پاکستان میں عدالتی نظام کی بہتری کےلیے تجاویز - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ہمارا عدالتی اور قانونی نظام انگریزوں کا وضع کردہ ہے، درمیان میں ہم نے اسلامی قانون کی باتیں بھی شامل کی ہیں۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ قانون کے اندر آپ بہت کچھ اسلامی لے آئے ہیں لیکن جو عدالتی نظام ہے وہ بنیادی طور پر برطانوی اسٹرکچر پر کھڑا ہے۔ اس وجہ سے جج کے جو اختیارات ہوتے ہیں وہ وہی ہیں جو برطانیہ کے نظام میں جج کے پاس ہوتے ہیں تو ہم اس کو ایڈورسرئیل سسٹم کہتے ہیں، اس میں ایک مدعی ہے اور ایک مدعا علیہ ہے یا کریمنل کیس میں ایک استغاثہ ہے اور ایک ملزم ہے۔ ایک پارٹی نے دوسرے پر الزام لگایا، دوسری پارٹی کو صفائی پیش کرنی ہے، بارِ ثبوت اس پارٹی پر ہے جس نے دعویٰ کیا ہے اور ملزم کو معصوم سمجھا جائے گا جب تک اس کے خلاف جرم ثابت نہ ہو۔ جج ان دونوں کو دیکھتا ہے اور دونوں نے دعویٰ اور جواب دعویٰ پیش کیا، دونوں نے جو شواہد پیش کیے ان کے جائزے کے بعد، انہی تک محدود رہتے ہوئے فیصلہ کرنا ہے۔

اسلامی نظام میں قاضی ہوتے تھے۔ اس میں ایسا نہیں تھا۔ اس میں قاضی کا کام اصل میں عدل کو یقینی بنانا تھا اور یہ اس کی ذمے داری تھی، اس وجہ سے اگر قاضی محسوس کرتا اگر وہ کسی اہم چیز کو سامنے نہیں لے کر آ رہے جس کا تعین کیے بغیر عدل ممکن نہیں یا اگر ایک پارٹی مظلوم ہو لیکن وہ یہ ثابت نہیں کرپا رہی کہ وہ مظلوم ہے لیکن قاضی کو اندازہ ہو رہا ہے تو بار ثبوت اس پارٹی پر نہیں ہو گا، بلکہ قاضی حکومتی مشینری کو استعمال کرے گا اور پتا چلائے گا کہ کیا واقعی اس کے ساتھ ظلم ہوا ہے یا نہیں۔ سول لا سسٹم میں اس قسم کے اختیارات بہت سارے ممالک میں یہ اب بھی رائج ہیں، اسے انکوئزیٹوریل (Inquisitorial ) سسٹم کہتے ہیں۔

اس میں قاضی اپنی طرف سے سوال بھی متعین کر سکتا ہے، کوئی ایشو بھی فریم کرسکتا ہے، وہ شواہد اکٹھے کرنے کے لیے ذمے داری بھی سونپ سکتا ہے۔ قاضی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا ہوتا ہے۔ پاکستانی نظام میں چوںکہ ایڈورسرئیل سسٹم ہے اس میں اگر ہم فوجداری مقدمات کو لیں، ان میں ڈرائیونگ سیٹ پر جج نہیں بیٹھا ہوتا بلکہ استغاثہ ہوتا ہے۔ استغاثہ جو الزام لگائے گا اسی کو ہم دیکھیں گے۔ اس وجہ سے جب چالان عدالت کے سامنے پیش کیا جاتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ استغاثہ نے اپنی اسٹوری بیان کرلی، یہ اس کا محرک ہے اور فلاں بندہ اس کا مرتکب ہے۔ اس کو ہم پراسیکیوشن اسٹوری کہتے ہیں۔ مدعا علیہ کو اس کا جواب دینا ہے کہ وہ جوابی اسٹوری دے۔ جج کو ان دونوں کو دیکھنا ہے۔ ممکن ہے کہ پراسیکیوشن نے غلط اسٹوری بنائی ہو، اس کا فائدہ ملزم کو پہنچ رہا ہو، ملزم بااثر شخصیت ہو یا استغاثہ اپنا صحیح کردار ادا نہیں کر رہا ہو۔

جنرل مشرف کے دور میں ہم نے پولیس کے نظام میں کچھ تبدیلیاں کی ہیں۔ اب تفتیش کا ایک الگ شعبہ ہوتا ہے، استغاثہ ایک الگ شعبہ ہوتا ہے۔ اب جو پراسیکیوشن آفیسر ہے اس کے پاس چابی ہے، وہ تفتیش میں کوئی کمی بیشی کرے گا تو اس کے نتیجے میں چالان کم زور ہوگا۔ استغاثہ کے پاس بھی کوئی چوائس نہیں ہوتی۔ حالیہ شاہ رخ جتوئی کیس کو مثال کے طور پر لے لیں۔ اس میں استغاثہ کہے کہ مقتول کے وارث نے معاف کردیا ہے اور ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں تو عدالت کے پاس کوئی اختیار نہیں، مقتول کا وارث اپنا حق تومعاف کرسکتا ہے لیکن اس بندے نے ایک مخصوص فرد کے ہی حق کی خلاف ورزی نہیں کی بلکہ اس نے پورے معاشرے کو ہلایا ہے۔ اس میں پھر اسٹیٹ کا حق بھی شامل ہے۔ اب سپریم کورٹ کے جج کے پاس انکوئزیٹوریل پاور ہے۔ سپریم کورٹ نے بھی یہی کہا ہے کہ اس میں انسداد دہشت گردی کی جو دفعات تھیں ان کو ختم کرکے آپ نے غلط کیا ہے انہیں دوبارہ شامل کریں۔

میرے نزدیک عدالتی نظام میں بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ یہاں جج ڈرائیونگ سیٹ پر نہیں بیٹھا ہوا۔ کچھ لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ اگر جج کو آپ انکوئزیٹوریل پاور دیں، تو اس کے نتیجے میں یوں نقصان ہو سکتا ہے کہ جج منتقم مزاج ہو اور کسی پارٹی کے ساتھ اس کی نہ بنتی ہو، یہ خدشات ہیں، ظاہر ہے وہ بھی ہمارے معاشرے کا حصہ ہے جس میں اچھے بھی ہوتے ہیں اور برے بھی ہوتے ہیں۔ اس امکان کو روکنے کے لیے کوئی میکنیزم ہونا چاہیے، دوسری جانب ایڈورسرئیل سسٹم میں بہت سارے نقائص ہیں جو روز روشن کی طرح عیاں ہیں، اس کے باوجود ہم اس پر چل رہے ہیں۔ کچھ مسائل ایڈورسرئیل سسٹم میں ہیں اور کچھ مسائل انکوئزیٹوریل سسٹم میں بھی ہوں گے۔ اگر آپ جج کو انکوئزیٹوریل پاور دیں گے، سارے مقدمات جو استغاثہ کی کم زوری کی وجہ سے یا تفتیشی کے ملزم کے ساتھ مل جانے کی وجہ سے جو مسائل پیش آتے ہیں وہ نہیں ہوں گے۔ ہاں اگر یہ سسٹم کوئی مسائل پیدا کر رہا ہے تو اسے روکنے کے لیے آپ کو کچھ اور اقدامات کرنا ہوں گے یہ تو فوجداری مقدمات کا معاملہ ہے۔

دیوانی مقدمات لوگوں کو دیوانہ بنا دیتے ہیں۔ ہمارے پاس جو ضابطہ دیوانی ہے وہ انگریزوں نے1908 میں بنایا تھا۔ آج 2018 ہے، اسے 110 سال ہو گئے ہیں۔ درمیان میں چند ایک اصلاحات ہوئی ہیں لیکن اس پورے دیوانی ضابطے کی اوور ہالنگ کی ضرورت ہے۔ انگریزوں نے ہمیں جو دیوانی نظام دیا تھا اس ضابطے کا مقصد مقدمے کا خاتمہ نہیں بلکہ اسے لٹکانا ہے، کاز آف ایکشن اس میں اتنے لوگوں کو حاصل ہوتا ہے کہ جو مقدمہ اصلاً دو فریقوں کے درمیان ہوتا ہے، اس میں آٹھ، دس مزید شامل ہو جاتے ہیں، اور پھر ان فریقوں کی وجہ سے معاملہ مزید لٹک سکتا ہے۔ اس میں مقدمے کے التواء کے اس قدر راستے ہیں کہ آپ سوچ نہیں سکتے۔ اس طرح کے بہت سارے مسائل عدالتی نظام میں ہیں۔

مقدمات میں تاخیر کا ایک بہت بڑا سبب وکلاء ہیں، سب سے زیادہ ذمہ دار طبقہ وکلاء کا ہے، وکیل کی روزی روٹی مقدمے کے ساتھ وابستہ ہے، یہ معاملہ سود خور جیسا ہے، سود خور کبھی نہیں چاہے گا کہ اس کا قرضہ ادا ہو۔ اگر قرضہ ادا ہوا تو اس کی آمدنی رک جائے گی۔ بہرحال تمام وکیل ایسے نہیں ہوتے۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ اگر مقدمہ لٹکا رہے تو خود وکیل کی روزی روٹی خطرے میں پڑ جاتی ہے کہ تم مقدمہ حل نہیں کرا سکتے تو بندہ آپ کے پاس کیوں آئے، ظاہر ہے کہ فیصلہ ہونے میں بھی اس کی بہتری ہوتی ہے۔ بالخصوص سنیئر وکیلوں کے ساتھ یہ بڑا سنگین مسئلہ بن جاتا ہے، لوئر کورٹ میں مقدمہ چل رہا ہوتا ہے اور اس کا اسسٹنٹ وکیل کورٹ میں آ جاتا ہے کہ وکیل صاحب کسی اور مقدمے میں ہائی کورٹ میں ہیں، اگر وکیل قدآور ہو تو جج بے چارہ کچھ نہیں کر سکتا، اگر وہ کچھ کرنے کی کوشش کرے تو بار کی سیاست نے انتہائی جارحانہ شکل اختیار کی ہوئی ہے۔ اس کے نتیجے میں ججوں کے کمروں کو تالا لگا دیا جاتا ہے، جج پر حملے بھی ہوتے ہیں، جج کے ٹرانسفر کے مطالبے بھی شروع ہوجاتے ہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ لوئر کورٹ میں ججوں کی بہت بری حالت ہوتی ہے۔ بار کی جانب سے ان پر بہت زیادہ پریشر ہوتا ہے، بار کے پولیٹیکل لیڈرز وکیل کم اور سیاسی راہ نما زیادہ ہوتے ہیں۔

افتخار چوہدری صاحب کے دور میں وکلاء کو طاقت ملی ہے، اس کے نتیجے میں یہ سب کچھ ہوا ہے۔ اس کا نقصان یہ ہے کہ لوئر کورٹ کے ججز کی پوزیشن بہت زیادہ کم زور ہوگئی ہے، حتیٰ کہ اب تو ہائی کورٹ کے ججز کو اس قسم کے رویہ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ میرے نزدیک مقدمات کی تاخیر میں ایک تو ہمارے پروسیجر لاز ہیں اور دوسرے وکلاء، ایک اور بھی سبب ہے جسے عام طور پر لوگ نہیں دیکھتے۔ انگریزوں نے یہ تو کیا کہ صوبے کی سطح پر ہائی کورٹ، ڈسٹرکٹ کی سطح پر دیوانی مقدمات میں ڈسٹرکٹ جج اور فوجداری مقدمات میں سیشن جج، یعنی فوجداری مقدمات میں مجسٹریٹ اور دیوانی مقدمات میں سول جج لگادیا۔ ستر سال ہو گئے ہمیں آزاد ہوئے، ہم اسے مزید گراس روٹ پر نہیں لے جا سکے۔ اگر ہم یونین کونسل کی سطح تک عدالتی نظام کو لے جائیں اور یونین کونسل کی سطح پر چھوٹے مقدمات جن کا فیصلہ ایک یا دو سماعتوں میں ہوجانا چاہیے وہ ایک لوکل مسئلہ ہوتا ہے گواہ بھی وہیں ہوتے ہیں فریقین بھی وہیں ہوتے ہیں اور اسی یونین کونسل میں آپ کسی وکیل کو فیصلہ کرنے کا اختیار دے دیں، وکیل کرنے کی اجازت نہ دیں تو سول ججز پر جو بہت زیادہ بوجھ ہوتا ہے کم ہو جائے گا اور بہت سارے وکیل جو وکالت کرنے کے بعد ڈسٹرکٹ کورٹس میں بیٹھے ہوتے ہیں وہ یونین کونسل کے مقدمات کا فیصلہ کریں گے اور ان کی روزی روٹی کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   افغان جنگ، فیصلہ کن موڑ - ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

مقدمات کے جلد فیصلوں کے لیے لیگل ایجوکیشن کو بہتر کیا جائے، بار پولیٹیکس کو کنٹرول میں کیا جائے، وکیل اپنے پروفیشن کی طرف توجہ کریں اور ججز بھی اپنا کام کریں۔ پنجاب میں لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس (جو اب سپریم کورٹ میں آچکے ہیں) منصور علی شاہ نے اے ڈی آر (آلٹرنیٹو ڈسپیوٹ ریزولیشن) پر توجہ کی، انہوں نے ججز کو بھی اے ڈی آر پر لگایا، اس کا مطلب ہی ’متبادل‘ ہے۔ اس کا مطلب ہے، آپ نے ایک اعتراف کر لیا کہ آپ کا اصل عدالتی نظام کام نہیں کر پا رہا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ متبادل کی طرف جا رہے ہیں، اور متبادل نظام میں بھی آپ انہی ججوں کو بٹھا رہے ہیں، بہرحال اے ڈی آر ہونے چاہییں البتہ اس کے لیے میکنزم بھی ہونا چاہیے، اسی کے نتیجے میں آپ عدالتوں پر بوجھ کم کر سکتے ہیں۔ ہمارے ہاں پنچایت اور جرگہ کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ کئی کئی سال مقدمہ لٹکنے کی بجائے جلدی فیصلہ ہو جاتا ہے۔ اس میں کچھ تیکنیکی مسائل بھی ہوتے ہیں جنہیں مناسب نگرانی کے ذریعے کنٹرول کیا جا سکتا ہے، دنیا اس نتیجے پر پہنچ گئی ہے کہ عدالتوں میں آکر فیصلے کرانے کا معاملہ کم سے کم ہونا چاہیے، صرف عدالتوں میں نہیں بلکہ عدالتوں کے باہر جو مختلف فورمز ہیں ان میں بھی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ لوگوں نے جرگوں اور پنچایت کا ہوا بنا لیا ہے لیکن اسی کو آپ اے ڈی آر کے طور پر لے جائیں تو لوگ مان جاتے ہیں۔

جدید ٹیکنالوجی کا استعمال شروع تو ہوا ہے لیکن ہم ابھی بہت پیچھے ہیں، اس میں بہت زیادہ کام کی ضرورت ہے، آپ جتنا زیادہ جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے جائیں گے تو اس کے فائل ورک کو مینیج کرنا بھی آسان ہو جاتا ہے۔ ویڈیو کو شہادت ماننے کا مسئلہ بہت حد تک حل ہو چکا ہے، ہمارے قانون شہادت میں اس میں سے کچھ باتیں قبول بھی کی ہوئی ہیں، مثلاً سائبر کرائم، الیکٹرانک کرائم کے حوالے سے، لیکن ظاہر ہے ٹیکنالوجی دو دھاری تلوار ہے، متحرک تصویر میں بھی بہت کچھ کمی بیشی کی جا سکتی ہے اور یہ ثابت ہو چکی ہے۔ ویڈیو شہادت کو قبول کیا بھی جاتا ہے لیکن اس میں احتیاط والی بات ہی ہے۔ چوںکہ جج ہر چیز کا ماہر تو نہیں ہوتا اگر میڈیکل کا کوئی ایشو ہے تو جج ڈاکٹر نہیں ہوتا، اس معاملے میں وہ میڈیکل رپورٹس طلب کرتا ہے اور ان پر اعتماد کرتا ہے کہ آدمی پاگل ہے یا پاگل بنا ہوا ہے۔ یہی بات اس معاملے میں بھی آپ کر سکتے ہیں کہ اس فیلڈ کے ماہرین کی رائے پر اعتبار کر سکتے ہیں صرف آڈیو یا صرف ویڈیو کو بذات خود تسلیم نہیں کیا جاسکتا، اس کے ساتھ ماہر کی رائے ہونی چاہیے۔

جہاں تک ڈی این اے کا معاملہ ہے وہ بھی ایک ماہر کی رائے ہوتی ہے، ورنہ ڈی این اے بذات خود تو کچھ نہیں کہہ سکتی، لیبارٹری کی رپورٹ سامنے رکھنے کے بعد، سائنسی تجزیہ کرنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ یہ فلاں کی ہے، جس طرح فنگر پرنٹس میں چیک کیا کرتے تھے کہ یہ فنگر فلاں کی ہیں یا نہیں ہیں۔ لیکن اس میں بھی انسان اسے سمجھنے میں غلطی کر سکتا ہے بعض اوقات نادانستہ ہوتی ہے اور بعض اوقات دانستہ ہوتی ہے اور غفلت بھی ہوسکتی ہے۔ ہمارے ہاں تو یہ چیزیں بھی ہوتی ہیں کہ دو ڈی این اے سیمپلزمکس اپ بھی ہوسکتے ہیں، اس لیے نہیں کہا جا سکتا کہ یہاں سب کچھ آئیڈیل ہے۔ بعض معاملات میں ڈی این اے کو قبول کیا جاسکتا ہے اور بعض معاملات میں نہیں، مثلاً ریپ کے معاملے میں ڈی این اے ہو گا بالخصوص جب یہ معلوم کرنا ہو کہ ریپ کے نتیجے میں حاملہ ہونے والی خاتون کا بچہ ریپ کرنے والے کا ہے یا نہیں، لیکن زنا کی سزا کے معاملے میں ڈی این اے قبول نہیں کیا جائے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زنا کا الزام بہت بھاری الزام ہوتا ہے اور شریعت نہیں چاہتی کہ لوگ ایک دوسرے پر یہ الزام لگاتے پھریں، شریعت یہ چاہتی ہے کہ لوگوں پر پردہ رہے۔ شریعت یہ کہتی ہے کہ اگر آپ کے پاس چار گواہ ہیں تو آپ عدالت میں آ سکتے ہیں ورنہ آپ خاموش رہیں۔ فقہا کہتے ہیں کہ مسلمان پر لازم ہے کہ وہ حق کی گواہی دے لیکن جہاں تک زنا کا معاملہ ہے، وہاں آگے بڑھنے کی بجائے گواہی کے لیے نہ آنا باعث ثواب ہے۔ اصلاً شریعت چاہتی ہے کہ یہ معاملہ عدالت میں نہ آئے تو اس وجہ سے ڈی این اے باقی معاملات میں قبول ہو سکتی ہے لیکن زنا کے معاملے میں نہیں۔

ججوں کے متنازع ریمارکس اور تقاریر کا معاملہ خاصا سنگین ہوچکا ہے۔ اس کے کئی پہلو ہیں۔ یہاں یہ مسئلہ اس لیے محسوس ہوتا ہے کہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ جج فیصلوں کے ذریعے بولتے ہیں، ان کے ذہن میں برطانوی نظام کا جج ہوتا ہے جو خاموش بیٹھتا ہے۔ وہ ایڈورسرئیل سسٹم کا جج ہوتا ہے، اسے صرف فریقین کو دیکھنا ہے اور ان کی باتوں کو سننا اور نوٹ کرنا ہے اور پھر فیصلے کے ذریعے بولنا ہے، جہاں جج انکوئزیٹوریل پاور رکھتا ہے وہاں جج بولتا ہے، حتیٰ کہ آپ کے قانون شہادت میں جج کے سوال کرنے کا اختیار بھی موجود ہے، لوئر کورٹ کے جج کو بھی یہ اختیار حاصل ہے لیکن وہ بے چارہ وکیل کے سامنے بول بھی نہیں سکتا، وہ اگر سوال کرنے لگتا ہے تو اس کے لیے کوئی اور مسئلہ کھڑا ہو جاتا ہے۔ اسے اختیار حاصل ہے کہ وہ کوئی بھی سوال کسی بھی فریق سے پوچھ سکتا ہے، جب وکیل کوئی شہادت پیش کرتے ہیں تو ان کے بارے میں یہ شرط ہے کہ وہ کیس سے متعلقہ ہو، وکیل غیرمتعلقہ چیز عدالت میں پیش نہیں کر سکتا، لیکن جج جب سوال کرے گا تو اس پر متعلق ہونے کی شرط نہیں لگائی جاسکتی۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججوں کے پاس سوال کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔ بالخصوص دستوری معاملات میں، اس معاملے میں وہ زیادہ سے زیادہ سوالات کرسکتے ہیں۔ لیکن ججز تماشائیوں اور میڈیا کو خوش کرنے کے لیے میڈیا کے ذریعے لوگوں کو مخاطب کرنے کے لیے ایسا نہیں کر سکتے، یہ سلسلہ پچھلے دس پندرہ سالوں کے دوران چل پڑا ہے، جیسے ججز محسوس کرتے ہیں کہ انہیں بھی عوام کو مخاطب کرنا چاہیے یہ نہیں ہونا چاہیے، لیکن اصولی طور پر جج کے پاس سوالات کرنے کا اختیار بھی ہے اسے کرنا بھی چاہییں۔

اگر ججز کی تعداد کا معاملہ سپریم کورٹ سے متعلق ہے تو یہ مسئلہ ہے، امریکا میں سپریم کورٹ کے سات ججز ہوتے ہیں لیکن وہاں کی سپریم کورٹ کے سامنے کیسز بہت کم آتے ہیں، وہ صرف آئینی مقدمات ہوتے ہیں، ہمارے ہاں سپریم کورٹ اپیل کورٹ بھی ہے، کریمنل کیسز، سول کیسز اور بعض اوقات فیملی کیسز بھی اس کے پاس آجاتے ہیں، ان کیسز کا بہت بوجھ ہوتا ہے۔ دوسرا آئینی مقدمات پچھلے کچھ عرصہ سے بہت زیادہ آرہے ہیں، اس حوالے سے ایک تجویز کو سنجیدگی سے لینا چاہیے کہ آئینی عدالت کی حیثیت سے سپریم کورٹ کو الگ حیثیت دی جائے اور کورٹ آف اپیلٹ کے طور پر سپریم کورٹ بالکل ایک مختلف کردار ادا کرے۔ تقسیم کار اس طرح ہوجائے کہ سپریم کورٹ کو ہم آئینی عدالت کہیں، وہ صرف آئینی مقدمات لے اور کورٹ آف اپیل کے طور پر بالکل ایک الگ عدالت ہو، ظاہر ہے اس پر ججز کبھی ہنسی خوشی آمادہ نہیں ہوں گے، کوئی بھی اختیارات سے محروم نہیں ہونا چاہتا، لیکن آج یا کل ایک نہ ایک دن ہمیں اس پر سوچنا تو پڑے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   پیشہ ور مقدمہ باز اور قانون - نصیر اللہ خان

ججز کی تقرری اور ہٹانے کے قانون میں تبدیلی کی گنجائش موجود ہے۔ ہمارے ججز کے پاس وہ سارے اختیارات ہیں جو امریکا کی سپریم کورٹ کے ججز کو حاصل ہیں، لیکن ہمارے ججز پر احتساب کا وہ نظام نہیں ہے جو امریکا میں ہے۔ وہاں ججز کی تقرری صدر کرتا ہے لیکن ان کی توثیق سینیٹ کرتی ہے۔ وہاں کے ججز ساری عمر کے لیے ہوتے ہیں اگر کوئی از خود ریٹائر ہونا چاہے تو وہ الگ بات ہے، لیکن ان کو سپریم کورٹ مواخذہ کی صورت میں ہٹا سکتی ہے۔

ہمارے ہاں نظام یہ ہے کہ ججز کا تقرر بھی ججز کرتے ہیں اور انھیں ہٹاتے بھی ججز ہی ہیں، جو پارلیمانی کمیٹی ہے وہ بے چاری کچھ نہیں کرسکتی۔ چیف جسٹس نام پیش کرتا ہے، جوڈیشل کمیٹی اسے ڈسکس کرتی ہے۔ اس کے بعد پارلیمانی کمیٹی کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ یقیناً ہم نے ایک عام شہری کو یہ اختیار دے دیا ہے کہ وہ کسی جج کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کر سکتا ہے لیکن وہاں کارروائی ان کیمرا ہوتی ہے۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے اکا دکا مثالوں کے علاوہ کبھی کسی کو نہیں ہٹایا۔ اس وجہ سے انہیں ایک مکمل شیلڈ حاصل ہے۔ ججز کی تقرری اور انہیں ہٹانے کے لیے امریکی مثال کو اختیار کرنا چاہیے۔ سینیٹ میں تجربہ کار لوگ ہوتے ہیں، جب یہ اختیار آپ سینیٹ کو دیں گے تو لوگ سینیٹرز کو منتخب کرنے میں بھی احتیاط کریں گے۔ اگر سینیٹ کے پاس ججز کو مقرر کرنے اور انہیں ہٹانے کا اختیار ہو تو کم از کم ججز پر چیک کا سسٹم لاگو ہوجائے گا۔ ججز کو کسی چیک سے ماورا نہیں ہونا چاہیے، جس طرح فوجی جرنیلوں کو کسی چیک سے ماورا نہیں ہونا چاہیے، ہاں! آپ شرائط لگا سکتے ہیں کہ فلاں فلاں الزامات ہوں تو ججز کو ہٹایا جا سکتا ہے اور اسی طرح ججز کی تعیناتی کو شفاف بنانے کے لیے آپ کچھ شرائط رکھ سکتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ ہم امریکا کی مثال کو ہوبہو نقل کریں، ہم اپنے معاشرے کو دیکھتے ہوئے اس میں مناسب تبدیلیاں کر سکتے ہیں۔

مقدمات کی تاخیر میں پولیس کا بہت اہم کردار ہوتا ہے، ضابطہ فوجداری کے تحت پولیس ہی چالان پیش کرتی ہے، اگر وہ کہے کہ ہمیں مزید تفتیش کرنی ہے بندہ مزید ہماری حوالگی میں دے دیں تو اسے ہم پولیس ریمانڈ کہتے ہیں۔ وہ چودہ دن تک اپنے پاس رکھتے ہیں اور اس کے بعد آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں مزید چودہ دن دے دیں اور اس طرح سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ ہمارے ہاں یہ سمجھا جاتا ہے کہ ریمانڈ میں دینے کا مطلب ملزم کی کھال کھینچ لینے کا اختیار دینا ہے، حالاںکہ قانون میں ایسا کچھ نہیں ہے، اسی طرح پولیس کے پاس یہ سہولت بھی ہوتی ہے کہ وہ اس کے ساتھ لین دین کرکے کم زور سا چالان پیش کر دے، آگے کی ساری کہانی اس چالان پر منحصر ہے، چالان میں جو اسٹوری بیان کی گئی اسی کو استغاثہ کو ثابت کرنا ہے، یوں وکیل صفائی کا کام آسان ہو جاتا ہے کیوںکہ ملزم کے بارے میں یہ مفروضہ ہوتا ہے کہ وہ جرم ثابت ہونے تک معصوم ہے۔ اگر چالان کم زور ہے تو جج کے پاس کوئی چارہ نہیں کہ وہ اسے بری کر دے، چاہے باعزت بری کرے چاہے شک کا فائدہ دے کر بری کردے۔ بعض اوقات لوئر کورٹ سزا دے دیتی ہے لیکن ہائی کورٹ اس میں تخفیف کردیتی ہے اور سپریم کورٹ تک جاتے جاتے کیس کم زور ہو جاتا ہے اور سپریم کورٹ کو اسے چھوڑنا پڑتا ہے۔

یہ جو فوجی عدالتوں کی مثال دی جاتی ہے۔ اس میں کہا جاتا ہے کہ عدالتیں دہشت گردوں کو چھوڑ دیتی ہیں اور سزائیں نہیں دیتیں، لیکن اس میں اصل مسئلہ یہی ہوتا ہے کہ آپ صحیح تفتیش نہیں کرتے، صحیح چالان پیش نہیں کرتے، آپ اس سے تشدد کے ذریعے اعتراف کرا لیتے ہیں لیکن وہ عدالت میں آ کر اپنے اعتراف سے انکاری ہوجاتا ہے، عدالت سے ایسے اعتراف کو نہیں مانتی، اگر آپ نے اگر اس کی فون کالز ٹیپ کی ہیں اور وہ بھی قانونی اجازت کے بغیر کی ہیں تو غیرقانونی طریقے سے حاصل کی گئی شہادت کو عدالت کیسے قبول کرسکتی ہے، لیکن اگر آپ عدالت سے اجازت لینے کی بات کریں کہ ہم فلاں بندے کا فون ٹیپ کر لیں پھر ہماری ایجنسیاں تو یہ بات نہیں مانتیں، ایسے میں عدالت اس شہادت کو کیسے قبول کر سکتی ہے جو قانونی طور پر ناجائز ہے۔

آپ کہتے ہیں کہ ہمیں معلوم ہے کہ اس نے جرم کیا ہے لیکن آپ کو تو عدالت میں اسے ثابت کرنا ہے۔ پھر انہوں نے کہا کہ ہم ملٹری کورٹس بنا لیتے ہیں، انہیں وہاں سے سزا دلا دیں گے لیکن آپ دیکھیں کہ اڑھائی سالوں میں ملٹری کورٹس نے کتنے لوگوں کو سزائیں دی ہیں، آپ یہ اعداد و شمار اکٹھے کر لیں کہ وہاں کتنے مقدمات آئے ہیں اور کتنے مقدمات کا فیصلہ ہوا ہے تو آپ کو خود معلوم ہو جائے گا کہ سارا معاملہ ہی غلط تھا، گنتی کے چند مقدمات وہاں گئے اور ان میں بھی فیصلے نہیں ہوپائے۔ اگر آپ پروٹیکشن آف پاکستان ایکٹ پڑھیں تو آپ کو معلوم ہوجائے گا وہاں شہادت اور سزا کا کوئی ذکر نہیں ہے، سارا قانون صرف اس مقصد کے لیے بنایا گیا کہ ہم بندوں کو اپنی حراست میں رکھیں اور کوئی ہمیں نہ پوچھے کہ کہاں رکھا ہے اور کیوں رکھا ہے۔

عدالتی فیصلوں پر ضرور تنقید ہونی چاہیے دنیا کے تمام مہذب ممالک میں یہ حق مانا گیا ہے بالخصوص قانون پڑھانے والوں اور قانونی ماہرین کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مقدمات کے فیصلوں پر تفصیلی تنقید کریں اور ان کی اچھی اور بری باتوں کا جائزہ لیں۔ امریکی سپریم کورٹ کے مشہور جج جسٹس اولیور ہومز نے امریکی سپریم کورٹ کے ایک مشہور فیصلے میں اختلافی نوٹ لکھا، اس میں ایک بڑا دل چسپ جملہ لکھا کہ مشکل مقدمات کی طرح بڑے کیسز کے نتیجے میں جو قانون سامنے آتا ہے وہ بہت بُرا ہوتا ہے۔ بڑے کیسز سے مراد وہ جن میں ججز پر بہت زیادہ دباؤ ہوتا ہے، جو میڈیا پر بہت زیادہ نمایاں ہوئے ہیں جن سے لوگوں کو بہت زیادہ توقعات وابستہ ہوں، جب ان کیسز کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو ہومز کے بقول وہ صحیح فیصلہ نہیں ہوتا، ہارورڈ کے ایک پروفیسر کی کتاب کا عنوان یہی ہے کہ بڑے مقدمات برے قانون کو جنم دیتے ہیں، اس کتاب میں انہوں نے امریکا کے چوبیس بڑے بڑے کیسز کو جمع کرکے تجزیہ کیا کہ ان کے نتیجے میں جو قانون بنے وہ صحیح تھے یا غلط۔ انہی تجزیوں اور تبصروں کے نتیجے میں قانون آگے بڑھتا ہے اور اصلاح کا موقع ملتا ہے۔

جہاں تک ازخود نوٹس لینے کا معاملہ ہے، سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے پاس یہ اختیار ہے کہ متعلقہ ادارے کسی چیز کو صحیح طور پر نہیں لے رہے وہ چیف جسٹس آف پاکستان (چیف جسٹس آف سپریم کورٹ نہیں) کے طور پر اسے سب پر سپروائزر کی حیثیت حاصل ہے۔ وہ از خود نوٹس لے سکتا ہے اور یہ اس کی ذمہ داری بھی ہے اسی طرح شریعت کورٹ کو بھی یہ اختیار دیا گیا ہے کہ اگر کوئی قانون شریعت سے متصادم ہے تو کوئی بھی اس قانون کو شریعت کورٹ میں چیلینج کر سکتا ہے کہ یہ شریعت سے متصادم ہے اس لیے اسے کالعدم قرار دیا جائے، اس پر شریعت کورٹ خود بھی نوٹس لے سکتی ہے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو بنیادی حقوق کے معاملے میں یہ اختیار حاصل ہے لیکن ہر چھوٹے موٹے معاملے پر نوٹس لینے سے یہ اختیار غیرموثر ہو جائے گا پھر لوگ اس کی اہمیت کو نہیں سمجھیں گے۔ ایک نقصان یہ بھی ہوتا ہے کہ اگر آپ ہر معاملے میں نوٹس لینا شروع کر دیں تو متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے سے غافل ہوجاتے ہیں اور لوگ بھی ہر معاملے میں عدالت کی طرف دیکھنا شروع ہو جاتے ہیں۔ یہ سوموٹو کا لفظ ہر ایک کو پسند آ گیا ہے، حتیٰ کہ بڑے بڑے وکلا بھی سپریم کورٹ سے کہتے ہیں کہ وہ از خود نوٹس لیں۔ حالاںکہ انہیں پٹیشن دائر کرنا چاہیے، اگر آپ سپریم کورٹ میں آنا چاہتے ہیں تو آپ کو پٹیشن دائر کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد کے شعبۂ قانون کے چیئرمین ہیں ۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں