اے میرے اللہ اے میرے مالک - ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِنْ رَحْمَةِ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ
آپ لوگوں سے کہہ دیجیے: اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا، اللہ یقیناً سارے ہی گناہ معاف کر دیتا ہے کیونکہ وہ غفور رحیم ہے [الزمر: 53]

میرے اللہ!
میں تیری رحمت سے مایوس نہیں. میرے لیے ہر اندھیرے میں تیری رحمت کی امید ہی روشنی کی کرن ہے.

میرے مالک!
زندگی موت اور موت کے بعد دوبارہ اٹھایا جانا روز حساب اور حتمی فیصلے اور اس کے بعد کی تمام زندگی میں میری ذات کا واحد حقیقی آسرا تو ہی ہے.

اے رحمن!
میری ہر خطا میرا ہر گناہ تیری نگاہ سے اوجھل نہیں. میں خود بھی نہیں جانتی کہاں اور کس مقام پر کس لمحے پر میں کسی کی دل آزاری کا باعث بنی۔ میں نے کب نیکی کے زعم میں غرور کا مزا لیا. کس لمحے میری عاجزی دکھاوا تھی. لیکن ایک یقین مجھے ہر لمحے ہے کہ میرے تمام گناہ، میری تمام خطائیں، تیری رحمت کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتے.

میرے پیارے اللہ!
تو اپنی مخلوق سے محبت کرنے والے کو دوست رکھتا ہے، پیاسے جانور کو پانی پلا دینے کی ادا پر زندگی بھر کے گناہ بخش دیتا ہے۔

میرے آقا میرے مولا میرے محبوب!
میری خطائیں معاف فرما دے۔ مجھ سے کچھ تو ایسا عمل سرزد ہو جائے جو تیری بارگاہ رحم و کرم میں مقبول ہو جائے، جسے میں جانوں یا نہ جانوں لیکن وہ میرے لیے اور میرے خاندان کے لیے صدقہ جاریہ اور توشہ آخرت ثابت ہو۔

میرے عظیم الشان آقا!
ہر پاکی تیرے لیے ہے، دنیا جہان کی ہر تعریف تیرے لیے ہے، تمام تر نباتات و جمادات و موجودات و عدم تیری تسبیح میں ہر دم مشغول ہیں۔

اے کریم!
ایک عرب بدو تیری شان کریمی کو ایسا پہچانا کہ بےفکر ہوگیا، راضی ہوگیا، خوش اور مطمئن ہو گیا کہ جب کریم غلبہ پا لیتا ہے تو بخش دیتا ہے، تو میرے آقا یہ کیسا رویہ ہے تیرے غلاموں کا، ان ذی شعور تعلیم یافتہ انسانوں کا جو کسی انسان کے مرتے ہی اس کے لیے تیری رحیمی و کریمی کے سلسلے منقطع سمجھتے ہیں۔ یہ تو وہی سوچ ہے کہ انسان مر گیا تو مٹی ہو گیا، اس نے جو کر دیا بس اس کا سلسلہ رک گیا، اس کی کتاب بند ہو گئی۔ اللہ اگر انسان جاری عمل چھوڑ کر نہ بھی جائے تب بھی انسان کے مرتے ہی تیری رحمت تو نہیں رکتی نا۔ تیرا کرم تو جاری و ساری ہے۔ اللہ تو نے کب دوسرے انسان جیسے انسانوں کو اپنے ہم نفسوں کی جنت جہنم مغفرت یا عذاب کا فیصلہ کرنے والا بنایا۔ ان انسانوں نے ایسے کیا عمل سرانجام دیے کہ تیری رحمت بس ان کے کیے مخصوص ہو گئی اور باقی انسان اس سے محروم کر دیے گئے۔ کیا تیری رحمت بارش جیسی نہیں جو ہر ایک پر یکساں بلاتخصیص برستی ہے۔ میری زندگی، میری موت، میری قبر، میرا انجام سب تیری رحمت و کرم کا امید وار ہے۔

میرے مالک!
مجھے تنہا نہ چھوڑنا۔ میری امید تو، میرا آسرا تو، میرا مالک تو، میرا ساتھی تو، میرا سب کچھ تو۔
"میں اللہ تعالی سے مغفرت طلب کرتا ہوں، تم بھی اسی سے مغفرت طلب کرو، بیشک وہ رجوع کرنے والوں کو معاف کرنے والا ہے۔"

اللَّهُمَّ رَحْمَتَكَ أَرْجُو فَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ، وَأَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ

Comments

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

ڈاکٹر رابعہ خرم درانی

دل میں جملوں کی صورت مجسم ہونے والے خیالات کو قرطاس پر اتارنا اگر شاعری ہے تو رابعہ خرم شاعرہ ہیں، اگر زندگی میں رنگ بھرنا آرٹ ہے تو آرٹسٹ ہیں۔ سلسلہ روزگار مسیحائی ہے. ڈاکٹر ہونے کے باوجود فطرت کا مشاہدہ تیز ہے، قلم شعر و نثر سے پورا پورا انصاف کرتا ہے-

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.