اندلس سے سپین تک - مریم وزیر

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ بیت المقدس کی فتح کے بعد وہاں گئے تو وہاں نماز کا وقت ہوگیا، قریب میں موجود چرچ کے بشپ نے فاتح قوم کے خلیفہ سے کہا کہ" آپ یہیں نماز ادا کر لیجیے"۔

حضرت عمر رضی اللہ نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ "اگر میں نے کلیسا کی حدود میں نماز ادا کرلی تو کہیں ایسا نہ ہو کہ میرے بعد مسلمان اس جگہ پر دعویٰ کر کے مسجد بنا لیں۔ "

صرف یہی ایک مثال نہیں ہے بلکہ تاریخ کے اوراق میں ایسے کئی واقعات موجود ہیں۔ یہ واقعہ جرمن ادیب کارل بیکر نے اپنی کتاب میں درج کیا ہے۔ یہ ایک فاتح قوم کی مفتوح قوم سے رواداری کی مثال ہے اور اس طرح کی کوئی مثال کسی دوسری قوم کے حوالے سے نہیں ملتی۔

موجودہ اسپین میں جابجا کئی چرچ دیکھے جا سکتے ہیں جن کو کبھی کسی بادشاہ نے، بشپ نے، فوج نے اور کہیں کسی حکومت نے مسجد سے چرچ میں تبدیل کیا ہے۔ اور اگر کسی مسجد کو چرچ میں نہیں بھی بدلا تو مسجد بھی نہیں رہنے دیا گیا۔ اس کی بڑی مثال مسجد قرطبہ ہے۔ جبرالٹر (جبل طارق) بحیرہ روم کا گیٹ وے ہے، وہ مقام جہاں بے شمار جنگیں لڑی گئی تھیں۔ اپنے دفاعی محل وقوع کی بناء پر یہ جگہ بہت اہمیت کی حامل ہے۔ یہ ہی وہ جگہ ہے جہاں سے مسلمان اپنی کم تعداد کے باوجود، اللہ کی مدد، بہادری اور بہترین جنگی حکمت عملی کی وجہ سے اسپین (اندلس) میں داخل ہوئے تھے۔ جس کے بارے میں شاعر نے کہا ہے کہ :

اے گلستانِ اندلس وہ دن ہے یاد تجھ کو

تھا تیری ڈالیوں میں جب آشیاں ہمارا

اندلس موجودہ سپین میں کب بدلا؟ اور کیسے بدلا؟ یہ ایک خونچکاں داستان ہے۔ ایک ایسی تاریخ جس سے ابھی بھی کوئی بھی قوم سبق حاصل کر سکتی ہے۔ مسلمان اندلس میں92 ھ (711ء) داخل ہوئے اور 8 صدیوں تک حکومت کی اور پھر847ھ (1492ء)میں زوال کا شکار ہوئے۔ اس کے بعد زمام حکومت عیسائی حکمرانوں کے پاس آئی۔ اس تمام عرصے میں مسلمان حکمران، عوام کا عیسائیوں اور دیگر مذاہب کے لوگوں سے سلوک ایک فاتح قوم کی حیثیت سے بہت بہترین تھا۔ نہ ہی زبردستی مذہب کی تبدیلی عمل میں آئی، نہ ہی عبادت خانوں سے چھیڑ چھاڑ کی گئی۔ اس کے برعکس عیسائی حکمران، پیشواؤں نے صدیوں کے بغض و عناد کا بدلہ اس طرح سے لیا کہ خود مغربی مصنفین پکار اٹھے کہ بہت کچھ غلط ہوا تھا۔

مسلم حکومت کے زوال کے بعد، موجودہ اسپین کو عیسائیت پر قائم رکھنے اس میں اضافے کے لیے جو کچھ وہاں کی حکومتوں، عیسائی پیشواؤں نے کیا، اس کے لیے اندلسی مسلمانوں کو ایک لمبے عرصے تک پرتشدد دور سے گزرنا پڑا ۔ اس میں ظلم و بربریت کی جو داستان عیسائیوں نے رقم کی اس کی مثال فلسطین و سربیا کے مسلمانوں کے حوالے سے ہی مل سکتی ہے۔ وہاں موجود مساجد کو گرجا گھروں میں تبدیل کیا گیا۔ مسلمانوں کو عیسائیت اختیار کرنے پر مجبور کیا گیا۔ نہ صرف مذہبی کتب جلائی گئیں بلکہ قرآن پاک کی بھی بے حرمتی کی گئی۔ اسلامی تعلیمات، ارکان پر عمل کرنے والوں کو بدترین سزائیں دی جاتی تھیں ۔ پھر ایک وقت آیا کہ قانوناً مسلمانوں کو عیسائیت اختیار کرنے کا حکم دیا گیا اور نہ اختیار کرنے کی صورت میں ملک بدر کر دیا گیا ۔ اس کے بعد عیسائی مشنری ادارے قائم کیے گئے تاکہ مسلمانوں پر نظر رکھنے کے ساتھ انہیں اسلام بھلایا جائے۔ آج وہاں موجود نہ جانے کتنے افراد کے آبا و اجداد مسلم تھے۔

اندلس کو جس قدر بدلا جا سکتا تھا بدلا گیا۔ برطانوی حکومت نے بھی اس کو اپنے تئیں اپنا بنانا چاہا مگر اس کی نہ چل سکی۔ اندلس میں مسلمانوں کا عروج ان کا اللہ اور رسولؐ پر مضبوط ایمان کا نتیجہ تھا اور وہاں مسلمانوں کا زوال ایمان کی کمزوری کے ساتھ آپس کی چپقلش، ناانصافی اور زمام اقتدار نااہل افراد کے ہاتھوں میں ہونے کی وجہ سے ہوا!