اتمامِ حجت، غضِ بصر اور استحسان - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

میں نے جناب جاوید احمد غامدی کے اصولوں ، بالخصوص نظمِ قرآن ، الفاظِ قرآن کی قطعی دلالت اور اتمامِ حجت ، کی روشنی میں واضح کیا کہ ان اصولوں کی روشنی میں حدود اور قصاص کی سزاؤں کا اطلاق بھی صرف عہدِ رسالت کے ان مفسدین پر ہوتا ہے جنھوں نے رسول کی موجودگی میں رسول کی حکومت میں رسول کے خلاف سرکشی اختیار کی ۔ واضح رہے کہ انھی اصولوں کی بنیاد پر غامدی صاحب پہلے ہی ارتداد کی سزا کو عہدِ رسالت کے مرتدین تک محدود کرچکے ہیں ۔

چاہیے تو یہ تھا کہ غامدی صاحب کی ترجمانی کا بیڑا اٹھانے والے اس موقع پر آگے بڑھ کر یا تو اس استدلال کی غلطی واضح کرتے یا صاف الفاظ میں مان لیتے کہ غامدی صاحب کے اصولوں کی روشنی میں یہ استدلال صحیح ہے۔ تاہم ایک دفعہ پھر انھوں نے یہ ثابت کیا کہ وہ غامدی صاحب کی اندھی تقلید ہی کررہے ہیں اور اس وجہ سے غامدی صاحب کے اصولوں کا اطلاق وہ صرف وہیں تک مانتے ہیں جہاں تک خود غامدی صاحب نے تصریح کی ہو۔ اس سے آگے کا کام ان کے بس کی بات نہیں ، یہاں تک کہ المورد میں ڈائریکٹر کے منصب پر فائز صاحب بھی صرف فقہاے کرام کے متعلق ڈراما ہی لکھ سکتے ہیں۔ خود ان کے بس میں یہ بات نہیں کہ وہ غامدی صاحب کے اصولوں کا اطلاق ان سوالات پر کریں جن پر غامدی صاحب نے کلام نہیں کیا ۔ چنانچہ انھوں نے اس سوال کے بارے میں غضِ بصر کا رویہ اختیار کیا حالانکہ غضِ بصر کا تعلق ستر عورت سے ہے نہ کہ ستر موقف سے ۔
اس ماحول میں یہ بات نہایت خوش آئند ہے کہ کم از کم عمار بھائی نے آگے بڑھ کر یہ اقرار تو کرلیا کہ یہ سوال اہم ہے اور یہ کہ اگر غامدی صاحب کا حلقہ اتمامِ حجت کے اصول کی تحدید اور تنقیح کا کام نہیں کریں گے تو اس سے مسائل پیدا ہوں گے ۔ ہمارے نزدیک یہ اقرار بہت اہم ہے اور ہم غامدی صاحب کے حلقے کے سامنے پورے خلوصِ دل سے یہ درخواست رکھتے ہیں کہ وہ اس سوال پر کھلی بحث میں حصہ لیں ۔

تاہم یہاں ایک بات کی تصحیح ضروری ہے۔ عمار بھائی نے اس مسئلے کو حنفی اصول استحسان سے اس بنا پر تشبیہ دی ہے کہ بقول ان کے شروع میں استحسان حنفی فقہاے کرام کے ہاں ایک loose تصور تھا جس کی تنقیح اور تہذیب بعد کے فقہاے کرام نے کی ۔ ہمارے نزدیک مسئلے کی یہ توجیہ قطعی غلط ہے اور حنفی فقہ و اصول کے متعلق ایک بڑی غلط فہمی کا نتیجہ ہے ۔ بیسویں صدی کے اکثر عرب مؤلفین نے ، اور ان کی دیکھا دیکھی برصغیر کے اہلِ علم نے بھی ، یہ بات کی ہے کہ حنفی فقہ پہلے وجود میں آئی اور اصول بعد میں مرتب کیے گئے ۔ عرب مؤلفین نے یہ بات مستشرقین سے لی تھی جن کا دعوی تھا کہ امام شافعی اصول فقہ کے master-architect تھے۔ اس طرح کی باتیں پہلے بھی بعض لوگوں نے کہی تھیں لیکن جو نتیجہ اس بات سے مستشرقین نے نکالا وہ کم از کم فقہاے کرام کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔ مستشرقین نے نتیجہ یہ نکالا کہ اگر فقہ بہت پہلے وجود میں آچکی تھی اور اصول فقہ نے بعد میں جنم لیا (یاد کیجیے کہ امام ابوحنیفہ کا انتقال 150ھ میں ہوا اور امام شافعی پیدا ہی اس سال ہوئے تھے ) تو گویا فقہ اور اصول فقہ کا آپس میں کوئی تعلق ہی نہیں !

سردست ہم مستشرقین کے اس غلط دعوے پر بحث نہیں کرنا چاہتے لیکن یہ ضرور بتانا چاہتے ہیں کہ حنفی اصولیین – کرخی، جصاص ، دبوسی ، سرخسی ، بزدوی وغیرہ- نے جو اصول مستخرج کیے وہ انھی جزئیات سے کیے جو امام ابوحنیفہ اور ان کے شاگردوں نے وضع کیے تھے۔ جدید اصول قانون کی اصطلاح استعمال کریں تو گویا انھوں نے فیصل شدہ نظائر سے متعلقہ ججوں کے قانونی اصول کا استنباط کیا ۔ یہ استنباط ظاہر ہے کہ ایک مشکل امر تھا کیونکہ جزئیات /نظائر کی تعداد سیکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں میں تھی ۔ اس لیے بعض اوقات یہ ہوا کہ جصاص نے کئی جزئیات کی بنیاد پر امام ابوحنیفہ کا کچھ اصول بیان کیا لیکن دوسرے فقہاے کرام نے کئی دیگر جزئیات واضح کیں جن سے معلوم ہوتا تھا کہ اصول صحیح نہیں سمجھا گیا۔ اس لیے انھوں نے ایسا اصول بیان کیا جس سے یہ تمام جزئیات اپنی اپنی جگہ صحیح بیٹھ گئیں ۔ یہ تنقیح و تہذیب کا عمل امام سرخسی تک پہنچ کر تقریباً مکمل ہوگیا۔ ان کے بعد کے اصولیین نے صرف نوک پلک کی درستی کا کام ہی کیا ہے ۔

امام سرخسی نے جہاں کہیں جصاص یا متقدمین میں کسی اور اصولی کے بیان کردہ امام ابوحنیفہ کے کسی اصول کی تصحیح کی ہے تو امام ابوحنیفہ کے فیصل شدہ نظائر کی روشنی میں ہی کی ۔ اس سے دو باتیں معلوم ہوئیں:
ایک یہ کہ امام سرخسی اور تمام اصولیین کے مفروضہ یہ تھا کہ امام ابوحنیفہ کے فیصل شدہ نظائر میں کسی اصول کی پابندی کی گئی ہے اور یہ نہیں کیا گیا کہ کہیں ایک اصول کا اطلاق کیا گیا ہو اور کہیں چھوڑا گیا ہو ۔ چنانچہ جہاں انھیں اس اصول سے انحراف نظر آیا انھوں نے واضح کیا کہ یا تو اصول ہی صحیح نہیں مستخرج کیا گیا ، یا جہاں انحراف نظر آرہا ہے وہاں کسی اور اصول کی کارفرمائی ہے۔ یہ وہ چیز ہے جسے اصولِ قانون کی زبان میں analytical consistency کہتے ہیں۔
دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ اصول پہلے ہی سے منضبط تھے ۔ یہ الگ بات ہے کہ انھیں ضبطِ تحریر میں نہ لایا گیا ہو۔ (اگرچہ امام محمد کی کتب میں بارہا اصولوں کی تصریح بھی ملتی ہے ۔ )

اس بحث کی روشنی میں جب ہم غامدی صاحب کے حلقے کے "اصول فقہ" کا جائزہ لیتے ہیں تو ایک تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ ان کے ہاں ابھی اصول کا تشکیلی دور (formative phase) ہے ۔ اس لیے ابھی وہ بعض اصول بنارہے ہیں اور بعض چھوڑ رہے ہیں اور بعض کو ترک کرنے کے بعد واپس اختیار کررہے ہیں(اور یوں پہیہ دوبارہ ایجاد کرنے کی کوشش زور و شور کے ساتھ جاری ہے ؛ زور کم اور شور زیادہ)۔ دوسری بات یہ سامنے آتی ہے کہ ابھی یہ مکتبِ فکر عہدِ طفولیت میں ہے اور اسے باقاعدہ اصولی مکتبِ فکر بننے میں کئی نسلیں لگیں گی، بشرطیکہ اس مکتبِ فکر کو واقعی کچھ سوچنے سمجھنے والے اور اصولی ذہن رکھنے والے لوگ ملے۔ اس کے باوجود جو چیز دیکھنے کی ہے وہ یہ کہ اپنے عہدِ طفولیت اور تشکیلی دور میں ہی اس مکتبِ فکر کے مقلدین (واضح رہے کہ میں اس مکتبِ فکر کے ائمہ کی بات نہیں کررہا بلکہ مقلدین کی بات کررہا ہوں) پوری قطعیت کے ساتھ (بلکہ دھڑلے سے) ان اصولوں کی بنیاد پر ، جن کی ابھی پوری تنقیح بھی نہیں ہوسکی ہے اور جن میں اخذ و رد کا سلسلہ کئی نسلوں تک جاری رہے گا ، پوری امت کی تغلیط ، تضلیل ، تجہیل اور تحمیق کررہے ہیں ۔
یہ نصیب، اللہ اکبر، لوٹنے کی جاے ہے !

Comments

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

ڈاکٹر محمد مشتاق احمد بین الاقوامی اسلامی یونی ورسٹی، اسلام آباد کے شعبۂ قانون کے چیئرمین ہیں ۔ ایل ایل ایم کا مقالہ بین الاقوامی قانون میں جنگِ آزادی کے جواز پر، اور پی ایچ ڈی کا مقالہ پاکستانی فوجداری قانون کے بعض پیچیدہ مسائل اسلامی قانون کی روشنی میں حل کرنے کے موضوع پر لکھا۔ افراد کے بجائے قانون کی حکمرانی پر یقین رکھتے ہیں اور جبر کے بجائے علم کے ذریعے تبدیلی کے قائل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • جناب ڈاکٹر مشتاق احمد صاحب کی تحریریں بہت شوق سے پڑھتا ہوں ، ان کی ہر تحریر علم و فکر کا نیا روزن کھولتی ہے ، قانون اسلامی (فقہ) اور بین الاقوامی قانون دونوں پر بیک وقت گہری نظر رکھتے ہیں ( ان کی کتاب "جہاد ، مزاحمت اور بغاوت " بہت اچھی اور قابل مطالعہ ہے )، میرا تاثر ہے کہ جناب جاوید احمد غامدی صاحب کی فکر کے بعض کمزور پہلووں کا ناقدانہ جائزہ جس مدلل اور موثر انداز میں ڈاکٹر مشتاق صاحب نے لیا ہے ابھی تک کسی دوسرے صاحب علم نے ویسا نہیں لیا ،(واضح رہے کہ جناب غامدی صاحب کے کرم فرماوں کی فہرست خاصی طویل ہے جن میں ڈاکٹر امین صاحب ،نادر عقیل انصاری صاحب ، ڈاکٹر حافظ زبیر صاحب ، حامد کمال الدین صاحب ، محمد دین جوہر صاحب وغیرھم سر فہرست ہیں ) ، ایک چیز جو کھٹکتی ہے وہ یہ کہ بعض اوقات تنقید کرتے ہوے انداز نگارش میں تندی و خشونت آ جاتی ہے جس سے قاری متوحش ہو جاتا ہے ۔