پیا رنگ کالا اور کاجل کوٹھا؛ ایک تاثر - محمد اشفاق

ایک دانا کا قول ہے کہ
"کچھ کتابیں ایسی نہیں ہوتیں جنھیں پڑھ کر ایک جانب رکھ دیا جائے، بلکہ وہ اس قابل ہوتی ہیں کہ انھیں اٹھا کر پوری قوت سے دیوار پر مار دیا جائے۔"

بعد میں آنے والے ایک دانا نے اس قدر اضافہ کیا کہ
"اور کچھ کتابیں اس قابل ہوتی ہیں کہ انھیں پوری قوت سے اٹھا کر مصنف کے سر پہ دے مارا جائے۔"

جب سے علم ہوا کہ باباجی کا بسیرا بھی علامہ اقبال ٹاؤن میں ہے، کئی بار اس خواہش پر عمل کرنے کو دل بری طرح مچلا مگر کتابوں کی ضخامت، مصنف کی عمر اور اپنی کنوارگی کا سوچ کر خون کے گھونٹ پی کر رہ گیا۔ یہ تو شکر ہے پاک پروردگار کا کہ اس نے ہم ایسے نکموں کے ہاتھ میں قلم دے دیا، گویا بندر کے ہاتھ استرا تھما ۔ اب ہم تلوار کا کام قلم سے لیتے ہیں اور تبصرے میں میں ٹھیک یہی کام کرنے جا رہے ہیں، ہمارے ساتھ رہیے گا۔

دیکھیں، ایسا ہرگز نہیں کہ بابا جی کو لکھنا نہیں آتا۔ مجھ جیسے جن کی زندگی کا بیشتر وقت کتابیں پڑھتے اور باتیں بگھارتے گزرا ہے، بری کتاب یا برے مصنف کو ابتدائی چند صفحات ہی میں پکڑ لیتے ہیں۔ یہ دونوں کتابیں مکمل کرنا پڑیں تو بابا جی میں آخر کچھ تو خوبی ہوگی۔ کچھ نہیں، بہت کچھ۔

بابا یحییٰ کی کردارنگاری کمال ہے۔ جن لوگوں نے منٹو کی گنجے فرشتے پڑھ رکھی ہے، وہ اتفاق کریں گے کہ منٹو جس ہستی کا ذکر کرتا ہے، اس میں جان ڈال کر گویا اسے آپ کے سامنے لا کھڑا کرتا ہے۔ ایسا ہی بابا جی کے ساتھ بھی ہے، یعنی کمال، اور اس سے بھی بڑھ کر منظرکشی، یقین جانیں اردو ادب میں عبداللہ حسین اور اشفاق احمد کے علاوہ شاید ہی کسی کے قلم میں یہ اعجاز ہو کہ وہ آپ کو بیٹھے بٹھائے اس منظر کا حصہ بنا دے جسے وہ بیان کر رہا ہے۔ پیا رنگ کالا کے ساتھ ساتھ چارلس ڈکنز کی A tale of two cities بھی زیرِ مطالعہ تھی۔ مجھے ڈکنز سے عشق ہے باوجود اس کے ضرورت سے زیادہ طویل تبصروں کے، تو وہ اس کی منظرنگاری ہی کی وجہ سے۔ اس کو پڑھتے بھی اگر باباجی نے اس پہلو سے مایوس نہیں کیا تو اندازہ لگا لیں، کیا کمال کے مناظر تخلیق کیے ہوں گے۔ اور اس سے بھی بڑھ کر بابا جی کے ون لائنرز، آہا، آپ کو اردو ادب میں شاید کبھی کسی ایک کتاب میں اتنے زیادہ اور اتنے شاندار ون لائنرز نہ ملیں، الا یہ کہ کتاب مشتمل ہی ون لائنرز پہ ہو جیسا کہ واصف علی واصف۔ یہاں بابا پاؤلو کوئیلو اور مارکیز کے مقابل کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ قریب ہے کہ آپ جھنجھلا کر پوچھیں کہ بھائی اشفاق، فیر تینوں تکلیف کی اے۔ جی جی، میں اسی طرف آ رہا ہوں، ہمارے ساتھ رہیے گا۔

یوں تو تکالیف بہت ہیں مگر میں انہیں تین کھلی ڈلی کیٹیگریز میں رکھ کر پیش کرتا ہوں۔

پہلی بات
دیکھیں! جب آپ قلم اٹھاتے اور کچھ لکھنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو نثرنگاری میں آپ کو ساتھ ہی یا اس سے پہلے یہ فیصلہ بھی کرنا ہوتا ہے کہ آپ آخر لکھنے کیا جا رہے ہیں؟ کوئی اخباری مضمون، بلاگ، افسانہ، ناول، روداد، سفر نامہ یا سوانح حیات۔ نثر کی ہر صنف کے کچھ اپنے تقاضے ہیں، آپ اسے انھی تقاضوں کے مطابق لکھتے ہیں، پڑھنے والا انھی کے تحت آپ کو پڑھتا ہے۔ یہاں بابا جی کو کچھ نہیں معلوم کہ وہ کر کیا رہے ہیں اور لکھ کیا رہے ہیں۔ اسی طرح جب آپ انہیں پڑھنا شروع کرتے ہیں تو آپ کو بالکل بھی کوئی اندازہ نہیں ہوتا کہ آپ پڑھ کیا رہے ہیں۔ دیکھیں جب کوئی انٹیریر ڈیزائنر، کوئی آرکیٹیکٹ، کوئی ٹاؤن پلانر کسی مقام کی اندرونی یا بیرونی حالت بہتر کرنا چاہتا ہے تو اس کے پاس سینکڑوں آپشن ہوتے ہیں، وہ ان آپشنز کو ایک تھیم کے نیچے لاتا ہے اور پھر اسی تھیم کے تحت انہیں لے کر چلتا ہے۔ اگر آپ کے کمرے میں بغیر کسی ترتیب کے بدھ کا مجسمہ، حنوط شدہ شیر، بارہ سنگھے کا سر اور ہاتھی کے دانت لٹکا دیے جائیں، اور جو خالی جگہ بچے وہاں قرآنی آیات اور خطاطی کے نادر نمونے، تو جو وحشت آپ کو اس کمرے میں داخل ہو کر ہوگی، وہی آپ کو بابا جی کو پڑھ کر محسوس ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ جہاں بابا جی کی تکنیک میں اوپر بیان کردہ غیرمعمولی خوبیاں پائی جاتی ہیں، وہیں پر انتہائی کمزور، پھسپھسی مکالمہ نگاری اور قاری یا خود اپنے ساتھ نہ ختم ہونے والی طویل گفتگو ان کی بہت بڑی خامیاں ہیں۔ اس کتاب میں جہاں کہیں بابا جی یا ان کا کوئی کردار اپنا منہ کھولتا ہے، وہیں سے آپ پہ برا وقت آ جاتا ہے۔

دوسرا مسئلہ ہے بابا جی کا الف لیلوی اندازِ بیاں
آپ کوئی کہانی شروع کرتے ہیں، اور یہ ماننا پڑے گا کہ ان کی ہر کہانی اپنی ابتدا میں قاری کو جکڑ لیتی ہے، بیچ میں بلکہ عین کلائمیکس پر انھیں کوئی اور کہانی یاد آ جاتی ہے، اس کے کلائمیکس پر کوئی اور۔ یہ سلسلہ آپ "پیا رنگ کالا" کے ایک چوتھائی تک ہنسی خوشی برداشت کرتے ہیں۔ اس کے بعد آپ کو الجھن ہونے لگتی ہے، پھر یہ الجھن کوفت میں ڈھل جاتی ہے اور ''کاجل کوٹھا'' پڑھ کر تو باقاعدہ آپ اپنے بال نوچنے لگتے ہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے شبِ وصل کے کیف آور لمحات کی انتہا پر پہنچتے ہی آپ کا محبوب دو رکعت نفل باندھ لے یا اپنے کسی مرحوم عزیز کو یاد کر کے رونے لگے۔ مطلب ساری ایکسائٹمنٹ اور ایکسٹیسی کی ایسی کی تیسی ہو جاتی ہے۔ کاش انھیں کوئی اچھا مدیر میسر آ جاتا جو ان کی کتابوں کو مناسب ابواب میں بانٹ کر ہر کہانی کو مناسب کانٹ چھانٹ کے بعد الگ باب کی شکل دے دیتا۔

تیسرا اور سب سے بڑا مسئلہ ہے، تصوف
جہاں مذہب کا ذکر آتا ہے، وہاں ہم مخاطب کو اپنے مسلک کی عینکیں چڑھا کر دیکھنے لگتے ہیں، آپ کی عینکیں سلامت رہیں، اپنے مسلک کی وضاحت کرنا یہاں لازمی ہے۔ ذاتی طور پر میں بے مسلک، بے مرشد اور بے ہدیتا سہی مگر خاندانی طور پر فُل "میں ہوں قادری سنی ٹن ٹن ٹنا ٹن" والا ماحول ہے۔ خود مجھے مزاروں اور درباروں پر جانے کا بےحد شوق ہے۔ایک بار بری امام اور ایک بار داتا دربار ایک ایسا انوکھا تجربہ ہوا جو شاید بیان سے باہر ہے۔ کچھ عرصہ قبل بابا شاہ جمال کے دربار کے قریب سے ہو کر واپس آ گیا، اندر نہیں جا پایا تو یقین کریں بابا شاہ جمال کا مزار اب تک مجھے بلاتا ہے۔ خیر بتانا یہ تھا کہ شرک کی فیکٹریوں کا اور میرا چولی دامن کا ساتھ ہے، میں ان میں سے نہیں جنہیں تصوف یا اولیاء کے ذکر پر ہی بچھو یا چنونے کاٹنے لگتے ہیں۔ تصوف کی بہت سی تعریفیں ممکن ہیں، میں اسے بندے کے اللہ کے ساتھ ذاتی تعلق کو مضبوط کرنے کا ایک طریقہ سمجھتا ہوں۔ بدقسمتی سے بابا یحییٰ کی کتابیں پڑھ کر یہ تعلق کہیں بہت پیچھے رہ جاتا ہے اور آپ جانوروں، پتھروں، دھاتوں کے اثرات، نشئیوں، چرسیوں، بھنگیوں اور طوائفوں کی کرامات اور بابا جی کی واہیات کے درمیان کہیں پھنس کر رہ جاتے ہیں۔ ہمیشہ ہر انسان کو انسان سمجھا ہے، خواہ وہ خود کو کھوتے کا پتر ثابت کرنے کی کتنی ہی کوشش کرے، یہاں ان بدنصیب افراد کی اہانت مقصد نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ہر پوڈری قطب نہیں ہوتا نہ ہی ہر طوائف رابعہ بصری ہوا کرتی ہے۔ مصنف کو ہم دل پہ جبر کر کے سلسلہ شہابیہ کا آخری چشم و چراغ فرض کر بھی لیں تو حقیقت یہ ہے کہ اگر قدرت اللہ شہاب ہزار واٹ کے بلب تھے، اشفاق احمد اور بانو آپا سورج اور چاند، ممتاز مفتی ٹیوب لائٹ، تو بابا یحییٰ پیلے رنگ کے زیرو واٹ کا وہ بلب ہیں جو ماحول منور کرنے کے بجائے اس پر ایک عجیب سی یاسیت اور نحوست بکھیر دیتا ہے۔

پروفیسر احمد رفیق اختر سے بھی چند اختلاف ہیں، سرفراز شاہ صاحب سے بھی چند ناقابل یقین دعوے سن رکھے ہیں، مگر تصوف کے لٹریچر کے متلاشیوں کو میرا مشورہ یہی ہے کہ آپ ان دونوں کو پڑھیے، اگر نہج البلاغہ اور کشف المحجوب پڑھنے کی سکت نہیں ہے تو بابا یحییٰ سے ہر قیمت پر دور رہنا چاہیے۔