ترک تازیاں (4) - مفتی عبد الرحمٰن مدنی

پچھلی قسط

وہ شخص… ان کے بارے میں سنا بہت تھا لیکن دیکھا آج۔ جب استاد جی ترکی کے سرحدی شہروں میں شامی مہاجرین کے لیے کچھ کرنے کی لگن میں اکیلے خاک چھان رہے تھے تو ان کی ملاقات اس شخص سے ہوئی جو واحد پاکستانی تھا اور یہاں کام شروع کرچکا تھا۔ وہ تنہائی پر رنجیدہ مگر اپنے کام میں سنجیدہ تھا۔ عمل کے اس سانچے میں استاد جی کا جذبہ لہو بن کر دوڑا اور پھر پاکستانی قوم کو استاد جی اور ان کے شاگردوں کے سوشل میڈیا نیٹ ورک نے جگا کر شامی بھائیوں کی مدد کے راستے پر لگالیا اور بہت سے آئے اور چلے گئے لیکن یہ شخص جسے پاکستان میں بھی خدمت کا 14 سالہ تجربہ حاصل ہے، آگے بڑھتا چلا گیا اور آج وہ ترکوں، شامیوں اور پاکستانیوں کے درمیان ایسے پُل کا کام کررہا ہے جس نے ان تینوں ممالک کے لوگوں کو شیر و شکر کردیا ہے۔

مجھے آتا دیکھ کر استاد جی آگے بڑھے، میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور لے جاکر ان سے ملوایا۔ استاد جی چھوٹوں کا ایسا تعارف کراتے ہیں کہ مبالغہ آمیز تعریف کرکے الفت ومحبت کی زنجیر میں جکڑ کر جتلادیتے ہیں کہ ہماری تم سے توقعات کیا ہیں اور تم نے کتنا کام ابھی کرنا ہے؟ وہ شخص مڑا، محبت سے بغل گیر ہوگیا۔ وہ ایک جاذب نظر شخصیت ہے، قد وقامت قیامت سے کم نہیں، جوانی پھلانگ کر بھی بڑھاپے سے کوسوں دور، پختہ عمری مردانہ وجاہت کے حسین تخیل کا درنایاب، ایک متحرک شرافت، ایک متواضع شخصیت، زبان مشرقی، دل مسلمان اور دماغ خطرناک حد تک مشنری۔ استاد جی نے کہا تھا کہ ایک مشنری مسلمان پورے ملک پر بھاری ہوتا ہے اور ایک بے مقصد و بے سمت انسان بپھرے ہوئے سانڈ سے بھی زیادہ خطرناک اور نقصان دہ۔ وہ شخص خوش خرام بھی ہے اور صممام بھی۔ سامراج کا ذکر آئے تو سیف بے نیام بھی۔ جلوتوں کا شہسوار ہے لیکن کھلتا خلوتوں میں ہے۔ ہر باصلاحیت انسان کو دیکھ کر للچانے والے خبیب فاؤنڈیشن کے بانی چیئرمین ندیم احمد خان کی طبیعت قلندرانہ، مزاج سکندرانہ، زبان شاعرانہ و فلسفیانہ، بیان فقیہانہ ہے۔ کاہلی کا عذر تراشنے والوں کے منہ پر زناٹے دار تھپڑ۔ اردو لہجہ پہاڑوں کی طرف اٹھتا ہے۔ اسلامک یونیورسٹی سے شریعہ اینڈ لاء کرنے کے سبب عربی و انگریزی پر طبیعت رواں ہے۔ گفتگو میں ترجمانی پر آئیں تو متکلم کے کسیلے لفظوں کو شیرینی کا پہناوا اور چاندی کا لبادہ اوڑھادیتے ہیں۔ بالا بلند، سرخ وسفید رنگت، گول مٹول چہرہ، ذہانت سے چمکتی آنکھیں اور اس پر نفاست سے رکھی گئی عینک دو آتشہ، لباس نظافت کا شاہکار تو انداز نشست و برخاست تمدن و وضع داری کا آئینہ دار۔ ریشم کی چال چلتے اور حریر کے لہجے میں بولتے ہیں اور جب بولتے ہیں تو موتی رولتے ہیں۔ ان کی عمر جانچنے پر جائیں تو پہیلی، بات کرنے پر آئیں تو مٹیاروں کی سہیلی، چال میں گفتگو کی سی روانی اور طبیعت میں سیمابی ہے۔ سخاوت و فیاضی کا یہ عالم کہ خود کہیں بھی ہوں ان کے مہمانوں کی ہر جماعت کے خدمت گاروں کو مسلسل ہدایات آتی رہتی ہیں کہ فلاں فلاں جگہ کھانا کھلانے کے لیے جاؤ اور اس میں فلاں فلاں ڈشز بھی شامل ہوں۔ ان کا بس چلے تو سارے شامی مہاجرین کی کفالت کی ذمّہ داری خود اٹھالیں۔ ان کی مرنے کی حد تک خواہش ہے کہ میں یہاں خدمت میں لگا رہوں اور پوری پاکستانی قوم بس میری پشت پر کھڑی ہوجائے۔ فخر البلاد استنبول میں جب ہوتے ہیں تو نوشہ کی طرح رہتے ہیں۔ سرحدی علاقوں میں پہنچتے ہیں تو انتھک کارکن کا روپ دھار لیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   پاکستانی تارکین وطن کے مسائل - مفتی منیب الرحمن

گفتگو میں تقریر نہیں تدبیر ہے ، خوش مزاجی وبذلہ سنجی اس پر مستزاد ہے لیکن جب امت اور اس کے دشمنوں کی بات ہوتی ہے تو درد تصویر بن جاتے ہیں۔ یہ ان لوگوں میں ہیں جو فریڈم فلوٹیلا پر گولیوں کی برسات میں بھی اس کے عرشے پر ثابت قدم کھڑے تھے۔ ان کا بس چلے تو اپنی ان گنت پاؤڈر کاپیاں کروا کر ہر کلمہ گو مسلمانوں کی مدد کو پہنچ جائیں

اک چکر ہے مرے پاؤں میں، زنجیر نہیں

کے مصداق کبھی پاکستان تو کبھی ترکی، پاکستان کا کوئی شہر ان سے بچتا ہے، نہ ترکی کی کوئی جگہ ان نگاہوں سے اوجھل رہتی ہے۔ ان سے ہوسکے تو یہ استاد جی میں حلول سریانی کرجائیں۔ استاد جی کی بے قراری کا ٹھہراؤ ندیم احمد خان ہے اور ندیم احمد خان کی مچلتی آرزوؤں کا عملی جامہ استاد جی ہیں۔ استاد جی ہر اس جگہ جاکر کھڑے ہو جاتے ہیں جہاں انہیں امت کی نشاطِ ثانیہ اور کام کرنے والوں کے خلوص کی مہک آجائے۔ یہ دونوں قلندری و سکندری کی الٹی تصویریں ہیں جو آپس میں سیدھی جڑی ہوئی ہیں کہ استاد جی سکندر فقیر اور یہ فقیر منش سکندر ہیں۔ تعریف اللہ اور نبی کی ہی زیبا ہے بندے مٹی ہیں اور خاک سب کا مقدر… لیکن کچھ خاکی سونا ہوتے ہیں کھرا سونا، جو اپنے لیے نہیں امت کے لیے جیتے ہیں۔ جن کا اپنا دکھ، نہ اپنی خوشی، ان کا دکھ درد اور اوڑھنا بچھونا سب امت…، آنکھوں میں اسلام کی نشاطِ ثانیہ کے خواب، مچلتا دل، بے قرار طبیعتیں۔ استاد جی نے اس سفر میں سلطنت عشق کے موحد کو مشرک بنادیا۔ آج عشق تقسیم اور پھر تقسیم در تقسیم کے عمل سے گزرتا چلا گیا کیونکہ ابھی آئی ایچ ایچ کے دکتور حسین اور بلندیلدرم سے بھی ملنا تھا اور عرفانلی کے اراحان سے بھی، کوئی ان سب سے ملے اور عشق نہ کر بیٹھے؟ ایسا ہو نہیں سکتا۔

یہ بھی پڑھیں:   شامی خانہ جنگی میں عالمی طاقتوں کے مفادات اور ترکی کا مسیحانہ کردار - محمد ایاز

جاری ہے