تھوڑ پھوڑ - ریاض علی خٹک

علاقے میں کئی کئی دن پانی نہیں آتا تھا۔ کچرے کے انبار جمع ہوتے جا رہے تھے۔ گلیاں ٹوٹی ہوئی تھیں۔ سیوریج لائن بند تھی۔ پانی میں سے گزرنا روز کا امتحان تھا۔ بجلی کبھی کبھی آتی تھی. آخر کار صبر کا پیمانہ لبریز ہوا۔ علاقے کے بچے بڑے مرد و زن سڑک پر نکل آئے۔ سڑک بلاک کردی۔ پولیس آئی اور سامنے قطار بنا کر کھڑی ہوگئی۔

وہ اس سارے مسئلے میں تماشائی تھا۔ اپنے کام دھندے کی وجہ سے علاقے میں پسند نہیں کیا جاتا تھا۔ لفنگوں کی ٹولی اُس کے ساتھ رہتی۔ پولیس سے یاد اللہ چلتی رہتی تھی۔ جس وقت اہل علاقہ اور انتظامیہ مقابل ہوئے۔ تب اُس نے اپنی ٹولی کو اشارہ کیا۔ وہ نعرے بازی کرنے لگے۔ اہل علاقہ نے اُسے ممنون نظروں سے دیکھا۔ انتظامیہ نے مشکوک نظروں سے دیکھا۔ نعروں میں اہل علاقہ شامل ہوگئے۔

اُس نے جذباتی انداز میں بزرگوں سے کہا، جب تک تھوڑ پھوڑ نہیں ہوگی، مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ بزرگ ابھی لیکن لیکن ہی کر رہے تھے کہ اُس کے اشارے پر ٹولی نے تھوڑ پھوڑ اور پتھراؤ شروع کر دیا۔ ٹولی کو دیکھ کر علاقے کے جوان و بچے بھی شامل ہوگئے۔ انتظامیہ نے لاٹھی چارج شروع کردیا۔

ہر مسئلے کا ایک حل ہوتا ہے۔ یہ حل مذاکرات سے نکلتا ہے۔ اتنی تھوڑ پھوڑ کے بعد شریفوں کے محلے سے کوئی بزرگ مذاکرات کرنے کے لیے آگے نہ ہوسکا۔ آخر اُس نے اپنے آپ کو پیش کیا۔ پولیس والوں سے اُس نے مذاکرات کیے۔ ان مذاکرات پر اہل علاقہ کا کوئی گواہ نہ تھا، لیکن واپس آکر اس نے کہا سب کاموں کے وعدے ہوگئے۔ چلو اپنے گھروں کو واپس چلو۔

علاقہ آج بھی ویسا ہے۔ لیکن سُنا ہے وہ لیڈر بن گیا۔ پولیس اب اس کی عزت کرتی ہے۔ اس کی سفارش پر بغیر لائسنس موٹر سائیکل چلاتے بچوں کو چھوڑ دیتی ہے۔ لوگ بھی اس کی اب عزت کرتے ہیں۔ سب مانتے ہیں کہ یہ بڑا جی دار بندہ ہے، تھوڑ پھوڑ کرسکتا ہے۔

Comments

ریاض علی خٹک

ریاض علی خٹک

ریاض علی خٹک خیبر پختونخوا کے کوہساروں سے روزی روٹی کی مشقت پر سندھ کے میدانوں میں سرگرداں, تعلیم کیمسٹ کی ہے. تحریر دعوت ہے.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں