ہنر مند کبھی بھوکا نہیں مرتا - طاہرہ عالم

پاکستان میں بڑی تعداد میں ہنر مند لوگ موجود ہیں لیکن دن بدن اب لوگوں کا ذہن تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔ اب جو نئی نسل آ رہی ہے اُسے ہنر نامی لفظ سے ہی چڑ ہے۔ اس نئی نسل کو نہ تو پڑھائی میں غرض ہے اور نہ ہی اسے کوئی ہنر سیکھنے میں دلچسپی باقی بچی ہے۔ موبائل فون کی عادی اس جنر یشن کو کسی طر ح تعلیم یا پھر ہنر کی جا نب توجہ مبذول کرائے جانے کی ضرورت ہے۔ ہما رے یہاں تعلیمی معیار اتنا بدترین ہے کہ اگر آپ میٹرک کے اسٹوڈنٹس سے کہیں کہ ایک درخواست لکھ کر دے تو اس کے پاس آئیں بائیں شائیں کے سوا کوئی جواب نہیں ہوتا۔ کیونکہ انہوں نے تعلیم پر درست توجہ دینے کی کو شش ہی نہیں کی، جس عمر میں بچو ں کو تعلیم اور کتابوں پر توجہ کی ضرورت ہوتی ہے ان دنوں ہمارے بچے موبائل اور فیس بک پر مشغول ہوتے ہیں۔

یہ وبا تقریباً ہر گھر میں موجود نوجوان نسل کو تقریباً تباہ کرچکی ہے۔ نقل کے ذریعے میٹرک پاس کرنے کے بعد جب یہ نوجوان نسل آگے داخلہ لیتی ہے، تو پھر انہیں تارے نظر آنے لگتے ہیں۔ میٹرک کے دو سال ضائع کرنے کے بعد انہیں احساس ہوتا ہے کے انٹر کرنا میرے بس میں نہیں۔ پھر ایک بڑی تعداد فیل ہوجاتی ہے اور آخر میں تھک ہا ر کر اپنے والدین کا لاکھوں روپیہ برباد کرنے کے بعد یا تو برگر کا ٹھیلہ لگا لیتے ہیں یا پھر کوئی رکشہ چلانے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ لیکن اس صورتحال سے واقفیت کے باوجود ہنر سیکھنے کو لوگ اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ ہمارے ہاں والدین بھی اولاد کو ہنر سکھانے کو ترجیح نہیں د یتے کیونکہ ہمارے معاشرے میں ہنرمند انسان کو عزت نہیں دی جاتی۔

اس ذہنیت کو کیسے تبدیل کیا جائے؟ ہنرمند افراد کسی بھی ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر نے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ چین کا ہر گاؤں اپنے ہنر مندی کی وجہ سے اپنی مثال آپ ہے۔ ہما رے ہاں بہت سے ادارے ایسے ہیں جو نوجوانوں کو ہنرمند بنا نے میں کوشاں ہیں۔ لڑکیوں کے لیے میمن فاؤنڈیشن میں بہت ہی کم فیس میں ہنر سکھانے کے لیے مختلف کورس جاری ہیں۔ ان کورسز میں سر فہرست بیوٹی پارلر کا کورس ہے جِسے سیکھ کر آسانی سے لڑکیاں اپنے ماں باپ کا بوجھ کم کر سکتی ہیں۔ یہاں میں یہ ضرور کہنا چاہوں گی کہ ہر بچہ علامہ نہیں ہوتا ہے اور اسی طرح ہر بچہ پوزیشن ہولڈر نہیں ہو سکتا۔ ذہانت کے لحاظ سے ہر بچہ مختلف مقام رکھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   جدید اسکولنگ سسٹم - جہانزیب راضی

اس لیے ہر بچہ .M.B.A نہیں کر سکتا اگر آپ کا بچہ پڑھائی پر توجہ نہیں دے پارہا ہے تو والدین سے گزارش کرنا چاہوں گی کہ اس سے زبردستی نہ کریں۔ بلکہ اس کی مرضی جانتے ہوئے کسی ایسے کام کی طرف مصروف کردیں جہاں بچے کا اپنا شوق بھی موجود ہو اس طرح والدین نہ صرف اپنے بچے کا مستقبل بہتر کریں گے بلکہ اسے معاشرے کا ایک زمہ دار شہری بنانے میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔ ہمارے یہاں پاکستان میں ہنر سکھا نے والے ادارے بھی آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ لڑکوں کو ہنر سکھانے کے لیے امن ٹیک اس لحاظ سے ایک بہترین ادارہ ہے جو کہ ایسے ہی میٹرک یا پھر انٹر پاس نوجوانوں کو بہتر مستقبل کی ضمانت دے رہا ہے۔ یہاں پاکستان کے مختلف صوبوں سے آنے والے اسٹوڈنٹس کی رہائش کے لیے ہوسٹل کا بھی عمدہ انتظام ہے، تاکہ اسٹوڈنٹس کسی بھی قسم کی پریشانی سے دوچار نہ ہوں۔

حکومت کو چاہیے کہ اس طرح کے مزید ادارے قائم کرے یا پھر پہلے سے قائم شدہ اداروں کی حتی الامکان مدد کرے تاکہ وہ بچے جو کہ اچھے نمبر سے پاس نہیں ہو پاتے بجائے مایوس ہونے کے وہاں ایڈمیشن لے کر اپنا مستقبل بہتر کر سکیں۔ ہم خود بھی ہنر کو شاید اچھا نہیں سمجھتے گو کہ بیرون ملک ہنر مند لوگوں کی ڈیمانڈ اپنے و طن سے کہیں زیادہ ہے۔ 80 کی دہائی میں پھر بھی ہنر مند لوگ نظر آ رہے ہوتے تھے۔ بہت سے لوگوں نے گھروں میں کھڈی کا کام شروع کر رکھا تھا اب وہ تمام لوگ کہیں چھپ سے گئے ہیں۔

اسی طرح سندھی کڑھائی اپنی مثال آپ ہے۔ گھروں میں خواتین بہت ہی سستے داموں کڑھائی کرتی ہیں اور برانڈ کے نام سے یہ بیرون ملک بہت مہنگے داموں بکتا ہے۔ مٹی کے برتن پر نقش و نگار کرنے والوں کو بہت ہی معمولی اجرت دی جا تی ہے لیکن جب یہی گلدان کسی مال میں رکھے جاتے ہیں تو ان کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرتی ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ کب تک امیر ہی امیر ترین بنتا رہے گا؟ہمارا میڈیا ناچ گانے کے مارننگ شو کرنے کے بجائے نوجوان نسل کے سدھار اور ان کے مستقبل کو سنوارنے کے لیے کوئی پروگرام کرے۔ طلبا کو ہنرمند بنانے کے لیے والدین، معاشرہ، میڈیا اور استاد مل کر بچو ں کو ایک بہترین راہ دے سکتے ہیں۔

ٹیگز