ڈاکٹر بننا جرم ہے - شہزادہ احمد

ڈاکٹر بننے کا خواب کسی کا بھی نہیں ہوتا۔ بچوں کی اتنی وسیع سوچ نہیں ہوتی کہ چھوٹی عمر میں ہی اپنے مستقبل کا تعین کر لیں۔ انہیں تو ماں باپ سکول بھیجتے ہیں، وہ سکول جاتے ہیں اور واپس گھر آتے ہیں۔ گھر میں سکول کا کام کرتے ہیں۔ سکول میں ان کا دماغ گھر کی باتوں میں گھوم رہا ہوتا ہے۔ بچوں سے جب استاد پوچھتے ہیں، بڑا ہو کر کیا بننا ہے تو جواب میں بہت کم بچے بولتے ہیں، ڈاکٹر بننا ہے۔ دراصل بچہ اپنے بچپنے میں جوانی سے زیادہ سمجھ دار ہوتا ہے اور جوان ہو کر سمجھ داری جانے رکھ آتا ہے۔

ہماریں تعلیمی نصاب میں جہاں پلیجرزم( plagiarism) کوٹ کوٹ کے بھرا ہوا ہے وہیں ہمارا تعلیمی نصاب ہمارے بچوں کے سوچنے کی صلاحیت کو بھاری بھرکم تالے بھی لگاتا ہے۔ ہمارے معاشرے نے بچوں کو امتحانات میں نمبر لینے کی دوڑ میں ڈال دیا ہے۔ بچہ سارا سال پڑھتا ہے اور نمبر لیتا ہے۔ اچھے نمبروں کے بل بوتے پر اچھے کالج میں داخلہ مل جاتا ہے۔ اچھے مستقبل کی دوڑ میں بچہ اپنی صحت جیسی نعمت داؤ پہ لگا لیتا ہے۔ یہ وہ اسٹیج ہوتا ہے جب اسٹوڈنٹ میڈیکل اور انجینئرنگ کا تعین کرتا ہے۔ یہی وہ جگہ ہوتی ہے جب بچہ تباہی کی طرف جاتا ہے۔

انجینیئرنگ کو ایک طرف رکھ لیں۔ میں میڈیکل کالج کا سٹوڈنٹ ہوں اس لیے میڈیکل کی بات کرتا ہوں۔ آپ نے بھوت بنگلہ کا نام تو سنا ہوگا۔ باہر سے جتنا تفریح آمیز والا لگتا ہے اندر سے اتنا ہی ڈراؤنا ہوتا ہے۔ بس یوں ہی سمجھ لیں میڈیکل کالج بھی بھوت بنگلے کا دوسرا نام ہے، بلکہ کچھ درجہ آگے ہے۔ چلو میڈیکل کالج اور وہاں بسنے والے بیوقوفوں کی تشریح کرتے ہیں۔

انسانیت کی خدمت کے جذبے کو تو سب سے پہلے کچرے کے ڈبے میں ڈال دیں۔ یہ اکیسویں صدی کا سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ ہر بندہ صرف اور صرف بہتر مستقبل کے لیے ڈاکٹر بنتا ہے۔ بہتر مستقبل تو ملتا ہی ہے مگر اس سے پہلے جس گھناؤنے کھیل کا حصہ بنتا ہے اس کا بہت کم لوگوں کو علم ہے۔ پانچ سالوں کا نصاب ہمیں چھ سالوں میں پڑھایا جاتا ہے۔ ہر سال ایک بار مینٹل ٹارچر کا شکار بننا پڑتا ہے۔ چلو پانچ سالوں بعد اس کا صلہ مل جانا ہے اس لیے ٹارچر قبول کرتے ہیں۔ گھر میں شادی ہو یا اور کوئی خوشی کا موقع، میڈیکل والے اس خوشی کا حصہ نہیں بن سکتے۔ آپ کے گھر والے ٹوور پہ جا رہے ہیں آپ کا "سٹیج" ہے آپ نہیں جا سکتے۔

یہ بھی پڑھیں:   تعلیم سے تعلق - جہانزیب راضی

ایف سی پی ایس دو مختلف حصوں میں ہوتا ہے۔ پارٹ 1 کے لیے دن رات محنت کرنی پڑتی ہے۔ راتوں کو جاگ کر کتابوں کو پڑنا ہے اور صبح سویرے وارڈ میں جانا ہے۔ بچپن میں چور سپاہی کا جو کھیل کھیلتے تھے وہ تو ٹریلر تھا۔ اصل کھیل تو وارڈ میں کھیلا جاتا ہے۔ جہاں چور بھی ڈاکٹر ہے اور وزیر بھی ڈاکٹر ہے۔ بادشاہ بھی مریض ہے اور سپاہی مریض کے ساتھ آنے والے لوگ جنہیں میڈیکل کی بکواس ڈکشنری میں اٹینڈینٹ کہا جاتا ہے۔ جس کا کردار کبھی علاقہ کا ایم پی اے نبھاتا ہے، کبھی ایم این اے تو کبھی ناظم۔

اوپر ڈاکٹر بننے تک جن مشکلات کا ذکر کیا ہے وہ دراصل آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔ مگر پھر بھی کبھی ایم پی اے تو کبھی ایم این اے اور کبھی ناظم دس دس سال پڑھنے والے ڈاکٹر کو گریبان سے پکڑ کر گھسیٹتے ہیں۔ مرے ہوئے کو زندہ نا کرو تو سپاہی الگ سے درگت بناتے ہیں۔

تین پہلے مردان میں پوسٹ مارٹم کو appendectomy کا نام دیا گیا۔ ضلع ناظم وہاں اپنی سیاست چمکانے پہنچ گئے۔ آج پھر مردے کو زندہ کرنے کے لیے ہسپتال لایا گیا۔ ایک بار پھر چور سپاہی کا کھیل کھیلا گیا۔ دیکھنا یہ ہے کہ ہمارے سینئر کس حد تک انصاف پاتے ہیں؟

اتنے سارے وقعات ہونے کے باوجود ڈاکٹری کمیونٹی آج تک اپنے تحفط کے لیے کوئی قانون سازی نہیں کراسکی۔ جس کا دل کرے ہسپتالوں میں گھس جاتا ہے اور من مانی کرتا ہے۔

ایسی تعلیم، ایسا معاشرہ، ایسا قانون ساز نمائندہ، ایسا ہسپتال، ایسی ڈاکٹری تمہیں مبارک۔ ہمیں بے روزگار ہی رہنے دو!