یقینا بسنت منانا بہت ضروری ہے - ابوبکر قدوسی

یقینا بسنت منانا بہت ضروری ہے:
کیوں نہ ہو؟ آخر ثقافت کی بقا مطلوب ہے، کہ جو دم توڑتی جا رہی ہے۔ کبھی رہا ہوگا موسمی تہوار لیکن ہم نے تو دیکھا کہ اس تہوار نے ہمیشہ جانیں لیں۔ معصوم بچے ذبح کیے، ماؤں کی گود اجاڑی۔

یہ 1986ء کا سن تھا، میں کالج سے پڑھ کے اپنے والد محترم کی دکان مکتبہ قدوسیہ آیا۔ وہاں ایک صاحب گورے چٹے سیاہ داڑھی والے بیٹھے تھے اور اپنا قصہ سنا رہے تھے۔ ان کے چہرے پر زخم کا نشان جو بھرنے کو تھا، اور ہاتھ پر بھی گہرے کٹاو کا مندمل ہوتا زخم۔ بتا رہے تھے کہ اگلے روز موٹر سائکل پر سوار جا رہے تھے کہ ظالم ڈور نے آ لیا۔ جان بچی لیکن شدید زخم آئے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ یہ عبد الرشید قمر تھے جو پاکستان کے معروف خطاط ہیں۔

پھر سولہ برس پہلے میں اس جنازے میں تھا، ان دنوں کچھ عرصے کو سمن آباد میں اسلامیہ پارک کے جوار میں رہائش پذیر تھا۔ ہمارے ہمسائے انجینیر اشفاق صاحب تھے، متدین نمازی، باشرع۔ بیٹے کے ساتھ موٹر سائکل پر جا رہے تھے۔ بیٹا پیچھے بیٹھا تھا، ڈور آئی اور باپ کو چھوڑتی ہوئی پیچھے بیٹھے بیٹھے کو تاک لیا اور گلے کو کاٹتی چلی گئی۔ سامنے سے آتی تو ممکن تھا باپ فوری سواری کو روک لیتا، لیکن قیامت اب کے سامنے سے نہیں پیچھے سے آئی، فوری معلوم ہی نہ پڑا کہ کیا قیامت گزر گئی۔ موٹر سائیکل روکی تو شہ رگ کٹ چکی تھی۔ باپ بیٹے کو اٹھا کے ہسپتال بھاگا، لیکن بیٹا تو جا چکا تھا اور گئے لوگ بھی بھلا واپس آتے ہیں۔ آٹھ نو برس کا سرخ سپید بیٹا لاش کی صورت باپ کے ساتھ گھر آ گیا۔ میانی صاحب قبرستان کی جنازہ گاہ میں باپ نے خود جنازہ پڑھایا۔ کمال ضبط کہ جو دین سےگہری وابستگی کی خبر دے رہا تھا، لیکن باپ تھا، کیسا بھی ضبط ہو درد سے تو چھٹکارا نہیں۔ میں آج تک اس جنازے کے اثرات سے باہر نہیں نکل سکا۔ باپ کی آواز میں ایسا درد تھا، ایسا سوز، اتنی تڑپ کہ میں کئی روز تک بے چین رہا اور اپنی اہلیہ سے اس کا تذکرہ کرتا رہا۔

یہ بھی پڑھیں:   تحریک انصاف کی ناکامی کی وجوہات - وارث اقبال

پھر انھی دنوں کا ایک اور قصہ سناتا ہوں۔
ہم بھول جاتے ہیں نا، ہماری یادداشت بہت کمزور ہے۔ یہ نعمت ہی تو ہے کہ ہم بھول جاتے ہیں اور جو بھولتے نہیں، وہ میری طرح رات رات بھر بستر پر کروٹیں بدلتے رہتے ہیں، اپنی جان کو جلاتے رہتے ہیں۔ وہ اپنے باپ کا اکیلا بیٹا تھا اور ایک ہی بیٹی، انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور میں گزیٹڈ آفیسر باپ، زندگی اچھی گزر رہی تھی، امیدیں جوان ہو رہی تھیں۔ دو ہی بچے تھے ایک بیٹا اور ایک بیٹی، دونوں بچے اب جوان ہو چلے تھے، پڑھ لکھ رہے تھے، ماں باپ کی آنکھوں میں امید کے دیپ زیادہ ہی روشن تھے کہ منزل اب قریب تھی۔ بیٹی کا امتحان تھا ، بھائی اسے لے کر جا رہا تھا۔ لاہور اسٹیشن سے ذرا آگے ریلوے پل ہے جسے گڑھی شاہو کا پل کہتے ہیں، وہاں ڈور آئی اور نوجوان کا گلا کاٹ گئی۔ موٹر سائیکل گری تو پیچھے سے ٹرک چڑھا آ رہا تھا، دونوں بچے کچلے گئے اور جان کی بازی ہار گئے۔ عمر بھر کی کمائی لمحوں میں ختم ہو گئی۔ اور ہاں ایک اور بات بھی بتا دوں جو اخبار میں نہ آ سکی، کیونکہ واقعہ پرانا ہو چلا تھا، خبر آ کے گزر گئی تھی۔ مجھے ایک واقف حال نے برسوں بعد بتایا کہ وہ باپ پاگل ہو گیا تھا۔

لیکن اس کے باوجود میں کہوں گا کہ بسنت منانا بہت ضروری ہے، وہ اس لیے کہ:
ہمیں اپنی ثقافت بھی تو بچانی ہے جو ساری کی ساری اس موئی بسنت میں سمٹ آئی ہے، اور بسنت کی رات کوٹھوں پر ہونے والے مجروں میں اس کا اظہار ہوتا ہے۔ جب جام الٹائے جاتے ہیں، شراب لنڈھائی جاتی ہے۔ جی ہاں یہی تو ہماری ثقافت ہے، اگر کسی کو مجھ سے اختلاف ہے تو مجھے بتائے کیا یہ چار کام اب بسنت کا مستقل حصہ نہیں؟
کیا طوائفوں اور گرل فرینڈز کے بنا بسنت کا تصور ہے؟
کیا شراب کے بغیر اسے ادھورا تصور نہیں کیا جاتا؟
کیا کان پھاڑنے والے انڈین اور لچر پنجابی گانوں کے بغیر یہ پھیکی نہیں جانی جاتی؟
کیا لاہور کے ہوٹل اس روز زنا کے اڈوں اور طوائف کے کوٹھوں میں نہیں بدل جاتے؟

یہ بھی پڑھیں:   پشتون ثقافت؛ تبدیلی اور مکالمے کی متلاشی - عبدالمتین اخونزادہ

اور جو "عقل کے کورے " اور دانش کے "بزرجمہر" اس کے لیے تاریخ سے ڈھونڈھ ڈھونڈھ کے "دلائل" لاتے ہیں کہ اس کا ہندو ثقافت سے کوئی تعلق نہیں۔ بھلے نہ ہو، یہ ہندوؤں کا چھوڑ، مسلمانوں کا ہی تہوار رہا ہو، لیکن کیا اس قتل و غارت گری کو ثقافت کہا جا سکتا ہے؟

اور میں ان سے بھی ایک سوال پوچھتا ہوں جو مغرب کے زرخرید "دانش ور " ہیں کہ مغرب میں شخصی آزادی کا یہ تصور ہے کہ اگر کوئی اپنے بیڈ روم میں بھی اونچی آواز میں میوزک لگائے اور ہمسایہ بےآرام ہو تو وہ پولیس کو بلا سکتا ہے، لیکن اس بسنت میں چھتوں پر اس قدر بلند آواز میں میوزک لگایا جاتا ہے۔ کیا یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی نہیں؟

ایک جھوٹ جو مسلسل بولا جاتا ہے کہ جب سے دھاتی ڈور آئی تب سے یہ ہلاکتیں شروع ہوئیں۔ میرا سوال ہے کہ جو چھت سے گر گے مرتے ہیں، جو پتنگ لوٹتے گاڑیوں کی زد میں آ کر جان ہارتے ہیں اور جو شراب کے نشے میں کی جانے والی ہوائی فائرنگ کی اندھی گولیوں سے مارے جاتے ہیں، وہ کیا ہوئے؟

آپ تیس برس، چالیس برس پرانے اخبارات اٹھا کے دیکھ لیجیے۔ بسنت سے اگلے روز سے اخبارات ان خبروں سے بھرے ہوئے ہوں گے۔ اصل میں ہوا یوں کہ قتل و غارت گری حد سے بڑھ گئی، دھاتی ڈور نے اس میں نمایاں اضافہ کر دیا تو "جرم" کو ثقافت کے پردے میں چھپانا ممکن نہ رہا۔ اور ظاہر ہے کثافت کب تک ثقافت کے پردے میں چھپائی جا سکتی ہے؟

اس کے حامیوں کا ایک ہی مقصد ہے کہ اس معاشرے میں بے حیائی کیسے پھیلانی ہے؟ اس کی اخلاقی اقدار کو کیسے تباہ کرنا ہے؟ سو ان کی حمایت بھی اسی ایجنڈے کے پیش نظر ہے۔ یہ طبقہ اتنا ظالم ہے کہ اپنی تفریح کے لیے دوسروں کے گلے کٹنے پر بھی ان کے دلائل یہ ہوتے ہیں۔ ایک بسنتی وزیر کا بیان اخبارات میں چھپا تھا کہ :
"اس سے کہیں زیادہ ہلاکتیں ڈکیتیوں، ٹریفک حادثات اور خود کشیوں میں ہوتی ہیں، ا س پر کوئی نہیں بولتا۔" (نوائے وقت)
یہ ہیں خیالات اور سطحی پن ہمارے ان "انسان دوست ثقافتیو " کا۔