے کیونکہ ہمارے یوتھیاز پرو اسٹیب ہیں اس لیے وہ اپنے پرانے بدلے ایک مردے کو نوچ کر چُکا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف کے لوگ وہ ہیں جو مذہبی جماعتوں سے ہیں اور انہیں دکھ اس بات کا ہے کہ عاصمہ جہانگیر اُن کی حمایت میں نہیں بولتی تھی اگر بولتیں تو "ایک مرحوم گلوکار" کی طرح اس کی گستاخیوں کو بھی جسٹیفائی کرکے اس کو بخش دیتے مگر وہ کیا ہے کہ عاصمہ ہمارے گروہ سے نہیں بلکہ کسی بھی مذہبی گروہ سے نہیں لہٰذا عام لوگوں کو باور کرائیں کہ وہ جہنمی ہوگی کیونکہ اس نے شعائر اسلام کی گستاخی کی ہے (حالانکہ کہ گستاخی تو ایک مرحوم گلوکار نے بھی کی تھی مگر وہ چونکہ ایک بڑی جماعت کے رکن تھے سو وہ بخش ديے گئے تھے)۔

باقی ہماری قوم کا شعور اتنا گرا ہوا ہے کہ وہ اختلاف رائے کے بنیادی نکات سے ہی آگاہ نہیں، جیتے جی کسی کے ساتھ اختلاف نہیں کریں گے بلکہ اس کو مار کر اس سے اختلاف کریں گے اور پھر شادیانے بجائيں گے کہ وہ چونکہ ہماری جماعت سے نہیں لہٰذا اس کو تو جہنمی ثابت کرو۔ اور ہمارا شعور اتنا زوال یافتہ ہے کہ ایک طرف ہم کہتے ہیں کہ ایمان بالغیب ہے اور وہیں دوسری طرف دوسروں کے ایمان ناپنے لگ پڑتے ہیں کہ کون کتنا ایمان رکھتا ہے؟ حالانکہ ہم خود یہ بات کہتے کہتے نہیں تھکتے کہ ایمان کا دارومدار نیت پر ہے اور نیت کا علم صرف اللہ کو ہے اور پھر خود ہی ان نظریات کو نوچنے لگتے ہیں کہ ہم آپ کی نیت کا فیصلہ کریں گے کہ کون کافر ہے، کون مسلم ہے اور کون جہنمی یا جنتی ہے؟

اس بات کا فیصلہ آپ کی فیس بک پوسٹس یا مذہبی تقاریر دیکھ کر نہیں ہونا بلکہ اس کا فیصلہ اللہ پاک نے نیتوں کو دیکھ کرکرنا ہے اس لیے اپنے ایمان کو اپنے دل میں رہنے دیں اور دوسرے کے ایمان کو اس کے دل میں،یہی اسلام کا درس ہے اور آپ کا ایمان آپ کے ساتھ جانا ہے قیامت والے دن آپ سے یہ پوچھا جانا ہے کہ آپ نے کتنے اچھے اعمال کیے اور آیا شرک سے بچے یا نہیں اور خدائی کی کتنی بندگی اور اس کے بندوں کی کتنی خدمت کی؟ یہ سب پوچھا جانا ہے ناکہ یہ پوچھا جانا ہے کہ آپ نے کتنے لوگوں کے ایمان کے درست یا غلط ہونے کا فیصلہ کیا کتنوں کو کافر ثابت کیا؟ سو اپنے سوالات کے جوابات کی تیاری کریں ناکہ دوسروں کے جوابی پرچے پڑھنے کی۔ آپ لوگ یہاں داروغہ بن کر نہیں آئے جو کسی کی آخرت کے فیصلے یوں بیڈ پہ بیٹھے بیٹھے کردیں، عمل کی مسند پہ آئیں اور اپنے کرتوت بہتر کریں کیونکہ آپ اپنے کرتوتوں کے ذمہ دار ہیں نا کہ کسی اور کے کرتوتوں کے۔