چودھری نثار کا المیہ - محمد عامر خاکوانی

بات چودھری نثار علی خان پر کرنی ہے، مگر ان کی گزشتہ روز کی پریس کانفرنس دیکھ کر پروین شاکر یادآ گئیں۔سپاٹ چہرے اور بے مزہ انداز میں طویل، طولانی گفتگو کرنے والے سیاستدان سے پروین جیسی خوش جمال خاتون اورکومل سروں میں گفتگو کرنے والی نفیس شاعرہ کا خیال آنا عجیب لگے گا، مگر میری مراد پروین کی ایک نظم سے ہے۔

پروین شاکر منفرد لہجے کی شاعرہ تھیں۔ ان کے کلام کو پزیرائی بھی خوب ملی اور اس کی نفی کرنے والے، تنقید کے تیر برسانے والے بھی کم نہیں تھی۔ پروین کی عمر کم لکھی تھی، مگر اس نے زندگی میںبطور تخلیق کار اور بطور ملازم کامیابیاں حاصل کیں ۔جو لکھا ، اسے قبولیت ملی ۔ ان خوش بخت تخلیق کاروں میں شمارہے، جس کے جانے کے برسوں بعد بھی لوگ اسے یاد کرتے ہیں۔ افسانہ نگار اور خاکہ نگار عرفان جاوید نے پروین کا کیا شاندار خاکہ تحریر کیا ہے۔ ہم نے ادبی دنیا میں ایسے تخلیق کار بھی دیکھے، پبلک ریلشننگ کے زور پر وہ چھا گئے، ہر طرف انہی کا نام گونج رہا تھا، دنیا سے رخصت ہونے کی دیر تھی کہ حرف غلط کی طرح ہر ایک نے نام ہی مٹا دیا۔ کبھی مڑ کر دیکھا ہی نہیں ۔کئی نام ہیں، زندہ تھے تو بڑا شہرہ تھا، ادبی گروہ ، جرائد، تعلقات، اثرورسوخ، مگر آنکھیں موندتے ہی سب غائب۔تخلیق کار مگر زندہ رہتے ہیں۔ پروین شاکر بھی کچھ گنی اور کچھ خوش نصیب تخلیق کارہ تھیں۔ انکی ایک خوبصورت، معنی خیز نظم ”شہزادی کاا لمیہ“ہے۔ اس میں سیاسی رنگ بھی شامل ہے۔ ممتاز مفتی نے جب پروین پر خاکہ لکھا تو اس کا عنوان شائد اسی نظم کی مناسبت سے ”چالاک شہزادی “لکھا۔ مفتی جی کا قلم بھی اپنے ہی رنگ کا تھا، خاکے میں ایسے کٹیلے فقرے لکھتے کہ قاری دم بخود رہ جاتا۔ کہتے ہیں جس تقریب میں وہ خاکہ پڑھا گیا، سٹیج پرپروین شاکر موجود تھیں، ان کے مداحین کی بھی کمی نہیں تھی، بعض کو ناگوار بھی گزرا ، مگر پروین شاکر نے مسکرا کر مفتی جی کا شکریہ ادا کیا۔
بات چودھری نثار سے شروع ہوکر کسی اور جانب نکل گئی، اس کی معذرت۔ چودھری نثار کی پریس کانفرنس دیکھ کر پروین شاکر کی نظم کا عنوان شہزادی کا المیہ یاد آیا ، دل میں خیال آیا کہ کوئی ہنرمند شاعر ہو تو ”چودھری کا المیہ“ کے نام سے نظم رقم کر سکتا ہے۔ کوئی چاہے تو ممتاز مفتی کے انداز میں خاکہ بعنوان چالاک چودھری بھی لکھ سکتا ہے۔ عواقب ونتائج کا مگر خود ذمہ دار ہوگا۔ چودھری نثار کا المیہ ایک نہیں ،زیادہ ہیں۔ وہ جو بولتے ہیں، ویسے ہیں نہیں۔ جس گروہ میں شامل ہونے کی آرزو ہے، اسے دلی طور پر ناپسند کرتے ہیں۔اپنی تین تین گھنٹوںکی پریس کانفرنسوں میں بلند بانگ دعوے کرتے اورہمالیائی عزائم کا اظہار کرتے ہیں، بدقسمتی سے ان میں حوصلہ اس کا نصف بھی نہیں۔ ایسے لوگوں کے ساتھ تاریخ وہی سلوک کرتی ہے جوان کاحق بنتا ہے۔ اس پرگلہ کیسا، شکوہ کس سے؟

اور بہت سی پریس بریفنگز کی طرح اس بار بھی انہوں نے چند باتوں پر اصرار کیا اور چند دعوے کئے۔ ان میں سے ایک یہ کہ وہ بہت اصول پسند ہیں، پارٹی نہیں چھوڑیں گے، کسی قسم کا فارورڈ بلاک نہیں بنائیں گے وغیرہ وغیرہ۔ میاں نواز شریف اور ان کی کور کمیٹی سے پانامہ ایشو کی ہینڈلنگ پر چودھری نثار کے اختلافات رہے ہیں، اس کا وہ پہلے بھی اظہار کر چکے ہیں، ایک بار پھر اس کی تجدید کی ۔ صاف لفظوں میں کہہ ڈالا کہ مجھے بتایا جائے کہ ن لیگ کا بیانیہ ہے کیا؟ اداروں سے ٹکراﺅ نہ کرنے کی بات کی جاتی ہے اور تنقید بھی جاری ہے وغیرہ ۔ایک بات بڑی اہم کہی ، جس کا چودھری نثار کے سیاسی مستقبل میں اہم عمل دخل ہوگا۔انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ وہ مریم نواز شریف کی سیاسی قیادت تسلیم نہیں کریں گے۔ ان کے الفاظ تھے، اتنا سیاسی یتیم نہیں کہ اپنے جونیئر کو سر یا میڈیم کہوں، سینئر کے ماتحت کام کر سکتا ہوں، جونیئر کے نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   نواز شریف ڈیل نہیں کریں گے؟ آصف محمود

اب چودھری نثار علی خان کی شخصیت کا مختصرجائزہ لے لیتے ہیں۔ وہ پنڈی کے ایک نہایت کامیاب، روایتی سیاستدان ہیں۔ 85ء سے مسلسل الیکشن جیتتے اور رکن پارلیمنٹ بنتے آ رہے ہیں۔ مسلم لیگ سے گہرا تعلق ہے ، تیس پینتیس سال کی سیاست میں ابھی تک انہوں نے پارٹی تبدیل نہیں کی۔ میاں نواز شریف کے اہم قریبی ساتھیوں میں ان کا شمار ہوتا رہا، دھڑے بازی پر یقین رکھتے ہیں،کہا جاتا ہے کہ مسلم لیگ (ن)میں راجپوت برادری کے دھڑے کے وہ مسلمہ لیڈر ہیں۔دھڑے بازی میں دوستی، دشمنی کے قائل ہیں اور آخری حد تک جا کر اسے نبھاتے ہیں۔ مخدوم جاوید ہاشمی سے اختلافات رہے، ہاشمی صاحب پرویز مشرف کے جبرواستبداد کا نشانہ بنے، کئی سال آڈیالہ جیل میں کاٹ دی، چودھری نثار کے دل میں نرمی نہیں آئی۔ کہا جاتا ہے کہ جو مسلم لیگی رہنما یا کارکن جیل جا کر ہاشمی صاحب سے ملتا، چودھری نثار اس کا پارٹی میں ناطقہ بند کر دیتے۔مخدوم جاوید ہاشمی کی اسیری بھی ان کی ناپسندیدگی اور سختی ختم نہ کر سکی۔ مسلم لیگ ن میں وہ طویل عرصہ سے میاں شہباز شریف کے قریبی ساتھی ہیں ،بہت سے معاملات میں دونوں ایک ہی طرح سوچتے اور عملیت پسندانہ انداز میں بحرانوں کا حل نکالنا چاہتے ہیں۔بڑے میاں صاحب انہیں شائد زیادہ پسند نہیں کرتے یا کسی قسم کا خطرہ محسوس کرتے ہیں،اس لئے ہمیشہ ان پر نظر رکھی، مگر ان کی افادیت کے بھی قائل رہے ہیں۔چودھری صاحب اسٹیبلشمنٹ اور مسلم لیگ کی قیادت کے مابین خاصے عرصے تک پل کا کردار ادا کرتے رہے۔ نوبت یہاں تک آن پہنچی کہ دونوں فریق انہیں شک کی نظر سے دیکھتے اور اپنے سے زیادہ دوسرے کا وفادار گردانتے ہیں۔سیاست کرنے اور میڈیا ہینڈلنگ کا ان کا اپنا ہی انداز ہے۔ موبائل فون نہیں رکھتے اورکم ہی اخبارنویسوں کو ان تک رسائی حاصل ہے۔ پیر صاحب پگاڑا کی طرح وہ مخصوص رپورٹروں سے رابطہ رکھتے اور اپنے دل کی زبان تو شائد کسی سے نہیں بولتے۔پٹوار، تھانہ کچہری کی روایتی سیاست کے وہ ماہر ہیں، ہمیشہ اپنی پسند کی انتظامیہ وہ رکھواتے ہیں اور اس ضمن کسی قسم کی رعایت نہیں برتتے۔

آخری تجزیے میں چودھری نثار علی خان ایک عملیت پسند، روایتی سیاستدان ہیں، انقلابی سیاست تو کجا ،انقلاب کی الف تک سے ناواقف رہے۔ ان پر کرپشن کا دھبہ نہیں، مگریہ بھی حقیقت ہے کہ ان کی آنکھوں کے سامنے سب کچھ ہوتا رہا۔ چھانگا مانگا کی خرید وفروخت سے لے کر ن لیگی قیادت پر عائد ہونے والے بے شمار میگا کرپشن کیسز اور الزامات انہی کے سامنے لگے ۔اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ جوڑتوڑ، بے نظیر بھٹو کی حکومتوں کی برطرفی کرانااور پھرزرداری حکومت میں میاں صاحب کی فرینڈلی اپوزیشن کو یہ برداشت کرتے رہے، اس پر شاداں رہے۔ ہمارے روز افزوں گلتے سڑتے سسٹم میں کسی قسم کی اصلاحات لانے کی حمایت کبھی نہیں کی۔ ہمیشہ وہ پاور پالیٹیکس کرتے رہے۔ ایک ڈکٹیٹر جنرل ضیا الحق کے ساتھی رہے، اس پر کبھی پشیمانی نہیں ہوئی، دوسرے سے بنیادی اختلاف یہ کہ ان کی حکومت برطرف کی، ورنہ اسی ڈکٹیٹر کی باقیات سے کبھی مسئلہ نہ بنا۔ رضا ربانی جیسے لوگ بھی کمپرومائز کرتے رہے ہیں، مگر دکھاوے کی حد تک سہی، ان کی آنکھیں کبھی نہ کبھی نم ہوجاتیں، ندامت کے آنسو ٹپک جاتے۔ چودھری صاحب ایسے تکلفات سے بے نیاز رہے۔

یہ بھی پڑھیں:   جج ارشد ملک مبینہ ویڈیو کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری

چودھری نثار کے دل میں وزیراعلیٰ پنجاب بننے کی آرزو چٹکیاں لیتی ہے، مئی تیرہ کے انتخابات میں صوبائی اسمبلی سے الیکشن لڑے کہ شائد قسمت یاوری کر جائے۔ اچھی طرح جانتے ہیں کہ میاں نواز شریف کبھی انہیں وزیراعلیٰ یا وزیراعظم نہیں بنائیں گے۔ انہیں پارٹی میں کارنر کر دیا گیا ہے، پانامہ جیسے اہم اور بنیادی نوعیت کے ایشو میں مشاورت کے لائق نہ سمجھا گیا۔ نااہلی کے بعد تو صاحب ان سے بات بھی نہیں کر رہے ۔ اس کے باوجود چودھری صاحب اسی پارٹی میں کمال درجہ ”استقامت “سے براجمان ہیں، درست لفظ تو کوئی اور تھا، مگر بزرگی کے احترام میںلکھنا مناسب نہیں۔ان میں اتنا حوصلہ اور ہمت نہیں کہ بغاوت کر کے اپنی الگ پارٹی بنا سکیں، مواقع ملے مگر پیچھے ہٹ گئے۔ اب انکے پاس کیا آپشن بچا ہے؟ میاں نواز شریف طے کر چکے ہیں اور ہر ایک یہ جان گیا ہے کہ ان کی سیاسی جانشینی مریم نواز شریف کو ملے گی۔ مریم نواز ہی مسلم لیگ ن کی اگلی قائد ہیں، میاں نواز شریف پوری قوت سے ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ کسی کو یہ گوارا نہیں تو وہ پارٹی چھوڑ دیں۔ چودھری نثار کی انا کی تسکین کے لئے تو میاں نواز شریف اپنی بیٹی کو لیڈر بنانے سے نہیں رک سکتے ۔ مسلم لیگ ن کوئی جمہوری یا نظریاتی جماعت نہیں ، روایتی سیاست کا پلیٹ فارم ہے ،روایتی سیاست کرنے والے جس کا حصہ ہیں۔ ایسی پارٹیوں میں قیادت موروثی طور پر ہی منتقل ہوتی ہے۔ ساتھی رہنماا ور کارکن صرف قربانی دینے کے لئے ہوتے ہیں، ان کے سیاسی سائز کے حساب سے انعام واکرام دے دیا جاتا ہے، اس کے بعد ان کا کردار ختم۔ چودھری نثار علی خان اپنے خوابوں سے باہرآئیں، سیاسی جونیئر کو سلام کہنے کی عادت ڈالیں یا پھر جو تھوڑا بہت سامان ہے، وہ اٹھا کر چلتے بنیں۔ تیسری آپشن مزاحمت اور بغاوت کی ہے اور اس کٹھن راستے پر سفر کرنا چودھری صاحب نے ابھی تک سیکھا نہیں۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.