انسان، سوچ کے کچھ زاویے - ساحر نیازی

انسان کے روپ ہزاروں ہیں۔ خطرناک ترین مجرموں سے نہایت دردمند دل رکھنے والے فلاحی کارکنوں تک۔ توہم پرستوں سے لے کر ذہین ترین سائنسدانوں تک۔ افریقہ کے قبائلیوں سے لے کر تبت کے بلند پہاڑوں میں بیٹھ کر ریاضتیں کرتے ہوئے بھکشوؤں تک۔ بھبوت ملے آسن رچائے ہندو یوگیوں سے لے کر مراقبہ میں بیٹھےدھیان لگائے صوفیوں تک۔ وال سٹریٹ میں بیٹھ کے اربوں میں کھیلنے والوں سے لے کر چرس کے نشے میں دھن دنیاکو مایا سمجھنے والے ہپیوں تک۔اختیار ملکیت کے جنون میں دنیا کو جنگوں کی آگ میں جھونک دینے والے بادشاہ۔ اپنی ساری زندگی اندیکھی حقیقت کی کھوج میں گزارنے والے فلسفی۔سب نے اسی زمیں پر اپنی زندگی گزاری اور چلے گئے۔ کچھ گزار رہے ہیں۔ کچھ ابھی گزارنے آہیں گے۔ کارخانہ حیات سدا سے سو رنگی چال چلتا آ رہا ہے۔

زندگی کے اس سارے تنوع اور ہر انسان کے مختلف شعوری سطح پہ جینے کے باوجود بھی چند سوال، چند سوچیں ہیں جو ہر انسان، چاہے وہ آئن سٹائن سے دماغ کا مالک ہو یا اکیسویں صدی میں زمین کو بیل کے سینگوں پر قائم سمجھتا ہو، پر وارد ہوتی ہیں۔ شاید یہ سوچیں، یہ سوال ہر انسان کے ڈی این اے میں رکھ دیے گئے ہیں۔ زندگی کی ابتدا، اپنی تخلیق، خدا کا وجود، کائنات کی حقیقت اور پھر سب سے بنیادی سوال اپنی آزادی اور غلامی کا، ہر سطح ذہن سے گزرتا ضرور ہے۔

پھر کوئی اپنے مذہب کی داستانوں میں پناہ لیتا ہے۔ کوئی روزمرہ کی روٹین میں کھو جاتا ہے۔ جو ذرا جاننے کی کوشش کرتا ہے وہ خوف میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اتنی بڑی پچیدہ کائنات اور اتنی سی انسانی زندگ؟ سو مجبوراً اپنے تجسس کو نسبتاً سمجھ میں آ جانے والی چیزوں میں لگا کر تسکین پاتا ہے۔ روزگار کا جھنجھٹ، عشق و محبت، خاندانی معاملات اور کچھ نہ ہو تو مذہب و سیاست کی بحث میں وقت کٹنے لگتا ہے اور یوں کارگاہ حیات میں سے تمام لوگ گزرتے جاتے ہیں۔ مگر پھر کچھ لوگ نظر آتے ہیں جو اس جستجو کو اپنی زندگی کا حاصل بناتے ہیں۔ اپنے روز و شب کو حقیقت کی تلاش میں گزارتے ہیں۔ زندگی کو اپنی آنکھ سے دیکھتے ہیں۔ زندگی پھر ایسے لوگوں پر الگ سے مفہوم واضح کرتی ہے۔ ایسے لوگ زمین کا نمک ہوتے ہیں۔ کائنات ایسے شیر دلوں کا انتظار کرتی ہے۔ گرچہ مقبول طرز فکر یہ نہیں ہے مگر شاید زندگی زلف جاناں اور غم دوراں کے علاوہ بھی معنی رکھتی ہے۔

کیا چیز ہے جو انسان کو انسانوں میں ممتاز کرتی ہے؟ شعوری مدارج کی انتہا پر پہنچ کے بھی انسان کی معراج کیا ہے؟ ابدی سکون کا وجود ہے یا یہ بہلانے کو محض اک تخیل ہے؟ کیا کارخانہ حیات ہم انسانوں کا تماشہ کرنے کے لیے سجایا گیا ہے یا پس پردہ راز کچھ اور ہے؟ زنرگی کا مقصد کوئی کائناتی قسم کی شے ہے یا ہر انسان کے لیے الگ الگ ہے؟ عدم کیا ہے؟ بقول فیض

کہاں سے آئی نگار صبا کدھر کو گئی

ابھی چراغ سر رہ کو کچھ خبر ہی نہیں

انسان اگر سوچنے کی عادت ڈال لے اوز غور کرے تو شاید جس سکون کی تلاش اس کو عمر بھر رہتی ہے وہ علم کہ راہ میں انسان کی کسی بلند شعوری سطح پر انسان ہی کے انتظار میں ہو۔