اب اس کے لیے اہلِ دین آپس میں الجھیں؟ - حامد کمال الدین

’’تنگ نظری‘‘ کی ایک تعریف یہ ہو سکتی ہے کہ: ایک چیز جس کی دین میں گنجائش ہو، لوگوں کو آپ وہ گنجائش ہی دینے پر آمادہ نہ ہوں۔

پھر اگر اس پر توبیخ اور سرزنش بھی ہونے لگے.. تو اس کا نام ’’لٹھ ماری‘‘ ہے۔

اب جہاں تک ’’گنجائش‘‘ کی بات ہے تو ایک مرنے والے کی دین دشمنی اگر عام دیکھنے میں آئی ہو، پھر بھی جب تک معیّن (نامزد) کر کے کسی باقاعدہ اسلامی قضاء یا اِفتاء کی جانب سے اُس پر ایک حکم نہیں لگایا گیا، تب تک اُس کےلیے ترحّم (بخشش کے دعائیہ کلمات منہ پر لے آنے)، حتیٰ کہ مسلمانوں کی کسی سیاسی یا سماجی مصلحت کے تحت اس کے جنازے میں شریک ہو آنے کی ایک گنجائش ہے، خصوصاً ایسی مسلم شخصیات یا انجمنوں کی جانب سے جن کی سیاسی یا سماجی پوزیشن اس بات کی متقاضی ہو۔ دین ناآشنا طبقوں کے اِس وقت ماحول پر حاوی ہونے کے باعث، کسی درجہ میں اس بات کی ضرورت تھی؛ اور شاید ایک عرصہ رہے بھی۔

دوسری جانب، ’’ما أنزل اللہ‘‘ (اللہ کے اتارے ہوئے احکام و قوانین) پر معترض اور تمام عمر اس کے خلاف محاذآرا رہنے والے ایک شخص سے مخاصمت اور بیزاری کر لینے کی بھی نہ صرف گنجائش ہے (خصوصاً ان مسلمانوں کی جانب سے جنہیں کوئی ایسی ناگزیر سیاسی یا سماجی مصلحت لاحق نہیں ہے جس کا اوپر ذکر ہوا) بلکہ اصل یہ ہے کہ ایک مسلم معاشرے میں اللہ اور رسولؐ کے ساتھ محاذ آرائی کا چلن کرنے کروانے والوں سے اظہارِ براءت کیا جائے، الّا یہ کہ کوئی راجح شرعی مصلحت اس میں مانع ہو۔

اس لحاظ سے.. دین دشمنی کی شہرت رکھنے والے ایک شخص کے مرنے پر کچھ اہل دین شخصیات یا فورمز کی جانب سے اگر اظہارِ افسوس کر لیا گیا، یا نپے تلے الفاظ میں کوئی بھلی بات اس مرنے والے کے حق میں کہہ دی گئی، یا حتیٰ کہ دعائے بخشش پر مشتمل کوئی پیرایہ بول دیا گیا، تو گنجائش اس بات کی بھی تھی۔ اور بقیہ مسلمانوں نے اگر اس عداوتِ دینی کا اظہار کیا جو مسلم معاشرے میں شرعِ خداوندی پر معترض ایک ظالم کا اصولی حق ہے، تو اس میں بھی کچھ برا نہ تھا۔ ان دونوں (اہلِ دین) فریقوں کا آپس میں الجھنا یا ایک دوسرے کو غیرت یا اخلاق کے طعنے دینے چل دینا البتہ غیرضروری اور نادرست تھا۔ ویسے، جس شخص کی زندگی ہمارے لیے اتنی اہم نہ ہو اس کے مرنے پر کیا ہم اہل دین آپس میں الجھ جایا کریں؟

یہ بھی پڑھیں:   عاصمہ جہانگیر کی موت اور تکلیف دہ رویے - حافظ یوسف سراج

دیندار لوگ یہاں آپس میں ایک دوسرے کو عذر دینا اور دین کی دی ہوئی گنجائشوں میں رہنا سیکھ لیں تو کوئی جیے یا مرے ہمارا اپنا ایک بہت بڑا مسئلہ حل ہوتا ہے۔ ورنہ، کسی کے جینے پر تو کسی کے مرنے پر ہم ایک دوسرے کی زندگی عذاب بناتے رہیں گے۔ کیا یہ ضروری ہے کہ یہاں پیش آنے والا ہر چھوٹا بڑا واقعہ ہمارے آپس میں ایک جدل اٹھا دے؟ آپ کے اوقات اور توانائیاں اس بات کی متحمل ہیں؟ فریقِ مخالف کو بھی کیا ایسے کسی موقع پر آپس میں لڑتے اور ایک دوسرے کی خبر لیتے دیکھا ہے؟ نہیں نا۔ بڑے آرام سے وہ رول تقسیم کر کے ہمارے خلاف کھیل لیتے اور ’مٹھی بھر‘ ہونے کے باوجود ہمیں دیوار سے لگائے رکھتے ہیں، مگر ہم ’’سوادِ اعظم‘‘ سے یہ نہیں ہوتا۔ کچھ اُنہی سے اِس باب میں سیکھ لیا ہوتا!

بھائی آپ دونوں فریق ایک مسئلہ کو جتنا تنگ سمجھتے ہیں وہ اتنا تنگ نہیں ہے۔