جاوید احمد غامدی کے تفردات کی تعداد اور حقیقت - محمد فہد حارث

ہمارے ایک کرم فرما جو کہ فکر غامدی سے تعلق رکھتے ہیں، ان کا ماننا یہ ہے کہ غامدی صاحب کے تفردات کی تعداد 4 ، 5 سے زیادہ نہیں ہے۔ اور ان تفردات میں بھی وہ اکیلے نہیں بلکہ فقہاء ان کے ساتھ ہیں۔ سو ہماری یہ تحریر اس غلط فہمی کو رفع کرنے کے لیے ہے۔ اس مبحث کو آگے بڑھانے سے پہلے یہ سمجھ لینا چاہیے کہ تفرد کہتے کسے ہیں۔ تفرد اسے نہیں کہتے کہ سلف سے خلف تک کسی نے وہ مؤقف اختیار نہ کیا ہو ۔ تفرد وہ بھی ہوتا ہے جس کے قائلین خواہ (سلف تا خلف ) متعدد پائے جائیں لیکن اپنے زمانے میں تنہا ہی رہے ہوں۔

آسان زبان میں تفرد کسی بھی فقیہہ یا عالم کی اس رائے کو کہتے ہیں جس میں وہ جمہور امت سے منفرد ہو اور امت اور اس کے علماء کی اکثریت نے اس رائے کو قبول عام نہ بخشا ہو۔ اس طر ح کے تفردات ہمیں تقریباً ہر فقیہہ کے ہاں مل جاتے ہیں لیکن عموماً تمام قدیم و جدید فقہاء کے تفردات کی تعداد ان کی بقیہ آراء کے مقابلہ میں آٹے میں نمک کے برابر ہوتی ہے۔ یا یوں کہہ لیں کہ کسی عالم یا فقیہہ نے اگر ہزار مسائل کا استنباط کیا ہے تو اس میں سے 5 یا 6 ہی میں تفرد کا شکار ہوا ہوگا۔ لیکن غامدی صاحب کی تو ماشاءاللہ سے پوری کی پوری ’’فقہ‘‘ ہی تفردات کا مجموعہ ہے۔ اور اپنے استاذ گرامی کے دفاع میں غامدی صاحب کے حوارین عموماً یہ مغالطہ دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ استاذ محترم اس تفرد میں اکیلے نہیں بلکہ فلاں دور کے فلاں عالم بھی ان کے ہمنوا ہیں اور دراصل یہ بات ہوتی بھی بالکل درست ہے، لیکن مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ جو چیزیں مختلف فقہاء کے ہاں انفرادی طور پر ملتی ہیں، غامدی صاحب نے ان کو وہاں سے چن چن کر اپنی پوری فقہ بنا ڈالی ہے، یعنی گویا ہر فقیہ کا متروک یا شاذ اجتہاد غامدی صاحب کے ’’مقبول ‘‘ اجتہاد کی لسٹ میں آجاتا ہے۔ گویا ایسا نظر آتا ہے کہ غامدی صاحب ان فقہ کی کتابوں میں سے اپنے لیے کبھی محرمات کا جواز ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں تو کہیں واجبات کی نفی میں ان کا دن رات ایک ہو رہا ہوتا ہے۔ تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ جب بھی امت کو جادہ حق سے منحرف کرنے کا کام سر انجام دیا گیا ہے، فقہ کی کتابوں کا ہی سہارا لیا گیا ہے اور اس اصل سے اعراض برتا گیا ہے جس کی بنیاد پر فقہ رکھی گئی ہے یعنی قرآن و سنت۔ یہی روش غامدی صاحب نے بھی اختیار کی ہوئی ہے۔

خیر اب ہم ان معاملات کا ذکر کرتے ہیں جن میں غامدی صاحب کا اس امت سے اختلاف ہے اور ان معاملات میں پوری امت ایک طرف اور غامدی صاحب سبیل المؤمنین سے ہٹ کر دوسری طرف کھڑے نظر آتے ہیں۔ ساتھ ساتھ ہم ان تفردات میں ان علماء کی نشاندہی بھی کریں گے جن سے کہ غامدی صاحب نے یہ تفردات مستعار لیے ہیں، وہ الگ بات ہے کہ ان علماء کے ہاں صرف انھی مسائل کا تفرد پایا جاتا ہے، جبکہ غامدی صاحب کی پوری کی پوری فقہ تمام فقہاء کے تفردات کا مجموعہ ہے۔

1۔ عورتوں کے لیے سر کا ڈھانپنا پردہ کا حصہ نہیں، ننگے سر صرف چھاتی کو ڈھانپ لیا جائے تو پردہ کا شرعی حکم پورا ہو جاتا ہے۔ یہ غامدی صاحب کا وہ تفرد ہے جس میں 14 سو سالوں میں کوئی ایک شخص بھی ان کا ہمنوا نہیں ہے۔ گویا 14 سو سالوں سے مسلم خواتین جو سروں کو ڈھانپتے آرہی ہیں، وہ بدعت ہے۔

2۔ نزول عیسیٰ کے عقیدہ کا انکار۔ غامدی صاحب کا یہ تفرد ابن تیمیہ کی بعض مبہم تحریروں سے مستعار لیا ہوا ہے جبکہ جمہور امت میں اس عقیدہ کو 14 سو سالوں سے تواتر نظری حاصل ہے۔

3۔ شادی شدہ زانی کے لیے رجم کی سزا کا انکار۔ اس معاملہ میں غامدی صاحب کو خیر القرون اور قدیم فقہاء میں سے کو ئی ہمنوا نہیں مل سکا۔ البتہ اس معاملہ میں خوارج اور چند معتزلہ آپ کے ساتھ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   فقہ کی تاریخی بنیادیں تلاشنے کا پراجیکٹ - محمد زاہد صدیق مغل

4۔ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر ہونے کا انکار۔ اس معاملہ میں بھی قدیم فقہاء میں سے کوئی غامدی صاحب کا ہمنوا نہیں ہے۔ فقہاء کے مابین زیادہ سے زیادہ یہ اختلاف پایا جاتا ہے کہ اموال دیون کے معاملات کے علاوہ بھی عورتوں کی گواہی قابل قبول ہے یا نہیں۔ ابن حزم وغیرہ اس کے قائل ہیں جبکہ جمہور نے انکار کیا ہے۔ جن معاملات میں خواتین اکیلے شاہد ہوں، ان معاملات میں ایک عورت کی گواہی کا مقبول ہونا معروف مذہب ہے۔

5۔ قرآن کی صرف ایک قرات ہی درست و متواتر ہے، باقی فتنہ عجم ہیں۔ یہ ایسا معاملہ ہے جس میں غامدی صاحب پوری امت میں اکیلے کھڑے ہیں، اور میرے ناقص علم میں کسی قدیم فقیہہ یا عالم نے اس معاملہ میں غامدی صاحب کی ہمنوائی نہیں کی۔ سو اسلام کے مغربی ممالک یعنی تیونس، الجزائر وغیرہ میں امت کی ایک کثیر تعداد جو قرآن پڑھتی ہے، وہ غلط ہے۔

6۔ سونا مر دوں پر حلال ہے۔ یہ غامدی صاحب کا وہ تفرد ہے جس میں 14 سو سالوں میں کوئی ایک شخص بھی ان کا ہمنوا نہیں ہے۔

7۔ صرف اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لانے والا بھی جنت میں جا سکتا ہے۔ تمام رسولوں پر ایمان لانا جنت میں جانے کے لیے ضروری نہیں، یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہ رکھنے والا بھی جنت جا سکتا ہے۔ یہ تفرد غامدی صاحب نے غلام احمد پرویز سے مستعار لیا ہے۔

8۔ صحیح بخاری و مسلم اور احادیث کی جتنی کتابیں موجود ہیں، ان میں موجود احادیث کی حیثیت تاریخی حقائق کی ہے۔ ان میں موجود کسی ایک حدیث سے بھی دین میں نہ کمی کی جاسکتی ہے اور نہ ہی بیشی۔ اس معاملہ میں منکر حدیثوں کا ایک جم غفیر غامدی صاحب کا ہمنوا ہے لیکن جمہور امت اور قدیم فقہاء میں سے کوئی ان کے ساتھ نہیں۔

9۔ حکومت چاہے تو زکوٰۃ کے نصاب میں ردوبدل کرسکتی ہے اور ڈھائی فیصد کی جگہ جو مد چاہے مقرر کرسکتی ہے۔ میرے ناقص علم کے مطابق اس معاملہ میں بھی صرف منکر احادیث ہی غامدی صاحب کے ہمنوا ہیں۔ سلف سے لے کر خلف تک جمہور امت اس معاملہ میں ان کے مخالف سمت کھڑی ہے۔

10۔ اسلام میں مرتد کی سزا قتل نہیں۔ اس معاملہ میں بھی کوئی قدیم فقیہہ غامدی صاحب کا ہمنوا نہیں۔ تمام فقہاء کا اجماع موجود ہے مرتد کی سزا قتل پر۔ زیادہ سے زیادہ اختلاف یہ ہے کہ اس کو توبہ کا موقع دیا جائے گا یا نہیں۔ حضرت عمرؓ اور باقی صحابہؓ کے آثار سے توبہ کا موقع دیا جانے والا مؤقف ہی راجح معلوم ہوتا ہے۔

11۔ سنت صرف افعال کا نام ہے، اس کی ابتدا حضرت محمدﷺ سے نہیں بلکہ ابراہیم علیہ السلام سے ہوتی ہے۔ سنت صرف 27 اعمال کا نام ہے۔ جبکہ غامدی صاحب نے مئی 1998، ماہنامہ اشراق ص 35 میں سنت کی ایک فہرست تیار کی جس میں انہوں نے 40 سنتوں پر مشتمل فہرست جاری کی۔ مگر اپریل 2002ء میں انھوں نے 40 سنتوں کی فہرست سے 13 سنتوں کو حذف کردیا اور صرف 27 سنتوں کی فہرست جاری کر دی۔ دس برس میں 13 سنتوں کو حذف ک ردیا تو آئندہ 20 برسوں میں غامدی صاحب سے کیا ہم یہ توقع رکھیں کہ بقیہ 27 سنتیں بھی ہم سے چھوٹ جائیں گی۔ سنتوں کی فہرست دینے کے بعد دعویٰ یہ کرتے ہیں کہ قطعی طور پر صرف یہی سنتیں ہیں، جتنا قطعی قرآن اور اس میں کسی کمی بیشی کا کوئی امکان نہیں ہوسکتا۔ لیکن قطعیت کا عالم یہ ہے کہ 10 برسوں میں 40 سے 27 کی تعداد پر آگئے۔

12۔ موسیقی مباحات فطرت میں سے ہے سو اسلام میں حلال ہے۔ اس معاملہ میں قدماء میں ابن حزم اور ماضی قریب میں ابوالکلام آزاد اور جعفرشاہ پھلواری غامدی صاحب کے ہمنوا ہیں۔ جبکہ فقہائے اربعہ کا موسیقی کی حرمت سے متعلق اجماع موجود ہے جو کہ غامدی صاحب کے استاد امین احسن اصلاحی کے نزدیک دین میں حجت کی حیثیت رکھتا ہے۔

13۔ عورت اور مرد مصافحہ کر سکتے ہیں۔ غامدی صاحب نے یہ تفرد یوسف القرضاوی سے مستعار لیا ہے جبکہ قدیم فقہاء میں سے کوئی بھی اس معاملہ میں ان کا ہمنوا نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   فکر غامدی، تفردات اور علمی سرقہ - محمد فہد حارث

14۔ ایک لڑکا اور لڑکی متعہ کی طرح از خود ایجاب و قبول کرکے ایک دوسرے کے میاں بیوی بن سکتے ہیں۔ اس معاملہ میں کوئی غامدی صاحب کا ہمنوا نہیں۔ فقہاء میں اس معاملہ میں زیادہ سے زیادہ جو بحث رہی ہے، وہ ولی کی رضامندی و غیر رضامندی کی رہی ہے، لیکن مطلقاً ازخود نکاح کرلینے کی اجازت تو صرف غامدی صاحب کا ’’اجتہاد‘‘ ہے۔

15۔ اسلام انسان کی انفرادی زندگی سے عبارت ہے، اس کا کوئی تعلق انسان کی اجتماعی زندگی سے نہیں، اس لیے مسلمانوں میں خلافت کے ادارے کی کوئی شرعی حیثیت نہیں۔ اس معاملہ میں قدیم فقہاء میں کوئی بھی غامدی صاحب کا ہمنوا نہیں۔ موجودہ دور میں منکر حدیث اور وحید الدین خان صاحب غامدی صاحب کے مؤید ہیں اس بابت۔

16۔ کفار کے خلاف جہاد کرنے کا حکم اب باقی نہیں رہا اور مفتوح کافروں سے جزیہ لینا جائز نہیں۔ اس بابت بھی قدیم فقہاء میں سے کوئی غامدی صاحب کا ہمنوا نہیں۔ موجودہ دور میں جزیہ کی موقوفی کی بابت یوسف القرضاوی غامدی صاحب کے مؤید ہیں۔

17۔ دیت کا قانون وقتی اور عارضی تھا۔ میرے ناقص علم میں بھی اس بابت کوئی فقییہ غامدی صاحب کا ہمنوا نہیں۔ اگر ہو تو یہ بھی ان فقیہہ کے تفرد ات میں سے ایک ہوگا۔

18۔ قتل خطاء میں دیت کی مقدار منصوص نہیں ہے، یہ ہر زمانے میں تبدیل کی جاسکتی ہے۔ میرے ناقص علم میں بھی اس بابت کوئی فقییہ غامدی صاحب کا ہمنوا نہیں۔ اگر ہو تو یہ بھی ان فقیہہ کے تفرد ات میں سے ایک ہوگا۔

19۔ مشت زنی یعنی جلق مباح ہے۔ غامدی صاحب نے یہ معاملہ امام احمد بن حنبل سے مستعار لیا ہے جبکہ متاخرین حنابلہ اس کی حرمت کے قائل ہیں، اور اس کو احمد بن حنبل کا متروک تفرد مانتے ہیں۔

20۔ نبیﷺ کی رحلت کے بعد امت میں نہ کسی عالم، نہ حکومت و ریاست اور نہ ہی اجماع کو کوئی حق حاصل ہے کہ کسی کی تکفیر کرے، سو غلام احمد قادیانی کی تکفیر پر امت کا جو اجماع ہوا ہے، وہ سراسر غلط ہے۔ کوئی صحابیؓ، کوئی فقیہہ اور کوئی ایک قدیم عالم اس بابت غامدی صاحب کا مؤید نہیں۔ یہ ان کا ذاتی تفرد ہے۔

ویسے تو یہاں اس کے علاوہ اور دسیوں تفردات پیش کیے جاسکتے ہیں لیکن طوالت کے خوف سے ہم اس فہرست کو یہیں روک رہے ہیں۔ مزید تحقیق اور جستجو کے لیے کتب اسلامیہ اور علمائے امت سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔ جاوید احمد غامدی صاحب کے عقائد و نظریات امت مسلمہ اور علمائے اسلام کے متفقہ و اجماعی عقائد و اعمال کی بالکل ضد میں ہے۔ انہوں نے سبیل المؤمنین کو چھوڑکر غیر سبیل المؤمنین کا راستہ اختیار کر لیا ہے جو کہ ضلالت کا ایک ایسا عمیق گڑھا ہے کہ اس سے اگر اس فانی دنیا کی زندگی میں نکل گئے تو عاقبت بخیر ہے ورنہ انجام بد منتظر۔

نوٹ: یہ بالکل ممکن ہے کہ غامدی صاحب کے دفاع میں ان کا کوئی حواری اوپر دی گئی تفردات کی لسٹ میں کسی قدیم عالم یا فقیہ کی رائے و قول کو غامدی صاحب کے حق میں لائے، لیکن یاد رہے کہ جیسا کہ ہم پہلے بیان کر آئے ہیں کہ جو چیزیں مختلف فقہاء کے ہاں انفرادی طور پر ملتی ہیں، غامدی صاحب نے ان کو وہاں سے چن چن کر اپنی پوری فقہ بنا ڈالی ہے، یعنی گویا ہر فقیہ کا متروک یا شاذ اجتہاد غامدی صاحب کے ’’مقبول ‘‘ اجتہاد کی لسٹ میں آجاتا ہے۔ اور بقول حافظ محمد زبیر کہ ’’ اور تفردات دو چار ہوتے ہیں، پانچ دس ہوتے ہیں، یہ تھوڑی ہے کہ ہر دوسرا اجتہاد ہی تفرد پر مبنی ہو، اگر کسی مجتہد اور فقیہ کے ایک صد مسائل میں سے چار پانچ ایسے ہیں جو اس کے علم کا حیض ہیں، تو ان پر پردہ ڈال دینا چاہیے، بلکہ امت نے خود ہی ڈال دیا ہے۔‘‘

Comments

محمد فہد حارث

محمد فہد حارث

محمد فہد حارث پیشے کے اعتبار سے ٹیلی کام انجینئر ہیں۔ متحدہ عرب امارات میں رہائش پذیر ہیں۔ دینی علوم سے دلچسپی ہے۔ حدیث، فقہ، تاریخ اور فلسفہ اسلامی پسندیدہ موضوعات ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں