مرد آہن شہید محمد مقبول بٹ - سہیل بشیر کار

دنیا کی تاریخ میں بالعموم اورتحریک آزادی کی تاریخ میں بالخصوص کچھ ایسے رجال پیدا ہوئے ہیں جن کی نسبت یہ کہنا چنداں بھی مبالغہ آرائی نہ ہوگی کہ وہ اپنی سوچ، فکر اور عمل کے اعتبار سے معاصر وقت سے پچاس سال آگے ہوتے ہیں۔ اُن کے یہاں بے مقصد زندگی موت کے مترادف ہوتی ہے اور مقاصدجلیلہ اُن کی زندگی کا خاصہ۔ نتائج سے بے پروا ہوکروہ مقصد کے حصول کے لیے جان کی بازی بھی لگاتے ہیں۔ وہ اِس حقیقت سے ناواقف بھی نہیں ہوتے ہیں کہ جس راستے کا اُنہوں نے انتخاب کیا ہوتا ہے اُس راہ میں غیروں کے تیر دیکھنے ہیں اور اپنوں کے نشتر کا بھی مقابلہ کرنا ہے۔ لیکن حیف صد حیف قومیں ایسے صاحب عزیمت رجال کو بمشکل دیر سے سمجھ پاتی ہیں۔ ایسی ہی عظیم شخصیات میں شہید محمد مقبول بٹ کا نام بھی آتا ہے۔ اُنہوں نے ایک موقف کو اختیار کیا۔ ایسا موقف جسے اُس وقت رائج بیانیے کے مقابلے میں بس اجنبی موقف تصور کیا جاسکتا ہے۔ اس موقف کو برحق جانتے ہوئے۔ اس کا پرچار تقریری، تحریری اور انفرادی ملاقاتوں کے زریعے سے لوگوں میں کیا۔ لیکن افسوس کہ لوگوں کو سمجھنے میں کئی دہائیاں لگیں۔

محمد مقبول بٹ کشمیر کے دور دراز علاقے ترہگام کپواڑہ میں 18 فروری 1938ء کو ایک کسان گھرانے میں پیدا ہوئے۔ اتنے دور دراز علاقے میں پیدا ہونے کے باوجوداور کوئی Exposure نہ ہونے کے باوجود ان کے افکار اور کارناموں کو دیکھ کرمحسوس ہوتا ہے کہ ربِ کریم نے انہیں اپنے کام کے لیے منتخب کیا تھا۔محمد مقبول بٹ کی ابتدائی تعلیم کپواڑہ میں ہوئی۔ گریجویشن کے لیے انہوں نے بارہمولہ کے سینٹ جوزف اسکول کا رخ کیا۔ بارہمولہ میں ان کا قیام ایک رشتہ دار کے ہاں تھا جو کہ محلہ توحید گنج میں رہتے تھے محلہ توحید گنج صلاحیتوں سے مالا مال محلہ ہے۔ لہٰذا ان کی تربیت میں اس محلہ کا بھی حصہ رہاہے۔ محمد مقبول بٹ بچپن سے ہی ظلم سے نفرت کرتے تھے اور مظلوم کی حمایت میں کھڑا ہوتے تھے۔ تقریری صلاحیتں بھی اللہ نے عطا کی تھی۔ یوٹیوب (YouTube) پر ان کی تقاریر موجود ہیں۔ ہفت روزہ ’ زندگی‘ میں دیے گئے ایک انٹرویومیں وہ کہتے ہیں:۔

’’میں ایک اچھا مقرر تھا۔ ہڑتالیں بہت کراتا تھا۔ بہت سے دوسرے کشمیری شہریوں کی طرح ہمیں بھی رائے شماری میں خاصی دلچسپی تھی۔ ‘‘سینٹ جوزف کے اس وقت کے پرنسپل جارج تقسی مقبول بٹ کے بارے میں کہتے ہیں:۔

’’یہ نوجوان اگر راستے کی سختیوں کوسہہ گیا تو ایک بڑا آدمی بنے گا۔ مگر اس کے جیسے لوگ عام طور پر شدید مشکلات سے دوچار ہوتے ہیں، کیونکہ جس طرح کی آزادی کا خواب وہ دیکھتے ہیں اس کو حاصل کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے اس لیے وہ اکثر آزادی کی راہ پر قربان ہوجاتے ہیں‘‘۔

محاذ کی طلبہ ونگ میں محمد مقبول بٹ بہت زیادہ فعال تھے۔ جب شیخ محمد عبداللہ 27 اپریل 1958 ؁ء کو گرفتار کیے گئے اس موقع پر بہت سے اور لوگوں کو بھی گرفتار کیا گیا۔ مقبول بٹ چونکہ بہت زیادہ فعال تھے لہٰذا ان کا گرفتار ہونا یقینی تھا۔ گرفتاری سے بچنے کے لیے وہ زیر زمین چلے گئے اور کچھ ماہ بعد جب ان کے B.Aکا رزلٹ آیا تو انہوں نے خونی لکیر پار کی۔

وہاں بھی وہ تعلیم جاری رکھتے ہیں اور ایم اے کی ڈگری حاصل کرتے ہیں ساتھ ہی روزگار کے لیے ہفت روزہ انجام میں سب ایڈیٹر ہوجاتے ہیں، چونکہ رب نے تحریری صلاحیتوں سے بھی نوازا تھا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ کشمیر کی آزادی کے لیے پھر سے سرگرم ہوجاتے ہیں۔ یہ وہ دور تھا جب دنیا میں قومی آزادی کی تحریکیں بہت جگہ برپا تھیں۔ اور قومی آزادی کے لیے مسلح جدوجہد کرنا غلام و محکوم قوموں کا حق سمجھا جاتا تھا۔ محمد مقبول بٹ بھی اپنے مقصد کی آبیاری کے لیے مسلح جدوجہد شروع کرتے ہیں اوراپنے کچھ ساتھیوں کے ہمراہ کشمیر کا رُخ کرتے ہیں لیکن جلد ان کا مقابلہ پولیس سے ہوجاتا ہے اور ایک جھڑپ میں CID کا ایک اہلکارمارا جاتا ہے اور محمد مقبول بٹ گرفتار ہوجاتے ہیں۔ گرفتار ی سے پہلے کشمیریوں کو آزادی کی طرف مائل کرنے کے لیے وہ بہت سے افراد سے ملاقات کرتے ہیں۔ محمد مقبول بٹ گرفتار ہونے کے بعد سرینگر جیل میں قیدکیے جاتے ہیں لیکن یہ آزادی کا دیوانہ کہاں رکتا۔ جیل سے اس نے فرار کی کوششیں کی اور بالآخر جیل میں ایک سرنگ بنانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور دوبارہ خونی لکیر پار کرتے ہیں۔ لیکن وہاں کے حکرانوں نے بھی مختلف انٹروگیشن سنٹرز میں رکھا اور ان پر تشدد کیا گیا۔ آزادی کے اس متوالے کے لیے کسی کی محبت یا نفرت اہم نہ تھی۔ ہمیشہ ایک ہی دھن سوار تھی کہ کس طرح اپنی قوم کو آزادی دلائی جائے۔ جیل سے رہا ہوجانے کے بعد اس کی سرگرمیاں جاری رہی اس دوران وہ پاکستان میں بااثر لوگوں سے ملاقی ہوجاتے ہیں اور اپنے مشن کے ساتھ انہیں وابستہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ 1976ء میں وہ دوبارہ سرحدپار کرکے کشمیر وارد ہوجاتے ہیں تاکہ کشمیر کے لوگوں کو اپنا ہمنوا بناسکیں۔ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اپنے تنظیم سے جوڑنے کی کوشش میں وہ دوبارہ قید ہوجاتے ہیں۔ اس بارا نہیں دہلی کے مشہور زمانہ ’ تہاڑجیل‘ میں رکھا جاتا ہے۔ اور 11 فروری 1984 کو تہاڑ جیل میں ہی پھانسی دی جاتی ہے اور وہی دفن بھی کیے جاتے ہیں۔ ہندوستان کی جمہوریت پر ایک داغ یہ بھی ہے کہ مقبول بٹ کا جسد خاکی ان کے لواحقین کو نہیں سونپا گیا۔ ان کی بہن کہتی ہیں۔ ’’ہم دہلی جانے کے لیے سرینگر ائیرپورٹ گئے مگر پولیس نے ہمیں جانے نہ دیا‘‘۔

ان کی بھتیجی کہتی ہیں ’’انہوں نے تہاڑ جیل سے ان کی کوئی چیز ہمیں نہ دی میری خواہش ہے کہ جیل میں ان کی قبر کی تھوڑی سی خاک ہی ہمیں دے دیتے‘‘۔

مقبول بٹ کی شہادت پر کشمیر میں کوئی خاص ہنگامہ نہیں ہوا۔ اس وقت مقبولؔ، اپنی جان دینے کے باوجود ’مقبول ‘نہ ہوئے۔ کشمیری پاکستان کے سحر اور ہندوستان کی نفرت میں اپنی شناخت کہیں گُم کرچکے تھے۔ عام لوگ تو دور خواص کی بھی یہی حالت تھی۔ بہت کم جگہوں پر احتجاج ہوا۔ بارہمولہ میں تو اس واقعہ پر احتجاج کرنے کی پاداش میں اُس وقت کے سرکردہ مزاحمتی شخصیت اور معروف وکیل کو تنظیمی تادیب کا شکار ہونا پڑا، اسے عصبیت کہیں، نفرت کہیں یا ناعاقبت اندیشی کہ اپنے ہی ایک عظیم سپوت کی عظمت کا اعتراف ایک وقت تک قوم کی غالب اکثریت سے نہ ہوسکا۔ وہی سپوت جس کے ساتھ نسبت جوڑنے میں آج ہر شخص فخر محسوس کرتا ہے۔

مقبول بٹ کا ماننا تھا کہ الحاق کا زمانہ اب نہ رہا اب کیوں کوئی کسی اور ملک کے لیے لڑائی لڑے؟ اس کے برعکس قومی تحریکیں بہت جگہوں پر چل رہی تھیں اور یہی قومی تحریک کشمیر میں بھی چلانے کی ضرورت تھی۔ مقبول کو یقین تھا کہ دنیا ہماری قومی تحریک کی حمایت کرے گی۔ ان کے ساتھی اور معروف قلم کار خالق پرویز (بارہمولہ) جو کہ خود بھی کشمیر سے جلاوطن کیے گئے تھے کو جب مقبول بٹ اپنے نظریات سے واقف کررہا تھا تو خالق پرویزؔ انہیں کہتے ہیں کہ پاکستان کی حمایت کے بغیر ہماری لڑائی کیسے آگے بڑھ سکتی ہے۔ اس کے جواب میں مقبول بٹ کہتے ہیں:

’’میرے بھائی جب تک کشمیری عوام ایک قوم کی حیثیت سے اپنی آزادی کا حق نہیں مانگیں گے دنیاکی بڑی طاقتیں ان کی مدد کرنے پر آمادہ نہیں ہوں گے۔ یہ طاقتور ملک الحاق یا مذہب کے نام پر ہماری مدد کرنے پر آمادہ نہیں ہوں گے۔ امریکہ، برطانیہ، روس، چین کو کیا ہوگیا ہے کہ وہ ہمیں پاکستان سے اس لیے الحاق کرائیں کہ ہم مسلمان ہیں۔‘‘ (جلاوطن حصہ دوم صفہ61)

وہ اگر چہ نماز روزہ کے سخت پابند تھے۔ دین ان کے رگ رگ میں بسا تھا۔ بقول ان کے ساتھی خالق پرویز کے کہ مقبول مومنانہ طبیعت کے تھے۔ مقبول بٹ کے خطوط سے بھی پتہ چلتا ہے کہ وہ بار بار قرآن کی آیات کوٹ کرتے اوراپنے ساتھیوں کو ’’وتواصو بالحق وتواصو بالصبر‘‘ کی تلقین کرتے اس کے باوجود ان کا ماننا تھا کہ آزادی کی تحریک کو سیاسی ہونا چاہیے۔ اس طرح انسانی بنیاد پر ہمیں دنیا کا سپورٹ مل سکتا ہے۔ ان کی اس فکر پر ان پر طرح طرح کے الزامات لگائے گئے۔ لیکن وہ تو اس خمیر کابنا ہوا تھا جس کو ملامت کرنے والوں کی ملامت سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بقول خالق پرویز ان کا ماننا تھا کہ پاکستان کے مقابلہ میں کشمیر میں اسلام کے لیے فضا ہموار ہے۔ لہٰذا آزادی کے بعد کشمیر کو اسلام کے رنگ میں ڈالنا مشکل نہیں۔

کشمیریوں کے الگ تشخص کے لیے وہ ہر لمحہ فکر مند رہتے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ اگر کشمیر کی قیادت کسی کی آلہ کار بن جائے تو یہ مسئلہ کشمیر کے لیے سم قاتل ہوگی۔ ایک کورٹ کیس میں جب انہیں دشمن کا ایجنٹ کہا گیا تو ان کا جواب تھا ’’مجھے خود پر لگایا گیا الزام تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں، ہاں مگر ایک ترمیم کے ساتھ کہ میں دشمن کا ایجنٹ نہیں ہوں بلکہ میں ہی دشمن ہوں۔ مجھے اچھی طرح پہچان لیا جائے میں ہی کشمیر میں آپ کے غیر قانونی قبضے کا دشمن ہوں۔‘‘ پاکستان نے ان کا ساتھ نہ دیا اس کے باوجود وہ پاکستان کے خیر خواہ تھے ایک انٹرویو میں کہتے ہیں:۔

’’ایوب خان کو نہ پاکستان کے لوگوں کی فلاح سے کوئی دلچسپی ہے نہ کشمیریوں سے اس کی حکومت نے ہمارے ساتھ ظالمانہ رویہ اپنایا۔ مجھ پر انتہائی تشدد کیا گیا۔ تشدد کا درد یہ سوچ کر مزید بڑھ جاتا تھا کہ یہ ہمارے اپنے کررہے تھے۔ ‘‘ خالق پرویز کو مزید کہا۔ ’’پاکستان کی حکومت ہمیں بار بار گرفتار کرتی رہی لیکن اس کے باوجود ہم پاکستان کے خیر خواہ ہیں اور اس کی سلامتی ہمیں دل و جان سے عزیز ہے۔‘‘

بلندعزائم کا یہ شخص جب پاکستانی انٹیلی جنس آفیسر کے سامنے بلایا گیا اور اس موقع پر اس کو لالچ اور خوش آمد کی گئی۔ اس وقت ان کے ساتھ خالق پرویز بھی تھے۔ وہ لکھتے ہیں کہ مقبول بٹ نے میجر یوسف کو یہ جواب دیا:۔

’’ہمیں اپنی آزادی کی جنگ خود لڑنی ہوگی۔ یہی ایک صورت ہے جس کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جائے گا۔ آپ اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ ہندوستان آپ کو ’’وہ‘‘ کشمیر سونے کی طشتری میں پیش نہیں کرے گا۔ اور آپ ’’یہ‘‘ کشمیر ہندوستان کو تحفے میں نہیں دے سکتے۔ الحاق کی اصطلاح نے کشمیر کے مسئلے کو دونوں ملکوں کی زندگی اور موت کا مسئلہ بنا دیا ہے۔ ایک اسے اپنے ملک کا تاج کہتا ہے دوسرا اسے اپنی شہہ رنگ قرار دیتا ہے۔ ‘‘ پھر آپ بتا دیجیے کہ مسئلہ کشمیر کیسے حل ہوگا۔۔۔۔۔۔؟’’میرا موقف یہ ہے کہ ہندوستان اور پاکستان آپس میں دو ہمسایوں کی طرح رہیں۔ ایک دوسرے پر بھروسہ کریں۔ دونوں ملک مسئلہ کشمیر کو اپنی انا اور غیرت کا مسئلہ نہ بنائیں۔ دونوں ریاست جموں و کشمیر سے دست بردار ہوجائیں۔۔۔۔۔۔ دونوں ملک ریاست کی سالمیت اور خودمختار حیثیت کو تسلیم کریں۔۔۔۔ دونوں ملک اس ریاست کو تحفظ دیں۔۔۔۔ دونوں ملک کشمیر کو مشرق کا ’سوئٹزرلینڈ‘ سمجھ کر اسے امن کا گہوارہ بنا دیں۔ دونوں ملک ریاست جموں وکشمیر کے ساتھ برادرانہ تعلقات قائم رکھیں اور دونوں ملک یہ باور کرنے میں مدد دیں کہ ہندوستان اسے مسلمانوں کا ملک نہ جان لیں۔ اور مسلمان اسے ہندوؤں کا ملک نہ سمجھ سکیں۔ یہیں وہ معروضی حل ہے جو برصغیر میں امن و امان قائم کرسکتا ہے۔ اور جس سے نفرتوں کی خلیج بھی پاٹی جاسکتی ہے۔ ‘‘

’’میجر صاحب میرا نظریہ کسی ایک ملک کے خلاف ہرگز نہیں ہے اور نا ہی میں یہ نظریہ اپنے کسی ضرورت کے پیش نظر اختیار کرچکا ہوں۔ روزی اور روزگار تو صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ مجھے وہی ملے گا جو اس نے میرے مقدر میں لکھا ہوگا۔۔۔۔۔ ‘‘(جلاوطن حصہ اول ص 306)

اس طویل اقتباس سے جو کہ مقبول بٹ کے پاکستان کے انٹیلی جینس آفیسر کے ساتھ گفتگو پر مشتمل ہے، سے مقبول بٹ کی دور اندیشی اور ذہانت کا پتہ چلتا ہے شہید مقبول بٹ کی زندگی کا جب مطالعہ کرتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ کس طرح غالب بیانیے کے برعکس دوسرے بیانیے کا پرچار ہوتا ہے۔ نیت میں اخلاص ہو، قوم کے ساتھ محبت ہو، وفا کا جذبہ ہو تو ایک جدا نظریاتی موقف کو اختیار بھی کیا جاسکتا ہے۔ اور اس کے لیے تک ودو بھی۔ قیادت کا ظرف بس اتنا ہو کہ کسی بھی موقف کو معروضی انداز سے پرکھا جائے۔ اپنے موقف کے اندر اگر کسی ترمیم کی حاجت ہو تو دریغ نہ کریں، شک نہ کریں، بلکہ ایکاموڈیٹ کریں۔ اُس شہید مقبول بٹ کو جسے اُس وقت کی قیادت نے جس کا اثر غالب اکثریت پر تھا، نے رد کیا۔ اس طرح 11 فروری کو اس عظیم شخص کی شان میں خراج پیش کرتی ہے۔ بس ایک سوال ہے۔ میں اس مضمون کو سمیٹتا ہوں اُس خراج عقیدت کے ساتھ جو قریب وقت کے شاعر احمد فراز نے شہید محمد مقبول بٹ کی شان میں ان اشعار کے ساتھ پیش کیا تھا ؂

گو آنکھ سے دور جا چکا تو روشن مگر چراغ سا تو

محروم لبوں کا حرف زندہ مظلوم دلوں کا ہمنوا تو

میں بھی ترا ہمسفر تھا لیکن میں آبلہ پا تھا برق پا تو

زنداں کے عذاب تک رہا میں اور منزل دار تک گیا تو

دشمن کے حصار میں اکیلا لشکر کے مقابلے پر تھا تو

کب قتل ہوئی ہے سچ کی آواز خوشبو کی طرح جا بجا تو

اے جان جہاں سرفروشاں لیلائے وطن کا دلربا تو

تھا تذکرہ مسیح و منصور بے ساختہ یاد آگیا تو

اے کشتہ شب فراز کو بھی مرنے کا ہنر سکھا گیا تو

Comments

سہیل بشیر کار

سہیل بشیر کار

سہیل بشیر کار بارہ مولہ جموں و کشمیر سے ہیں، ایگریکلچر میں پوسٹ گریجویشن کی ہے، دور طالب علمی سے علم اور سماج کی خدمت میں دلچسپی ہے۔ پبلشنگ ہاؤس چلاتے ہیں جس سے دو درجن سے زائد کتابیں شائع ہوئی ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.