تبدیلی کے غبارے سے ہوا نکل چکی - یاسر محمود آرائیں

مجمع لگانا اور بندے جمع کرنا اور بات ہے،جبکہ انتخابات جیتنا کچھ اور ہے۔محض جلسوں میں ناچ گانے کے ذریعے بھیڑ لگا کر عوامی مقبولیت اور پذیرائی ماپنے کی کوشش کرنا بے وقوفی تو ہوسکتی ہے مگر کسی سیانے بندے یا منصب رہبری کے طلب گار کے شایان شان ہرگز نہیں۔ہمارے ہاں عوام کو تفریح کے مواقع کچھ خاص میسر نہیں،ایسے میں جس قصبے یا دیہات میں میلہ لگتا ہے اور دو چار پھکڑ لطیفے باز اور چند بے سُرے گویّے جمع ہوتے ہیں وہاں ہزاروں کا مجمع اپنی جیب سے کرایہ بھاڑا خرچ کرکے حِظ اُٹھانے پہنچ جاتا ہے۔نیازی صاحب کے اسٹیج پر تو عطا اللہ عیسیٰ خیلوی اور ابرار الحق جیسے ملک کے صف اوّل کے گلوکار ہمیشہ پرفارمنس کے لیے موجود رہتے آئے ہیں تو اگر چند ہزار لوگ وقت گزاری اور تفریح طبع کے لیے وہاں بھی پہنچ جائیں تو کون سی اچنبھے کی بات ہے؟اس کے علاوہ ان جلسوں میں منچلوں کی دلچسپی کی اور بھی بہت سی سہولیات دستیاب ہوتی ہیں جبکہ کھانے پانی اور ٹرانسپورٹ کی فراہمی تو ویسے بھی سیاسی جلسوں میں مفت ہوا کرتی ہے۔

پچھلے تمام عرصے میں نیازی صاحب نے تبدیلی اور کرپشن کے خاتمے کے نام پر اپنا چورن خوب بیچا۔کچھ عرصہ تو یہ چورن بہت تیزی سے بکا بلکہ ہاتھوں ہاتھ لیا گیا لیکن اب جب کہ عاصمہ قتل کیس،پشاور کی اُکھڑی سڑکوں کی حالت زار،غیر قانونی کان کنی، معدنیات کی اسمگلنگ،سرکاری ہیلی کاپٹر کے مالِ مفت دلِ بے رحم کی مانند استعمال اور سلیمانی چادر اوڑھے ایک ارب درختوں کی بدولت عوام نے اس چورن کے سائیڈ افیکٹ اچھی طرح بھگت لیے ہیں،تو اس پراڈکٹ کی سیل بھی دن بہ دن نیچے آرہی ہے۔اس کے علاوہ کوئی جہاندیدہ شخص اگر کسی بھی طرح کی مہم جوئی کرتا ہے تو پیش آمدہ ممکنات اور خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے پیشگی مختلف پلان ترتیب دے کر رکھتا ہے۔نیازی صاحب نے میاں صاحب کو پرائم منسٹر ہاؤس سے نکلوانے کے لیے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کردیں اور خوش قسمتی سے وہ اس میں کامیاب بھی رہے۔اس کے بعد مگر کیا کرنا تھا اور کیسے اس کامیابی کو مستقبل میں اپنے حق میں قائم ودائم رکھنا تھا؟ یہ انہوں نے بالکل نہیں سوچا۔دوسری طرف میاں صاحب نے نہایت کامیابی سے اپنی ناکامی کو بھی اپنے حق میں استعمال کیا اور ایسے انداز میں اپنا موقف پیش کیا جس کے نتائج آج سب کے سامنے ہیں۔

این اے 120 میں کلثوم نواز کی فتح نے یہ بات ثابت کردی تھی کہ نوازشریف کی نااہلی کے فیصلے کو عوام نے بالکل پذیرائی نہیں بخشی اور اس فیصلے کے بارے میں عوام کی اکثریت کی کم وبیش وہی رائے ہے جس کا اظہار مسلم لیگ کی قیادت کی جانب سے کیا جارہا ہے.بلاشبہ یہ جیت مسلم لیگ کے مستقبل کے تعین کے لیے ازحد ضروری اور ٹیسٹ کیس کا درجہ رکھتی تھی اور مسلم لیگ اپنے اس امتحان میں سرخرو بھی ہوئی۔

یہ بھی پڑھیں:   تبدیلی کہاں ہے؟ - ذوالقرنین ہندل

اس کے ساتھ مگر یہ ضمنی الیکشن فیصلہ سازوں کے لیے بھی عوام میں اپنی اور اپنے فیصلوں کی پذیرائی کے لیے ٹیسٹ کیس تھا۔ جس میں تمام تر کوشش اور اپنی حمایت کا وزن ترازو کے ایک پلڑے میں ڈالنے کے باوجود انہیں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ یہ نتیجہ جہاں نواز شریف کی نااہلی کے فیصلے کے خلاف عوامی ریفرنڈم ثابت ہوا وہیں دیکھنے والی آنکھ کے لیے اس میں اگلے انتخابات کے نتائج واضح ہوگئے تھے۔اس کے ساتھ ساتھ اگر کسی کے ذہن میں عمران نیازی کے ممکنہ سیاسی مستقبل کے بارے میں کوئی شکوک وشبہات باقی بچے تھے تو وہ بھی رفع ہوجانے چاہیے تھے۔

حقائق تو یہی بتا رہے تھے کہ عمران نیازی کی حیثیت ایک ٹشو پیپر سے زیادہ کچھ نہیں اور استعمال کیے جانے کے بعد ٹشو پیپر کو کوئی بھی رکھنا گوارا نہیں کرتا اور این اے 120 کے ضمنی الیکشن نے یہ بات ثابت بھی کردی تھی۔مذکورہ نتائج میں دیکھنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں تھیں بشرطیکہ کوئی احمقوں کی جنت میں نہ رہتا ہو یا پھر آنکھوں پر پی ٹی آئی کی گلیمرائزڈ عینک نہ لگی ہو۔

اب ایک بار پھر لودھراں کے ضمنی الیکشن میں ہونے والی بھاری بھرکم شکست کے بعد تحریک انصاف کے چند کھسیانے سپورٹرز کھمبا نوچنے کے لیے مختلف تاویلیں پیش کررہے ہیں۔یاد رہے کہ یہ نشست نیازی صاحب کی اے ٹی ایم کہلانے والے جہانگیر ترین کی نااہلی سے خالی ہوئی تھی اور اسی نشست کو پانے کے لیے انصافی لشکر نے 126 دن تک اسلام آباد کی سڑکوں پر خجل خواری برداشت کی تھی۔جہانگیر ترین بھی اسی الزام اور آرٹیکل کا شکار ہوکر اپنی نشست سے محروم ہوئے ہیں جو میاں صاحب کو وزارت عظمیٰ کے منصب سے ہٹوانے کا سبب بنا تھا۔کرپشن اور موروثی سیاست کے مخالف نیازی صاحب مگر مختلف حیلوں سے ان کے خلاف فیصلے کو غلط اور میاں صاحب کے فیصلے کو درست قرار دینے کی کوشش میں لگے تھے۔دوسری طرف میاں صاحب اور ان کی جماعت نے اپنا ایک مکمل بیانیہ ترتیب دیا۔ اس بات سے قطع نظر کہ ان کا موقف درست تھا یا غلط،لیکن وہ اس پر پوری طرح ڈٹے رہے۔خلق خدا نے ان کے موقف کو بھرپور پذیرائی بخشی اور نیازی صاحب کی تاویلوں کو بالکل درخور اعتنا نہیں سمجھا اور اپنی سوچ کے مطابق فیصلہ سنادیا۔اب مسلم لیگ بڑی حد تک یہ کہنے میں حق بجانب ہوگی کہ عوام اب بھی ان کی دیانتداری پر اعتماد کرنے کو تیار ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   وزیرِ اعظم جنابِ عمران خان سے ملاقات - مفتی منیب الرحمن

میاں صاحب کی نااہلی کے بعد یہ پہلا موقع نہیں ہے بلکہ چکوال میں بھی انصافیوں کے ساتھ یہ واردات گزر چکی ہے۔اب مگر بہت نازک موقع پر ان کے دل کے داغوں میں دوبارہ آگ بھڑکی ہے۔اگلے عام انتخابات بہت قریب کھڑے ہیں۔مسلم لیگ اس فتح کو اگلے الیکشن میں اپنے حق میں بھرپور استعمال کرے گی۔پہلے سے چلتی ہوئی کمپین کو مزید تیز کیا جائے گا اور اس فتح کو اپنے بیانیے کی جیت بتلاکر رائے عامہ کا رخ مزید اپنی جانب کرنے کی سعی کی جائے گی۔اس شکست کے بعد اغلب گمان تھا کہ نیازی صاحب ایک بار پھر رونا دھونا کریں گے اور اپنی ناکامی کو دھاندلی کے سر منڈھنے کی کوشش کریں گے۔لیکن مدتوں بعد انہوں نے بھی کوئی عقل کی بات کی ہے اور نہ صرف ٹوئیٹ کے ذریعے اپنی شکست کا اعتراف کیا ہے بلکہ یہ بھی کہا ہے کہ ان سے غلطیاں ہوئی ہیں اور وہ اپنی غلطیوں سے سیکھنے کی کوشش کریں گے۔

نظر بظاہر یہی آرہا ہے یہ بیان محض شکست کی خفّت چھپانے کے لیے دیا ہے کیونکہ،اگر وہ واقعی سنجیدہ ہوتے تو کبھی بھی جہانگیر ترین کی نااہلی کو ڈیفینڈ کرنے کی کوشش کرتے اور نہ ہی موروثی سیاست پر اپنے بیانات کو یاد رکھتے ہوئے باپ کے بعد بیٹے کو ٹکٹ دیتے۔ان کی انہیں کہ مکرنیوں اور دہرے معیار کی بدولت ہی ان کا ووٹر نالاں ہوا ہے اور اس کے سر سے جنون اور تبدیلی کا خمار بتدریج اترتا جارہا ہے۔کیونکہ لوگوں کو علم ہوچکا کہ وہ کتنے اصول پسند ہیں،آج وہ جس کام سے دوسروں کو مطعون کرتے ہیں صبح اسی راہ پر خود نکل پڑتے ہیں۔اس لیے کیوں نہ اس ناتجربہ کار ٹیم (جس کے نا تجربہ کاری کا وہ خود اعتراف کرچکے ہیں)کی بنسبت کسی پختہ کار شخص کو ووٹ دیں۔نیازی صاحب کو شاید اندازہ نہیں کہ اس وقت غلطی کا اعتراف کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اب غلطی سے رجوع کرنے کا وقت بھی گزر چکا کیونکہ اگلے انتخاب بالکل ایک ہاتھ کی مسافت پر ہیں اور اتنے کم وقت میں وہ اپنی سوچ کی تبدیلی عوام کو کسی طور باور کرانے میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔اب بے شک وہ توبہ کی جتنی بھی کوشش کرلیں اس صورتحال میں لگتا ہے کہ عام انتخابات کا نتیجہ بھی کچھ مختلف نہیں ہوگا۔