سی پیک کا سفیر چل بسا! (1979ء-2017ء) حافظ محمد ادریس

20 دسمبر2017ء کو UMT کے نوعمر پروفیسر ڈاکٹر ہارون رشید خاں دنیا سے رخصت ہوگئے۔ مرحوم نے چین سے پی ایچ ڈی کی تھی اور سی پیک کے بہت بڑے سفیر کے طور پر معروف تھے۔ مرحوم کے والد رشید احمد خان ایڈووکیٹ ڈیرہ غازی خان کی معروف شخصیت ہیں۔ 1986ء میں پہلی بار رشید خان صاحب کے گھر چائے پینے کا اتفاق ہوا تو ان کے آنگن میں ایک خوبصورت کلی اور ایک دل ربا پھول دیکھ کر بڑی خوشی ہوئی۔

رشید خان صاحب کے دو بچے تھے، ایک بیٹا ہارون جس کی عمر اس وقت چھ سات سال تھی اور ایک بیٹی جویریہ‘ جو اپنے بھائی سے دو سال چھوٹی تھی۔ دونوں بہن بھائی سکول جاتے تھے۔ ان کے والد جناب رشید احمد خان وکیل تھے اور والدہ ڈپٹی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر تھیں۔ گھر کا ماحول بہت صاف ستھرا تھا۔ بعد میں تو خان صاحب کے گھر کئی مرتبہ قیام رہا اور دونوں میاں بیوی نے اس قدر آرام فراہم کیا جس سے کبھی احساس ہی نہیں ہوا کہ سفر میں ہوں۔

جس زمانے میں خان صاحب جماعت اسلامی کے ضلعی ذمہ دار تھے، ان کے ساتھ ضلع ڈیرہ اور دیگر ملحقہ اضلاع کے مختلف مقامات پر جانے کا اتفاق ہوتا رہا۔ کئی مقامات پر تقریر کے جرم میں مقدمات درج ہوتے رہے۔ ایسے ہر موقع پر ڈاکٹر نذیر احمد شہید کی معطر یادیں تازہ ہو جاتی تھیں۔ خان صاحب سے ہر ملاقات میں دلچسپ تبادلۂ خیالات جاری رہتا۔ نہیں معلوم کہ کتنی مرتبہ اس گھر میں آنا جانا ہوا مگر وہ حسین یادیں اب بھی دل میں موجزن ہیں۔ ہارون رشید کی بچپن کی تصویر ذہن میں آتی ہے تو ایک عجیب سماں بندھ جاتا ہے۔ وہ بچپن ہی سے نہایت مؤدب، سنجیدہ اور خوش گفتار تھا۔ پھر جوں جوں وہ بڑا ہوتا گیا اور تعلیمی مدارج کامیابی سے طے کرتا گیا تو ہر ملاقات میں اس کا وہ بچپن کا دور آنکھوں کے سامنے گھوم جاتا۔

ہارون کو ایف ایس سی میں شاندار کامیابی ملی اور راولپنڈی کے ایک میڈیکل کالج میں داخلہ مل گیا۔ والدین کا خیال تھا کہ ان کا بیٹا میڈیکل ڈاکٹر بنے گا مگر اللہ کو جو منظور ہو‘ وہی ہوتا ہے۔ اکلوتا بیٹا اور سارے خاندان میں ہر چچا، پھوپھی، خالہ اور ماموں کا چہیتا ہونے کی وجہ سے اسے گھر کے ماحول میں جو پیار ملتا تھا، گھر سے دور اس کی کمی اسے شدت سے محسوس ہوئی؛ چنانچہ دوماہ کالج میں پڑھنے کے بعد مصمّم ارادہ کرلیا کہ والدین سے اتنا دور نہیں رہے گا۔

جب اپنے والدین کو اس ارادے سے مطلع کیا تو رشید خان صاحب کے بقول انھوں نے پیار سے سمجھایا ''بیٹا! اگر آپ ڈاکٹر نہیں بنو گے تو ملک و قوم کی خدمت کیسے کر سکو گے؟‘‘ جواب میں بڑے اعتماد کے ساتھ کہنے لگا: ابو! ان شاء اللہ میں ڈاکٹر بھی بنوں گا اور ملک وقوم کی خدمت کا حق بھی ادا کروں گا۔ میں نے کہا: اب کیا ارادہ ہے؟ تو جواب میں کہا کہ اب میں لاہور جا کر کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز کروں گا۔ میں نے کہا: لاہور میں گھر سے اداسی محسوس نہیں کرو گے؟ تو جواب میں کہا کہ لاہور راولپنڈی کی نسبت قریب ہے، نیز لاہور میں منصورہ بھی ہے، جو ہمارا روحانی گھر ہے۔ اس کے علاوہ لاہور میں میرا جگری یار شفیع میرے ساتھ ہو گا۔

شفیع الرحمن ہارون کا بچپن سے گہرا دوست تھا۔

نرسری سے لے کر ایف ایس سی تک ہر مرحلے پر دونوں ایک دوسرے کے ہم جماعت رہے۔ دونوں کی دوستی سگے بھائیوں سے بھی گہری تھی۔ اسی وجہ سے ہارون نے میڈیکل کی تعلیم چھوڑ کر اپنے لیے نیا میدان عمل چنا اور اللہ کا شکر ہے کہ اس میں اسے شاندار کامیابیاں ملتی چلی گئیں۔ جب کمپیوٹر سائنس میں ایم ایس سی کر لی تو ڈیرہ غازی خان میں ایک نیم سرکاری کالج میں لیکچرر کی اسامی پر تقرر کے لیے درخواست دی۔ انٹرویو ہوا تو تمام امیدواروں میں اس کی پہلی پوزیشن تھی، مگر تقرر اس کی بجائے ایک اور امیدوار کا ہو گیا۔ یہ تقرر نہ ہونا بھی اللہ کی خاص مصلحت تھی۔ ہارون کے تقرر میں رکاوٹ یہ تھی کہ وہ جماعت اسلامی کے ضلعی امیر کا بیٹا تھا۔ رشید احمد خان صاحب کئی سال جماعت اسلامی ضلع ڈیرہ غازی خان کے امیر اور مرکزی و صوبائی مجالس شوریٰ کے رکن رہے ہیں۔

خان صاحب معروف وکیل اور سیاسی رہنما ہونے کے علاوہ خاصے وسیع تعارف کے ساتھ بہت فعّال سوشل ورکر بھی ہیں۔ ان سے اس وقت کے کمشنر رانا مقبول نے ان کے بیٹے کا تقرر نہ ہونے پر بہت معذرت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہارون سے زیادہ کسی کا استحقاق نہیں تھا، مگر ایسی مجبوریاں حائل ہو گئیں، جن کا علاج ہمارے پاس نہیں تھا۔ سچی بات یہ ہے کہ اس ملک میں یہ وتیرہ اس قدر عام ہے کہ جوہر قابل کا قتل روز مرہ کا معمول بن چکا ہے۔ بہرحال قصہ کوتاہ یہ کہ ہارون نے حوصلہ نہیں ہارا، نہ ہی کسی جھنجھلاہٹ کا مظاہرہ کیا۔ اس نے ڈیرہ غازی خان میں ہی گورنمنٹ گرلز کالج میں ملازمت حاصل کر لی۔

یہاں آئی ٹی سنٹر میں بطور انچارج اس کا تقرر ہوا۔ دو سال تک گرلز کالج کی بچیوں کو کمپیوٹر سائنس میں بہترین تعلیم سے آراستہ کرتا رہا۔ ہارون اپنے شعبے میں بے پناہ مہارت رکھتا تھا، مگر سب سے بڑی بات یہ تھی کہ وہ ایسا صالح نوجوان تھا کہ طالبات کے درمیان رہتے ہوئے بھی کبھی آنکھ اٹھا کر کسی طالبہ کی طرف نہ دیکھا۔ ایسے نوجوان اللہ کے خاص بندے ہوتے ہیں، جن کی جوانی بے داغ اور جن کا کردار قابلِ رشک ہوتا ہے۔

رشید احمد خان صاحب کا بیان ہے ''اس کالج میں میرے ایک بہت قریبی دوست کی اہلیہ پروفیسر تھیں، جن کی میری اہلیہ کے ساتھ اچھی دوستی تھی۔ ایک دن میری اہلیہ سے کہنے لگیں کہ تم میاں بیوی نے ہارون کو اسی عمر میں بوڑھا بنا دیا ہے۔ وہ سراپا جماعت اسلامی بن کر اپنے فرائض ادا کر رہا ہے۔ جس وقت بھی اسے دیکھو نگاہیں نیچی کرکے گردن جھکائے اپنے کام میں مصروف رہتا ہے۔ سوال جواب میں پوری تشفی کراتا ہے، مگر نظریں زمین پر گاڑے رکھتا ہے۔ میں تو اس کی خالہ ہوں، اللہ کا بندہ مجھ سے بھی مکمل پردہ کرتا ہے! اس واقعہ کو بیان کرتے ہوئے خان صاحب کی آنکھوں میں تشکر کے آنسو آ گئے۔

ہارون کی شادی 2003ء میں ڈاکٹر وردہ گل سے ہوئی جو پبلک ایڈمنسٹریشن میں پی ایچ ڈی ہیں۔ ڈاکٹر صاحبہ ڈیرہ غازی خان کے تاجر جنابِ محمد نواز خاں میرانی کی صاحبزادی ہیں۔ ہارون UMT میں پروفیسر تھا اور اس کی اہلیہ کینرڈ کالج لاہور میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر کام کر رہی ہیں۔ اللہ نے میاں بیوی کو پھولوں جیسے تین بچے عطا فرمائے ان معصوم بچوں کے خواب وخیال میں بھی نہیں تھا کہ پاپا اچانک ان کو داغِ مفارقت دے جائیں گے۔ بیٹی فاطمہ (عمر 13 سال)، بیٹا حسین (عمر 12 سال) اور بیٹی ہدیٰ (عمر 6 سال)۔ رشید خاں صاحب نے ہارون کی وفات کے بعد بتایا کہ ہم سب انتہائی غم زدہ تھے جبکہ ننھا حسین کمال عزم و حوصلے کے ساتھ سب کو تسلی دے کر صبر کی تلقین کر رہا تھا۔ اللہ تعالیٰ حسین کو اپنے باپ کی طرح عظیم انسان بنائے۔ اس عمر میں اس کی صلاحیتیں قابل رشک اور پورے خاندان کے لیے باعثِ فخر ہیں۔

رشید خان صاحب اپنے دوستوں سے ہارون کی ہر کام میں تیز رفتاری پر فکر مندی کا اظہار کرتے تو ہر دوست انھیں تسلی دیتا کہ نوجوان ہارون کو اللہ نے صلاحیتیں دی ہیں اور وہ ان کو ٹھیک اور تعمیری انداز میں استعمال کر رہا ہے۔ اپنے دوست جناب شیخ عثمان فاروق صاحب سے انہی خدشات کا اظہار کیا تو جواب میں انھوں نے فرمایا ''ہارون چین میں پاکستان کا حقیقی معنوں میں سفیر و ترجمان ہو گا‘‘۔ واقعی جو تھوڑی سی مہلت ملی اس میں مرحوم نے پاکستان کا سچا سفیر ہونے کا حق ادا کیا۔ چین کے بہت سے اہم لوگ بھی اس کی وفات پر سوگوار ہو گئے۔ اس کا حلقۂ احباب پاکستان ہی نہیں، چین میں بھی کافی وسیع تھا۔ کئی چینی شخصیات نے تعزیت کے پیغامات میں مرحوم کو خراجِ تحسین پیش کیا اور اپنے غم و اندوہ کا اظہار بھی۔

پاکستان میں متعین نائب سفیر Lijian Zhao کا تعزیتی پیغام تمام چینی دوستوں کا ترجمان ہے۔ وہ لکھتے ہیں ''منتظم اعلیٰ UMT! بعد آداب عرض ہے کہ ڈاکٹر ہارون رشید کی وفات سے بے انتہا دلی صدمہ ہوا۔ اس خبر نے ہلا کر رکھ دیا۔ UMT ایک قابل پروفیسر سے محروم ہو گئی، سی پیک ایک عظیم مددگار کھو بیٹھا، چینی سفارت خانہ ایک عظیم دوست سے محروم ہو گیا۔ ذاتی طور پر میں یہ سمجھتا ہوں کہ میرا چھوٹا بھائی داغِ مفارقت دے گیا ہے۔ میری دعا ہے کہ وہ اگلی منزلوں میں دائمی امن اور خوش حالی کا مستحق ٹھہرے۔

(Lijian Zhao)‘‘
ڈاکٹر ہارون رشید کی میرے بیٹے ڈاکٹر ہارون ادریس سے خاصی بے تکلفی اور دوستی تھی۔ ہارون ادریس نے جرمنی سے پی ایچ ڈی کی۔ جب دونوں آپس میں ملتے تو چین اور جرمنی میں بیتے ہوئے ماہ و سال پر خوب تبادلۂ خیالات کرتے۔ میں ہارون رشید کو کہتا کہ آپ پی ایچ ڈی کی دوستی نبھاتے ہیں تو وہ مسکرا کر جواب دیتا: نہیں سر یہ تحریکی دوستی ہے۔ ہارون رشید کی کامیابیاں مثالی تھیں جن کی جھلک اگلی قسط میں دیکھیے۔