قسم ہے زمانے کی - مقصود حسین

ایک قول کے مطابق العصر سے مراد مطلق "الدہر" یعنی زمانہ ہے۔اس قول کی متعدد وجوہ بیان کی گئی ہیں۔ اول یہ کہ نبی کریم ﷺ نے بھی زمانے کی قسم کھائی ہے۔مثلاً آپ علیہ السلام سے سورۃ العصر کی تلاوت کے دوران "والعصر و نوائب الدهر" پڑھنا منقول ہے۔ دوم یہ کہ زمانہ ازخود کئی ایک عجائب کا مظہر ہے۔مثلاً اسی زمانہ میں انسان کو کبھی راحت ملتی ہے تو کبھی سختی کا سامنا کرنا پڑتا ہے،کبھی صحت حاصل ہوتی ہے تو کبھی بیماری کے دن دیکھنے پڑتے ہیں،کبھی خوشحالی کے لمحات میسر آتے ہیں تو کبھی تنگدستی کے حالات درپیش ہوتے ہیں، الغرض زمانے میں انسان کے نشیب و فراز اور اس کے دگرگوں حالات کی داستان طویل بھی ہے اور ناقابل بیان بھی۔ جبکہ زمانے کا اس سے بھی زیادہ حیران کن اور عجیب پہلو یہ ہے کہ انسانی عقل اس کے عدم یا وجود کا حکم لگانے سے قاصر ہے۔

مثلاً زمانے کی تقسم لیل و نہار اور ماہ و سال، اسی طرح زمانہ ماضی،زمانہ حال اور زمانہ مستقبل میں کی جا سکتی ہے۔اس لحاظ سے زمانہ قابل تجزیہ اور قابل تقسیم ہے جو کہ اس کے وجود پر دلالت کرتا ہے۔ مگر دوسری طرف زمانے کے وجود کو ثابت کرنا بھی اتنا ہی دشوار ہے جتنا کہ اس کے عدمِ وجود کا حکم لگانا، مثلاً زمانہ حال ناقابل تجزیہ ہے جبکہ ماضی اور مستقبل محض احساسات ہیں،جنہیں انسانی ذہن وقت کے ماقبل اور ما بعد میں بانٹ دیتا ہے۔

یوں زمانہ انسانی فہم کے لیے ایک چیلنج کی حیثیت بھی رکھتا ہے۔جس کے مالہ اور وما علیہ کے کامل ادراک کے بغیر صحت مند انسانی معاشرت کی صورت گری ممکن نہیں۔ سوم یہ کہ انسان کی عمر کا بقیہ حصہ انسان کے لیے فیصلہ کن حیثیت رکھتا ہے۔ مثلاً یہ عین ممکن ہے کہ اگلا ہی لمحہ انسان کی موت کا پیغام لے کر وارد ہو یا پھر،اس کے برعکس، یہ بھی ممکن ہے کہ یہی گھڑی اس کے لیے اپنے اندر اصلاحِ احوال کا سامان بھی رکھتی ہو۔ یعنی ہر گزرتے لمحے کے باطن میں انسان کے لیے سدھار یا بگاڑ کے دونوں مواقع کامل طور پر موجود ہیں، اب یہ انسان پر منحصر ہے چاہے تو وہ اسے اپنی نفسی تعمیر میں استعمال کرے یا پھر چاہے تو وقت کے سیلِ رواں میں خود بھی بہہ نکلے۔

چہارم یہ کہ زمان و مکاں اور ان میں پنہاں نفسی اور خارجی حقائق کی خالق اللہ ہی کی ذات ہے۔ انسان کو زمان و مکان کے چوکٹھے میں وہ ذرائع حاصل ہیں جنہیں استعمال میں لا کر وہ زمان و مکاں کی دھری تلوار سے، اگرچہ کسی حد تک، اپنے دفاع کا راستہ نکال سکتا ہے۔ مثلاً اس صورتحال میں انسان کو چاہیے کہ وہ نہ تو زمانہ کے ساتھ پنجہ آزمائی کرے اور نہ ہی اس کے سامنے مکمل طور پر ہتھیار ڈال دے اور نہ ہی مصلحت کوشی کا شکار ہو، بلکہ اسے چاہیے کہ اپنی تمام تر قوت زمانے کو اپنا ہم نوا بنانے میں صرف کر دے۔ تاکہ زمانہ اس سے بر سر پیکار نہ ہو، کیونکہ اس صورت میں زمانے کی صحت پر تو کوئی اثر نہیں پڑے گا لیکن امر واقعہ کے طور پر یقینی شکست انسان ہی کا مقدر بنے گی۔لہٰذا انسان کو چاہیے کہ وہ زمانے کے تلخ حقائق کو موردِ الزام ٹھیرائے بغیر اس میں موجود مواقع کو اپنے حق میں استعمال کرتے ہوئے اپنی بقاء کا سفر جاری رکھے۔

پنجم یہ کہ زمانہ میں ہر گزرتے لمحے کے ساتھ انسان کا راس المال (اصل سرمایہ capital،انسان کی عمر) بھی گھٹتا چلا جا رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان زمانے کے دُہرے خطرات سے دوچار ہے۔ایک طرف تو اس کا اصل سرمایہ کم سے کم ہوتا چلا جارہا ہے، جبکہ دوسری جانب اس کی حاصل شدہ کمائی نہ ہونے کے برابر ہے۔ہر گزرتا لمحہ اس کی کل عمر میں مسلسل کمی باعث بن رہا ہے۔ یوں انسان، اپنی ہمہ وقت کوشش کے باوجود بھی،وقت کے تیز رفتار بہاؤ کو روک نہیں سکتا اور نہ ہی گزرے ہوئے لمحات کو واپس لا سکتا ہے۔یہ صورتحال انسان سے دوگنا محنت کا مطالبہ کرتی ہے۔ایک تو یہ کہ وہ موجودہ لمحے کو ضائع نہ کرے۔بلکہ اسے اپنی نفسی تعمیر میں صرف کرے۔ دوسرے یہ کہ جتنا ممکن ہو سکے زمانے کو لگام دینے کی کوشش کرے، اس کے تیز رفتار بہاؤ میں نرمی لانے کے لیے پیش بندی کرے تاکہ اس کے ہمہ جہتی اثرات سے خود کو محفوظ رکھ سکے۔ مفسرِ جلیل علامہ فخرالدین رازی رحمۃ اللّٰہ علیہ نے مختلف وجوہ کی بنا پر العصر کے چار احتمالات بیان کیے ہیں۔جن میں پہلا احتمال مطلق زمانے کا ہے۔جس کی پانچ وجوہ ماقبل سطور میں بیان کی گئی ہیں۔ اللہ تعالی کلامِ پاک کی کامل فہم عطا فرمائے۔ آمین!