دیوانی سو لفظوں کی کہانی- مبشر علی زیدی

بستی میں ایک دیوانی عورت رہتی تھی۔
وہ بچوں کو کچھ نہ کہتی،
لیکن بڑے اس سے ڈرتے تھے۔
وہ راہ چلتے کسی کو بھی ڈانٹ دیتی،
پتھر اچھال دیتی۔
تھانے دار، نمبر دار، تحصیل دار،
سب اسے دیکھ کر راستہ بدل دیتے تھے۔
وہ پنچایت کو بھی نہیں بخشتی تھی۔
کل ایک فیصلہ حسب دستور چوہدری کے حق میں کیا گیا۔
پھر چوپال میں خاموشی چھا گئی۔
کچھ دیر بعد سرپنچ بڑبڑایا،
’’آج اس دیوانی نے ہم پر پتھر نہیں پھینکا۔‘‘
کسی نے آگاہ کیا،
’’جناب والا!
غلط فیصلوں پر پتھر مارنے والی دیوانی کا انتقال ہو گیا ہے۔‘‘