مولانا ڈاکٹر عطاء الرحمٰن کون؟ - فضل ہادی حسن

مولانا ڈاکٹر عطاء الرحمٰن ایک نوجوان عالم دین ہیں۔ مردان سے تعلق اور جماعت اسلامی کے مشہور عالم دین مرحوم شیخ القرآن مولانا گوہر رحمٰن رحمہ اللہ کے بڑے صاحبزادے ہیں۔ ابتدائی تعلیم مردان ہی سے حاصل کی، جامعہ اسلامیہ تفہیم القرآن مردان سے درس نظامی کے بعد بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے بی اے آنرز اصول الدین (امتیازی نمبروں کے ساتھ) اور ماسٹرز کرنے کے بعد نیشنل یونیورسٹی آف ملائیشیا (UKM) کوالالمپور سے پی ایچ ڈی کرچکے ہیں جبکہ دوران پی ایچ ڈی ہی انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی ملائیشیا، کوالالمپور اور یونیورسٹی آف پترا کے ساتھ بطور لیکچرار (وزٹنگ) منسلک رہے ہیں۔

ملائیشیا میں میں درس و تدریس سے منسلک تھے کہ اس دوران والد بزگوار (میرے استاذ محترم) کی کمزوری صحت کی بناء پر وقتاً فوقتاً پاکستان آکر جامعہ اسلامیہ تفہیم القرآن مردان کو بھی توجہ دینے لگے۔ جب شیخ صاحب کی صحت کافی کمزور ہوگئی اور درس و تدریس میں چند کتب کو چھوڑنا پڑا تو اس وقت ملائیشیا کو خیرباد کہتے ہوئے اپنے والد کی حکم پر مردان آکر ادارے سے منسلک ہوگئے اور اب تک اس ادارے میں تدریس و اہتمام کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔

ڈاکٹر عطاء الرحمٰن مردان سے سابق ممبر قومی اسمبلی ہیں جبکہ جماعت اسلامی ضلع مردان کی امارت سے پہلے الخدمت فاؤنڈیشن مردان کے صدر کے طور پر علاقے کی فلاح و بہود کے لیے سرگرم رہے ہیں۔ 2003ء سے جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی شوریٰ و مجلس عاملہ کا رکن ہیں، نیز مرکزی شوریٰ کے امور خارجہ کمیٹی کا رکن، دینی مدراس کے بورڈ رابطۃ المدارس الاسلامیۃ پاکستان کے ناظم اعلیٰ جبکہ وفاقی شرعی عدالت کے فقہی مشیر (Jurist Consult) ہیں۔

ڈاکٹر عطاءالرحمٰن عالمی فورمز پر بھی پاکستان کی نمائندگی کرچکے ہیں اس وقت بین الاقوامی علماء کی یونین "الاتحاد العالمی لعلماء المسلمین" (International Union for Muslims scholars) اور انٹرنیشنل فورم فار اسلامسٹ پارلیمنٹرین (المنتدی العالمی للبرلمانیین الاسلامیین یا International Forum for Islamist Parliamentarians) کے رکن بھی ہیں۔

ڈاکٹر صاحب ایک جید عالم دین ہیں جو جدید و قدیم علوم پر عبور حاصل ہونے کے ساتھ بات کو بہترین انداز سے پیش کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب جماعت کی مرکزی شوریٰ کے نئے ممبر بنے تو ملائیشیا سے اسلامک فنانس اور بنکنگ میں ایک سالہ کورس میں ان کو داخلہ مل گیا تھا۔ ایک ملاقات میں انہوں نے اس بارے میں ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میں ایک کمی محسوس کر رہا تھا کہ ہمارے علماء میں اس طرف کوئی رجحان نہیں ہے، اس وجہ سے اسلامی معیشت اور بنکنگ کے حوالے سے ایک مختصر دورانیہ کا کورس پڑھنے کے لیے ملائیشیا جا رہا ہوں۔ یاد رہے ڈاکٹر عطاء الرحمٰن اس وقت اکنامس ریفامز کمیشن خیبر پختونخوا کے ممبر بھی ہیں۔

مشعال قتل کیس فیصلہ کے بعد پہلی دفعہ ڈاکٹر عطاء الرحمٰن کا نام میڈیا پر زیر بحث آیا جب ایک کلیریکل غلطی کی وجہ سے ایک ڈیزائن میں ایک لفظ پر پاکستانی میڈیا اور سوشل میڈیا نے ڈاکٹر صاحب کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔ رہائی پانے والوں کے استقبال کرنے کے بعد مین اسٹریم میڈیا نے ڈاکٹر عطاءالرحمٰن اور جماعت اسلامی کا مؤقف جاننے کے لیے مردان کا رُخ کیا۔ اس واقعے کے متعلق انہوں نے اہل مردان کی ترجمانی کرتے ہوئے علاقے کی صورتحال، جماعت اسلامی اور اپنا مؤقف بہترین انداز میں میڈیا کے سامنے رکھا۔

ہمارے معاشرے میں ہر قسم اور مختلف المزاج لوگ رہتے ہیں، لوگوں نے اشتہار پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ان پر طعن وتشنیع بھی کیا، لیکن انہوں نے بہت اچھے انداز اور شائستگی سے لوگوں کے سوالوں کے جوابات دیے، یہاں تک کہ جماعتی فورمز پر چند ساتھیوں کی طرف سے ناراضگی اور سخت قسم کی پوسٹ اور کمنٹس پر انہوں نے مناسب، اصل واقعہ اور صورتحال بتا کر مؤقف پیش کیا۔

بلاشبہ ڈاکٹر عطاء الرحمٰن ایک عالم دین، سیاستدان ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین پریزنٹیٹر بھی ہے انہوں نے بیسیوں دفعہ مختلف عرب اور مغربی ممالک میں عالمی فورمز پر اسلام، مذہب اور معاشرت، نظام تعلیم اور مدرسہ ایجوکیشن، بنیادی انسانی حقوق سمیت دیگر موضوعات پر منعقدہ کانفرنسز میں پاکستان اور دینی طبقہ کی نمائندگی کرچکے ہیں۔ان کے متعدد آرٹیکلز ملکی اور عالمی جنرلز میں شائع ہوچکے ہیں۔ کئی کتابوں کے مصنف جید اور محقق عالم دین کے ایک جید عالم دین بیٹا ہونے کے ناتے وہ نہ صرف جماعت اسلامی بلکہ تمام دینی حلقوں اور جماعتوں سمیت مردان سمیت صوبہ بھر میں قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔

Comments

فضل ہادی حسن

فضل ہادی حسن

فضل ہادی حسن اسلامک سنٹر ناروے سے وابستہ ہیں۔ جامعہ اشرفیہ لاہور اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے فارغ التحصیل ہیں۔ ائی آر میں ماسٹر اور اسلامک اسٹڈیز میں ایم فل کیا ہے۔ مذہب، سیاست اور سماجی موضوعات پر لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.