ایم کیو ایم مٹ کر رہے گی - یاسر محمود آرائیں

ہر عروج کو ایک دن زوال کا ضرور سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کوئی بھی قوت، دولت، اختیار اور اقتدار جہان میں ایسا ہرگز نہیں جسے دائمی کہا جاسکے۔ گردش ایام کے مضر اثرات سے کسی بھی دنیاوی شے کو فرار حاصل نہیں۔ شمس بھی اپنی آب وتاب کے باوجود نصف النہار پر پہنچنے کے بعد ڈھلنا شروع ہوجاتا ہے۔ تاریخ میں کتنے ہی بڑے رستم زماں گزرے جنہیں اپنی طاقت پر گھمنڈ تھا، اپنے آپ کو جو ناقابل تسخیر سمجھا کرتے تھے آج تہ خاک پڑے ہیں۔ اسی طرح بہت سے ایسے بادشاہ بھی زمانے کی گھڑیوں نے دیکھے ہیں جو خدا کے لہجے میں بات کیا کرتے تھے اور عملاً خدائی کے دعویدار رہا کرتے تھے۔ جن کا فرمانا یہ ہوا کرتا تھا کہ وہ اس زمین پر ناگزیر ہیں۔ وہی تو ہیں جن کی بدولت زمانے کے تار وپود باہم مربوط ہیں، اگر وہ اٹھ گئے تو جہاں سے رنگ وبو ناپید ہوجائیں گے۔ آج مگر کتنے ہیں جن کا نام ونشان باقی ہے؟سب کچھ ویسے ہی چل رہا ہے۔ وہی لیل ونہار ہیں اور ویسی ہی شمس وقمر کی رفتار ہے۔ دن بھی اپنے وقت پر شروع ہوتا ہے اور رات بھی اپنی صدیوں پرانی ترتیب کے مطابق ہی پر پھیلاتی ہے۔ موسموں کی چال ڈھال بھی ویسے ہی جاری ہے اور معاشرتی نمو میں بھی دن رات اضافہ ہی ہوا جاتا ہے۔ کچھ بھی تو نہیں بدلا، اور نہ ہی کچھ خلاف معمول ہوا۔ ہاں! اگر کچھ بدلا ہے تو وہ خود کو ناگزیر بتانے والوں کا چہرہ بدلا ہے۔ آج سے پہلے والے جانے کہاں جا سوئے ہیں؟بہت سے ایسے ہیں جن کی قبروں تک کے مقام سے کوئی واقف باقی نہیں بچا۔ کاش خود کو لازم سمجھنے والے بھی دیکھ سکتے کہ وقت کا پہیہ ان کے بغیر بھی اسی رفتار سے رواں دواں ہے۔ نہایت افسوس کا مقام ہے کہ ہر نیا آنے والا اپنے پیشرو کے اختیار واقتدار کی بے ثباتی سے واقف ہونے کے باوجود اس حقیقت سے نظریں چرائے رکھتا ہے کہ یہ رونق میلا عارضی ہے۔ یہ فراموش کر بیٹھتا ہے کہ یہ دنیا چار دن کی چاندنی ہے، اس کے بعد اندھیرا گڑھا مقام ہوگا اور نہ ختم ہونے والی تنہائی رفیق ہوگی۔ اگر یہ سبق اچھی طرح ازبر ہو اور عروج کے دنوں میں پختگی سے اس پر عمل کیا جائے تو واقعتا تاریخ میں امر ہوا جاسکتا ہے۔ پھر ایسے حالات پیدا کیے جاسکتے ہیں کہ اس دنیا سے گزرنے کے بعد بھی مدتوں یادوں میں بسیرا کیا جاسکے۔ لیکن اکثر لوگ دنیاوی اعتبار سے مقبولیت اور اقتدار کے عروج پر پہنچنے کے بعد مخلوق خدا کو کیڑے مکوڑوں کی مانند اور اپنی ذات کو کہیں برتر وفائق تصور کرنا شروع کردیتے ہیں۔ صرف یہی نہیں بلکہ خلق خدا پر ظلم وستم کی بھی تمام حدیں پار کرجاتے ہیں جس کے بعد خالق کائنات کے نظام عدل کی زنجیر ہلنا شروع ہوجاتی ہے۔ یہیں سے پھر عروج سے زوال کا سفر شروع ہوجاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   سلطنتِ متحدہ کے زوال کے اسباب - وسعت اللہ خان

ماضی قریب میں رئیس امروہوی جیسی نابغہ روزگار شخصیت کی زیر سرپرستی اور ایم ایس او کے بطن سے ایم کیو ایم نامی تنظیم وجود میں آئی۔ اس تنظیم کے قیام کا مقصد مہاجروں کے حقوق کا تحفظ بتایا گیا تھا۔ اس مہاجر قوم کے بارے میں ایک بار ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا اگر میں مہاجر قوم کا لیڈر ہوتا تو یہ مجھے جیل سے نکال کر لے جاتے۔ بدقسمتی سے مگر اس قوم کو الطاف حسین جیسی قیادت میسر ہوئی۔ ایک مدت تک مہاجروں نے اس شخص کو ان داتا کا درجہ دیے رکھا۔ اس شخص کو وہ توقیر نصیب ہوئی جس تک بڑے بڑے مشائخ نہیں پہنچ پاتے۔ اک زمانے میں اس کے چاہنے والوں نے اس کی ذات سے بہت سی کرامات منسوب کردی تھیں۔ بتایا جاتا تھا کہ درختوں پر الطاف بھائی کے نام کی شبیہ نظر آتی ہے۔ تنظیم میں شمولیت کے لیے سگے والدین کے مقابلے میں الطاف بھائی سے وفاداری کو ترجیح دینے کا حلف اٹھانا لازم ہوا کرتا تھا۔ شہر قائد میں زندگی گزارنے والا کوئی فرد "قائد"سے اختلاف کی جرات کا تصور نہیں کرسکتا تھا۔ "قائد" کے کنٹرول کا یہ عالم تھا کہ اس سے غداری کرنے والے زمین کے اوپر چلنے کا حق کھو بیٹھتے تھے۔

گزری تین دہائیوں میں الطاف حسین کی دھونس، دھمکی، جبر، خوف اور دہشت نے روشنیوں کے شہر کو گہنا کر رکھ دیا تھا۔ وہ جب چاہتے ایک اشارے پر پورے شہر کو بند کروا دیتے تھے۔ ٹارگٹ کلنگ، چائنا کٹنگ، سرکاری زمینوں پر قبضے، اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری سمیت کون سا ایسا جرم تھا جس میں وہ اور ان کی جماعت ملوث نہیں تھی۔ اس وقت شہر میں ان کی اجازت کے بغیر کوئی پرندہ بھی پر نہیں مارسکتا تھا۔ اچھے اچھوں کی پگڑیاں اچھالنے والے اخبارات ان کے جرائم پر لب سی لیتے تھے۔ بال کی کھال اتارنے کا دعویدار الیکٹرانک میڈیا جانتے بوجھتے ہوئے بھی الطاف حسین اور ایم کیو ایم سے وابستہ جرائم کو نا معلوم کھاتے میں ڈال دیا کرتا تھا۔ یہی ٹی وی اینکرز جو شرفا کو درست طور اپنا مدعا بیان کرنے کی اجازت نہیں دیتے، گھنٹوں تک اپنا کروڑوں کا ایئرٹائم برباد کرکے قائد تحریک کی اخلاق باختہ گفتگو، لچر گانے بلکہ گالیاں تک سنا کرتے تھے۔ تمام ملکی میڈیا پر اہم سے اہم سرکاری تقریب کی کوریج روک کر موصوف کی بہکی بہکی باتیں گھنٹوں تک نشر کرنا مجبوری تھی۔ الغرض ایک دور تک انہیں ایسی طاقت اور عروج حاصل رہا جس تک عصر حاضر کے ریاستی سربراہان بھی نہیں پہنچ سکتے۔

یہ بھی پڑھیں:   سلطنتِ متحدہ کے زوال کے اسباب - وسعت اللہ خان

جب ظلم حد سے بڑھ گیا، ہزاروں مظلومین کی آہیں عرش کے پردے سے گزر چکیں، سرکشوں اور عفریتوں کو ملنے والی دنیاوی مہلت کی مدت تمام ہوچکی تو پھر قدرت کا قانون حرکت میں آیا۔ ان کی مشکیں کسنے کا بہانہ ایک میڈیا ہاؤس پر حملہ بنا، مگر اس سے قبل جانے کتنے ایسے واقعات گزر چکے تھے۔ اب کوئی ادارہ لاکھ اس لسانی عفریت کو قابو کرنے کا کریڈٹ طلب کرے۔ حقیقت یہی ہے کہ اس کا وقت ختم ہوچکا تھا کیونکہ ہر عروج کو ایک دن زوال دیکھنا لازم ہے لہٰذا اسے بھی اپنے قدرتی انجام سے واسطہ پڑا ہے۔ میرے اللہ کی ایک اور سنت ہے کہ کوئی بھی ظالم اس وقت تک نہیں مرے گا جب تک اپنے ہی کارندوں کے ہاتھوں ذلیل نہ ہوجائے۔ یہ امر بھی "کمال" سے انجام کو پہنچ چکا۔ کس قدر عبرت کی جا ہے جو شخص برسوں تک موضوع سخن تھا اور جسے سننا سانس لینے کے لیے لازم تھا آج اس کا نام تک لینے پر پابندی ہے۔

یاد رہے کہ قدرت اپنا انصاف مکمل کیا کرتی ہے۔ ایسے نہیں ہوسکتا تھا کہ "قائد" کو مائنس کرکے بقیہ لشکر کو مزید ظلم کے لیے آزاد چھوڑ دیا جاتا۔ ایم کیو ایم کی تخریب کے بعد وجود میں آنے والے مختلف دھڑوں کی قیادت کے دعویدار بھی دامے درمے سخنے الطاف حسین کے تمام تر جرائم میں برابر کے شریک کار تھے۔ اگر یہ کارندے اپنے کندھے فراہم نہ کرتے تو کیا اکیلے الطاف کے لیے یہ خونچکاں داستان لکھنا ممکن تھا؟جب پوری جماعت شریک جرم تھی تو اس کی بقا کس طرح ممکن ہوسکتی ہے؟کچھ بھی کرلیں 22 اگست کے بعد جو جوتیوں میں دال بنٹنے کا سلسلہ شروع ہوا ہے یہ اسی طرح جاری رہے گا۔ ادارے بے شک اپنے مفادات کی خاطر کسی ایک دھڑے کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتے رہیں ایم کیو ایم کا وجود اب ہر صورت مٹ کر رہے گا۔ کیونکہ کاتب تقدیر کا ایک اور فرمان ہے کہ

ایک تیری چاہت ہے اور ایک میری چاہت ہے۔ لیکن ہوگا وہی جو میری چاہت ہے۔

پس نوشت: اس لسانی اور فاشسٹ تنظیم کی داستان تخریب میں ایسے تمام افراد کے لیے بھی عبرت پنہاں ہے، جو تازہ تازہ عصبیت کی راہ پر چلے ہیں اور اداروں کو ڈرانے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ خوف کا دور اب گزر چکا، اب کوئی دھونس میں آنے والا نہیں۔ چیف جسٹس صاحب نے بھی کہ دیا ہے کہ ہمیں ڈرانے والے باز آجائیں.اس حقیقت پر ہمیشہ نظر رکھنی چاہیے کہ اقتدار جتنا بھی مضبوط ہو لازوال کبھی نہیں ہوا کرتا، ایک وقت ایسا آتا ہے جب ظلم کی داستان تک باقی نہیں بچتی۔

Comments

یاسر محمود آرائیں

یاسر محمود آرائیں

یاسر محمود آرائیں "باب الاسلام" اور صوفیوں کی سرزمین سے تعلق رکھتے ہیں۔حافظ قرآن ہیں اور اچھا لکھنے کی آرزو میں اچھا پڑھنے کی کوشش میں سرگرداں رہتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں