اور بھی غم ہیں زمانے میں - خدیجہ افضل مبشرہ

فیس بک میسنجر کھولا تو کچھ نئے میسیجز تھے۔ ایک میسج پڑھ کر بے ساختہ مسکرا دی " محبت پہ بھی کُچھ لکھیں کبھی" ۔ میں جلد یا بدیر اس سوال کی توقع کر رہی تھی۔ " ابھی تک کی ہر کہانی محبت کی ہی تو ہے" میں نے جواب ٹائپ کیا۔ " نہیں تو, جس محبت کی بات میں نے کی ہے اس محبت کے بارے میں تو بس نیگیٹو سائیڈ ہی دکھائی آپ نے ابھی تک۔ اب کچھ پازیٹو سا، کوئی اُمید دلانے والا بھی کُچھ لکھیں۔"

اس بات کا جواب کافی لمبا تھا میرے پاس، مگر میسج کے جواب میں وہ سب لکھنا مشکل تھا۔ سو جواب میں بس اتنا ہی لکھا کہ " اس کے لیے آپ میری اگلی تحریر پڑھیے گا۔اس میں آپ کو اس بات کا جواب مل جائے گا۔ "

"محبت " اس موضوع پر بات کرنا، لکھنا، بہت مشکل لگتا ہے مجھے جس قسم کی محبت پر بات کرنے کو کہا گیا ہے وہ تو جائز ہی نہیں ہے۔ نا محرم کو تو ارادتًا دوسری نظر ڈال کر دیکھنے کی بھی اجازت نہیں کہاں اتنے گہرے مراسم بڑھانا؟ اور ایک بات یہ بھی طے ہے کہ یہ جو آج کل ہماری نئی نسل کے ہر نوجوان کو اس کا بخار چڑھا ہوا ہے، وہ سرے سے محبت ہی نہیں ہے۔

وقتی کشش، کچھ روز کی گپ شپ اور پھر حدود و قیود سے آزاد موبائل ٹیکسٹنگ اور کالز، پارکس اور دیگر جگہوں پر ملاقاتیں، ان میں بھی جنسی خواہشات کا دباؤ، کبھی کچھ کیسز میں بات اس سے بھی آگے بڑھ جاتی ہے اور پھر کسی معمولی بات کو وجہ بنا کر تُو تُو میں میں اور پھر یہ جا وہ جا! اکثر تو جب بات حدود سے نکل جائے تو جانے والے توُ توُ میں میں کا تکلف بھی نہیں کرتے۔ یہ محبت ہے؟ یہ تو کوئی ڈرامہ ہے جی۔ کیا لکھوں اس محبت پر میں؟

آپ اور میں جس مُعاشرے کا حصہ ہیں ہمیں اپنے آس پاس بہت سی عبرتناک مثالیں چلتی پھرتی نظر آتی ہیں، اگر نہیں تو کوئی اخبار اُٹھا لیجیے۔ کوئی نیوز چینل کھول کر بیٹھ جائیے، اب یہاں بہت سے لوگ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر انگلی اُٹھانے آجائیں گے کہ میڈیا تو ویسے ہی ملک کا نام خراب کر رہا ہے۔ میڈیا ملک کا نام نہیں خراب کر رہا بلکہ حقیقت دکھا رہا ہے۔ ہاں! دماغ خراب کر رہا ہے تو "انٹرٹینمنٹ میڈیا"، یہ عشق و عاشقی پر روح پرور درس دیتے ڈرامے،ہر دوسرے چینل پر چلتے فلم نما ڈرامے فرسٹریشن بھر رہے ہیں۔ ہماری نئی نسل کے اندر، ہر لڑکی کو کسی ڈرامے کے ہیرو جیسے آئیڈیل کی تلاش ہے تو ہر دوسرا نوجوان بھی کسی ہیروئین جیسی " گرل فرینڈ" ڈھونڈنا چاہتا ہے۔ اب اتنا تو سمجھو کہ انہیں ایسی پرسنلٹی اور محبت دکھانے کے پیسے ملتے ہیں۔ پروفیشن ہے یہ ان کا اور اس سب کا نتیجہ، یہی معصوم ذہن پڑھائی سے ذیادہ "پیار" میں غرق نظر آتے ہیں۔

کہیں میٹرک کے اسٹوڈنٹس ہی بالی ووڈ فلم زدہ ہیرو ہیروئین بننے کے چکر میں زندگی جیسی مقدس نعمت اور امانت کو اپنے ہاتھوں ختم کر رہے ہیں تو کہیں محبوب پر اندھا اعتماد کرنے والی لڑکیاں اس محبت کے ہاتھوں عزت گنوا رہی ہیں۔ بات یہاں پر ختم نہیں ہوتی،اس موبائیل نامی عفریت نے سونے پر سہاگے کا کام کردیا ہے۔ جو خبیث بے چاری لڑکی کو محبت کے جال میں پھانس کر اپنی ہوس مٹانے کے لیے استعمال کرتا ہے وہ اپنے کالے کرتوتوں کی ویڈیو بھی بنالیتا ہے تا کہ آئندہ بھی اس بے چاری کو اسی ویڈیو کی دھمکی دے کر اپنی اور اپنے ساتھ کچھ ہوس پرست بھیڑیے نما دوستوں کی بھی بھوک مٹا سکے۔نتیجتًا کتنی ہی لڑکیاں خود کشی کرلیتی ہیں۔ جو زندہ رہ جاتی ہیں وہ ساری عمر لاش بن کے گُزار دیتی ہیں۔

یہ کیسی محبت ہے جس کا منشور ہی کپڑے اتروانا بن چکا ہے۔یہ کیسا معاشرہ ہے جہاں اسٹوڈنٹس فیل ہونے کو شرمندگی نہیں سمجھتے، مگر یہ بات ضرور ان کے لیے باعث شرم ہے کہ ان کی کوئی گرل فرینڈ یا بوائے فرینڈ نہیں ہے۔ اس مغرب زدہ مادر پدر آزاد کلچر کی یلغار نے حلال حرام کی تمیز چھین لی ہے ہماری نئی نسل سے، انسانوں کے روپ میں بھیڑیے گھومتے ہیں ہر طرف، کتنی ہی ننھی معصوم کلیاں جنہوں نے ابھی پوری آنکھیں کھول کر دُنیا بھی نہیں دیکھی ہوتی اس ہوس زدہ عفریت کی بھینٹ چڑھتی ہیں۔ زیادہ تر یہ کرنے والے ان کے اپنے خاندان میں سے ہی کوئی نکلتے ہیں جو اپنی ہوس کی بھوک مٹانے کے بعد اپنی بدنامی کے ڈر سے ان کی جان تک لے لیتے ہیں۔

اب آپ میں سے بہت سے کہیں گے کہ اس کا محبت سے کیا تعلق؟ بظاہر کوئی نہیں۔۔ مگر جس قسم کی محبت آج کل ِان (in) ہے، اس نے نوجوانوں کے اندر فرسٹریشن بھر دی ہے۔ جس کو رضامندی سے کوئی نہیں ملتی پھر وہ بھوکا شیر بن کر نکل پڑتا ہے اور بلا تمیز شکار کرنے لگتا ہے۔

کیا لکھوں اس محبت کے بارے میں جو ایک فرد کے سوا سب کچھ بھُلا دیتی ہے۔ جو یہ تو یاد رکھتی ہے کہ دنیا میں یہ ایک واحد شخص ہے جس سے مجھے پیار ہے۔ مگر یہ بھلا دے کہ میں اپنے والدین کی امیدوں کا واحد مرکز ہوں۔ میرے والدین نے کس مشقت سے مجھے یہاں تک پہنچایا۔لڑکیوں کی صورت میں ماں باپ کتنا بڑا پتھر دل پر رکھ کر اپنی بیٹی پر اعتبار کرتے ہوئے اسے اس دور میں تعلیم حاصل کرنے گھر سے باہر بھیجتے ہیں۔جب وہی بیٹی اس محبت کے دھوکے میں آبرو گنوا کہ آجائے تو ان کے پاس کچھ بھی نہیں بچتا۔

اور یہ سب محبتیں بھی بعد میں، سب سے پہلے سب سے سچی اور شدید محبت اس رب تعالیٰ کی ہے جو ہر چیز پر قادر ہے۔اگر اس نے کسی کو آپ کے نصیب میں نہیں لکھا تو یقینًا اس میں آپ کا ہی فائدہ ہے۔ بجائے اپنے رب کا شکر گُزار بننے کے جذباتی ہو کر اللّٰہ کا دیا ہوا قیمتی تحفہ "زندگی" ہی اپنے ہاتھ سے ختم کر لیتے ہیں۔

اجی نہیں ہو گا مجھ سے یہ، نہیں لکھ سکتی میں ایسی محبت پہ کُچھ، سب بھرے پیٹ کی باتیں ہیں۔ جا کر کسی غریب بستی میں کُچھ وقت گُزارو تو پتہ چل جائے گا کہ لوگ بھوک بیماری اور غُربت سے مرتے ہیں۔ محبت نا ملنے سے کوئی نہیں مرتا۔ بھوکے کا مذہب روٹی، اور جو حلق تک سیر ہو جائے، اس کے ہزار چونچلے۔اس قسم کی محبت کے اس چھوٹے سے تمبو سے گردن باہر نکال کر دیکھیے۔ محبت بہت وسیع ہے، ہر طرف بکھری ہے۔آپ بھی بانٹنے والے بن جائیے۔

زندگی اللّٰہ تعالیٰ کی خوبصورت نعمت ہے اور ایک ہی بار ملی ہے۔ اسے تجربات کی نظر مت کیجیے۔ خاص طور پر جو بہنیں بیٹیاں بچیاں یہ پڑھ رہی ہیں ان سے گُزارش کروں گی کہ اللّٰہ تو معاف کر دیتے ہیں مگر یہ معاشرہ یہ لوگ نہیں کرتے۔ آپ کا ماضی کسی بھوت کی مانند ساری عمر آپ سے چپکا آپ کا پیچھا کرتا ہے۔ اپنی زندگی کو آنے والے کل کا پچھتاوا مت بنائیں۔جو ہوگیا اس پہ توبہ کر کے آگے بڑھیں اور مضبوط رہ کر اپنے والدین اور اپنے گھر والوں کا فخر بنیں۔جو بھائی بیٹے اور بچے یہ پڑھ رہے ہیں وہ بھی یہ یاد رکھیں کہ لڑکیاں دل بہلانے کا سامان ہیں نا ہی کھلونے،جو گُزر چکا اسے بھلا کر ایک اچھے خاندان اور اپنی ماں کی بہترین تربیت کا ثبوت دیں۔ اس معاشرے کو اس قابل تو رہنے دیں کہ کل کو یہاں ہماری آپ کی آئندہ نسل بھی پروان چڑھ سکے۔

اور بھی غم ہیں زمانے میں، محبت کے سوا

راحتیں اور بھی ہیں، وصل کی راحت کے سوا!