موٹی ویشن اور انسپائریشن، وقت کی ضرورت - امیرجان حقانیؔ

موٹیویشن اور انسپائیریشن کی اہمیت کبھی ختم ہوئی ہے نہ ہوگی۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آج تک اور آج سے قیامت تک موٹیویشن اور انسپائریشن کی ضرورت پڑتی رہے گی، البتہ اس کے اسالیب اور انداز بدلتے رہیں گے۔ مختلف اوقات میں انسپائریشن اور موٹیویشن کے متعلق جو خیالات آتے رہے، ان کو ایک لائن میں لکھتا رہا، سوشل میڈیا کے لیے لکھے گئے ان مختصر جملوں کو احباب نے بہت سرا۔ ان میں چند احباب کی حدمت میں پیش ہیں، اس امید کے ساتھ کہ شاید کسی کے دل کو لگے اور فائدہ ہو، یہی مقصد و مطلوب ہے۔ ملاحظہ کیجیے۔

قرآن اور موٹیویشن:
مجھے قرآن میں ایک آیت بھی نہیں ملی جس میں موٹیویشن نہ ہو، قرآن سے زیادہ موٹیویٹ اور انسپائر کرنے والی کوئی کتاب انسانی دنیا میں موجود نہیں ہوسکتی۔

حدیث اور موٹیویشن:
میں نے اب تک ہزاروں احایث کا مطالعہ کیا ہے، بالخصوص صحاح ستہ وغیرہ، کوئی حدیث ایسی نہیں ملی جس میں موٹیویشن نہ ہو، کتب حدیث اور شروحات حدیث کے ایک ایک ورق موٹیوشن سے بھرے پڑے ہیں۔

سب سے بڑا موٹیویٹر:
دنیا کا سب سے بڑا استاد سب سے بڑا موٹیویٹر تھا۔ فداہ ابی وامی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑا انسپائر کرنے والا معلم خدا نے پیدا ہی نہیں کیا۔ وحی کا آغاز ہی اقراء کی موٹیویشن سے ہوا ہے۔ اور خود نبی نے اپنی حیثیت معلم انسانیت کی گردانی ہے۔ کیا رسول اللہ ﷺ سے بڑا دنیا میں کوئی موٹیویٹر گزرا ہے؟ دین تو سارا بشیر و نذیر پر منتج ہے۔

نامور اور موٹیویشن:
میں نے سینکڑوں ناموروں کی سوانح عمریاں اور آب بیتاں پڑھی ہیں، ان میں صرف موٹیویشن ہے۔ دنیا کے تمام نامور لوگ بہترین انسپائریشن کرنے والے گزرے ہیں۔

ٹرمپ اور موٹیویشن:
آپ ٹرمپ جیسے انسانیت دشمن کی آپ بیتی بھی دیکھیں، اس میں بھی موٹیویشن ہی ملے گی۔

سماجی بندھن:
اسلام چند عقائد، رسوم، عبادات اور ذاتی اخلاقیات کا نام نہیں، پورے سماجی بندھن کا نام ہے۔

گر جاؤگے:
یہ جاننا ضروری ہے کہ آپ کی Concentration power کیا ہے۔ ورنہ راستے میں ہی گر جاؤ گے۔

جیتنا:
جیتنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ آپ کا مقابلہ کس کے ساتھ ہو رہا ہے، اگر اڑتے پرندوں کے ساتھ مقابلے کی ٹھان کر اڑنا چاہو یا مچھلیوں کے ساتھ مقابلہ کر کے تیرنا چاہوگے تو کبھی جتینا ممکن نہیں۔ اس لیے اسی فیلڈ میں مقابلہ کرو جس کے لیے اپ کی تخلیق کی گئی ہے، اپنی فیلڈ میں جیتنے کا پلان بناؤ، دوسروں کی فیلڈ میں نہیں۔ تب جیت جاؤگے بہت جلدی۔

قسمت:
قسمت اس وقت ساتھ دے گی جب آپ کی ڈائریکشن درست ہو، ورنہ کبھی نہیں۔ غلط ڈائریکشن کے بعد قسمت اور نصیب کا رونا حماقت سے کم نہیں۔

درست ڈائریکشن:
محنت بے شک ضروری ہے لیکن درست ڈائریکشن اس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔

وہ کریں:
وہ نہ کریں جو دنیا آپ سے کروانا چاہتی بلکہ وہ کریں جو آپ کا ’اندر‘ آپ سے کروانا چاہتا ہے۔ آپ ایک بہترین انجینئر بن سکتے ہیں، استاد، ترکھان یا موٹیویٹر، لیکن دوسروں بالخصوص ابا اماں یا دادا دادی کی چاہت پر اگر آپ نے ایم بی بی ایس ڈاکٹر بننے کی کوشش کی تو کبھی بھی کامیاب ڈاکٹر نہیں بن پائیں گے۔ چاہت آپ کی ہونی چاہیے ان کی نہیں۔ ان کی چاہت کا خیال نہیں، ان کا احترام کیجیے اور خدمت بھی۔

تخلیق:
یہ جاننا از بس ضروری ہے کہ آپ کی تخلیق کس واسطے ہوئی ہے یعنی آپ کیا کرسکتے ہیں کیا نہیں۔ وہ کبھی نہ کریں جو آپ نہیں کرسکتے اور اس پر بےتحاشا محنت کریں جس کے لیے آپ کی تخلیق ہوئی ہے، یعنی وہ کام کریں جو آپ اچھا کرسکتے ہیں۔

زندگی انجوائے کیجیے:
یہ مسائل ہم نے پیدا کیے نہ ہم حل کرسکتے ہیں، لہذا زندگی انجوائی کیجیے۔ ٹیشن فری پلیز۔ یعنی اپنے حصے کا کام کیجیے۔ دوسروں کی غلطیوں کا گناہ نہیں کاٹنا چاہیے کڑھن اور ٹینشن کی شکل میں۔

تھوڑی ہمت:
تھوڑی ہمت سے سب کچھ کہہ دینے کی صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے۔ بس ہمت کیجیے۔ ڈریں نہیں۔

نکاح:
جب بچے راضی ہو کر نکاح کرلیتے ہیں، والدین کی مرضی نہ بھی ہو تو روڑے نہ اٹکائیں۔ یہ ان کی زندگی کا مسئلہ ہے والدین کا نہیں۔ اپنے چاہت کے لیے بچوں کی زندگی اجیرن نہ بنائی جائے۔

متقاضی:
ہر انسان محبت و احترام کا متقاضی رہتا ہے۔ سو احترام کیجیے اور احترام پائیے۔

نوکری:
نوکری کاغذ کی ڈگری سے نہیں، ہاتھ، پاؤں اور زبان کی ہنر سے ملتی ہےے اور عقل کے استعمال سے بھی۔ ہنر سیکھیں اور عقل استعمال کریں۔

یوتھ کا مسئلہ:
یوتھ کا سب سے بڑا مسئلہ گائیڈینس، موٹیویشن، اور انسپائریشن ہے۔

مسائل:
مسائل تلخ یادوں کا نام نہیں بلکہ سیکھنے کا بہترین چانس ہوتے ہیں، تو مسائل سے گھبرائیں نہیں ان کا خوشدلی سے مقابلہ کریں۔

مسائل کا حل:
اگر انسانوں کو ڈیل کرنے کا فن آجائے تو اکثر مسائل حل ہوجائیں گے، تو ڈیل کرنا سیکھیں۔

اعتماد:
اعتماد خرید کر نہیں اعتماد کر کے اعتماد لیا جاتا ہے۔ اعتماد کرنا سیکھیں۔

وفادار کا تلاش:
یہ تلخ سچ ہے کہ جس نے بے وفائیاں بھگتی نہیں، وہ وفادار کبھی تلاش نہیں کرسکتا۔ سو تلاش جاری رکھیں۔

عقل:
عقل بادام اور اخروٹ کھانے سے نہیں بلکہ تجربہ، دھکہ اور زمانے کی مارکھانے سے آتی ہے۔

مقصد اور ٹارگٹ:
جب کوئی تمھیں نیند سے بیدار کرکے دوبارہ اٹھ کھڑے ہونے پر مجبور کرے تو اس کو کیا نام دیا جائے، مقصد ہی نا۔ مقصد اور ٹارگٹ کے حصول کے لیے نیند کی قربانی دینی ہوتی ہے۔

لکیر:
لکیر اتنی لمبی نہ کھنچو کہ واپسی ہی ممکن نہ ہو۔ یعنی حدود میں رہنا اور چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانا ہی مناسب ہے۔ لالچی کی طرح بادشاہ کی سلطنت میں دن بھر لکیر کھینچتے کھنچتے مر ہی نہ جائے۔

نصیب:
نصیب پر راضی نہ رہنے والا سب کچھ ہونے کے باوجود بھی ناخوش رہتا ہے۔

فیلڈ:
آدمی اپنی فیلڈ (راستہ) تو طے کرلے، بے شک قدم چھوٹا ہو مگر پہنچ جائیں گے۔

تبدیلی کا ٹول:
استاد سے بڑا تبدیلی کا کوئی ٹول نہیں ہوتا۔ دنیا کے سب سے بڑے استاد نے جو تبدیلی لائی، وہ آج تک انسانی عقلوں پر راج کررہی ہے۔

کیریکٹر:
کیریکٹر نماز روزہ اور عبادت میں نہیں، آدمی کے کام (پروفیشن) میں دیکھنا چاہیے۔

متاثر:
اگر استاد طلبہ کو متاثر نہیں کرسکتا تو وہ پیشہ بدل لے۔

جب:
جب زندگی جواب دے جائے تو نئی حیات کا آغاز ہو جاتا ہے۔ یعنی مایوسی کے بعد نئی زندگی کا آغاز ہوتا ہے، اصول فطرت بھی یہی ہے۔

مجبوری:
محنت اتنی کرو کہ آپ زمانہ، ادارہ اور شخص کی مجبوری بن جاؤ۔ مجبوری بننے کے لیے اپنا مورال بہر صورت بلند کرنا ہوگا۔

عقیدے:
عقیدے صرف مذہبی نہیں ہوتے بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں عقیدے ہوتے ہیں، تو عقیدوں کی پاسداری کیجیے۔

نیا:
اگر آپ نیا نہیں سوچ سکتے تو کبھی آگے نہیں بڑھ سکتے۔ لہذا زندگی میں کچھ نیا بالکل نیا کرنے کا سوچو۔

محبت اور محنت:
اللہ محبت اور محنت کو کبھی ضائع نہیں کرتا، کیونکہ اللہ اپنی فطرت کے خلاف کبھی کوئی کام نہیں کرتا۔

کام سے محبت:
ہرکام سے انسان تھکتا ہے محبت سے نہیں تو کام سے محبت کر لو، اور کام کو انجوائے کرو۔

ذات پر ظلم:
پروفیشن اور شادی پسند کی نہ ہو تو انسان روزانہ اپنی ذات پر سب سے بڑا ظلم کر رہا ہوتا ہے۔ یعنی وہ روز گھٹ گھٹ کر مرتا ہے۔

ماں جی کی جھپی:
میں روز اپنی اماں جی کی جھپی اس لیے لیتا کہ اس کے سوا، کہیں مجھے ٹھنڈک محسوس نہیں ہوتی، تو ماؤں کی قدر کیجیے۔

مار کھانا:
استاد کی مار ضرور کھاؤ تاکہ زمانے کی مار سے محفوظ رہو۔ استاد کی سزا، ڈانٹ ڈپٹ اور ناراضگی سب آپ کے لیے ہوتی ہے اور یہ آپ کو زمانے کی درگتوں سے بچاتی ہے۔

دعا کیسے لیں:
کسی سے دعا اپنے الفاظ سے نہیں اپنی خدمات سے لینی چاہیے۔ سو خدمت کیجیے، قدر کیجیے، دعا کی درخواست مت کیجیے، وہ مل جائے گی۔

خدا سے مانگنا:
خدا سے اپنی حیثیت نہیں اپنے خواب کے مطابق مانگنا چاہیے۔ خدا کبھی جائز خوابوں کو ٹالتا نہیں۔

غریب کا بچہ:
غریب کا بچہ اس لیے کچھ کر جاتا ہے کہ اس کے پاس خواب کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔

خواب:
کچھ کر کے دکھانے کے لیے پہلے خواب کا ہونا ضروری ہے۔ خواب ضرور دیکھیں، اللہ راستہ بنالے گا۔

رجوع الی اللہ:
جب ساری امیدیں اور راستے بند ہوجائیں تو رجوع الی اللہ ہو ہی جاتا ہے۔ یہی فطرت ہے۔

محبت اور طلاق:
کیا محبت کو طلاق ہوسکتی ہے۔ سو محبت کیجیے۔ محبت کو زوال نہیں۔ محبت ایک مقدس احساس ہے، احساس کو طلاق نہیں دی جاسکتی۔

بھرپور زندگی کا راز:
خوش گوار اور بھرپور زندگی کے لیے ہاورڈ یونیورسٹی کی پچھتر سالہ تحقیق کا خلاصہ تین جملوں میں یوں بیان کیا جاسکتا ہے۔
1- بہترین سماجی حلقوں سے کثرت روابط کا اہتمام اورگوشہ نشینی سے مکمل اجتناب
2- پسندیدہ لائف پارٹنر اور ذوق کے مطابق پیشے کا انتخاب
3- مضبوط تحفظ کا اہتمام اور عدم تحفظ سے بچاؤ کی تدابیر
اگر کسی انسان کو یہ چیزیں میسر ہوں تو اس کی بھرپور زندگی گزرسکتی ہے، ان کے حصول کے لیے کوشش کیجیے، اور اللہ سے دعا بھی۔

اللہ ہمارا حامی وناصر ہو۔

Comments

امیر جان حقانی

امیر جان حقانی

امیرجان حقانیؔ نے درس نظامی کے علاوہ کراچی یونیورسٹی سے پولیٹیکل سائنس اور جامعہ اردو سے ماس کمیونیکشن میں ماسٹر کیا ہے۔ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے شعبہ اسلامی فکر، تاریخ و ثقافت کے ایم فل اسکالر ہیں۔ پولیٹیکل سائنس کے لیکچرار ہیں۔ ریڈیو پاکستان کے لیےپانچ سال سے مقالے اور تحریریں لکھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • کالم نگار نے اشارات تو دئیے ہیں لیکن کسی ایک پہلو پر تفصیل سے نہیں لکھا۔ اگر اس پر تفصیلی کام ہو تو بہت اچھی چیز سامنے آ سکتی ہے۔
    کیرئیر کونسلنگ اور ایجوکیشنل کونسلنگ کا ہونا اس دور میں انتہائی ضروری ہے ورنہ تو ہماری قوم بھیڑ چال کی عادی ہے۔