منظور پشتین، ایک ٹیسٹ کیس - فیض اللہ خان

بلوچ پشتون قبائل اور مہاجروں کا مقدمہ دراصل اسلامی تحریک نے لڑنا تھا لیکن شام فلسطین اور کشمیر میں یوں الجھے کہ اپنے وطن کے مظلوموں کو فراموش کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان تمام معاملات کو وہی چلارہے ہیں جو قوم پرست یا نسلی لسانی سیاست کرتے ہیں۔ وزیرستان کے باسیوں پہ حالیہ قیامت ٹوٹنے کا آغاز تب ہوا جب انہوں نے نائن الیون کے بعد عرب، چیچن اور افغان طالبان کو پناہ دی، ان کے انصار بنے اور انہیں مہاجر قرار دیا پاکستان میں اس جہادی لہر کی ابتداء ہمارے اداروں نے کی جسے مذہبی جماعتوں نے افرادی قوت فراہم کی اور سادہ و مذہب پسند پشتون اس کا ہر اول دستہ بنے۔ نائن الیون کے بعد ریاست نے تو یوٹرن لے لیا مگر قبائلی جہادی وہیں کھڑے رہے جس نتیجے میں آپریشن ڈرون دربدری ان کا مقدر بنی۔

پاکستان کی مذہبی قیادت نے گزشتہ دنوں پیغام پاکستان جاری کرکے اپنے ہاتھ جھاڑ لیے اور ریاست کے چہیتے بنکر مزے لوٹنے لگے۔ اس دوران قبائل پہ ایک کے بعد ایک بحران آتا رہا۔ گمشدگیاں، جعلی مقابلے، آپریشنز ہوتے رہے لیکن تسلیم کرلیجیے کہ مذہبی قیادت ٹوکن احتجاج سے بڑھ کر کچھ کرنے کو تیار نہیں تھی۔ اس صورتحال میں قبائلی نوجوان خود اٹھے اور منظور پشتین جیسے جواں فکر لوگوں نے 2015ء سے اپنے مسائل پہ بات کرنا شروع کی وہی حالیہ احتجاج کے مرکزی محرک بھی تھے۔

منظور پشتین بہت دلچسپ کیس ہے وہ اور ان کے ساتھی اعتماد اور دلائل سے بات کرتے ہیں، وہ سادہ مزاج ہیں۔ کراچی تا وزیرستان عام بسوں میں تکلیف دہ سفر کرتے ہیں، ان کی گفتگو قوم کے غم سے لبریز ہے، وہ محبت کا پیغام دیتے ہیں، پاکستانی اداروں کے سامنے اپنا مقدمہ دلیل اور حقائق کی بنیاد پہ پیش کر رہے ہیں۔ پاکستانی قوم پرست جماعتیں عرصہ ہوا چھوٹے حقیر سے مفادات پہ اپنا سودا کرچکی ہیں۔ آپ کو شاید یقین نہ آئے کہ کراچی میں عوامی نیشنل پارٹی کے عہدیداران نقیب اللہ سے قبل کسی پشتون کے جعلی مقابلے میں قتل یا گمشدگی پہ بات کرنا بھی جرم سمجھتے ان کے خیال میں جو ہورہا تھا، اس کے قبائل خود ہی ذمہ دار تھے۔ ایسی صورتحال میں منظور پشتین جیسے لوگ الگ طرح کی قیادت ہے انہوں نے اس خلاء کو پر کیا جسے مذہبی قیادت نے چھوڑ دیا تھا بلاشبہ منظور پشتین فی الحال پشتون نوجوانوں کا مقبول رہنماء بنتا جارہا ہے۔

گزشتہ دنوں منظور کی وزیراعظم اور ڈی جی آئی ایس پی آر وغیرہ سے ملاقات کی۔ اس بابت تفصیلی ویڈیو سامنے آئی جس میں سادہ مزاج منظور نے اپنے احتجاج کے پس منظر، پیش منظر اور ان ملاقاتوں کی روداد بیان کی۔ منظور کے مطابق جب اس نے اپنے وفد کے ہمراہ وزیر اعظم پاکستان کو قبائل کے مسائل سے آگاہ کیا تو ملاقات کے اختتام پہ شاہد خاقان عباسی کی آنکھوں میں اشکوں کے سوا کچھ نہ تھا۔ منظور کے مطابق ان کے مطالبات میں لاپتہ قبائلیوں کی بازیابی راؤ انوار کی گرفتاری اور کسی بم دھماکے کے بعد قبائلی علاقے میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مقامی افراد کے کے ساتھ تضحیک آمیز سلوک کا خاتمہ تھا۔ بعد ازاں جب یہی ملاقات ڈی جی آئی ایس پی آر سے ہوئی تو انہوں نے اسی وقت متعلقہ اعلیٰ افسران سے فون پہ بات کی، ان کی ملاقاتیں طے کرائیں اور بتایا کہ پاک فوج کے قوانین کے مطابق بم دھماکوں کے بعد مقامی افراد کے ساتھ ناروا سلوک نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح چیک پوسٹس اور وطن کارڈز کے معاملات بھی جلد حل کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی۔

جو کام بڑے بڑے ناموں کے کرنے کے تھے اسے ایک معمولی پس منظر کے طالب علم نے کر دکھایا۔ منظور کے پاس سیاسی خاندان ہے، نہ سرمایہ لیکن یقین، عزم، استقلال اور اپنی قوم سے محبت نے اسے غیر معمولی بنادیا۔ منظور کی ایک خاص بات یہ ہے کہ وہ بند کمروں کے مذاکرات سے پوری قوم کو آگاہ کرتا ہے بلکہ مشوروں کا احترام اور اختلاف رائے کو اہمیت دیتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ دن بدن مقبولیت کی منزلیں طے کرتا جارہا ہے۔

منظور پشتین ایک ٹیسٹ کیس ہے کہ قوم صرف سرمایہ دار اور طاقتور کو ہی اپنی قیادت کے لیے نہیں چنتی بلکہ ان کے حقیقی مسائل پہ بات کرنے والا خود بخود اپنی جگہ بنالیتا ہے۔

Comments

فیض اللہ خان

فیض اللہ خان

فیض اللہ خان 11 برس سے رپورٹنگ کر رہے ہیں۔ طالبان سے متعلق اسٹوری کے دوران افغانستان میں قید رہے، رہائی کے بعد ڈیورنڈ لائن کا قیدی نامی کتاب لکھی جسے کافی پذیرائی ملی۔ اے آر وائی نیوز کے لیے سیاسی، سماجی، عدالتی اور دہشت گردی سے متعلق امور پر کام کرتے ہیں۔ دلیل کے ساتھ پہلے دن سے وابستہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.