ستیوگ یا کلیوگ - روبینہ فیصل

"تم ستیوگ سے ہو؟ "میری ایک دوست نے انتہائی افسوس سے مجھے کہا۔

گاندھی جی، جسم کو صرف دھوتی سے لپیٹے، ستیہ گر کی تحریکیں چلاتے تھے، بہت پر چار کر تے تھے۔ سچ کی جیت تک روزہ، مرن بھرت، پرچار ہی پرچار… دوسری طرف محمد علی جناح، مغربی لباس زیب تن کیے ہو ئے، مجسم ِ سچ، جس کی سچائی کی تعریف، دشمن کی زبان پر بھی ہو ہم ایسے قائد کے متوالے بنتے ہیں مگر کیا ہم اس کے حق دار ہیں؟

آج کل سچ ہے کیا؟ "جھوٹ کو اتنی بار بولا جائے اور اتنی ڈھٹائی سے بولا جائے کہ وہ سچ لگنے لگ جائے۔ "

ایک عالم نے مجھے بتایا کہ: میری امی کہتی تھیں "جھوٹ پکڑا جائے تو صاف مکر جاؤ، کوئی تتے ( گرم ) توے پر بھی بٹھا دے تو پھر بھی نہ مانو۔ "

جس زمانے کی مائیں ایسی تربیت دینے لگ جائیں، اس زمانے کو گرہن لگنے سے کون بچا سکتا؟ اسی لیے آج کے دور کو سورج اور چاند، دونوں گرہن لگ گئے ہیں۔ مجھ پر تنقید کی جاتی ہے کہ میں جدید ٹیکنالوجی سے بیزار ہوں۔بیزاری مجھے ٹیکنالوجی سے نہیں، اس کے غلط استعمال سے ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے ٹیکنالوجی نے" جرم" اتناaccessible کر دیا ہے کہ غریب کی پہنچ میں بھی آگیا ہے۔ مثال کے طور پرپہلے لڑکیوں کو ہراساں کر نے کے لیے، لڑکوں کو سڑکوں پر نکلنا پڑ تا تھا، کچھ ہڈ پیر ہلانے پڑتے تھے، اب یہ کام سوشل میڈیا کے ذریعے گھر بیٹھے ہو رہا ہے۔

بہت سال پہلے ایک دفعہ لبرٹی کے قریب مجھے سلمیٰ آغا نظر آئی۔ اس کی گاڑی کے ساتھ کوئی موٹر سائیکل والا ٹکرا گیا۔ اس نے شیشہ نیچے کر کے لڑکے کو،ڈانٹا ہو گا یا معافی مانگی ہو گی کیونکہ اس کی آواز بہت مد ہم تھی، میں ٹھیک سے سن نہ پائی، مگر چہرے کے تاثرات میں ناگواری صاف پڑھی جا رہی تھی، مگر جو اس کے بعد اس لڑکے کی آوازیں کانوں میں پڑیں، وہ اتنی واضح اور غلیظ تھیں کہ میں صرف اتنا دیکھ پائی کہ سلمیٰ آغا کا منہ ندامت یا غصے سے لال سر خ ہو گیا اور اس لڑکے کا بار بار اس بات پر زور تھا کہ ان عورتوں کی تو کوئی عزت ہو تی نہیں ہے۔ یہ تو بے شرم فلموں میں کام کر نے والی عورتیں، اس لیے وہ ایسی ہی ننگی ننگی گالیوں کی مستحق ہیں۔

میں اس رات سو نہ سکی اور کھلی آنکھوں کے ساتھ بیٹھی ادھر اُدھر اپنا دھیان لگتی رہی کبھی کوئی کہانی کی کتاب پکڑ لوں تو کبھی کورس کی، کسی کتاب میں تو اتنا دم ہو کہ مجھے زندگی کے ان ناگوار ترین لمحات سے گزار سکے۔ مگر ہر حربہ ناکام ہوا کیونکہ نہ میرے کانوں سے وہ گندی گالیاں نکل رہی تھیں اور نہ سلمیٰ آغا کا بے بسی اور ندامت سے لبریز چہرہ اور سب سے بڑھ کر جب ان کی کار نکل گئی تو وہ لڑکا، سینہ پھلا کر بولا، " ہم کوئی کنجریوں سے ڈرتے ہیں؟ شریف خاندان کے ہیں اور ماں نے نہ کسی سے ڈرنا سکھایا، نہ جھوٹ بولنا۔ "

آج جب اسی قسم کی ماؤں کے تربیت یافتہ لڑکوں کو سوشل میڈیا پر اسی قسم کے ننگے سچ بولتے دیکھتی ہوں، تو ان کے خاندان کی شرافت اور ماؤں کی تربیت کے بارے ذہن پر زیادہ زور نہیں دینا پڑتا۔ جس شرافت اور غیرت کو ثابت کر نے کے لیے پہلے، ان شریف زادوں کو گلی محلوں میں ننگے سر والی، یا خود اعتمادی سے قدم اٹھاتی عورت ڈھونڈنا پڑتی تھی اور اس کو سبق سکھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔ اب وہی کام فیس بک،ٹوئٹر اور یوٹیوب پر ہو رہے ہیں۔ مجھ جیسے کمزور دل کے فیس بک اور ٹوئیٹر کے اکاؤنٹ بندبھی کر دیں تو پھر بھی دنیا کی گندگی کسی نہ کسی طرح اچھل اچھل کر سامنے آ ہی جاتی ہے جیسے کہ وٹس ایپ پر کوئی یو ٹیوب کا لنک آجاتا ہے۔ جس کے نیچے دیے گئے کومنٹس میں ماؤں کی ساری تربیت نظر آرہی ہو تی ہے۔ بڑے بڑے بگلا بھگت، جعلی آئی ڈیز کے ذریعے، اپنے حسب نسب کا انکشاف کرتے نظر آتے ہیں۔

اتفاق یا اختلاف کرنا، ہر جیتے جاگتے، سوچتے سمجھتے انسان کا بنیادی حق ہے، جو اسے جانوروں سے فرق کر تا ہے۔ مگر اختلاف کے نام پر گالیاں دینا، وہ بھی کسی عورت کو؟ انسان کو انسان نہیں جانوروں کی قطار میں لا کھڑا کرتا ہے۔ نفس کو قابو کرنا ہی تو انسان کو ممتاز کرتا ہے، جب وہی بے لگام ہو جائے تو گھوڑا بھی انسان سے بہتر ہو سکتا ہے۔ ہوس، صرف جسمانی ہی نہیں، آج کے دور میں یہ net basedہوگئی ہے۔ کسی سے محبت ہے تب بھی اور نفرت میں ہراساں کر نا ہے تو ایسے فقرے لکھو کہ لگے، زنا بالجبر ہی ہو گیا ہے۔ تسکین کا یہ جدید طریقہ، جدید ٹیکنالوجی کا مرہون ِ منت ہے۔

عاصمہ جہانگیر ( مرحومہ )، ان سے لاکھ اختلاف سہی، بھارت نواز ہی کیوں نہ ہوں، کیا آپ کا یہ حق بنتا ہے کہ آپ ان کو ننگی گالیاں لکھیں؟ اور وہ بھی جب وہ اس دنیا سے ہی چلی گئی ہیں؟

دو قریبی، بے تکلف دوست آپس میں دکھ سکھ کر رہے ہوں تو وہ کوئی بھی زبان استعمال کر لیتے ہیں۔ مگر جب آپ کسی کے بارے میں رائے عامہ کا حصہ بن رہے ہیں تو گندی بات لکھ کر کیا آپ اپنی نا مردانگی کا کھلم کھلا اعلان کر رہے ہیں یا آپ واقعی سمجھتے ہیں کہ اس طرح بات کر کے آپ دنیا کو اپنا نقطۂ نظر زیادہ اچھے طریقے سے سمجھا سکتے ہیں یا آپ اس عورت کو صرف ہراساں کر کے عورت ہونے کا احساس دلا کر گھر میں بند کر نا چاہتے ہیں۔ ہر چیز کو ریاست کنٹرول نہیں کر سکتی اور وہ بھی پاکستان جیسی کمزور ریاست، جس میں اخلاقیات یا سوک سینس کے نام پر الف ب پڑھانے کا بھی رواج نہیں۔ اس لیے ہمیں اچھی مائیں چاہئیں۔

عورت، عاصمہ جہانگیر جیسی مضبوط ہی کیوں نہ ہو وہ بھی لاکھ تاویلیں دے کے خود کو مطمئن کر تی ہو گی، مگر ماں کو دی گئی ننگی گالیاں کسی بھی ماں کا بچہ پڑھے تو وہ دن موت کا ہو تا ہے۔ ایسا ہی ایک دن عاصمہ جہانگیر کی زندگی میں بھی آگیا۔ اس دن ماں، پورے وجود پر چھا گئی ہو گی اور سوچ سوچ کے کانپتی ہو گی کہ مجھے دی گئی ننگی گالیاں میرے بیٹوں پر کیسا کرب بن کر ٹوٹتی ہوں گی؟

عورت کی آزادی کی بات کر نے والی اور بظاہر آزاد نظر آنے والی عورت کے پاؤں میں کیسی کیسی بیڑیاں ہیں؟ یہ صرف ایک ایسی عورت سمجھ سکتی ہے جو خود بھی با اعتماد بھی ہو، ذہین بھی ہو، اور حالات کا ڈٹ کر مقابلہ بھی کر نے والی بھی ہو… مگر ایک خاندان کا حصہ ہو تو جان سکتی ہے کہ اگر وہ ہار سکتی ہے تو کوئی بھی عورت ہار سکتی ہے۔ بچوں کی معصوم آنکھیں اور ان کے سامنے ماں کا وقار، اسے سلامت رکھنے کے لیے ایسے گند میں بہادر سے بہادر عورت بھی نروس بریک ڈاؤن کا شکا ر ہو سکتی ہے۔

ابھی میری بات سے لوگ متفق نہیں ہوں گے مگر ایک دن آئے گا کہ پہیہ الٹا چلے گا، اور لوگ کہیں گے کہ ہمیں ماؤں کی باہر سے زیادہ گھر وں میں ضرورت ہے، ایک آدھ صدی عورت گھر بیٹھ کر پو ری تو جہ بچوں کی تربیت پر لگا دے تو شاید آگے آنے والی کسی صدی میں، سڑکوں، گلیوں اور سوشل میڈیا پر عورت کو ننگی گالیاں دینے اور ہراساں کر نے والے مرد، متروک ہو ہی جائیں۔ مائیں بچوں کو سچ بولنے کی تربیت دیں توجعلی آئی ڈیز بنا کر گالیاں دینے والوں کو خود بخود موت آجائے گی۔

میری دوست کہتی ہے میرا تعلق ستیوگ سے ہے، جو صدیوں پہلے کا زمانہ تھا۔ یہ کلیوگ ہے، جہاں نہ سچ بچتا ہے نہ سچ بولنے والے۔ میں کہتی ہوں سب ماؤں کے ہاتھوں میں ہے۔ بچوں کو سچ بولنے کی تربیت دینا شروع کر یں، گندگی جو منا فقت کا دوسرا روپ ہے، زندگیوں سے نکل جائے گی تو یہی زمانہ اور یہی صدی ستیوگ ہو جائے گی اور میں یہاں alienنہیں ہوں گی اور لوگ حیرت سے سچ بولنے والوں کو میوزیم کا پتہ نہیں بتائیں گے۔