گریڈز بمقابلہ اقدار - نیر کاشف

طلبا کی کاپیاں چیک کرتے ہوئے جب میں نےاس کی کاپی کھولی تو پہلا جواب پڑھتے ہی ذہن کچھ منتشر سا ہو گیا۔وہ ایک ذہین بچی ہے، تحریری اظہار میں ماہر لیکن یہ جواب،یہ جواب تو اس کی اپنی کاوش ہے ہی نہیں۔ہو بہو کتاب کے جملے، ایک ایک لفظ وہیں سے گویا دیکھ کر لکھا گیا ہو۔میں نے حیران ہوتے ہوئے کاپی پر دوبارہ نام دیکھا، شاید مجھے مغالطہ ہوا ہو، اسے کیا ضرورت ہے اس حرکت کی، ایک ذہین اور لائق طالبہ، حاضر جواب،باصلاحیت لیکن یہ حرکت،جواب دینے کے لیے کچھ دیر بعد وہ میرے سامنے بیٹھی تھی۔سر جھکائے، ہاتھوں کی انگلیاں مڑوڑتے، شرمندگی اس کے چہرے پہ جیسے رقم تھی۔

جی مس میں نے کتاب سے دیکھ کر لکھا ہے، اسنیک ٹائم کے دوران۔ لیکن کیوں؟ میں اس کا نام لیتے ہوئے اپنے لہجے کی بے تابی کو چاہ کر بھی نہ چھپا پائی تھی۔ مس وہ میری ماما بہت ناراض ہوتی ہیں کم نمبر آنے پہ، بہت ڈانٹ پڑتی ہے مجھے، اس نے بے چارگی سے جواب دیا۔پچھلی جانچ میں بھی کم نمبر آنے پہ وہ سخت ناراض ہوئی تھیں۔ میں نے فہرست میں جا کر پچھلی جانچ میں اس کے نمبر دیکھے، بیس میں سے ساڑھے سترہ، اس پہ بھی ڈانٹ پڑی تھی آپ کو؟ میں نے بے یقینی سے سوال کیا۔جی مس بہت زیادہ، بہت زیادہ ڈانٹ پڑی تھی، وہ رو دینے کو تھی۔ میری ماما چاہتی ہیں کہ اگر بیس نمبر کی جانچ ہو تو انیس نمبر تو ضرور آئیں، ورنہ وہ بہت ناراض ہوتی ہیں۔

اچھا یہ بتائیں کہ ماما کی ڈانٹ ناقابل برداشت ہے یا اللہ تعالیٰ کی ناراضگی؟ میں نے نرمی سے سوال کیا، مس بے شک اللہ کی ناراضگی، اس نے سر مزید جھکاتے ہوئے جواب دیا۔ آئندہ نہیں ہو گا مس، وہ واقعی ایک ذہین اور سمجھدار بچی ہے۔ یہ میری پیشہ ورانہ زندگی کا پہلا ایسا واقعہ نہیں ہے، ایسے کئی واقعات ہیں جن میں طلبا اپنے والدین کی مرضی کے مطابق نمبر لانے کے لیے اخلاقیات کی حدود سے مبرا ہوکر کچھ بھی کرنے کو تیار ہوتے ہیں۔ میں نے اپنے اردگرد ایسی مائیں بھی دیکھی ہیں جنہوں نے ہر رزلٹ کے دن گھر آنے پر اپنے بچوں کا ہینگر اور بیلٹ سے استقبال کیا ہے۔ فیل ہونے پر نہیں بلکہ امیدوں سے کم نمبر لانے پر۔ ایسے میں بچے اپنے والدین کو خوش کرنے اور ان کی خواہش کے مطابق نمبر لانے کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہوتے ہیں، جھوٹ بولنا، نقل کرنا، ماں باپ سے حتی الامکان باتیں چھپانا، دھوکہ دینا غرض یہ کہ شخصیت سازی کی دشمن یہ تمام عادات بچوں میں ان کے والدین کی بے جا توقعات کی بدولت پنپنا شروع ہو جاتی ہیں۔ والدین کے لیے اپنی کامیابی اور بچے کے بہتر مستقبل کو ناپنے کا واحد پیمانہ کاغذ کے ٹکڑے پہ درج بے جان نمبر اور گریڈ ہی رہ جاتے ہیں۔ جن کو بچہ جانے کتنی اخلاقی اقدار کے عوض حاصل کرتا ہے، تمہارے نمبر ساڑھے اٹھارہ کیسے آئے جب کہ فلاں بچے کے نمبر انیس آئے؟ تمہارے نمبر تو اتنے آئے، فلاں، فلاں اور فلاں کے کتنے آئے؟ ہم اس طرح کا غیر صحت مند مقابلہ کرتے ہوئے بچوں کے اندر، حسد، جلن، بے جا مقابلے جیسے کتنے منفی جذبات پروان چڑھا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے نقصانات؟ - محمد عاصم حفیظ

یہ مادیت پرستی کا شاخسانہ ہے کہ ہم اپنے بچے کو اس معاشرے کا ایک "کامیاب" شہری تو دیکھنا چاہتے ہیں لیکن ایک موثر اور با کردار شخص کے طور پہ ہم اس کے لیے کوئی خواب نہیں بنتے، اچھے نمبر،اچھے گریڈ،اچھے تعلیمی اداروں میں داخلے، اچھی نوکریاں، اچھی تنخواہیں، بڑا گھر،بڑی گاڑی، معاشرے میں اونچا مقام، یہ ہمارے طے کردہ کامیابی کے معیارات ہیں۔اور بس انہی کے حصول کے لیے مطلوبہ خصوصیات ہم اپنے بچوں کے اندر پروان چڑھاتے ہیں۔رہ گئیں اخلاقی اقدار تو ان کی آج کے زمانے میں حیثیت ہی کیا ہے بھلا؟

لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم معاشرے کو کیسا فرد اور فرد کو کیسا معاشرہ مہیا کر رہے ہیں؟ ایک بہتر معاشرے کی تشکیل میں بحیثیت والدین ہم کیا کردار ادا کر رہے ہیں؟ضرورت اس بات کی ہے اپنے بچوں کے لیے طے کردہ اہداف کا از سر نو جائزہ لیا جائے۔ یہ بھی طے کیا جائے کہ ان اہداف کے حصول کے لیے کن اخلاقی اقدار سے مزین ہونا اہم ہے، اور یہ یاد رکھنا بھی اہم ہے کہ کوئی گریڈ اور کوئی پوزیشن ہمارے بچوں کی اخلاقی تربیت سے بڑھ کر اہم نہیں ہیں۔