بڑا گھر ایک ضرورت یا عیاشی؟ - بشارت حمید

ہرانسان کی بنیادی ضروریات میں روٹی اور کپڑے کے ساتھ ساتھ ایک گھر بھی شامل ہوتا ہے۔ شام ہوتے ہی باہر روزی کی تلاش میں نکلے لوگ اپنے اپنے گھروں میں آرام کے لیے واپس لوٹ آتے ہیں۔ لیکن یہ بنیادی ضرورت اکثر لوگوں کو تو میسر ہی نہیں ہوتی اور وہ کسمپرسی کے عالم میں زندگی بسر کرتے ہیں۔ کرایہ پر لیے گئے گھر میں کئی کئی فیملیز پھنس پھنسا کر گزارا کرتی ہیں، تین مرلہ گھر میں دس بارہ لوگ رہتے ہیں۔دوسری طرف ہمارے معاشرے میں ایسے لوگ بھی کثرت سے پائے جاتے ہیں جن کی تین چار افراد پر مشتمل چھوٹی سی فیملی کنالوں بلکہ ایکڑوں پر بنے فارم ہائوسز میں پر تعیش زندگی بسر کرتی ہے۔

ایک انسان کو سونے کے لیے چھ فٹ لمبائی اور تین فٹ چوڑائی کے بیڈ یا چارپائی جتنی جگہ درکار ہوتی ہے۔ اب چاہے وہ پانچ مرلے کے مکان میں رہتا ہو یا پانچ ایکڑ پر بنے فارم ہاؤس میں وہ اپنی ٹانگیں اور بازو کتنے بھی پھیلا لے اس سے زیادہ جگہ نہیں گھیر سکتا۔ یہ ہے اصل بنیادی ضرورت، ہاں‌اس کا اہتمام تھوڑا بہت زیادہ بھی کر لیا جائے تو کوئی حرج کی بات نہیں۔ لیکن دو تین افراد کے رہنے کے لیے بڑے بڑے محلات اور فارم ہاؤس بنانا اسراف اور تبذیر کے سوا اور کچھ نہیں۔ پھر ان بڑے گھروں میں صفائی ستھرائی کا انتظام رکھنے کے لیے نوکروں کی ایک فوج درکار ہوتی ہے اور اکثر ایسے گھروں کے مکین اپنی زندگی میں اکیلے پن کا شکار ہوتے ہیں۔ ان کی اولاد تک ان کے پاس نہیں ہوتی۔ ماں باپ کو نوکروں کے سہارے چھوڑ کر بچے خود دیار غیر کے مکین ہوئے رہتے ہیں۔ یہاں‌تک کہ ایسے ماں باپ کا سفر آخرت بھی نوکروں کے کندھوں پر ہوتا ہے اولاد کہیں بعد میں ہی چکر لگاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   گھروں میں نوکرانی کلچر - بشارت حمید

ہمارے اردگرد عام کالونیوں میں بھی ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں کہ دو کنال کےگھر میں بس دو میاں بیوی اور ایک بچہ ہے۔ اب اتنا بڑا گھر سنبھالنا خاتون خانہ کے لیے آسان کام نہیں، تو ساتھ نوکروں کی فوج رکھنا مجبوری ہے۔ بندہ پوچھے کہ بھئی ان ڈھائی لوگوں کے لیے دو کنال کے بجائے پانچ مرلے کا گھر کافی نہیں تھا؟ اگر اللہ نے مال و دولت سے نوازا ہے تو بڑے گھر پر پانچ کروڑ لگانے کے بجائے چھوٹے گھر پر پچاس ساٹھ لاکھ لگالیتے اور باقی اپنے خاندان کے غریب رشتہ داروں کی ضرورت پوری کرنے میں خرچ کر دیتے تو دین اور دنیا دونوں کا بھلا ہو جاتا۔

یہاں بعض دوست کہیں گے کہ یہ دین کا حکم ہے کہ اگر اللہ نے دیا ہے تو نظر بھی آنا چاہیے۔بھئی اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ بندہ جہاں دس روپے لگتے ہیں وہاں ہزار خرچ کر ڈالے کہ میرے پاس بہت مال ہے جو نظر بھی آئے۔ یہ تو فضول خرچی ہوجائے گی جس کو شیطان کے ساتھ بھائی چارے سے تشبیہ دی گئی ہے۔گھروں کی تعمیر میں بعض دوست ایسی ایسی چیزیں لگواتے ہیں جو صرف دوسروں پر اپنے مال کا رعب جمانے کے علاوہ عملی طور پرکچھ فائدہ نہیں ‌دیتیں۔ لیکن انہی دوستوں کے پاس کوئی فقیر آجائے تو اسے دھتکار دیں ‌گے۔ فقیر کو بھی چھوڑیں اگر ان کا کوئی اپنا ملازم ہی کسی مجبوری کی بنا پر کچھ رقم کا تقاضا کر لے تو اسے کھری کھری سنا دیں ‌گے۔ کوئی اپنا عزیز کسی ضرورت کے تحت قرض مانگ لے تو بہانہ بازی کر کے اسے ٹال دیں گے۔ دنیا میں صرف اپنی ذات کے اندر رہ کر جینے والے کی بھی کوئی زندگی ہے۔جو کسی دوسرے کے کچھ بھی کام نہ آسکے وہ بھی کوئی انسان ہے۔شاید بڑے گھروں میں رہنے والے اکثر لوگ دل کے بہت ہی چھوٹے ہوتے ہیں۔

Comments

بشارت حمید

بشارت حمید

بشارت حمید کا تعلق فیصل آباد سے ہے. بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی . 11 سال سے زائد عرصہ ٹیلی کام شعبے سے منسلک رہے. روزمرہ زندگی کے موضوعات پر دینی فکر کے تحت تحریر کے ذریعے مثبت سوچ پیدا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں