ویلنٹائن ڈے “ Yes or No” - امجد طفیل بھٹی

پاکستان جیسے اسلامی ملک میں جہاں ابھی تک معاشرے نے اس قدر کروٹ نہیں بدلی کہ سب کو مدر پدر آزادی مل جائے اس لیے ویلنٹائن ڈے کا نام لینا بھی مناسب نہیں سمجھا جاتا اور ہونا بھی ایسا ہی چاہئیے۔ کیونکہ مغرب کی تہذیب اور اب انڈین کلچر کی بے تحاشا تشہیر کے باعث ہمارا معاشرہ اس وقت دوراہے پر آ کھڑا ہوا ہے۔ ایک طبقہ ویلنٹائن ڈے کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہتا ہے کہ محبت کا پرچار کرنا غیر اسلامی تو نہیں ہے نا؟ جبکہ دوسرا طبقہ وہ ہے جو کہ اس دن کو مکمل طور پر اسلامی تعلیمات کے منافی قرار دیتے ہوئے کہتا ہے کہ مرد و زن کا باہمی ملاپ کھلم کھلا گناہ ہے۔ دوسری بات اسلامی لحاظ سے بالکل ٹھیک ہے کیونکہ قرآن و حدیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جب بھی خلوت میں مرد اور خاتون ہوں گے تو ان کے درمیان تیسرا شیطان موجود ہوتا ہے جوکہ ایسے موقع کی تلاش میں ہوتا ہے۔ چونکہ انسان کا نفس ایک بے لگام گھوڑے کی طرح ہے اس لیے اس کی چال سے نیک سے نیک مسلمان بھی محفوظ نہیں رہ سکتا۔

پاکستان میں ویلنٹائن ڈے کی آمد زیادہ پرانی بات نہیں ہے، جب سے پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کی بھرمار ہوئی ہے غیر اسلامی رسومات نے ہماری نوجوان نسل کو شدید متاثر کیا ہے۔ رہی سہی کسر انٹرنیٹ نے پوری کر دی ہے۔ ہمارے معاشرے میں مخلوط تعلیمی نظام شروع سے ہی شدید تنقید کی زد میں رہا ہے اور اس کی وجہ کوئی اور نہیں بلکہ مرد و زن کا باہمی ربط ہے جو کہ اصل بُرائی کی جڑ سمجھا جاتا ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ ویلنٹائن ڈے کی سب سے زیادہ ترغیب بھی کالجز، یونیورسٹیز اور سوشل میڈیا کے ذریعے ہی ہوتی ہے۔ بعض لوگ معاشرے میں موجود باقی جرائم کا ویلنٹائن ڈے سے موازنہ کرتے ہوتے کہتے ہیں کیا خود کش حملے، مدرسوں میں بچوں سے زیادتی اور توہین رسالت کے بدلے زندہ جلا دینا ویلنٹائن ڈے سے بڑے جرم نہیں ہیں کہ جنکو جائز قرار دیا جاتا ہے اور ویلنٹائن ڈے کو اس قدر غیر اسلامی اور ناجائز قرار دے کر “حرام دن“ کا نام دیا جاتا ہے؟ ایسے لوگوں کی اپنی رائے ہے مگر جُرم جرم ہی ہوتا ہے وہ چاہے خود کش دھماکہ ہو، بچوں سے زیادتی ہو یا پھر کسی بھی انسان کو زندہ جلانا ہو۔ اب ایک جرم کا دوسرے جرم سے موازنہ کرنا بھی بذات خود جرم ہے کیونکہ دنیا کی کوئی بھی تہذیب یا مذہب اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ آپ ایک جرم کریں اور ساتھ یہ بھی کہیں کہ میرا جرم تو فلاں جرم سے بہت چھوٹا ہے۔

جہاں تک اسلامی تعلیمات کا تعلق ہے تو اسلام تو بذات خود عدم تشدد اور محبت کا درس دیتا ہے پھر کیونکر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہر پُر تشدد کاروائی کے پیچھے مذہب اسلام کا عمل دخل ہے حالانکہ کسی بھی جرم یا گناہ کا ارتکاب کرنے والا شخص اس کا ذمہ دار ہوتا ہے اور یہ اُس کا ذاتی فعل ہوتا ہے۔ دنیا کا کوئی بھی مذہب چوری، زنا، قتل اور تشدد کو جائز قرار نہیں دیتا۔ ہاں البتہ بہت سارے ممالک جو کہ ویلنٹائن ڈے کو باقائدہ طور پر مناتے ہیں وہاں بھی اس کی مخالفت موجود ہوتی ہے۔

خیر یہ سب باتیں اپنی جگہ لیکن ہمارے ملک میں اگر عام لوگوں کی رائے لی جائے تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بیشتر لوگ پاکستان میں اسلامی اقدار کے نفاذ پہ زور دیتے ہیں لیکن خود اپنے اوپر کسی قسم کی پابندی براشت نہیں کر سکتے۔ ایک طرف تو لوگ ویلنٹائن ڈے اسلامی قانون کے منافی قرار دیتے ہیں تو دوسری طرف فیس بک اور سوشل میڈیا پر “Happy valentine ‘s day“ کی پوسٹس کرتے ہوئے ذہنی و قلبی سکون محسوس کرتے ہیں۔

یہ ہمارے دوہرے ذہنی معیار کا ثبوت ہے۔ حالانکہ ویلنٹائن ڈے کو ایک انفرادی فعل کے کے سوا کوئی حیثیت حاصل نہیں ہونی چاہیے یعنی کہ جس طرح بسنت یا پھر کوئی اور تہوار ہو نہ تو اس پہ مکمل پابندی لگائی جا سکتی ہے اور نہ ہی کھلی چھوٹ دی جا سکتی ہے۔ بالکل اسی طرح ویلنٹائن ڈے کی نہ تو تشہیر ہونی چاہیے اور نہ ہی مکمل پابندی۔ کیونکہ ہمارے ہاں جس جس چیز پر پابندی لگی وہ اتنی ہی زیادہ کھل کر سامنے آئی ہے۔ گزشتہ روز اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے الیکٹرانک میڈیا کو تنبیعہ دی گئی کہ کوئی بھی چینل یا میڈیا ویلنٹائن ڈے سے متعلق رپورٹس نشر نہ کرے۔ یہ ایک اچھا اقدام ہے کیونکہ جس کام کو مجموعی طور پر ہمارا معاشرہ بُرا سمجھتا ہے اس کی تشہیر کسی صورت بھی قابل برداشت نہیں ہے۔ اب ضروری نہیں کہ محبت اور پیار کے لیے سارے سال میں صرف ایک دن مخصوص ہو اور باقی سال لوگوں سے نفرت، شدت پسندی، مکروفریب اور جھوٹ جیسے گناہوں کے سہارے زندگی گزاری جائے۔

بلکہ ہمارا مذہب اسلام ہر دن کو ہر ایک سے امن اورمحبت سے گزارنے کا درس دیتا ہے چاہے وہ غیر ہو یا اپنا۔ ہمیں چاہیے کہ ایسے تہواروں کو اگر منانا اتنا ناگزیر بھی ہو تو اس کو اپنے گھر کی چاردیواری کے اندر ہی رکھیں تو بہتر ہو گا اب تحائف کا تبادلہ بہن بھائی، میاں بیوں، باپ بیٹا، ماں بیٹی یا پھر اپنے دادا دادی کے درمیان ہی رہے۔ ضروری نہیں کہ سر عام سڑکوں، چوراہوں، کالجوں، سکولوں، بسوں یا پھر پارکوں میں ہی تحائف کا تبادلہ ہو۔ یہ عمل شاید کسی بھی صورت ماں باپ یا پھر ہمارے معاشرےکو قابل قبول ہو کہ نوجوان لڑکے اور لڑکیاں کھلے عام ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے اور پھولوں کے تبادلے کریں۔ اس سارے معاملے میں کالجز اور یونیورسٹیوں کا کردار انتہائی اہم کردار ہے کیونکہ اگر وہاں پہ مغرب کلچر، ڈانس، کلب اور پارٹیاں کی حوصلہ افزائی ہو گی تو پھر نوجوان نسل کو نیکی کی ترغیب کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے۔

ہمارے ملک میں بعض لوگوں کی خام خیالی ہے کہ دنیا کا مقابلہ کرنے اور اکیسویں صدی میں رہنے کے لیے دنیا کے ساتھ چلنا ضروری ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف ایک ویلنٹائن ڈے منانے سے ہی ہم یہ ثابت کرسکتے ہیں کہ ہم ترقی کی منازل طے کر رہے ہیں؟ بلکہ تعلیم، صحت اور سائنس وٹیکنالوجی میں اپنی خدمات کو پیش کر کے ہی دنیا کا مقابلہ اچھے طریقے سے کیا جا سکتا ہے، جس کے لیے ہر ایک کو انفرادی حیثیت میں حصہ ڈالنے کی ضرورت ہے۔

Comments

امجد طفیل بھٹی

امجد طفیل بھٹی پیشے کے لحاظ سے انجینئر ہیں اور نیشنل انجینیئرنگ سروسز (نیس پاک) میں سینئر انجینیئر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ آپ مختلف اردو روزناموں اور ویب سائٹس کے لیے سماجی و سیاسی موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں