بدعت، تاریخی و تقابلی جائزہ (3) - محمد عمران خان

پچھلی قسط

اہلِ حدیث احناف اختلاف کی نوعیت:

پروفیسر ڈاکٹر محمد یٰسین مظہر صدیقی لکھتے ہیں: حضرت شاہ ولی اللہ دہلوی (1703-62)اور بعض دوسرے اہلِ علم نے فقہی اختلافات پر خاصے مدلل و مفصل اور تجزیاتی مباحث پیش کیے ہیں غالباً اس کی وجہ اجتماعی زندگی میں فقہ کی روز مرہ رہنمائی کی ضرورت سب سے زیادہ اہم تھی کہ عوام و خواص دونوں کو ہر معاملہ میں فقہی آراء کی طلب تھی صرف فقہی اور دینی اختلافات کی وجوہ (ضروبِ اختلاف) بیان کی ہیں جو ان کے مطابق سات (۷) ہیں: (۱) قرآن و حدیث کے حکم کی عدم موجودگی یا عدم علم کی صورت میں اجتہاد کرنا اور اجتہاد میں صحابہ کا اختلاف کرنا، (۲) سنتِ نبوی کو دو محوروں یا محملوں پر محمول کرنا (۳)وہم و گمان کیوجہ سے اختلاف کرنا (۴) سہو و نسیان کی بناء پر مختلف ہونا (۵) اخذ روایت میں اختلاف کرنا (۶) علت احکام کے استنباط میں اختلافِ فکرو عمل کا ہونا اور (۷) بظاہر متضاد و متصادم احادیث میں تطبیق دینے پر اختلاف کرنا۔

ان میں سب سے اہم وجہ ِاختلاف کی طرف نظر ذرا کم گئی ہے اور وہ ہے سنن و تعلیمات نبوی کی گونا گونی اور تنوع۔ رسول اکرم ﷺ نے متعدد صحابہ کرام کو اپنی خاص سنن کی تعلیم اور وہ ایک اصل کی متعدد فروع تھیں لہٰذا صحابہ کرام ان تنوع ِ سنن پر عمل پیرا رہے۔ ان صحابہ کرام نے اپنے معاصر صحابہ اور تابعین کو اپنی ہی سیکھی ہوئی سنتوں کی تعلیم دی اور ان کے شاگردوں نے اپنی اپنی سیکھ کی تعلیم دی۔ یہ تنوع اور گونا گوں سنتیں نسل در نسل صحابہ، تابعین اور تبع تابعین اور بعد کی نسلوں میں اسی طرح مختلف انداز میں منتقل ہوتی رہیں۔ فقہاء کرام بالخصوص مسالک و مکاتب فکر کے بانیوں ابو حنیفہ، مالک، شافعی، احمد بن حنبل وغیرہ رحمہم اللہ۔ نے ان منتوع سنتوں کو اپنے اپنے شیوخ و اساتذہ سے لیا تھا لہٰذا وہ ان پر جم گئے اور ان کو افضل قرار دینے کا رجحان پیدا ہوا، حالانکہ وہ سب افضل ہیں کہ ایک اصل سنت کی متعدد فروع ہیں جیسے تشہد اصل ہے اور ان کی دعائیں جو حضرات عمر، ابن عمر، ابن مسعود، ابن عباس، ابن عمر رضی اللہ عنہم وغیرہ سے مروی ہیں، فروع ہیں۔ ان میں تشہد ابنِ مسعود کو افضل قرار دینے کا رجحان و فکر صحیح نہیں ہے۔ وضو، غسل، نماز وغیرہ کی عبادات کی سنتوں کا تنوع اختلاف ِصحابہ کرام کا باعث تھا مگر وہ سب محمود تھا جیسے وضو میں دو بار یا تین بار اعضاء دھونا، غلس میں اعضاء پر پانی بہانا یا ان کو مسلنا، نماز میں ثناء تسبیحات رکوع و سجود وغیرہ، تشہد و التحیات، درود اور دعاء وغیرہ کی مختلف دعائیں پڑھنا۔ ان میں اصل ثناء، تسبیح، تشہد، درود اور دعاء تھیں، ان کی مختلف مسنون دعائیں فروع تھیں۔ ان ہی پر دوسری عبادات روزہ، و زکوٰۃ اور حج وغیرہ کی سنن کی اصل اور اس کی فروع کو قیاس کیا جاسکتا ہےجیسے رکوع کی تسبیح، رکوع کے بعد کھڑے ہونے کی پر قومہ کی تسبیحات، سجدوں کی تسبیحات پانچ چھ ملتی ہیں۔ تشہد۔ التحیات کی دعائیں آٹھ نو ملتی ہیں، ان میں سے کوئی بھی پڑھ لے سنت ادا ہوجائے گی۔

اسی طرح شاہ صاحب کا یہ خیال کہ فقہ کے اماموں نے بلا کسی دینی یا تشریعی وجہ ترجیح کے اپنی پسند کے مطابق کسی فرع سنت کو اختیار کر لیا صحیح نہیں ہے۔ ائمہ فقہ اور بانیانِ مسالک کا اختیارِ فرع دراصل ان کے شیوخ کے واسطہ سے کسی خاص صحابی کا مسلک ہے۔ چونکہ صحابہ کرام، ان کے شاگرد صحابہ و تابعین اور ان کے پروردہ مجتہدین و فقہاء حقیقت سے واقف تھے لہٰذا وہ سب فروعِ سنن کو صحیح سمجھتے تھے اور دوسروں کو بھی صحیح قرار دیتے تھے لہٰذا ان پر مسلکی اور فقہی جھگڑے نہیں ہوئے۔ یہ تو بعد کے جامد ذہنوں کے کارنامے ہیں۔ گویا یہ ’اختلافِ تنوع ‘تھا ’اختلافِ تضاد ‘نہ تھا کہ جن پر جھگڑے کیے جاتے۔ صحابہ کرام ؓ کا مختلف سنتوں سے الگ الگ تمسک کرنا (پکڑنا)، اور ان پر عمل کرنا اور ان کی تعلیم و تدریس کرنا ٹھیک طریقہ نبوی کے مطابق تھا۔ وہ فرمانِ عالی اور سنت سامی کے مطابق امت مرحومہ اور عالم ِ بشریت کے لیے مبشرین بن کر پھیلے تھے، وہ بشارت و سہولت عطا فرماتے تھے، نفرت و تنگی نہیں پیدا کرتے تھے۔ فروع اور سنن اور مستحباب و نوافل میں تنوع دراصل اسی سہولت کی خاطر رسول ﷺ نے بنفسِ نفیس پیدا فرمایا تھا۔ (عہدِ نبوی میں اختلافات، جہات، نوعیتیں اور حل)

ابو عمار زاہد الراشدی فرماتے ہیں: محدثین کرام روایت کی نمائندگی فرماتے ہیں۔ ظاہر بات ہے کہ ان کے ہاں ترجیح کی بنیاد روایت کے اصول اور تقاضے ہوں گے، جبکہ فقہائے کرام درایت و استنباط کا فریضہ انجام دے رہے ہیں تو وہ تفقہ و استنباط کی ضروریات کو ترجیح دیں گے اس لیے یہاں یہ فرق صرف ذوق و اسلوب کا نہیں رہتا، بلکہ اپنے اپنے کام کی ضروریات بھی اس کا حصہ بن جاتی ہیں اور یہی بات امت میں محدثین کرام اور فقہائے عظام کے دو مستقل طبقات کے ظہور و ارتقاء کا باعث بنی ہے (فقہائے احناف اورفہم حدیث)۔ احناف کے ہاں ایک عرصہ تک یہ اسلوب رہا اور کسی حد تک اب بھی ہے کہ کسی مسئلے کی دلیل میں بنیادی طور پر فقہی جزئیہ پیش کیاجاتا ہے اور اس کی تائید میں قرآن و حدیث سے حسبِ ضرورت شہادت لائی جاتی ہے۔ میری طالبعلمانہ رائے میں حضرت شاہ ولی اللہ وہلوی نے دراصل اس ترتیب کو بدلنے کی تحریک کی تھی وہ فقہ حنفی کے دائرے سے بالکل نکل جانے کے حق میں نہیں تھے۔ مزید کہتے ہیں کہ فقہ و اجتہاد کے باب میں اہل السنۃ (احناف، شوافع، مالکیہ، حنابلہ اور ظواہر)کا مسلمہ اصول یہ ہے کہ کسی مسئلے میں جو موقف ہم میں سے کسی نےا ختیار کیا ہے وہ صوا ب ہے، جبکہ دوسری طرف کا موقف خطا پر مبنی ہے مگر اس میں صواب کا احتمال بھی موجود ہے (ماہنامہ تعمیر افکار۔ کراچی، مسلکی و فقہی اختلافات)۔

محمد ابو زہرہ (1898-1974)امام ابو حنیفہ ؒعہدو حیات میں، امام ابو حنیفہ ؒ اور امام اوزاعیؒ کا مناظرہ نقل کرکے امام ابو حنیفہ ؒ کا جواب نقل کرتے ہیں کہ: ’’حماد، زہری سے زیادہ فقیہ تھے اور ابراہیم سالم سے افقہ تھے اور ابنِ عمرؓ کو اگرچہ شرفِ صحابیت حاصل ہے لیکن فقاہت میں علقمہ کا درجہ ان سے کم نہیں ہے اور اسود کو مزید فضیلت حاصل ہے‘‘۔ اس روایت کا آخری حصہ ہے: ’’ ابراہیم، سالم سے افقہ نہیں اور اگر فضلِ صحبت کا لحاظ نہ ہوتا تو میں کہتا کہ علقمہؓ، عبداللہ ؓ بن عمر سے زیادہ فقیہ تھے اور عبداللہ تو عبداللہ ہی ہیں (حجۃ اللہ البالغہ)۔ یعنی مذکوہ بالا اشخاص میں عبداللہ بن مسعود ؓ کے برابر کا کوئی بھی نہیں ہے ‘‘۔ ابو زہرہ کہتے ہیں:اس مناظرے سے معلوم ہوتا ہے کہ اما م ابو حنیفہ ؒ ترجیح کےموقع پر راوی کی فقاہت کو ملحوظ رکھتے تھے اور افقہ کی روایت کو غیر افقہ پر ترجیح دیتے تھے۔ اس مناظرے سے اشارۃ ً دوسرا پہلو یہ بھی نکلتا ہے کہ ہر فقیہ اپنے علاقہ کے ان محدثین پر فخر کرتا تھا جن سے وہ روایات حاصل کرتا تھا۔ اس کا اصل سبب اس دور میں علاقائی تعصب تھا۔ یا زیادہ دقیق الفاظ میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہر اقلیم کے لوگ احادیث کے اسی ذخیرہ پر قناعت کیے ہوئے تھے جسے انہوں نے اپنی اقلیم کے راویوں سے حاصل کیا تھا وہ راوی ان احادیث کو ان صحابہ سےروایت کرتے تھے جو ان کے اقلیم میں منتقل ہو کر چلے آتے تھے۔

یاد رہے تابعی حضرت مسروقؓ کے خیال میں شریعت کا تمام علم چھ صحابہ کرام میں مجتمع ہو گیا۔ حضرات ۱۔ عمرفاروق، ۲۔ علی المرتضیٰ، ۳۔ ابی بن کعب، ۴۔ زید بن ثابت، ۵۔ ابو دردا، ۶۔ ابنِ مسعود رضی اللہ عنہم۔ پھر ان سے علم حضرت علی ؓبن ابی طالب اور حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کے دو اصحاب میں منتقل ہوا۔ پھر عمرفاروق، علی، ابو ہریرہ (۵۶ھ)، ابنِ عمر (۷۳ھ)، جابر (۷۸ھ)، انس (۹۳ھ)رضی اللہ عنہم سے مدینہ منورہ میں اشاعت ہوئی ’’مدینہ اسکول۔ حجازی مکتبہ فکر۔ اہل الحدیث‘‘ جن سے تابعین عروۃ (۹۴ھ)، سعید بن مسیب (۹۴ھ)، سالم (۱۰۶ھ)، نافع (۱۱۷ھ)اور زہری (۱۲۴ھ)رحم اللہ علیہم اجمعین تک پہنچا۔ یہاں سے ربیعۃ الرائے (۱۳۶ھ)، زید بن اسلم (۱۳۶ھ)، ہشام بن عروہ (۱۴۴ھ) یہاں سے امام مالکؒ (۱۷۹ھ)۔۔۔ جبکہ دوسری جانب ابنِ مسعود (۳۲ھ)، علی (۴۰) سے تابعین کرام علقمہ (۶۲ھ)، مسروق (۶۳ھ)، قاضی شریح (۷۸ھ)جن سے ابراہیم نخعی (۹۶ھ)، شعبی (۱۰۴ھ)، حماد بن سلیمان (۱۲۰ھ) سے ہوتا ہوا امام ابو حنیفہ ؒ (۱۵۰ھ) تک پہنچا جو ’’کوفہ اسکول۔ اہل الرائے۔ احناف‘‘کہلایا۔ امام شافعی ؒ (۲۰۴ھ) نے کوفہ اسکول اور مدینہ اسکول کے مسائل کے فقہ کا فہم حاصل کر کے شافعی فقہ کی بنیاد رکھی اور پھر ان کے شاگرد امام احمد حنبلؒ (۲۴۱ھ) نے حنبلی فقہ کی بنیادیں رکھیں۔ آخری صحابی کا انتقال ۱۱۰ھ میں، آخری تابعی کا انتقال ۲۱۰ھ میں اور آخری تبع تابعی ۳۰۰ھ میں اس دارِ فانی سے کوچ فرما گئے۔ شاہ صاحب نے سعید بن المسیب ؒکو مدینہ کی زبان جبکہ ابراہیم نخعی ؒکو کوفہ کی زبان قرار دیاہے۔

علامہ احمد تیمور پاشا فقہی مذاہب اربعہ کے فروغ میں کہتے ہیں: اصحابِ امام ابو حنیفہؒ اہل الرائے کہلاتے تھے کیونکہ عام خیال یہ ہے کہ عراق میں حدیثیں نسبتاً کم پہنچیں، لہٰذا انہوں نے (فقہی مسائل استنباط کرنے کے لیے) قیاس سے بہت کام لیا اور اسی وجہ سے وہ قیاس کرنے میں ماہر ہوگئے۔ اس حوالہ سے ابو عمار زاہد الراشدی، فقہائے احناف اور فہمِ حدیث کے پیش لفظ میں کہتے ہیں: ان اعتراضات میں سے ایک اعتراض یہ بھی ہے جو امام اعظم پر قلتِ روایتِ حدیث اور اپنے قیاسات میں احادیث کی مبینہ مخالفت کے عنوان سے مسلسل لگایا جارہا ہے حالانکہ سادہ سی بات ہے کہ اگر امام صاحب پر اعتراض یہ ہے کہ انہوں نے سیکٹروں مسائل میں حدیث ہونے کے باوجود اس کی مخالفت کی ہے تو ’قلتِ معرفتِ حدیث‘ کا الزام محلِ نظر ہے اور اگر ’احادیث معلوم نہ ہونے ‘کیوجہ سے قیاس پر اعتراض کیا جارہا ہے تو یہ ’مخالفت حدیث‘کا اعتراض نہیں بنتا، لیکن اس کے باوجود اس الزام کا مسلسل اعادہ کیا جارہا ہےاور طعن و تشنیع کا بازار گرم رکھنے میں ہی تسکین محسوس کی جارہی ہے‘‘۔ گویا احادیث کے کم پہنچنے کا اعتراض درست ہے۔ نیز عمار خان ناصر نے واقعہ نقل کیا ہے کہ خلیفہ ابو جعفر منصور نے امام ابو حنیفہ ؒ کو لکھا کہ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ آپ قیاس کو حدیث پر ترجیح دیتے ہیں۔ امام ابو حنیفہؒ نے اس کی پر ذور نفی فرمائی۔ (المیزان الکبریٰ۱/۸۰)اس بیان سے بھی ظاہر ہے کہ امام موصوف ؒ پر مخالفتِ حدیث اور قلتِ حدیث کا اعتراض موجود رہا ہے۔

عمار خان ناصر الراشدی فقہائے احناف اورفہم حدیث میں فقہ حنفی پر اعتراض کے حوالہ سے کہتے ہیں: ان اعتراضا ت میں سے’رائے اور قیاس ‘کو ’احادیث و آثار ‘پر فوقیت دینے کا عتراض سب سے اہم ہے اور اس حوالہ سے ’حجازی مکتبِ فکر ‘کے ممتازترجمانوں نے ’اہل الرائے (احناف) ‘کے منہج کے متعلق سخت الفاظ میں اپنے منفی تاثر کا اظہار کیا ہے۔ ایسے مسائل میں اصل نکتہ اختلاف درجِ ذیل امور میں سے کوئی ایک ہے: (۱)ائمہ احناف کے ہاں روایات کی تحقیق اور ردو قبول کا اپنا ایک معیار (standard) ہے اور وہ ایسی روایات کو بنائے اجتہاد بنانے سے گریز کرتے ہیں کو ظاہری مفہوم کے لحاظ سے کتاب اللہ یا سنت مشہورہ یا شریعت کے اصول کلیہ سے ہم آہنگ نہ ہوں (گویا ان کی ’فقہی حیثیت ‘بنیادی اہمیت کی حامل ہے)۔ (۲) احناف اپنے فکرو فہم کے مطابق زیرِ بحث حدیث کے مختلف معنی مراد لیتے ہیں جو معترضین نے بیان کیا ہے۔ (۳) ائمہ احناف نبی ﷺ کے ایسے فیصلوں کو جو آپ نے بعض مواقع پر پیش آمدہ صورتِ حال کی ضروریات کے تناظر میں فرمائے، مستقل اور بے لچک شرعی احکام کا درجہ نہیں دیتے بلکہ ایسے معاملات میں شریعت کے اصولِ کلیہ کی روشنی میں اجتہادو قیاس کے ذریعے شارع کا منشا متعین کرنے کو ترجیح دیتےہیں۔

احناف کے منہجِ استدلال اور اصولوں میں احادیث و آثار کے قبول و رد کے حوالہ سے امام بزدویؒ اور امام سرخسیؒ کہتے ہیں: (۱) فقہائے احناف حدیث کے ذریعے سے کتاب اللہ کے نسخ کے قائل ہیں۔ (۲) مرسل روایات کو قابلِ استدلال سمجھتے اور مرسل کے ذخیرے سے بھرپور استفادہ کرتے ہیں (مسند و مرسل روایات میں کوئی فرق روا نہیں رکھتے اور اسپر عمل کو واجب سمجھتے ہیں)۔ (۳)مجہول راوی کی نقل کردہ روایت کو قیاس کے مقابلے میں قابلِ ترجیح قرار دیتے ہیں۔ (۴) صحابی کے قول کو قیاس پر ترجیح دیتے ہیں۔

یاد رہے ’’قواعدکلیہ Legal Maxims‘‘سے مراد وہ عمومی فقہی اصول ہیں جنھیں مختصر’ قانونی زبان ‘میں مرتب کیا گیا ہو اور جنمیں ایسے عمومی قانونی اور فقہی احکام بیان کیے گئے ہوں جو اس موضوع کے آنے والے حوادث و واقعات کے بارے میں ہوں۔ ڈاکٹر غازی مرحوم کہتے ہیں یہ قواعد مستقل بالذات شرعی دلیل نہیں رکھتے۔ یہ خود اپنی ذات میں مآخذِ قانون نہیں ہیں کہ محض کسی قاعدہ کلیہ کی بنیاد پر کوئی قانون وضع کیا جاس کے۔ مآخذِ قانون صرف قرآن وسنت ہیں یا وہ اجماع و اجتہاد و قیاس جو قرآن و سنت کی بنیاد پر وقوع پزیر ہوں۔ یہ فقہ اسلامی کے عمومی منہج و فکر کو ظاہر کرتے ہیں۔ احمد زرقاء کے بقول یہ قواعد فقیہ بنانے اور فقہ میں درک پیدا کرنے کے اصول ہیں، عدالتی فیصلوں کی بنیاد بننے والے قوانین نہیں ہیں۔ بعض اوقات عدل و انصاف، جلبِ مصالح، دفعِ مفاسد اور رفع حرج وغیرہ کے پیشِ نظر قاعدہ کلیہ کے انطباق کو محدود کر دیا جاتا ہے۔ (اصول ِ فقہ۔ قواعد کلیہ اول، ڈاکٹر محمود غازی، شریعہ اکیڈمی۔ اسلام آباد)۔

ٹیگز